بسلسلہء شہادت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام مجالس عزا کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ سٹاک ہولم کی مساجد و امامبارگاہوں

میں فرزندان توحید بارگاہ امامت میں گلہائے عقیدت پیش کرتے نظر آ رہے ہیں۔
سٹاک ہولم کے علاقہ فیتیا میں پاکستان سوسائٹی کے صدر حیدر شکوہ صاحب نے مورخہ 20 اگست کو مجلس عزا کا اہتمام کیا جس میں مختلف مسالک و مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثرت سے شرکت کی۔
اس مرتبہ روایتی طریقہ سے ہٹ کر مرثیہ کی مجلس کا انتظام کیا گئے جس کے لئے پاکستان اور یورپ کے دانشور، محقق۔ مرثیہ نگار۔ ولایت ٹی وی کے چیرمین اور ریڈیو، ٹی وی کی جانی پیچانی شخصیت، جناب صفدر ہمٰدانی صاحب کو مدعو کیا گیا۔
اس مجلس کے لئے صفدر ص

احب لندن سے تشریف لائے۔ صفدر صاحب پہلی دفعہ سویڈن نہیں آئے بلکہ اس سے پہلے بھی مشاعروں اور اس قسم کی تقریبات میں تشریف لا چکے ہیں۔
سویڈن کی تاریخ پہلی دفعہ مرثیہ کی مجلس بپا ہوئی اور اس لحاظ سے یہ ایک نہایت ہی اہم کاوش تھی۔ اس مجلس ایک اور خصوصیت یہ بھی تھی مجلس کے دوران افطاری کی گئی اور اس کے فوراً بعد مجلس دوبارہ شروع کر دی گئی۔
مجلس کی نظامت سائیں رحمت علی نے کی۔

مجلس عزا کا آغاز سائیں رحمت علی نے حدیث کساء کی تلاوت سے کیا۔ برادرم سید حسن عسکری اور ثاقب صاحب نے بارگاہ امامت میں ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد سائیں رحمت علی نے اپنے مخصوص انداز میں سلام و قصائد سنائے۔ صفدر ہمٰدانی صاحب کی متفرق رباعیاں بھی سامیعن کی خدمت میں ہدیہ کیں اور مومنیں سے داد و تحسین وصول کی۔
صفدر صاحب نے حسب عادت مرثیہ سے پہلے محققانہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اس آقا اور مولا کی مجلس کے لئے جمع ہوئے ہیں جن کو نبی پاک صلعم نے باب العلم کہا اور ساتھ ساتھ مولائے کانات کے مشھور فرمان ، سلونی سلونی کا تذکرہ بھی کیا۔ صفدر صاحب نے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم مدینتہ العلم اور باب العلم کے ماننے والے ہیں مگر علم سے دور ہیں۔ آپ نے

فرمایا کہ خطیبوں اور ذاکرین کو ایس گفتگو کرنی چاہئے جو دور جدید کے مطابق ہوں۔ ہم لوگ جو 50 سال سے اوپر ہیں اور ہمارا ماضی پاکستان میں بھی کا کافی لمبے عرصے پر محیط ہے، خوشی اور محبت سے مجلس میں آتے ہیں لیکن ہمارے بچے جو یورپ میں پیدا ہوئے ہیں ان کو وہ ماحول میسر نہیں ہوا جو ہمیں تھا۔ اس لئے ظاہر ہے کہ اس ماحول کی وجہ سے ایک قدرتی فرق پیدا ہو گیا ہے۔ اب ہمارے لئے چیلنج یہ نہیں کہ سلام رہے گا کہ نہیں۔ دین اسلام تو ہمیشہ رہے گا کہیونکہ اس کی ذمہ داری بھی اللہ نے لی ہے۔ ہمارے سامنے جو چیلنج ہے وہ یہ کیا ہمارے بچے بھی اس لائن پر ہیں کہ نہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کی ایک نئے زاویہ سے پرورش کرنا ہوگی۔ بچوں کے مسائل کو سمجھنا ہوگا۔ بچوں سے اس زبان میں بات کرنا ہوگی جو وہ بہتر سمجھتے ہیں۔ بچے ہمارا سرمایہ ہیں اور ہمیں ان کی حفاظت کرنا ہوگی۔ اگر ہم نے اپنی اولاد میں تبدیلی پیدہ کرنی ہے تو ہمیں اپنے آپ کو تبدیل بھی کرنا ہوگا اور بچوں کی ذہنی کیفیت کو سمجھنا بھی ہوگا۔

