عالمی اخبار کو اس اعزاز پر ناز ہے کہ ان کے کاروان میں معروف کالم نگار، افسانہ نگار اور ویب موڈریٹر اظہرالحق نسیم

بحثیت ایڈیٹر فیچرز شامل ہو گئے ہیں ۔ یوں تو وہ عالمی اخبار کے لئے کافی عرصے سے لکھ رہے ہیں لیکن اب باقائدہ کاراوان میں شمولیت کا ارادہ ہم سب کے اصرار پر کیا ہے ۔ وہ خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔
“ لکھنا میں نے بچپن میں ہی شروع کیا تھا ، مجھے یاد ہے جب میری نظم “بوبی کا کُتا ، روئی کا گالا“ بچوں کے رسالے میں چھپی تو سارے اسکول کو دیکھاتا پھرا تھا ، پھر میں نے پڑھنا لکھنا ہی شروع کیا ، اور اس پڑھائی نے مجھے چشمہ لگا دیا ، نونہال ، بچوں کا رسالہ اور نورستان کا باقاعدہ پڑھنے والا تھا ، اور پھر جب کالج کی چھٹیاں ہوئیں میں نے کمپیوٹر سیکھا اور پھر اسی کا ہو گیا
آج بائیس سال ہو گئے ہیں آئی ٹی کی فیلڈ میں ، سافٹ وئیر کی دنیا میں جو کچھ ہوا کیا ، مگر لکھنا نہیں چھوڑا ، اسی لکھنے نے مجھے فلم ،ٹی وی ، ریڈیو اور اسٹیج پر بھی کام کا موقعٰی دیا ، میری پہلی پہچان کراچی اسٹیج بنا جہاں میں نے نوے کے اوائل میں بہت کام کیا ، اسی دوران میں نے اخبارات کے لیے باقاعدہ لکھنا شروع کیا ، روزنامہ آواز کراچی میں باقاعدہ کالم نگاری شروع کی ، پھر 1998 میں اردو کے پہلے فورم اردستان ڈاٹ کام کا موڈیریٹر رہا ، جہاں میری پہچان “آج کی بات“ اور “آج کا قطعہ“ کے حوالے سے ہوئی ، پھر میں بسلسلہ روزگار گلف چلا گیا ، وہاں حلقہ ارباب ذوق کے مشاعروں میں اور تقریبات میں شامل ہونے کا موقعہ ملا جس نے مجھے ملک کے نامور ادیبوں اور شاعروں سے متعارف کروایا
پھر مجھے ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ جومیری باجی بھی ہیں ، انہوں نے عالمی اخبار میں متعارف کروایا ، جہاں میں بہت ہی اچھے دوستوں سے ملا ، جس میں جناب صفدر ہمدانی کی محبت کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا ، آج کل میں پنڈی میں مقیم ہوں ، اور روزنامہ ہمارا آج اور ہفت روزہ روشن دیہات کا ویب ایڈیٹر ہوں
اسکے علاوہ اسلام آباد سے شائع ہونے والے ٹیکنالوجی اخبار نیٹ اسپائڈر میں بھی مضامین لکھ رہا ہوں ۔ بس اب قلم کی جگہ کی بورڈ نے لے لی ہے ، لکھنے پڑھنے کے علاوہ میرا شوق ہے موسیقی ہے ، کی بورڈ بجاتا ہوں اور میوزک بھی بناتا ہوں اگر وقت ملے تو ۔
عالمی اخبار کے اراکین اظہر الحق نسیم کو بہت بہت مبارک پیش کرتے ہیں اور انہیں ان کی بے پناہ مصروفیت کے باوجود عالمی اخبار میں شمولیت کے لئے بہت بہت شکریہ ادا کرتے ہیں ۔