
ان صاحب کا خلاف ِ توقع جواب سن کر میں ہکا بکا رہ گیا اور سوچنے لگا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ دو مختلف شخصیات اسقدر اقدار مماثل ہو سکتی ہیں! یعنی جو کچھ میں نے آغا بہجت کے بارے میں سن رکھا تھا، ہو بہو تمام باتیں اور تمام طرز ہائے عمل آغا اشتہاردی میں بدرجہءاتم موجود پائے۔ بجائے اسکے کہ مجھے افسوس ہوتا، میری خوشی دوچند ہوگئی کہ مجھے آغا اشتہاردی کی صورت میں ایک اور عارف ہستی میسر آگئی تھی۔ اسی دوران نمازی حضرات کی کثیر تعداد مسجد کے ہال سے باہر جا چکی تھی۔ میں وہیں برآمدے میں کھڑا جوش و انبساط کے احساسات سے لطف اندوز ہورہا تھا کہ زائرہ بھی خواتین والے ہال سے نکل کر مجھ تک پہنچ گئی۔ میں نے فورا” بڑھ کر اس سے نماز کی روحانیت کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے بھی جوابا” مجھ سے یہی دریافت کیا کہ کیا نماز آغا بہجت نے پڑھوائی تھی۔ میرا جواب نفی میں پا کر اس نے بھی اپنی حیرت کا اظہار کیا کیونکہ میں نے تو محض سن رکھا تھا جبکہ اسے اس عظیم ہستی کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کا شرف پہلے حاصل ہو چکا تھا۔ ہم دونوں اسقدر پرجوش تھے کہ جیسے زندگی کا کوئی اہم سنگ ِ میل طے کر لیا ہو۔ اور حقیقتا” ایسا ہی تھا کہ یہ سنگ ِ میل نہ صرف طے ہوچکا تھا، بلکہ از خود اور وہ بھی انجانے میں۔
یہاں زرا ٹھہر کر ایک اہم بات عرض کرتا چلوں کہ کچھ عرصہ قبل جب میں عالم ِ تصور میں اپنی یہی یادیں تازہ کررہا تھا تو اپنے ایک فاضل ِ قم دوست جناب احمد نقوی صاحب سے آیت اللہ اشتہاردی کی بابت دریافت کیا۔ انہوں نے جناب کی شخصیت، انکے عجز و انکسار، علمی و عملی تجربے اور اخلاق کی ایسی تعریف و توصیف فرمائی کہ میں اپنے اعزاز پر خوشی سے جھوم اٹھا۔ آپکی سادگی کو بیان کرنے کے لیئے یہی کافی ہے کہ نوّے برس کے سن تک پہنچتے پہنچتے آپ کے تعلیم کردہ ہزاروں طلاب دنیا کے گوشے گوشے میں چراغ ہائے علم روشن کرنے میں مصروف ہیں، اپکی تالیف کردہ کتب اپنی مثال آپ ہیں، آپکے زہدوتقوٰی اور عبادت و پرہیزگاری کی ایک دنیا شاہد ہے، آپکی اقتدا میں نماز ادا کرنا زائرین و مقامی مؤمنین اپنے لئے باعث افتخار سمجھتے ہیں اور اپنی ذات کا یہ حال ہے کہ عبا اور جوتے تک میں پیوند لگے ہوتے تھے ۔۔۔۔۔ اللہ اکبر! ساتھ ہی نقوی صاحب نے یہ اضافہ کرکے میرا دل توڑ دیا کہ حضرت اب ہم میں نہیں رہے۔ چند ماہ قبل ہی آپ دنیا سے پردہ فرما گئے ہیں اس عالم میں کہ اپنے مدرسے کی مسجد میں نماز ِ مغربین کی امامت فرما رہے تھے۔ مغرب کی نماز تمام ہوئی تو مقتدین اقامت ِ عشاء کے منتظر تھے۔ کافی دیر ہوگئی کہ آغا صاحب اٹھے نہیں تو لوگوں نے جاکر یہ دیکھا کہ آپ خدا کی اس ظاہری بارگاہ سے ابدی بارگاہ میں تشریف لے جاچکے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مگر ساتھ ہی اپنے ہزاروں شاگرد، درجنوں کتابیں اور اپنی شخصیت کے ان مٹ نقوش سر زمین ِ قم پر چھوڑ گئے ہیں جو رہتی دنیا تک عاشقان کے لیئے نشان ِ راہ رہیں گے۔ خدا آغا صاحب کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
ہم اب ضریح ِ مقدس کی جانب متوجہ ہوئے اور میں بھاگ کر ضریح سے جا لپٹا۔ اپنی پیاری آقازادی کا ان اچانک و نادانستہ عنایات پر دل و جان سے شکریہ ادا کیا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ قم میں قدم رکھنے کے بعد مجھے ایسے ایسے انعامات ملیں گے۔ میں نے جی بھر کے بی بی سے اپنے دل کا حال کہا صرف اس لیئے کہ کچھ بوجھ ہلکا ہو جائے، وگرنہ عنایات تو بن مانگے برس رہی تھیں۔ صرف یہی نہیں، قم سے جو جو انعام و اکرام سمیٹ کر میں لایا تھا ان کے تصور سے اب بھی روح میں بجلیاں سی کڑک جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس بی بی (ع) کی زیارت کا کم سے کم اجر جنت قرار دیا گیا ہو تو باقی عنایات تو زیل میں ہی مل جاتی ہیں۔ یہ تمام باتیں سوچتا ہوا میں ضریح سے جدا ہوا۔ اب مسجد ِ اعظم ہمیں دعوت ِ سیر و مشاہدہ دے رہی تھی۔ ہم دونوں پلٹے اور مسجد کے اندر کی جانب چلے۔ یہاں بھی اب مجھ میں ویسا ہی اعتماد بھر چکا تھا جس اعتماد کا تجربہ مشہد میں ہوا تھا۔ پہلی مرتبہ خوف کے مارے قدم نہیں اٹھ رہے تھے اور ایک دفعہ زیارت سے مشرف ہونے کے بعد شخصیت میں ایسا اعتماد آگیا تھا کہ پھر بلا خوف و خطر میں پورے روضے میں گھومتا پھرتا رہتا تھا۔ یہاں بھی کچھ دیر قبل تک دل کی دھڑکن قابو میں ہی نہ آرہی تھی اور اب چال میں اسقدر اعتماد و اطمنان تھا جو اسی سرزمین کا خاصہ تھا۔ اس اطمنان کو اب بھی دل ڈھونڈتا ہے مگر ندارد۔۔۔
جب ہم ضریح کے عقب کی جانب سے مسجد میں داخل ہوئے تو ایک اور حسین منظر ہمارا منتظر تھا۔ اور وہ یہ کہ مسجد کے فرش پر ایک طویل عمودی و راست صف بچھ چکی جس پر پارہ ہائے قرآن کے سینکڑوں نسخے رکھے ہوئے تھے۔ صف کے دونوں اطراف ان گنت مؤمنین محو ِ تلاوت تھے۔ محافل ِ قرآن خوانی تو تمام جہان میں منعقد ہوتی ہیں مگر اس محفل کی خاص بات یہ تھی کہ یہ برسوں سے بلاناغہ یہاں بی بی معصومہ (س) کی خدمت ِ اقدس میں ہدیتا” منعقد ہورہی ہے۔ بالکل ایسے ہی جس طرح مشہد میں مقام ِ شیخ حر عاملی پر عرصے سے روزانہ مرحومین کے ایصال ِ ثواب کے لئے مجلس ِ عزا منعقد ہوتی ہے۔ کیا کہنے ایسی بابرکت محافل ِ قرآن خوانی و مجلس ِ عزا کے کہ جو ان قطعہ ہائے فردوس پر برپا پوتی ہیں۔ معلوم نہیں جب یہ مظاہر ثواب و برکت کی صورت میں مرحومین تک پہنچتے ہوں گے تو کیا عالم ہوتا ہو گا اور ارواح کی خوشنودی کا۔ یہ سب فیوض ہیں ان مراکز ِ تجلیات کے جو خدا نے اپنے مقرب بندوں کے لئے ہبہ فرمائے ہیں۔
