
میں نے خود کو کبھی اتنا بے بس محسوس نہیں کیا تھا جتنا کل کیا ۔ بیس ستمبر کی شام اتنا کچھ ھم سے لے گئی کہ جس کاجتنابھی ماتم کیا جائے کم ھے ۔ گزرنے والے ھر لمحے کے ساتھ میں جیسے ایک تعزیت میں ڈھل رھی ھوں ۔ ایک دکھ ھے جو آج بہل ھی نہیں رھا ،کسی سے بھی نہیں اٹھایا جارھا ۔
دکھ اس بات کا نہیں کہ ھمارا سربراہ مملکت کوئی اور کیوں نہ ھوا ، غم یہ بھی نہیں کہ ھم جمہوریت کے نام پر کیوں لوٹے گئے ھیں ۔ اب تو یہ صدمہ بھی نہیں رھا تھا کہ رحمان ملک جیسے لوگ ھماری داخلی پالیسیاں بنائیں گے ۔ سوچتی تھی کہ چلو کون ھے جو پڑھا لکھا پیدا ھوتا ھے ۔ ھم سب اپنی غلطیوں ھی سے تو سیکھتے ھیں ۔ لیکن اس بار یقین ھوا کہ نہ ھم نے کچھ سیکھا ھے اور نہ ھماری سرکار نے ۔ بس آج تو ٹھیس نہیں ٹھوکر لگی ھے نازک آبگینوں کو جسے یقین ، اعتبار اور تسلی کہتے ھیں ۔
دوستو اعتبار بھی عجب ھے ھر جگہ ھی چاھیئے ھوتا ھے اور ھر جگہ ھی کم پڑجاتا ھے ۔ اور ایسے ھی یقین اور تسلی بھی اپنی کمیابی کے ساتھ ھی سفر میں رکھتی ھے ۔ مجھے سب دوست کہتے ھیں کہ میں یونہی پریشان رھتی ھوں ۔ لیکن حقیقت یہ ھے کہ پہلے اتنی نہیں تھی جتنی اب ھو گئی ھوں ۔ 
خاص طور پر جب سے صدر زرداری کی تقریر سنی ھے جس میں کچھ بھی ھماری لیئے نہیں تھا ، نہ حوصلہ نہ تسلی ، نہ یقین ، بس کمیٹیاں ھی کمیٹیاں ، جیسے محلے کی بڑی بی کمیٹیاں ڈالنے کے لیئے گھر گھر سب کو راضی کرتی ھے ۔ اسی طرح ھمارے صدر نے بھی فوج اور بیروکریٹس کے ساتھ کمیٹیاں ڈالی ۔
دل میں حسرت ھی رھی کہ ھمارا صدر بھی ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی طرح کہتا کہ اگر کسی نے پاکستان کے قانونی مفادات یا سرزمین پر حملہ کیا تو بندوق چلانے سے قبل ہی پاکستان کی مسلح افواج اس کے ہاتھ توڑ دیں گی۔اور یوں بھی کہتا کہ ھماری قوم دوستی اور امن کی خواہشمند ہے ۔ لیکن امن کی خواہش کو ٹھوکر اور ٹھیس اُس وقت لگی جب اسلام آباد کا سب سے محفوظ ھوٹل میریٹ دھماکے سے لرز اٹھا ،جسے دیکھنے والوں نے ایسے لکھا “ ایک چھوٹی گاڑی آ کر میریئٹ ہوٹل کے گیٹ پر لگے بیریئر سے ٹکرائی ۔ اس میں سے ایک شخص نکل کر چیخا“جس نے نکلنا ہے نکل جائے ۔ تم لوگوں کے پاس صرف تین منٹ ہیں”۔

اس کے بعد سائرن کی آواز گونجی اور تین منٹ بعد ایک ڈَمپَر ٹرک ہوٹل کے گیٹ کے سامنے رکھے کنکریٹ کے بلاکس سے ٹکرایا ۔ اُس کے انجن سے آگ نکلی ۔ پھر اُس پر لَدے ڈبوں سے شعلہ بلند ہوا اور ساتھ ہی قیامت خیز دھماکہ ہو گیا ۔ سڑک پر پندرہ فُٹ گہرا اور پچیس تیس فُٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا اور چاروں طرف انسانی اعضاء بکھر گئے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ھے کہ اطلاع واضح طور پر مل چکی تھی اور پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیرِ اعظم ہاؤس کی حفاظت پر پولیس ۔ خفیہ والے اور ٹرِپل ون بریگیڈ کے کمانڈو تعینات کر دیئے گئے تھے لیکن عوام کو بالخصوص بڑے ہوٹلوں یا دوسری عمومی جگہوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ۔
