|
دین اسلام میں شراب کیوں حرام ہے ۔ از“ سیدہ زائرہ عابدی ۔ایڈمنٹن
07.08.2011, 01:06am , اتوار (GMT+1)
سیدہ زائرہ عابدی ۔ایڈمنٹن
کبھی کبھی ہمارا دل کسی نا پسندیدہ عنوان کے سرنامے سے منسلک کسی تحریر کی جانب متو جّہ نہیں ہوتا ہے ۔بلکہ ایک طرح سے گریز کرکے کہتا ہے کہ اس تحریر کو نا ہی پڑھو تو اچّھا ہے یکن وقت نے بتایاکہ اس وقت دل کے بجائے عقل کا کہنا مان کر تحریر کو ضرور پڑھ لیا جائے تاکہ اس کے سرنامے سے منسلک متن بھی معلوم ہو جائے ,, ایساہی کچھ میرے ساتھ ہوا جب میرے سامنے شراب یعنی امّ ا لخبائث کا مضمون کھلا ہوا تھا لیکن میرادل اسے پڑھنے پر راضی نہیں تھا ,لیکن میں نے دل کو راضی کر کے پڑ ھ لیا اور پھر بھول بھی گئ کہ میں نے شراب کے اوپر کوئ مضمون پڑھا تھا لیکن ایک دن ایسا ہوا کہ جب میں سنڈے مدرسہ میں اپنی کلاس جونئیر ہائ کو لیکچر دینے کھڑ ی ہوئ اچا نک ایک تیرہ یا چودہ برس کے طالب علم نے مجھ سے سوال کیا ٹیچر دین اسلام میں شراب کیوں حرام ہے ?،بچّے کے اچانک سوال سےکلاس روم میں سنّاٹا چھاگیا اور میں خود لمحے بھر کے لئے کچھ سٹپٹا سی گئ اور میں نے بچّے سے کہا میں اپنے دماغ کو تمھارے سوال کا جواب دینے کے لئے حا ضر کر لوں پھر تم کو جواب دیتی ہوں ،اور اس کے ساتھ ہی میرے دماغ میں وہ مضمون جاگ اٹھا جس کو میں نے دل کے نا چاہنے کے باوجود پڑھا تھا ، پھر میں نے اسی مضمون کومن وعن لیکچر کی صورت کلاس کو بتایاکہ طوفان حضرت نوح علیہ السّلام کے تھم جانے کے بعد جب کوہ جودی پر آپ کی کشتی ٹہر گئ اور آپ اپنے رفقاء کے ہمراہ کشتی سے زمین پر وارد ہوئے اسوقت پروردگار عالم کی جانب سے حضرت جبریئل امیں آپ کے پاس یہ پیغام لائے کہ اے نوح علیہالسّلام سب سے پہلے تمام پودے و نباتات زمین میں بو دیجئے ،،حضرت نوح علیہ السّلام نے ربّالعالمین کے حکم کی تعمیل کی تکمیل کرتے ہوئے اپنے ہمراہ لائے ہوئے تمام پودے و نباتات بو دئے لیکن جب انگور کی بیل کی شاخ لگانے کو دیکھی تو وہ غائب تھی ،حضرت نوح علیہ اسّلام کو گمان گزرا کہ شائد وہ بیل کی شاخ کو اپنے ہمراہ رکھنا ہی بھول گئے ہوں گے ،لیکن اسی وقت حضرت جبرائیل امیں نے آ پ کو خبر دی کہ انگور کی شاخ شیطان نے چرا لی ہئے چناچہ جب حضرت نوح علیہ ا لسّلام نے شیطان سے کہا کہ انگور کی شاخ واپس کروتاکہ زمین میں بوئ جاسکے تو اس نے پہلے تو کہا کہ میں نےتو شاخ چرائ ہی نہیں ہے لیکن پروردگارعالم نے فرمایا شاخ اسی کے پاس ہے تب حضرت نوح علیہالسّلام نے اس سے کہا کہ تو شاخ تمھارے پا س ہے ،جب شیطان نے دیکھا کہ اب اس کے جھوٹ کا بھانڈا پھوٹ ہی گیا ہے تو اس نے کہا کہ اچھا میں شاخ ایک شرط پر واپس کروں گا حضرت نوح علیہ السّلام نے شیطان سے دریافت کیا کہ شرط کیا ہے تو شیطان نے کہا کہ شاخ کو ایک دن پانی میں دوں گا ایک دن آ پ دیں گے ،،حضرت نوح علیہ السّلام نے حضرت جبرائیل امیں سے شیطان کی شرط بتائ تو حضرت جبرائیل امیں پروردگار