
گزشتہ مضمون میں ہم کراچی کی اپنی سر گر میاں پیش کر رہے تھے۔اہلِ کراچی کی محبتیں ہم سے سمیٹے ،نہیں سمیٹی جا رہی تھیں ۔ جبکہ ہم سمجھتے تھے کہ ہم بیس سال سے باہر ہیں لہذا لوگ بھول ، بھال گئے ہو نگے ۔مگر ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہو ئی کہ لوگ اسی طرح چا ہتے ہیں جیسے کہ پہلے کبھی چا ہتے تھے۔ اگر کچھ تبدیلی تھی تو ان کی حد سے بڑھی ہوئی احتیاط ، اس لیئے کہ وہ ہماری حفاظت میں بہت محتاط نظر آتے تھے، اکیلے کہیں آنے جا نے نہیں دیدیتے تھے ،ہما ری بہنو ئی جو ایک دا ئم المریض ہیں وہ چا ہتے کہ وہ ہی ہر جگہ مجھے لیکر جا ئیں اور لیکر آئیں۔وقت کم تھا ،
میری بہنوں نے مطالبہ کر دیا کہ ہم تینوں کو دو، دو، دن دیئے جا ئیں جبکہ میں آنے اور جا نے کے دو دن نکالدیتا ،تو صرف چھے ہی دن بچتے تھے ،لہذا طے گیا کہ ہم اپنے ٹھکانے بدلتے رہیں ،جیسے کہ کو ئی مجرم یا پھر سیاسی لیڈرجبکہ وہ اپو زیشن میں ہو اور اسے گرفتاری کا خوف ہو؟ اس کی علامت یہ طے پا ئی کہ ہماری نصف بہتر، بہنوں کے یہاں یکے بعد دیگرے منتقل ہو تی رہیں کیونکہ شرع میں بھی مقیم کی یہ ہی پہچان ہے کہ جہاں بیوی رہتی ہو وہ گھر ہے چاہے اپنا ہو چا ہے پرایا، جبکہ ہماری نگہداشت پر ہما رے اکلوتے بہنو ئی جناب شعب جیلانی رہیں ؟

آپ اکلوتے پر چونکے ہونگے ، دراصل ہمارے دو بہنو ئی جناب اظہر علی عابدی اور آفتاب امتیاز صدیقی گزشتہ سال کے دوران ہی اللہ کو پیا رے ہو چکے تھے۔ لہذا ان کے لیئے ہم نے اکلوتے کا لفظ استعمال کیا ورنہ ہم بھی ما شا اللہ تین بہنو ئی رکھتے تھے؟ ہمارے ان صدمات سے اس لیئے آپ لوگ بے خبر رہے کہ ہم اپنے غموں کوخبر نہیں بنا تے؟ ان میں سے شعیب صا حب کی شادی ہمارے والد صاحب کے ہاتھوں انجام پا ئی تھی اور دو جو اللہ کو پیا رے ہوئے وہ ہمارا انتخاب تھے اللہ ان کی مغفرت فر ما ئے آمین ۔ہماری دعا ہے کہ اللہ شعیب جیلانی صاحب کو جو کہ ولی صفت انسان ہیں عمرِ خضر عطا فرما ئے کہ ان کے کام بھی ولیوں جیسے ہیں ۔
ہمارے کرم فرما جناب طاہر سلطانی صاحب نے تنگئیِ وقت کا حل یہ نکالا کے فرداً ، فرداًہر شاعر اور ادیب کی خدمت میں حاضر ہو نا اور دعوتِ مشاعرہ قبول ناممکن تھا ۔لہذا اپنے ہاں ایک نشست رکھ لی جا ئے تاکہ سب سے ملا قات ہو جا ئے ۔ان میں سے ایک کو تو ہم جب سے جانتے تھے جب سے ہوش سنبھالا تھاایک جوانی کے ساتھی تھے اور زیادہ تر نادیدہ چاہنے والے ۔
جناب رضی حیدر سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اقائدِ اعظم اکیڈمی پاکستان ،میرے چچا ڈکٹر ذکا الدین شایاں مرحوم کے ساتھیوں میں سے تھے جن کو میں بچپن سے جانتا تھا۔ اور جناب منظر ایوبی میری جوانی کے دوست تھے جو اپنی مرض الموت میں مبتلا اس بیوی کو اسپتال میں چھوڑ کر آئے تھے، جنہیں اسوقت بھی یہ خیال تھا کہ اگر میں نہیں تھی تو آپ شمس کو ایک وقت کا کھانا بھی نہیں کھلا سکے؟ یہ وہ تھیں جو ہررات میری کتاب ً روشنی حرا سے ً (سیرتِ حضور (ص) ) ، کا ایک باب پڑھ کر سوتی تھیں جو ہمیشہ ان کے سر ہانے رکھی رہتی تھی۔ میرے آنے کے بعد وہ اللہ کو پیاری ہو گئیں انا للہ و انا علیہ راجعون۔ انتہا ئی نیک خاتون تھیں اللہ مغفرت فر ما ئے (آمین)
اگر سب کا تعارف کرا وں تو مضمون بڑا ہو جا ئے گا۔ بہر حال اس وقت جو لوگ وہاں موجود تھے ان کے نام پیش کر کے بات ختم کر تا ہوں۔جوکہ ان دو کے علاوہ ہیں جن کا میں ذکر کرچکا ہوں۔ یہ وہ تھے جنہوں نے اتنے مختصر نوٹس پر شر کت فرما ئی ۔ اگر کسی کا نام رہ گیا ہو تو یہ میری نا واقفیت کی بنا پر ہوگا جس کے لیئے میں معذرت خواہا ہوں ۔پروفیسر جناب خیال آفاقی ، جناب طاہر سلطانی، جناب خمار فاروقی، جناب اقبال عالم،پروفیسر جناب حیدر علی ملک ، ڈاکٹر انیس الحق صاحب انیس ، جناب نور الد ین نور، جناب یامین وارثی، جناب قاری نعمان طاہر، جناب عبد الصمد تاجی،جناب محسن اعظم، عظیم ملیح آبادی،پرفیسر جناب مقصود پر ویز، جناب رونق حیات، جناب سلیمان ارتضٰی، جناب گوہر آسی سلطانی، جناب اقبال عالم ، جناب گوہر اعظمی،ڈاکٹر ثنا قریشی ، اور جناب رفیق مغل (ٹورنٹو) ۔

کاروائی تلاوت ِ قر آن ِ پاک سے شروع ہو ئی اس کے بعد جناب طاہر نعمان سلطانی نے سپاس نامہ پیش کیا ان کے بعد جناب منظر ایوبی نے اپنے دورہ وینکوردوران جو دیکھا اور اس احقر کے بارے میں سنا وہ بیان کیا، جبکہ پرفیسر آفاق صاحب نے میری ادبی اور اسلامی خدمات پر روشنی ڈالی ور رفیق مغل صاحب نے ٹورنٹو اور پاکیزہ انٹر نیشنل کے حوالے سے احقر کی مقبولیت پر روشنی ڈالی۔ اور فرمایا کہ ہر شخص ہفتہ بھر منتظر رہتا ہے شمس کے مضمون پڑھنے کے لیئے ۔اس کے بعد مشاعرے کا آغاز ہوا جو رات گئے تک چلتا رہا۔ آخر میں لوگوں نے اپنی کتابوں سے احقر کو نوازا اور تصاویر بنوائیں ۔