قرآن خوانی کی محفل سے تھوڑا آگے بڑھے تو کچھ صناع حضرات نے اپنی جانب کھینچ لیا جو مسجد کی دیواروں پر آیات ِ قرآنی اور متبرک کلمات کی خطاطی میں مشغول تھے۔ یہ خطاطی معمول کی خطاطی سے یوں مختلف اور حیران کن تھی کہ قلم ِ مو اور رنگ و روغن کی بجائے سونے کے تراشیدہ ٹکڑوں سے جاری تھی۔ ان ماہر ہاتھوں میں سونا اپنے آپ کو موم کیے ہوئے تھا اور وہ عقیدت و احترام کے ساتھ یوں کلمات کی صورت دیتے جارہے تھے کہ جیسے قلم چل رہا ہو۔ ویسے بھی ان قصور ِ بہشت میں سونا بالکل پانی کی مانند مستعمل ہے۔
اس سنہری خطاطی کے بارے میں سوچتا ہوا جب میں باہر کی جانب چلا تو کاملا” سونے سے بنے ایک برآمدے میں پہنچ گیا۔ اس برآمدے کا نام ہی "ایوان ِ طلاء" ہے۔ یہ روضہءمبارکہ کے شمال میں واقع ہے اور اسکے نزدیک دو مزید چھوٹے برآمدے بھی ہیں۔ یہ برآمدے 925ھ میں تعمیر کیئے گئے تھے۔ اسی دوران روضے کے سنہری گنبد کی تعمیر بھی جاری تھی اور ساتھ ہی اس گنبد کے ہمسائے میناروں اور ان برآمدوں سے متصل صحن ِ عتیق ِ قدیم بھی اپنی تجدید کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ یہ صحن روضے میں تعمیر ہونے والا سب سے پہلا صحن ہے۔ ایوان طلاٰء کے علاوہ اسکے تین اور ایوان ہیں۔ گو کہ یہ صحن رقبے کے اعتبار سے بہت چھوٹا ہے مگر حسن کے اعتبار سے اولین درجے پر ہے۔ اس صحن میں خوبصورت گلدستے ہیں جنکو سفید و نیلگوں پتھروں سے سجایا گیا ہے۔ یہ چاروں طرف سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان گلدستوں پر انتہائی خوبصورت انداز میں حدیث ِ ختمی مرتبت (ص) " الاومن مات علی حب آل محمد مات شھیدا" یعنی "آگاہ رہو کہ محبت ِ آل ِ محمد (ع) کی راہ میں جان دینے والا شھہید ہے۔" مرقوم ہے۔
اس صحن اور اسکے اطراف کے برآمدوں کی بنیاد شاہ اسمٰعیل صفوی کی دختر شاہ بیگی بیگم نے رکھی تھی۔ صحن ِ عتیق کا مغربی دروازہ مسجد ِ اعظم سے متصل ہے۔ مشرق میں صحن ِ نو واقع ہے جو کہ زائرین کے داخلے کا ایک اور راستہ ہے۔ صحن ِ نو کے چار دروازے ہیں۔ شمالی دروزاہ میدان ِ آستانہ کی جانب رہنمائی کرتا ہے، جنوبی دروازہ قبلہ کی جانب سے داخل ہونے والے زائرین کی آمدگاہ ہے، مشرقی دروازہ خیابان ِ ارم کی طرف جبکہ مغربی دروازہ وہی ایوان آئینہ ہے جہاں ہم اولا” داخل ہوئے تھے۔ صحن ِ عتیق کا شمالی دروازہ میری دانست میں سب زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ مدرسہءفیضیہ کی جانب کھلتا ہے۔
مدرسہءفیضیہ کو شہر ِ قم میں وہی اہمیت حاصل ہے جو شہر ِ قم کو ملک ِ ایران میں حاصل ہے۔ اگر قم کی تاریخ سے مدرسہءفیضیہ کو نکال دیا جائے تو ایسا ہی ہے جیسے تاریخ ِ ایران سے انقلاب کا صفحہ نکال دیا جائے۔ میری نظروں کے سامنے اس مدرسے کا صحن تھا جسکے بیچوں بیچ پانی کا ایک مربع حوض تھا اور اس صحن کے سے متصل کچھ درودیوار تھے جو عظیم انقلاب ِ اسلامی کا منبع ہیں۔ انقلاب کا چشمہ اسی حوض کے کناروں سے پھوٹا تھا جب یہاں امام خمینی (رح) اپنی انقلاب انگیز فکر کو اپنے دروس کے زریعے اس قوم کے فرزندان کے قلوب میں منتقل فرما رہے تھے۔ ان خام اور کچے حجروں سے اس تحریک نے جنم لیا جس نے سینکڑوں سال پر محیط باطل شہنشاہی کا تختہ الٹ پر پرچم ِ اسلام کو لہرایا۔ میں چشم ِ تصور میں امام خمینی کو یہاں درس دیتے ہوئے دیکھنے لگا۔ یہی مقام تھا جب عاشورہءمحرم کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے رضا شاہ پہلوی کو یزید ِ وقت کا خطاب دیا تھا۔ اس مجلس ِ عزا کی ہیبت اور روحانیت کا کیا عالم ہوگا کہ جسکے سامعین انقلابی اور خطیب وہ ہو جسکا ایک اشارہ لاکھوں کے مجمعے کو ایک ہی پل منجمد اور متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس تصور نے میری جسم میں کپکپی کی ایک لہر کو دوڑا دیا اور میں اس دنیا میں واپس لوٹ آیا۔
ماضی کی یہ بوسیدہ سی عمارت ایک عظیم مملکت کے استحکام کا باعث بنی جس نے اپنے سینے پر پر پرچم ِ اسلام، ظہور ِ امام عصر (عج) کے استقبالی نشان کے طور پر لہرایا۔ یہ پرچم آج بھی اپنے کامل وقار کے ساتھ لہرا رہا ہے اور انشاءاللہ تا صبح ِ قیامت لہراتا رہے گا۔ اس عمارت کے فرزندان ِ توحید نے اپنی مادر ِعلمی اور اپنے وطن کی بنیادوں کو اپنے پاکیزہ خون سے سینچ کر جو دوام بخشا ہے اسکی نظیر نہیں ملتی۔ اب یہ عالم ہے کہ اسلامی حکومت نے اس احسان کو یاد رکھتے ہوئے اسکا حق یوں ادا کیا ہے کہ رہبر ِ معظم جناب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جانب سے اسے قائم و دائم رکھنے کا اعادہ کیا گیا ہے اور نئی نہج پر اسکی تعمیر و آرائش کا کام جاری ہے۔ وہیں کھڑے کھڑے میرے خیالوں میں چند لمحوں میں کئی سال کا تاریخی سفر طے ہوگیا اور میں بوجھل قدموں سے باہر کی جانب چل پڑا۔ مجھے شدید ضرورت تھی اپنے زہن میں اٹھنے والے بیشمار سوالات کے جوابات کی، جو اسی سزمین سے متعلق تھے اور اسی سرزمین سے ہی حاصل ہونا تھے۔ چنانچہ ہم چل پڑے آستان ِ قدس معصومہ (س) کے دفتر روابط ِ بین الملل کی جانب جہاں میری الجھنوں کو سلجھانے کا تمام سامان موجود تھا۔