عالم کے پاس سے جواب لائے کہ شیطان کی شرط مان لیجئے ، اس طرح شیطان نے انگور کی شاخ حضرت نوح علیہ السّلام کو واپس کی اور حضرت نوح علیہ السّلام نے انگور کی شاخ مٹّی میں دبا کر اسے پانی دیا جب اگلی باری شیطان کی آئ تو اس نے ایک ببر شیر کو زبح کیا ایک لومڑی کو اور ایک سوء ر کو زبح کر کے تینوں کے نجاست کی آمیزش سے بنا ہوا نجس لہو انگور کی بیل کی جڑ میں ڈالا ،، اس طرح حضرت نوح علیہاسّلام کے دئے ہوئے پانی کی تاثیر سے تو انگور کا استعمال جائز ہئے لیکن جب انگور کو گلا اور سڑاکر اس کی شراب بنائ جاتی ہے تو وہ شیطان کے ڈالے ہوئے نجس لہو کے سبب حرام ہے یہی وجہ ہے کہ انگور کے فوائد تو حضرت نوح علیہالسّلام کے پانی دینے کے سبب ہیں جبکہ شیطان کے دئے ہوئے اجزائے ترکیبی کیونکہ حرام جانوروں کے خون پر مشتمل ہیں ،اس لئے انسان جب شراب استعمال کرتا ہے تو اس کے اندر ببر شیر کی خونخواریت خنزیر کی نجاست اور لومڑی کی چالاکی سرائت کرجاتی ہےاور وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر ہر برا کام کر گزر تا ہے ، مں نے طالب علموں کو یہاں تک مضمون بتایا مذید تمہید قا رئین کے لئے حاضر ہے ,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,, یاد رہے کہ جانوروں میں خنزیر ایسا بے حیا جانور ہے جو جنس مخالف کی جانب رغبت کرنے کے بجائے اپنی ہی جنس سے رغبت کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ شراب خور انسان میں ہم جنس پرستی کی شدید خواہش پائ جاتی ہے
اب میں اسی امّ ا لخبائث پر کچھ اپنے وطن کے بارے میں بہت معذرت کے ساتھ پیش کرتی ہوں ہمارے وطن عزیزکانام اسلامی جمہور یئہ پاکستان ہے اس کا دستور اسلامی ہے ،لیکن صرف نام کی حد تک ,, کیونکہ جس خطّئہ زمین پر گلی گلی میں قائم مئے خانے کھلے عام اپنے ساقیوں کی تشنگی دور کرتے کے لئے سجائے جاتے ہو ں جس کی راتو ںکو رنگین بنانے کے لئے ناچ اور گانے کی شیطانی محفلیں سجا کر شراب سے شغل کیا جاتا ہووہاں کے لئے ایک اسلامی معاشرے کا تصّور کچھ بیجا سا دکھائ دیتا ہے ,, یہ تو دور جاہلیت کے وہ طور طریقے جاری ہیں جو ایک اسلامی ملک کے لئے ہرگز زیبا نہیں اس ا سلامی ملک کا خواب دکھنے والے منوں مٹّی تلے سو گئے اوروطن میں رہ جانے والے ناجانے کن گناہوں کی پاداش میں جواریوں اور شرابیوں کے حکومت کے نام نہاد ٹولے کے قیدی بن گئے آ ج زرا اس اپنے لاچار وطن کی راتوں میں سے ایک رات کی سیر کو چلتے ہیں,,, تفریح صرف دن کا حق نہیں رات کے بھی تو کچھ حقوق ہوتے ہیں ،یہ اور بات ہے کہ کوئ گناہ گار اس رات کو اپنی گناہ آلودہ جبین کو اس بے نیاز مالک کے سامنے جھکا کر گناہ بخشوالیتا ہے تو کوئ بربط و رباب کی سنگت میں شراب و شباب کی محفل سجا کر تمام رات شیطان کے سنگ سنگ ناچتا ہے کراچی شہر میں ڈیفنس سوسائٹی کراچی کی دو فیصد اشرافیہ کا علاقہ ہے اس کے باسی دنیاوی اعتبار سے کراچی کے دوسرے شہریوں کی نسبت شہری