16.10.2026, 04:19am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

ب سے بوٹ ، ب سے بش ۔از ۔صفدر ھمدانی ۔لندن
16.12.2008, 01:01am , منگل (GMT+1)

صفدر ھمدانی ۔لندن

کئی روز پہلے جدید اردو قائدہ لکھنا شروع کیا تھا اور متعدد احباب کا یہ مسلسل اصرار رہا کہ اس قائدے کو مزید آگے بڑھایا جائے  لیکن عالمی سطح پر ‘‘القائدہ‘‘ کے خلاف چلنے والی تحریک کو دیکھ کر خاموشی اختیار کر لی کہ خفیہ ایجنسیوں کا کیا پتہ کہ وہ جہاں‘‘قاعدہ یا قائدہ‘‘ کا لفظ بھی دیکھتے ہیں تو جیسے باولے کتے کی طرح انکی قوت شامعہ اضافی طور پر بیدار ہو جاتی ہے۔

ابھی کسی اخبار میں ایک خبر پڑھی تھی جسے پہلے تو میں نے لطیفہ سمجھ کر چھوڑ دیا لیکن پھر نہ جانے کیا خیال آیا کہ اس خبر کو دوبارہ پڑھا تو پڑھنے کے بعد ایک لمحے کو تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں اپنے وطن مولد میں مقیم نہیں ہوں ورنہ نہ جانے کب گا خلیج گونتاناموکی بلا ویزہ و بلا ٹکٹ سیر کر رہا ہوتا۔ خیلجی ممالک میں قیام کرنے کا خواب تو شکر ہے خواب ہی رہا اور اب خلیج گونتانامو سے بھی بچ گئے۔

اچھا خبر یہ تھی کہ پاکستان میں منو بھائی،مجید امجد اور طارق عزیز کے شہر منٹگمری المعروف ساہیوال کے ایک نواحی علاقے میں پولیس والوں کو یہ اطلاع ملی کہ القائدہ والے اپنے پیغام کو عام کرنے کے لیئے اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں اور وہ اب سکول جانے والے بچوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

خفیہ والوں نے یہ اطلاع اعلیٰ ترین افسران تک پہنچائی اور پھر سارے محکموں کے ساتھ ساتھ پولیس کے محکمے کو بھی اس سے مطلع کیا گیا۔

 اب ہماری پولیس تو آپ جانیں کہ دنیا کی چند مستعد ترین پولیس فورسز میں سے ایک ہے جو واقعہ رونما ہونے سے پہلے بھی مجرم کو گرفتار کر سکتی ہے۔ لہٰذا پولیس کے محمکے کے اعلیٰ ترین افسران نے اپنے ماتحتوں اور پھر ان ماتحتوں نے اپنے ماتحتوں کو اور پھر ان ماتحتوں نے اپنے ماتحتوں کو سخت ترین احکامات دیئے اور سکولوں کے بچوں پر نگاہ رکھنے کو کہا۔

ایسے ہی فرض شناس پولیس والوں کی ایک ٹیم نے ساہیوال کے ایک نواحی علاقے میں ایک سرکاری یعنی ‘‘ٹاٹ سکول‘‘ کے طلبا پر خوب گہری نظر رکھی اور ایک دن یہ طے پایا کہ ‘‘مشن قاعدہ‘‘ شروع کیا جائے۔ اس پروگرام کے تحت جب پولیس والوں نے سکول سے چھٹی کے وقت باہر نکلنے والے پرائمری کے بچوں کے بستے دیکھنے شروع کیئے تو انہیں جیسے اسامہ بن لادن جسے میں ہمیشہ لادین لکھتا ہوں اسکا پتہ مل گیاہو۔

کوئی پندرہ بیس بچوں کے بستوں سے جو شواہد برآمد ہوئے انہیں دیکھ کر ان پولیس والوں کو اپنی فوری ترقی اور نقد انعامات ملنے کا یقین ہو گیا۔