کیوں ؟؟کیوں سرکار نے مدد کے لیئے فوج کو اُس وقت بلایا جب تباھی ھو چکی تھی ۔ اب یہ کون بتائے گا انہیں جن کے یقین کا خون ھر طرف بکھرا پڑا ھے ، کون دے گا تسلی جن کی تسلی اُن کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئی ۔ کیا پیسوں اور مذمتی جملے بازیوں سے یقین اور بھروسے کے آبگینوں کو جوڑا جا سکتا ھے ؟ 
آج مجھے ھی کیا کسی کو بھی سکون نہیں آ رھا یہ سن کر کہ وزیر داخلہ نے اسے نائن الیون جیسا حادثہ قرار دیا ھے اوراس کا انجام بھی اپنے ھی ملک میں اُس جیسا ھی دیکھنا چاھتے ھیں یعنی اب سرکار اپنے ھی ملک میں عراقی وحشت اور دہشت پھیلانا چاھتے ھیں . وہ بھی صرف اٍس لیئے کہ اپنی نا اھلی کو چھپانا بھی تو ھے .
سرکار تقلید میں اس حد تک گر جائے گی مجھے اندازہ نہیں تھا. بلی بھی شکار سات گھر چھوڑ کر کرتی ھے ، اور شاید سرکار یہ بھول رھی ھے کہ امریکہ نے بھی جوابی انتقامی کاروائی کے لیئے بلی ھی کو مثال کیاتھا.
رمضان کے مبارک مہینے میں اتنی قہر کی سازش اور پھر اُس کی وجہ سے تباھی بھی اور وہ بھی اُس جگہ پر جہاں چپے چپے پر سیکیورٹی تھی . اب اتنی ساری ممثالت ھو تو نائن الیون ھی ھوا نا… .کون جانے سرکار اتنی ممثالت کو خود کو خوش نصیب ھی نہ سمجھ رھی ھو ،ھم تو پاگل ھیں جو یونہی ھر بات پہ رنجیدہ رھتے ھیں ، اور ھم اپنی اسی رنجیدگی میں رو رو کر مر جایئں گے اور سرکار اپنی غلام زھنیت اور تقلیدی اٍحساس تفاخر سے خوشی میں بے حال رھے گی ورنہ کل پوری سرکار پانچ منٹ کے فاصلے پر سرکاری ڈنر کر رھی تھی لیکن جائے وقوع پر ایسا شخص بھیجا تھاجس کی بصارت اور سماعت دونوں ھی خراب ھیں کہ نہ انہیں ذخمیوں کی چیخیں سنائی دی اور نہ مرنے والوں کی صیحع تعداد پتہ لگی .
میرے بابا (جناب صفدر ھمدانی) کہتے ھیں “ سچ پوچھیں تو یہ عذاب الہی ہی کی ایک صورت ہے. ناعاقبت اندیش اور وطن فروش حکمرانوں کے غلط فیصلوں کی بھینٹ چڑھتی ہوئی قوم خود اپنے خون میں نہا رہی ہے. پاکستان اب عراق،لبنان اور افغانستان بن گیا ہے. ذرا سوچیں کن کی وجہ سے؟ “
جب سے سوچ رھی ھوں کہ مایوسی جب حد سے بڑھ جائے تو اب روشنی ھو جانی چاھیئے پر کیا کروں آزادی اور امن کی فاختہ پاک آسمان پرکہیں نطر ھی نہیں آرھی۔اس فاختہ کے پر کس نے کاٹے ہیں؟ کون ہے جو اسکا جواب دے گا اور کون ہے جو اس خون