سربلندی رکھتے ہیں جون دو ہزار گیارہ کے آخری ہفتے میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات شراب اور شباب سے آراستہ محفل خوباں, اپنے دامن میں ایک ایسی خونی ہلاکت خیزی لے کر آئ کہ جس نے اس علاقے کے معزّز لیکن داغدار چہرے کو بلکل عریاں کر دیا اس محفل خوباں کا دامن رات تمام ہونے سے پیشتر ہی اپنے شرکاء کے لہو سے تر بتر ہو گیا وہ جو داد عیش دینے آئے تھے ،اپنی اپنی جانوں کا نزرانہ دے کر اس محفل کو یادگار محفل بنا گئے ,, یہ محفل کوئ عام محفل نہیں تھی اس میں سندھ کی ایک بہت ہی معتبر پارٹی کے کارکن اور دوسری جانب بلو چستان کی بہت ہی اہم سیاسی گھرانے کے چشم و چراغ مع سرکاری گاڑیوں کے اپنے جاہ حشم کے ساتھ شریک تھے ، ،ڈیفنس کا تمام علاقہ ایسی محفلوں کے لئے زرخیز ہے کیونکہ یہاں تو پولیس کے لئے بے انتہا کشش ہے یہا ں کے بھتّے کوئ عام بھتّے نہیں ہوتے ہیں قانون پیسے کے ہاتھوں بکتا ہے ،قانون کی مٹّھی گرم کر کے یہاں ہر,, ہر کالے کاروبا ر کی اجازت ہے خیابان راحت ڈیفنس سو سائٹی میں ناچ رنگ کی اور ساتھ ہی پینے پلانے کی یہ محفلیں سجنا کوئ نئ بات نہیں تھی بات کچھ رقابتوں کی نکل آئ اور کچھ پرانی دلی ر نجشوں کا شاخسانہ بھی بتایا گیا بہر حال وہ ہو لناکی تمام ہونے پر جہاں پورے پچّیس منٹ تک بے پناہ اور بے دریغ فائرنگ کی جاتی رہی اور پھر پولیس کے آنے تک دونوں فریقین اپنی اپنی ملکیت کی لاشیں اور زخمی لے کر اپنے طورپر مختلف ہسپتالوں کی جانب چلے گئے وقو ع سے ہلاک و زخمی ہونے والے افراد کے علاوہ قابل زکر اشیاء جو ملی ہیں وہ ایک سرکاری گاڑی اور باہر سے درآمد شدہ غیر ملکی مہنگی شراب کے کریٹ(ایسی شراب صرف ہماری پاکستانی سرکار کے لوگ پاکستانی عام کے لہو سے نچوڑے ہوئے پیسے سے بلا جھجھک پی سکتے ہیں ) ، کوکین ،غیر ملکی شراب اور جدید ہتھیارو ں سے مزیّن اس پارٹی کے شرکاء کن ارمانوں سے یہاں آئے ہوں گے یہ تو ان کے دل ہی جانتے ہوں گے جہاں نقد و نظر کے سارے سامان مہیّا کئے گئے تھے اس ڈانس پارٹی میں شرکت کی فیس تین ہزار روپے تھی اوراس محفل کو دلربا ء بنانے کے لئے اس کے ایک حصّے میں شراب کا بار بھی بنایا گیا تھا اور عمائدین میں سے پینتیس لڑکیاں تھیں جن میں سے کئ اہم سیاسی شخصیات کی بیٹیاں بھی شرکت کے لئے باقاعدہ کارڈ خرید کر آئ ہوئ تھیں جبکہ پروگرام آرگنائزر نے بزات خود بھی کافی لڑکیوں کو مدعو کیا ہوا تھا اس ایک رات میں داد عیش دینے کے لئے شرکت کرنے والے افراد معاشرے کے وہ افراد تھے جن کا حساب کتاب پاکستان کے کسی بھی قانون کے کھاتے میں درج کرنا بزات خود قانون کے لئے قابل تعزیر جرم ہے بڑے پردہ نشینوں کے یہاں کیا ہوتا ہے یہ تو پاکستان کا معمولی رہائشی بھی جانتا ہے لیکن اس طرح کی محفلوں میں نام آنا ظاہر کر دیتا ہے کہ سیاستداں ، اور ان کے خاندان کس کی دولت پر یہ عیش کی زندگی گزاررہے ہیں ڈانس پارٹیو ں میں شرکت کرنا اور وہاں پر