فوری طور پر ان ماتحتوں نے یہ اطلاع اپنے افسران  کو دی،ان افسران نے اپنے افسران کو ان افسران نے اپنے افسران کو۔ فوری طور پر اعلیٰ سطح پر یہ طے پایا کہ ان بچوں کو تھانے پہنچا دیا جائے اور انکے ساتھ انکے استاد اور سکول کے ہیڈ ماسٹر کو بھی تھانے پہنچایا جائے کیونکہ امکان اس امر کا بھی ہو سکتا تھاکہ کہیں سکول کا عملہ اس سازش میں شامل ہو اور ان بچوں کو بڑی عید کا بکرا بنایا جا رہا ہو۔

پہلے اس علاقے،پھر اس ضلع اور پھر صوبے کی پولیس کی اعلیٰ قیادت حرکت میں آ گئی اور اعلیٰ ترین افسران متعلقہ تھانے میں پہنچے جہاں خوف سے زرد چہرے لیئے اور اپنے آنسو پونچھتے ہوئے یہ پرائمری سکول کے بچے خوف کے مارے پولیس والوں کو دیکھ رہے تھے۔

 سکول کے عملے کے ساتھ اب  ان بچوں کے والدین بھی یہاں موجود تھے جنہیں صرف اتنا بتایا گیا تھا کہ ان کے بستوں سے القائدہ کا کچھ لٹریچر برآمد ہوا ہے۔

جب متعلقہ اعلیٰ افسران تھانے میں پہنچ گئے تو پولیس والوں نے ان افسران کے سامنے جو شواہد پیش کیئے وہ ان بچوں کے بستوں سے برآمد ہونے والے ٹائم بم تھے۔ جی ہاں ٹائم بم۔

یہ دراصل وہ قائدے تھے جو سکول میں پڑھائے جاتے ہیں اور جنکے سرورق پر لکھا ہوا تھا‘‘ اردو کا قائدہ،عربی کا قائدہ،انگریزی کا قائدہ‘‘ بیچارے میٹرک فیل پولیس والے سمجھے کہ ان بچوں کے بستوں میں القائدہ نے اپنا لٹریچر ڈال دیا ہے اور ممکن ہے کہ اس لٹریچر میں خود کشی اور بم بنانے کے طریقے بھی ہوں۔

جب یہ سارا راز پولیس کے اعلیٰ افسران کے سامنے کھلا تو ان پولیس کے سپاہیوں کو فوری طور پر نوکری سے معطل کیا گیا اور بچوں کے والدین اور اساتزہ سے معافی مانگی گئی اوربچوں کو واپس گھروں کو بھیجا گیا۔

اس خبر کی مزید کوئی خبر نہیں آئی کہ ان پولیس والوں  اور انکے افسران کے ساتھ اعلیٰ حکام نے کیا سلوک کیا جنہوں نے پرائمری سکول کے معصوم بچوں اس طرح ذہنی صدمہ دیا۔ لیکن میرے جیسے انسان کا یہ سوچنا ہی بے وقوفی ہے کہ جس ملک میں عدلیہ کا چیف جسٹس انصاف کے لیئے مارا مارا پھر رہا ہو اور جہاں اعلیٰ ترین عدالت کے موجودہ چیف جسٹس کی بیٹی کے نمبر بڑھانے کے مسلےکو پوری انتظامیہ اپنی عزت کا مسلہ بنا لے اور جہاں حکمران پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہناگیر بدر یہ بیان دیں کہ اگر بچی کے کچھ نمبر بڑھا دیئےگئے تو کون سے قیامت آ گئی اور جہاں وفاقی وزیر قانون یہ کہیں کہ چیف جسٹس کی بیٹی کے مسلے کو کسی کمیٹی یا عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا وہاں ساہیوال کے مضافاتی ٹاٹ سکول کے پرائمری کلاس کے ان بچوں کے ساتھ ہونے والے اس سلوک کا جواب کس سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

