استعماری قوتیں امت میں اختلافات پیداکرکے فائدہ اٹھا رہی ہیں، پاکستان عالم اسلام کا قلعہ ہے، القدس کی آزادی تمام

مسلمانوں پر فرض ہے، دنیا میں مالیاتی بحران سودی نظام کا نتیجہ ہے-
محور: اس وقت ملت اسلامیہ اجتماعی طور پر شدید بحران کا شکارہے، آپ کے نزدیک اس سے نکلنے کا راستہ کیاہے؟شیخ صیام: استعماری طاقتوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملت اسلامیہ کے اندر اختلافات پیدا کیے ہوئے ہیں،ان اختلافات سے دشمن بھرپور فائدہ اٹھارہاہے، ملت آج اگر کمزور ہے تو اس کی وجہ

باہمی اختلافات ہیں، اختلافات اگر ختم ہوجائیں تو ملت لوہے کی چٹان بن سکتی ہے، حکمران اور عوام اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے دشمن کا مقابلہ کرسکتے ہیں- عوام، حکمران اور فوج جب ایک ہوں گے تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو شکست سے دو چار نہیں کرسکتی، مسلمانوں کو ہمیشہ شکست اسی صور ت میں ہوئی جب ان کے اندر غدار اور بدعہد پیدا ہوئے ہیں، بدعہدی او ر غداری نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا، غداری اور بدعہدی چاہے عوام کی سطح پر ہو یا حکمرانوں کی طرف سے ہودونوں صورتوں میں نقصان اپنا ہی ہوتا ہے- بحرانوں سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ باہمی اختلافات ختم کرکے اپنی اندرونی کمزوریوں کوختم کیا جائے-
محور: القدس کی آزادی کیسے ممکن ہے؟شیخ صیام: القدس کی آزادی کے لیے ملت کو ایک بار پھر جہاد کا علم بلند کرنا ہوگا- یہ مسلمانوں کا تیسرا مقدس مقام ہے جس کے اردگرد کو بھی اللہ تعالی نے بابرکت بنایا ہے، یہودیوں کا القدس پر اس سے قبل کوئی حق تھا اور نہ ہی آئندہ ان کو اس مقدس مقام پرکوئی حق ہوسکتاہے، ملت اسلامیہ نہ صرف تمام انبیاء کو مانتی ہے بلکہ تمام انبیاء کو برحق تسلیم کرنا ان کے ایمان کا حصہ ہے- تاریخ کے تمام ادوار گواہی دیتے ہیں کہ القدس پر حق ہمیشہ مسلمانوں کارہا ہے، مسلمان جب بھی یہاں اقتدار میں رہے، رواداری کا ثبوت دیا جب بھی یہ مقام مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں یا یہودیوں کے پاس رہا یہاں کسی اورکے آنے کا حق ختم کر دیا گیا- مسلمانوں کے پاس یہ مقام رہے تو ہر مذہب کے ماننے والوں کو آزادی حاصل ہوگی کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرسکیں گے، مگر مسجد کے اندر ان کو داخل ہونے اور اپنی عبادت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی- یہودی سازش کررہے ہیں کہ وہ القدس میں آباد کاری کے ذریعے یہاں پر اپنا قبضہ ظاہرکرسکیں، وہ القدس میں اپنی آبادی کو بڑھانا چاہتے ہیں اور اس سازش پر وہ مسلسل کام کر رہے ہیں، القدس کے اردگرد وہ کئی یہودی بستیاں تعمیر کی جاچکی ہیں، جن میں ہزاروں یہودیوں کو باہر سے لاکر آباد کیاگیاہے-
محور: اسلامی کانفرنس تنظیم او آئی سی اور عرب لیگ کے القدس کی آزادی کے لیے کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟شیخ صیام: اسلامی کانفرنس تنظیم کا وجود ہی القدس کے مسئلہ کی بنیاد پرعمل میں یاتھا،1967ء میں القدس پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا اور21اگست 1969ء کوجب مسجدا قصی کی آتشزدگی کا سانحہ ہوا تو جس کے نتیجے میں اسلامی ممالک کی سربراہ کانفرنس بلائی گئی جس میں او آئی سی کے قیام کا اعلان ہوا، تنظیم کے قیام کا اولین مقصد ہی القدس کی آزادی تھا- یہ الگ بات ہے کہ وہ اس طرح کا کردار نہ ادا سکی جس کا وقت تقاضا کررہا تھا، لیکن اس اتحاد کی وجہ سے دشمن کو ضرورپریشانی لاحق ہوئی- یہ حقیقت ہے کہ ادارہ قائم ہے اور اس فورم کو متحرک کیا جاسکتا ہے- اگرچہ اس کا کردار مثالی نہیں ہے مگرپھر بھی یہ ایک ڈھال ہے- دشمن اس ادارے سے خوف زدہ ضرور ہے-
محور: عالمی مالیاتی بحران نے دنیا میں ہلچل مچا دی ہے، اس کی کیاوجوہات ہیں؟
شیخ صیام : اللہ تعالی نے انسان کی بھلائی کے لیے بے پناہ خزانے زمین کے اندر اور اس کے اوپر پیدا کیے ہیں تاکہ وہ ان سے فائدہ حاصل کرے، مگر عالمی صہیونیوں نے ان خزانوں کو اپنے کنٹرول میں لے کر سودی کارروبار شروع کر دیا، دنیا آج اگر مالی بحران کا شکار ہے تو اس کا سبب سودی نظام ہے، سود پر کھڑی معیشت کی دیوارنے آخر گرنا تھا اور اس کی اینٹیں گرنا شروع ہوگئی ہیں- یہ تو معمولی جھٹکا ہے اور صہیونی باز نہ آئے جو باز آنے والے نہیں ہیں تویہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کرتا جائے گا- یہ عذاب کی ایک شکل بھی ہوسکتی ہے کیونکہ اللہ تعالی کے ساتھ جنگ کرنے والوں پرعذاب مسلط ہوکر رہتاہے-
محور: القدس کی آزادی کے لیے ایٹمی پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہیے؟
شیخ صیام : اللہ تعالی پاکستان کے ذریعے عالم اسلام کی مدد کرائے گا، پاکستان کے عوام القدس اور فلسطین کی آزادی کے لیے دعائیں کریں، فلسطین کے عوام امید رکھتے ہیں کہ پاکستان کے عوام ان کی آزادی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال سمیت پاکستان کی قیادت اور عوام نے فلسطینیوں کا بھر پور ساتھ دیا ہے جس پر فلسطینی عوام بجاطورپر فخر کرتے ہیں- ایٹمی پاکستان کی پالیسی فلسطینیوں کے بارے میں وہی ہونی چاہیے جو بانئ پاکستان کی تھی