ہوش و خرد سے بیگانہ کرنے والی شراب کے جام شیریں شغل کر نا ہماری اشرافیہ کا شیوہ ہے اب جو کچھ کھل کرسامنے آیا ہے یہ کوئ نئ بات نہیں ہے،تر یسٹھ سال سےیہی سب کچھ ہوتا چلا آرہا ہے بس اس بار زرا سی رنجش کے سبب آئینے پر پڑا ہوا پردہ اتّفاق سے ہٹ گیا ہے اس میں پاکستانی قوم کو کو ئ اچنبھا نہیں ہونا چاہئے یہ ان کو حاصل کردہ حق ازلی ہے ،کیونکہ وہ صاحب اقتدار ہیں سرکاری گاڑی کا جائے وقوع سے ملنا ثابت کرتا ہے کہ ہماری سرکار کتنی فعال ہے کہ ڈانس پارٹی کو رونق بخشنے وہاں موجود تھی اونچے درجے کے سیاسی مہمانوں کی شرکت سے مزیّن اس تقریب کا آغاز اپنے مقرّ رہ وقت یعنی رات کو 12 بجے شروع ہو گیا تھا اور انتہائ اونچے درجے کی اس ڈانس پارٹی میں باخبر زرائع کے مطابق 5 ڈانسرز لڑکیاں ڈیفنس ویو اور محمود آباد سے بلائ گئں موجود تھیں جن میں ایک لڑکی ایک اہم سیاسی شخصیت کی پہلے سے منظور نظر تھی تو اس سیاسی شخصیت نے داخلہ گیٹ سے اندر آکر جب یہ منظر دیکھا کہ ڈاسنگ فلور پراس کارقیب اس کی منظور نظر پر نوٹ نچھاور کر رہا ہے تب اچانک ہی اس پر انتقام سوار ہو گیا جبکہ فائرنگ کا محرّک کچھ اوربھی ہو سکتا ہے ،کیوںکہ ڈانسنگ پارٹی میں شرکت کے لئے آنے والی اہم سیاسی شخصیت کے ساتھیوں سے داخلہ گیٹ پر بھی پہلے سے تلخی ہو گئ تھی ہلاک اور زخمی ہونے لڑکیوں کے نام صیغہ ء راز میں رکھّے جارہے ہیں سوچئے تو چند گھنٹوں پر مبنی ایک فلم کی طرح چھوٹی سی کہانی ہے فیصل پاٹے نامی کسی نوجوان کی آرگنائز کی ہوئ اس محفل عیش و نشاط سے مسرور ہونے کے لئے آنے والے اپنے ہی لہو میں ڈوب گئے تقریب کا وقت رات بارہ بجے سے صبح تک تھا ،مگر رات تمام ہونے پر سورج نکلنے سے پہلے ہی کتنی زندگیوں کے سورج غروب ہو گئے فائرنگ جب شروع ہوئ تمام ہال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا اور کسی اہم سیاسی شخصیت کی منظور نظرڈانسر لڑکی کا اسٹیج پر ڈانس جاری تھا جس کے ڈانس کو داد عیش دینے کے لئےاس سیاسی شخصیت کا رقیب روسیاہ اپنا نزرانہء دل پیسوں کی شکل میں نچھاور کر رہاتھا کہ سیاسی شخصیت کی آنکھیں اس منظر کی تاب نہیں لا سکیں اور پھر ایک سرخ آندھی رات کی تاریکی میں پھیلتی چلی گئ چھوٹی سی کہانی ہے بھلا شرابی حاکموں کو اپنی مدہوشی میں کیا یاد رہے گا دو دن کی داستان کے بعد پھر ایک محفل سجی ہوئ ہو گی اور داد عیش دینے کے لئے آنے والے اگلے لمحے کی موت سے غافل نچھاور کر رہے ہوں گے ،سوچئے ؟ کیا یہ ایک اسلامی ملک کے طور طریقے ہیں
یہ شراب کاہی تو کمال ہوتا ہے جس کی بناء پر انسان یہ بھی بھول جاتا ہے کہ صرف ایک لمحے لے اندر اندر وہ اپنی خونخواریت کے کی وجہ سے اپنی زندگی بھی داؤ پر لگا سکتا اور دوسرے کی زندگی بھی لے سکتا ،زرا سا سوچئے زندگی کا کیا کوئ مول ہے ،کیا ایک بار جا ن کی بازی ہارنے کے بعد دوسری بار یہ نعمت میسّر آ سکتی ہے بار بار ،بار سوچئے کیا آ پ کی جان کا کوئ مول ہے?????
|