حیرت ہے کہ میں بیٹھا تو ب سے بوٹ اور ب سے بش کے حوالے سے لکھنے کو تھا لیکن قلم کا رخ کس طرف مُڑ گیا۔ خیر یہ بھی کوئی ایسا غیر متعلقہ موضوع نہیں تھا۔ یہ موضوع بھی ‘‘ب سے بوٹ‘‘ کا تھا وہ بوٹ جو ایسی نااہل انتظامیہ کے منہہ پر مارا جاتا کہ جس نے ان معصوموں کا اتنی تکلیف دی۔

لہٰذا بھائیو یہ فارمولا تو طے ہے کہ جو جسقدر زیادہ تکلیف دے اسے اسی قدر بڑے نمبر کا بوٹ مارا جائے۔ جس طرح بدمعاشوں میں ‘‘دس نمبریا بدمعاش‘‘ سب سے بڑا ہوتا ہے اس طرح جوتوں میں دس نمبر کا بوٹ بھی بڑا بوٹ کہلاتا ہے جو ہر ایرے غیرے کا نصیب نہیں۔ ایسے بوٹ تو نصیب والوں کو ہی ملتے ہیں

۔ہاں کبھی غور تو کیجئےکہ جوتے اور بوٹ میں فرق ہوتا ہے۔ جوتے سے نازکی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور فریدہ خانم ذہن میں آتی ہیں کہ ‘‘جوتی قصوری پیریں نہ پوری ہائے وے ربا سانوں ٹُرنا پیا‘‘ اور بوٹ سے بوٹ کھانے والے کی حیثیت،اسکا مرتبہ اور خود بوٹ کا حجم نظر میں آ جاتا ہے۔

یہ تو اس خالق و مالک کی مرضی ہے کہ وہ چاہے تو بوٹ کھانے والے سے زیادہ عزت اور شہرت اس بوٹ کو دیدے جو وقت کے کسی بہت بڑے جمہوریت کا راگ الاپنے والے آمر کو مارا جائے۔

ذرا دیکھیں تو دنیا بھر کے ٹی وی،اخبار،انٹرنیٹ کہ ان میں بش کی تصاویر کم اور اس بوٹ کی زیادہ ہیں جو بش کا الوادعی بوسہ لیتے لیتے رہ گیا۔

جی تو چاہتا ہے کہ یہاں اس بوٹ کی بھی تصویر لگادوں جو بغداد میں صدام حیسن کے مجسے پر اسوقت مارا گیا تھا جب امریکہ نے اتحادی فوج کے ساتھ عراق پر اور اسکے تمام وسائل پر قبضہ کیا تھا۔تاریخ اپنے آپ کو دوہراتی ہے اس پر میرا یقین ہے اور اس کا تازہ مظاہرہ اتوار کو صرف میں نے ہی نہں کروڑوں لوگوں نے دنیا بھر کے ٹی وی پر دیکھا ہے اور ایک زمانے تک لوگ اسے ‘‘یو ٹیوب‘‘ پر دیکھتے رہیں گے کہ قدرت ایسے ذرائع مدتوں پہلے ایجاد کر دیتی ہے جہاں انسان کی ایسی تذلیل اور نیکی دونوں کا ریکارڈ برسوں تک رہتا ہے۔

بش کو بوٹ مارنے والے نے خالی بوٹ مارا ہی نہیں بلکہ بے زبان بوٹ کے الفاظ اپنی زبان سے بآواز بلند دوہرائے بھی کہ ‘‘مسٹر بش یہ عراقی عوام کا الوداعی تحفہ ہے۔کاش وہاں موجود کچھ اور باضمیر لوگ اسی عمل میں شریک ہو جاتے؟

لیکن بیدار ضمیر تو نعمت ہے جو راتوں کو جاگ جاگ کر لمبی لمبی تمازیں اور تہجد پڑھنے والوں کو بھی نہیں ملتی۔