افطاری کے وقفے کے بعد صفدر صاحب نے مسلکی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ جب بھی کبھی میلاد یا مجلس عذا کا اہتمام کریں تو برادران اہل سنت کو ضرور مدعو کریں۔ اہل سنت کا مطلب ہے کہ جو نبی صلعم کی سنت پر چلے۔ آپ نے کہا کہ وہ سنی ہو ہی نہیں سکتا جو نبی پاک کی آل سے محبت نہ کرے۔ پاکستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر ، ہم جو شیعہ اور سنی یورپ یا دیگ ممالک میں رہتے ہیں، اتحاد بین المسلمین کے لئے مثالی کردار پیش کر سکتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں صفدر صاحب نے ٹی وی ولایت کا حوالہ دیا۔ ولایت ٹی وی ایک ویب بیسڈ ٹی وی ہے جس کی نشریات 24 گھنٹے جاری رہیں گی۔ ہمارا اہم مقصد یہی ہے کہ اس چائنل کے ذریعہ ہر مسلمان تک اپنی آواز پہنچائیں تا کہ محبتٰیں بڑھیں اور نفرتیں ختم ہوں۔ صفدر صاحب نے بتایا کہ سائیں رحمت علی سویڈن میں بیورو چیف ہیں اور ہماری کوشش ہوگی دن میں کچھ گھنٹے سویڈن سے براہ راست پروگرام نشر کئے جائیں۔

اس کے بعد آپ نے مولائے متقیان کی شان میں مرثیہ پڑھا اور سامعین سے داد وصول کی۔ جب آپ نے مصائب کا حصہ شروع کیا تو سامعین میں سے ایسا کوئی نہ تھا جسکی آنکھ اشکبار نہ ہوئی ہو۔ اس طرح سب نے ملکر بارگاہ امام زمانہ علیہ السلام میں پرسہ پیش کیا۔ مجلس کے اختتام پر ماتم اور نوحہ خوانی کی گئی جس کے بعد نیاز ہوئی۔
دوسرے دن پاکستانی یوتھ کے ساتھ پروگرام تھا۔ اس میں بھی صفدر صاحب نے 2 گھنٹے کا لیکچر دیا۔ پاکستانی نوجوانوں کو بتایا کہ ہم نے اس ماحول میں کیسے رہنا ہے۔
مذید کہا کہ جب آپ اپنے دوستوں کو مصالحہ دار اور مرغن کھانے کا عادی بنا سکتے ہیں تو ان کو دوسری چیزیں بھی بتائیں جیسا کہ ہمارا مذہب ہے۔ آپ ان گورے بچوں کی نفسیات کو جانتے ہیں اس لئے آپ کے لئے بہت ہی آسان ہوگا کہ آپ ہمارا نقطہ ء نظر ان کو سمجھا سکیں۔
سوسائٹی میں انٹیگریشن کے حوالہ سے کہا کہ آپکو سیاست میں بھی حصہ لینا چاہئے تا کہ ہماری آواز سوسائٹی کے سب اداروں میں سنی جائے۔ مسلمانوں کو یہاں بہت سارے مسائل ہیں اور ان مسائل کا حل اسی وقت ممکن ہے جب آپ لوگ فعال ہوںگے۔ دامن وقت میں گنجائش کی کمی کے باعث بچوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لیکچر کا اختتام کیا۔
اگلے روز میری ان سب بچوں سے ملاقات ہوئی تو سب بچوں نے صفدر صاحب کے خطاب کی بہت تعریف کی اور کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ قبلہ دوبارہ تشریف لے کے آئیں گے۔
مورخہ 22 اگست کو مولا علی علیہ السلام کے یوم شہادت پر مقامی امام بارگاہ میںمجلس عذا منعقد کی گئی جس میں سائیں رحمت علی نے سوز و سلام پڑھا اور اس کے بعد مولانا قبلہ ذاکر حسین صاحب نے سامعین سے خطاب فرمایا۔
آپ نے خطاب میں سب اہل اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں اسوہ ء مولا ئے کائنات پر عمل کرنے کی اس وقت بہت ضرورت ہے۔ پاکستان میں شر پسندوں نے موت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ان کی نظر میں امام بارگاہ اور مسجد کا کوئی احترام نہیں اور یہ یقیناً مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی سازش ہے۔ مجلس کی آخر میں نوحہ خوانی اور ماتم ہوا۔