اس خبر کومیں نے ھی آج لگایا ھے اور انتہائی حیرانگی سے لگایا تھا ۔ اب بیٹھی جب سے یہی سوچ رھی ھوں کہ کیا ھمارے پاکستان میں سیاحت کا تصور ھے ۔ یہاں کے ملاں مولوی تو اسے کچھ اور عیاشی کا سبب کہتے ھیں اور اس تصور کے ساتھ تو واقعی سیاحت تو ھر ملک میں حرام ھونی چاھیئے ۔
پھر بھی آج دنیا بھر کے ساتھ مل کر ھم سیاحت کا عالمی دن منا رھے ھیں ۔ سیاحت کا یہ عالمی دن ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی ایگزیکٹیو کونسل کی سفارشات پر جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق منایا جاتا ہے ۔ اور شنید ھے کہ یہ دن ستائیس ستمبر انیس سو ستر سے اپنی سابقہ روایات کے مطابق ہر سال بھر پور طریقے سے منایا جاتا ھے ۔
سیاحت کا رواج بڑا پرانا ھے ۔ ابن بطوطہ کو پڑھ کر سوچتی تھی کہ دریافت سیاحت کا حصہ ھی تو ھے جہاں ھم ایک ھی جیسی زمین اور آسمان کو اپنی دل و نطر سے الگ رخ سے پہچانتے ھیں اور اسے ایک نئے معنی کے ساتھ اپنے یاداشت میں محفوظ کر لیتے ھیں ۔ پاکستان کے زیادہ تر لوگوں کے پاس سوات ، کالام ، گلگت ، مدین ، بالا کوٹ ، کاغان اور مالم جبا ھی تو تھے جہاں خوبانیوں کے درختوں کے جھنڈ اور آلو بخارے کی درختوں کی قطاریں انہیں اپنی طرف کھینچتی تھیں ۔ اُن وادیوں کا حسن آنکھوں میں سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا ۔ آج انہی وادیوں میں بربادیوں کا راج ھے اور کسی بھی آنکھ سے یہ منظر کشید نہیں ھو رھا ۔
یہی وہ مقامات تھے جہاں ایک متوسط آدمی بھی کچھ رقم خرچ کر کے اپنے بال بچے لے کر چلا جاتا تھا،یہیں پر دنیا کی بہترین ٹراؤٹ مچھلی تھی،یہیں ٹھنڈے پانی کے چشمے تھے۔یہ سب کچھ اب گولہ بارود کی نذر ہو گیا ہے۔
گڑھی حبیب اللہ کے قریب ایک وادی ہے جسے ‘‘شوگراں کی وادی‘‘کہا جاتا ہے اور سیاحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی وادی سوئٹزر لینڈ کے بعد صرف پاکستان میں ہے۔لیکن ہمارے صاحبان اقتدار نے کیا کبھی ایسا سوچا کہ باہر کے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا جائے۔ بھارت کے ساتھ اسلحے کی دوڑ تو ہو سکتی ہے لیکن سیاحت کی صنعت کی دوڑ کیوں نہیں۔ نہ جانے کیا اگلے پچاس برس میں بھی ہم بھارت کی سیاحت کی صنعت کے قریب بھی پہنچ سکیں گے۔یہ خیال قطعی غلط ہے کہ بیرونی ممالک سے آنے والے سیاحوں کے لیئے شراب سمیت دیگر عیاشی کے لوازمات پاکستان میں چونکہ نہیں اس لیئے سیاحت فروغ نہیں پاسکتی۔ اگر ان لوازمات ہی کا مسلہ ہے تو پھر یہ سیاح اتنی بڑی تعداد میں ملائیشیا اور ایران کیسے جاتے ہیں۔ کبھی اصفحان نصف جہان جا کر دیکھیں سیاحوں کی تعداد۔ اور جن لوازمات کی میں بات کر رہی ہوں ان سے ملک کا طبقہ اشرافیہ خود تو خوب مستفید ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ نہ کرنے کے

بہانے ہیں۔ کون سے شعبے میں کوئی پالیسی ہے جو سیاحت میں ہو گی۔
سیاحت تو فکر کے نئے در کھولتی ھے ۔ اللہ کی طرف بلاتی ھے اور اس کے اپنے ھونے کے ثبوت کے ساتھ ساتھ انسانی ھنر کے کمالات بھی دیکھنے کو ملتے ھیں ۔ پاکستان میں آج اس عالمی دن پر ھم دنیا کو اور کیا بتا سکتے ھیں سوائے اس کہ بربادی کیسے لائی جا سکتی ھے ۔ دیکھو یہ ٹینک ھیں ، یہ بندوقوں کے انبار ھیں یہاں روز مسلمانوں پر بم گرائے جاتے ھیں اور اگر کوئی سیاح میری طرح کا یہ پوچھ بیٹھے کہ یہاں “کون “ اتنی بربریت کرتا ھے تو ھمارے پاس اس کاجواب بھی ھو گا کہ “ مسلمان “ ۔ جی یہی فکر کا عروج ھے ۔ یہی سیاحت کی معراج ھے کہ آنے والا اپنے ساتھ ھمیشہ کے لیئے رہ جانے والی اپنے سفر کی کوئی یاد لے جائے ۔

اب ٹورسٹوں یعنی سیاحوں کے لیئے اس سے بڑی سیاحت کی یاد کیا ھو گی کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں واپس جا کر اپنے ھم وطنوں کو بتا سکیں گے اور اپنی یاداشت کو لکھتے وقت لکھ سکیں گے کہ ھم نے ایک ملک ایسا بھی دیکھا جس کا نام پاکستان ھے جہاں انسانوں کو جنگل میں رھنے والے حیوانوں سے بھی کمتر سمجھا جاتا ھے ۔ جہاں اُن کی عزت اور جان خود حکومت دوسروں کے ساتھ مل کر لے رھی ھے ۔ اور پھر وھی سیاح یہ بھی لکھیں گے کہ سوات اور کاغان تو کیا پشاور ، بلوچستان ۔ کویٹہ اور سندھ کی آگ بھی برسوں نہیں بجھ سکے گی ۔ اور اگر یہ زمینی آگ برسوں کی محنت کے بعد بجھ بھی گئی تو احساس اور شعور کی آگ نفرت کی صورت صدیوں تک انسانوں میں لگی رھے گی ۔ ایسے قہر کا دن تو عالمی سطح پر ھی منانا چاھیئے ۔
دوستو اگر منافق ھونے کی کوئی سند ھوتی تو آج ماسوائے چند ایک کے سب کے پاس یہ ڈگری ھوتی اور دنیا میں ھماری شرح خواندگی کوکو ئی چیلنج نہ کرتا اور جیسے کہ ھم نے ھر کام میں عقل کی بجائے نقل کو سند مانا ھے اور ایساکرتے ھوئے اپنی گھڑیوں کے وقت کو بھی بدل لیا تھا اور ایک گھنٹہ آگے بڑھ گئے تھے ۔ ویسے بھی جب ھم امن کا ایوارڈ شیری رحمان اور رحمان ملک جیسے لوگوں کو ملتا دیکھ سکتے ھیں تو سیاحت کاعالمی دن پاکستان میں کیوں نہیں مناسکتے ۔
پتہ نہیں میری قنو طیت مجھے مثبت کیوں نہیں رھنے دیتی ۔ کاش آج سیاحت کا عالمی دن منانے کے لیئے ھم اپنی یاداشت کے پلو سے کچھ پل ایسے گرا سکتے جن پر فخر کرتے ھوئے ھم خود کو ایسے دن کو منانے کا حقدار کہلا سکتے ۔
کبھی سوچیئے اپنے ملک کی پچانوے فیصد سے زائد آبادی تو ایسی ہے جس نے اپنا ملک
ہی نہیں دیکھا۔ لاہور کے کتنے ہی لوگوں نے بادشاہی مسجد اور قلعہ لاہور نہیں دیکھا۔پشاور میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت نے مسجد مہابت خان اور باب خیبر نہیں دیکھا، بلوچستان والوں کو زیارت کی زیارت نصیب نہیں ہوئی، گلگت سکردو والوں نے کچورا جھیل اور بلطورا گلیشئر نہیں دیکھا،سندھ والوں نے کنچر جھیل نہیں دیکھی، پنجاب والوں نے تھل اور روہی نہیں دیکھی۔کیا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا کہ اور کچھ نہیں تو کوئی حکومت سکولوں کے بچوں کو ہی اپنا ملک دکھانے کا انتظام کرے؟ کاش عالمی یوم سیاحت پر اقتدار کے یہ بھوکے لوگ ان عوام کے لیئے بھی کچھ سوچیں جنکے ووٹ سے یہ ایوانوں میں پہنچتے ہیں۔