اب یہ معلوم ہو چکا کہ اپنی زندگی میں ہی ‘‘نشان حیدر‘‘ کے برابر کا نشان پانے والا یہ صحافی عراقی ٹیلی وژن البغدادیہ کا صحافی منتظر الذیدی ہے اور اٹھائیس سالہ منتظر الذیدی کوگذدشتہ سال ایک شیعہ ملیشیا نے اغوا کر لیا تھا لیکن بعد میں اس کے ٹیلی وژن کی کوششوس کے بعد اسے رہا کردیا گیا تھا۔

اب ایک ممتازعراقی وکیل خالد الدولیمی نے جنہوں نے صدام حسین کا مقدمہ لڑا تھا کہا ہے کہ وہ الذیدی کا مقدمہ لڑیں گے کیونکہ الذیدی قومی ہیرو ہے۔

منتظر الذیدی نے لبنان میں صحافت کی تربیت حاصل کی تھی اور ایک ماہ قبل ہی اسے البغدادیہ کا چیف نامہ نگار مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ الذیدی ہمیشہ اپنی خبر کے آخر میں کہتا تھا مقبوضہ بغداد سے میں ہوں منتظر الذیدی۔

مجھے اب یقین ہے کہ جلد یا بدیر منتظر الذیدی  اپنی کسی بھی خبر کے آخر میں کہتا ہوا ملے گا‘‘آزار عراق سے میں ہوں منتظر الذیدی،،

میرے صحافت کے قبیلے کے اس منتظر الزیدی نے مجھے بھی حوصلہ دیا ہے اورمیں اب اس قاعدے کو دوبارہ سے شروع کر رہا ہوں کو جو امریکی خفیہ ایجنسیوں کی تخلیق کردہ القائدہ کے خوف سے ادھورا چھوڑ دیا تھا۔

آئیے پھر سے اس نئے قائدے کی ابتدا کرتے ہیں۔

الف سے الزیدی۔الف سے امریکہ - ب سے بوٹ۔ب سے بش - پ سے پریس کانفرنس۔ پ سے پٹائی

 

 


:دیگر مضامین
(26.11.2008) پاکستان کا کرپٹ عدالتی نظام۔از صفدر ھمٰدانی
(13.11.2008) سانپ کی بِل سے بجلی کے بِل تک۔ از صفدر ھمدانی
(05.11.2008) اوبامہ کی فتح۔مارٹن لوتھر کنگ کے خواب کی تعبیر؟از صفدر ھمٰدانی
(03.11.2008) تُم نے پاؤں کا جوتا بنایا ہے آئین کو!
(24.10.2008) ایوان صدر میں ‘‘سور مار‘‘ مہم
(14.10.2008) الف سے امریکہ ب سے باجوڑ ، ج سے جوتا ج سے جمہوریت
(14.10.2008) قائد اعظم محمد علی جناح کی تعظیم فرض اول
(14.10.2008) زرداری کی سرداری ہے
(14.10.2008) مت اس طرح سے یہ جمہوریت ذلیل کرؤ!
(14.10.2008) ‘‘اپنے انجام کو پہنچا ہے یزیدِ دوراں‘‘
(14.10.2008) بے عمل حاکم قوم کی موت ہوا کرتے ہیں
(14.10.2008) ‘‘یزیدِ وقت کے دربار میں گیا یوسف‘‘
(14.10.2008) ریڈیو پاکستان جیسے تاریخی ادارے پر رحم کریں
(14.10.2008) اردو شاعری کی ایک روشن سحر‘‘سحر علی‘‘
(14.10.2008) صمدخرم پاگل نہیں مشرف اورامریکہ پاگل
(14.10.2008) وینکور میں ۔روشنی حرا سے۔ کی تقریب رونمائی
(14.10.2008) جب راج کرے گی خلق خدا !
(14.10.2008) رداری،امریکہ اور مشرف مفادات کے نگہبان؟
(14.10.2008) سید قمر عباس کی پہلی برسی
(14.10.2008) ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں