16.10.2026, 07:11pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔14ویں قسط
22.09.2011, 04:50am , جعمرات (GMT+1)

افضال بن غنی،لندن
کانی دنوں کے بعد آپ سے رابطہ ہو رہا ہے سوچا تو یہ تھا کہ اس سلسلے کو بند کیا جائے مگر شاید کبھی بند نہ ہونے والا سلسلہ تاجران خون حسین کو بے نقاب کرنے کے لئے جاری و ساری رہے گا انشااللہ ۔

اس دوران بے تحاشا تبدیلیاں اور نئے نئے واقعات و حادثات سامنے آئے ہیں جنہیں لکھنے کے لیئے طویل وقت درکار ہے۔ اس سے قبل کی تیرہ اقساط سامنے آنے کے بعد وہ ادارے یا جماعتیں جنکو ان تحریروں میں اپنی شکلیں اور بد اعمالیاں نظر آ رہی تھیں انہوں نے کیسے کیسے مومن صفت پر الزامات لگائے کہ وہ یہ سب کچھ لکھ رہے ہیں ۔بات فقط الزامات تک ہی نہیں رہی بلکہ حیلے بہانوں سے دھمکیاں بھی دی گئیں کہ مقدمہ کر دیا جائے گا اور برادری میں یکا و تنہا کر دیا جائے گا۔ حالانکہ ابھی تک ہم نے کسی ایک رپورٹ میں بھی کسی کا نام نہیں لکھا حالانکہ کسی ٹی وی چینل کا نام بھی نہیں لکھا اور کوئی ایک سطر بھی دستاویزی ثبوت کے بغیر شائع نہیں کی۔

اگر کبھی ایسا موقع آیا تو یہ دستاویزی پیش کر دیئے جائیں گے اور پھر شاید ان بداعمال لوگوں کو بھاگنے کی جگہ بھی نہ ملے کہ جو اللہ،اسکے حبیب،انکے صحابہ اور اہلبیت کے نام پر معصوم اور کم علم لوگوں کو لوٹ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ ان شیطام مزاج لوگوں نے اپنے ساتھ نام نہاد ایسے ملاؤں کو ملا رکھا ہے جنکو انکے محلے والے بھی پوری طرح نہیں جانتے۔ ان ملاؤں کا سارا علم نفاق پر بنیاد رکھتا ہے اور یہ کتاب سے ہٹ کر شاید دس منٹ بھی مدلل بات نہیں کر سکتے۔

ایسے عبا و قبا اور باوردی لوگوں نے دین کو بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مسالک اور برادریوں کو بھی بدنام کیا ہوا ہے اور لوگوں میں عمل کی بجائے بے عملی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یوں تو یہ لوگ ان جماعتوں کے نظریات کی مخالفت کرتے ہیں کہ جو کہتے ہیں کہ ‘‘ہمارے لیئے کتاب ہی کافی ہے‘‘ لیکن خود رات دن اسی نظریے کی تفصیل نظر آتے ہیں۔ انکو موٹی موٹی کتابوں سے اسلام میں اتحاد کی باتیں کہیں نظر نہیں آتی اور اگر کچھ نظر آتا ہے تو نفاق  کی تشہیر ہے۔

ٹی وی جیسے مضبوط ترین میڈیم کے استعمال سے ناواقف یہ واجبی تعلیم کے لوگ جس طرح سے ٹی وی استعمال کر رہے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کسی بچے کے ہاتھ میں تلوار دے دی جائے اور وہ اس سے خود اپنے کو ہی لہو لہان کر رہا ہو۔

پچھلی تیرہ اقساط کے شائع ہونے کے بعد ان مفاد پرست لوگوں نے عالمی اخبار کی انتظامیہ پر بھی الزام لگایا کہ وہ خود نام بدل کر یہ سب تحریر کر رہے ہیں اور برادری میں مختلف حلقوں سے ان پر دباؤ ڈالنے کی بھی کوشش کی گئی لیکن انتظامیہ نے ایسے ہتھکنڈوں کی پرواہ کیئے بغیر مجھے یہ مشن جاری رکھنے کو کہا ہے۔

فی الحال تو ایک مسلکی ٹی وی کے دو مالکان کے درمیان اب جوتوں میں دال بٹ رہی ہے اور وہ تھالی کے بینگن ملاں جو پہلے مالکوں کے ساتھ تھے اور انہیں امت کے قائد قرار دیتے تھے اب نئے مالکوں کے ساتھ ملکر انہیں خوب بے وقوف بنا رہے ہیں۔ یہ وہ ملاں ہیں جنکا سارا علم صرف استخاروں تک محدود ہے اور جو ٹی وی پر سب سے بڑا پروگرام استخارے کو ہی سمجھتے ہیں۔ ٹی وی سکرین پر آتیں پڑھنے والے اور لوگوں کو عفت کلام اور نیکیوں کا درس دینے والے ان ملاؤں کو اگر نجی محفلوں میں سنا جائے تو عام گناہ گار آدمی بھی کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔ ان کے منہہ سے گالیاں سن کر شرم آتی ہے اور جھوٹ تو اس درجے کا بولتے ہیں کہ خود شیطان بھی اپنے علمِ کذب پر شرما رہا ہوتا ہے۔

ہم تو حیران ہے کہ کچھ ملاں لوگ شاید اپنے گھروں سے بالکل فارغ ہیں اور انکو اپنے خاندانی فرائض سے بھی کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی بچوں کی تعلیم و تربیت سے کوئی لگاؤ ہے کہ وہ سارا سارا دن ٹی وی اسٹیشنوں پر گزار دیتے ہیں۔ ٹی وی پر والدین کو بچوں کی تربیت کا درس دینے والے یہ لفاظی کرنے والے بے عمل لوگ اپنے بچوں کی تربیت کے لیئے شاید چند گھنٹے بھی نہیں نکال پاتے۔ لیکن ایک بات تو عیاں ہے کہ برطانیہ جیسے ملک میں کوئی سارا سارا دن کسی مالی منفعت کے بغیر یوں کسی جگہ نہیں گزار دیتا لیکن حیرت ہے کہ خود میری مختلف حوالوں سے جب بھی ایسے لوگوں سے بات ہوئی انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ وہ یہ کام کسی پیسے کے بغیر کر رہے ہیں حالانکہ بینکوں کے کھاتوں میں اس رقم کا اندراج ہے جو یہ وصول کر رہے ہیں۔ خیر جب کوئی طے کر لے کہ اس نے ٹی وی سکرین اور نجی زندگی میں جھوٹ ہی بولنا ہے تو پھر اللہ پاک بھی اسکے لیئے سچ کے راستے بند کر دیتا ہے

ہم فی زمانہ اپنے اطراف بڑے پیمانے ہر دینی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرتےرہے ہیں جو بجائے خود تو مستحن سرگرمیاں ہیں اور اجر و ثواب کا مستحق بھی بناتی ہیں لیکن یہ احساس دل کے نہاں خانے مین اکثر موجزن رہتا ہے کہ جن کاموں میں ہمیں دل چسپی ہے ہم ان ہی کو بجا طور پر ہم قابل ثواب جانتے ہیں ان کی انجام دہی مین مصروف رہتے ہیں اصل میں ہونا تو یہ چاہیے کہ ان اعمال و سرگرمیوں کو تدریج اور اہمیت معلوم کرنے اور ان کی ترجحیی ہدف کو متعین کرنے کے لئے سب سے پہلے کتاب ہدایت القران الحکیم سے رجوع کیا جائے یہ عمل ضروری ہے اور اللہ کی مقررہ کردہ ترجحیات سے بے خبر ہو کر اپنی پسندیدہ ہدف کو اپنی سرگرمیاں اور اعمال کا محور مرکز بنا کر ہم اپنے آپ کو بچا سکتے چنانچہ بہتر اور عنداللہ زیادہ بہتر یہی امر اور عمل ہے کہ ہم کتاب اللہ سے ابتدا ہی میں رجوع کریں

یہ باتیں میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ کل شام اپنے کاموں سے فراغت پا کر حسب عادت ٹیلی ویژن کو آن کر لیا مگر نہ جانے کیا ذہن میں آیا اور اپنے سکون اپنے کہ لئے چینل کو تبدیل کرنے لگا کہ شاید کسی چینل سے کوئی اچھا پروگرام دیکھنے کو مل جائے اچانک ایک مسلکی ٹیلی وژیرن پر ایک نام نہاد مُلا اپنی میراث کی ایک موٹی سی کتاب میں سے عربی میں معاویہ کے نام اس خط کر پڑھ رہا تھا جو علی علیہ السلام نے لکھا تھا اور یہ مولانا جناب علی علیہ السلام کا معاویہ سے تقابل کرنے میں مصروف تھا نعوذ باللہ۔

ذرا سوچئے کہاں نفس رسول اور کہاں معاویہ کہ جسے امیر کہنا بھی گناہ ہے اور ایسے بدکردار کا مقابلہ علی علیہ السلام کے ساتھ کیا جائے۔ یہ سوچ کر ہی گھن آتی ہے کہ آخر یہ لوگ کیا اس طرح سے علی کی شان بڑھا رہے ہیں یا نعوذ باللہ انکی تضحیک کر رہے ہیں

اس پروگرام میں ان ملاں صاحب نے اچانک اپنی گفتگو کو روک کر  وقفہ پر جانے کا اعلان فرمایا اور وقفہ پر چلے گئے بعد از وقفہ پر جب سکرین پر تشریف لائے اور فون کال لینی شروع کی اور جو درگت کالر حضرات نے بنائی اگر ان میں ذار بھی شرم کا مادہ ہوتا تو وہاں پر ہی پروگرام کو ختم کر کے چلے جاتے کیوں کہ کسی کال کرنے والے نے ان کو کہا کہ آپ اپنے کالر کو تمیز سکھائیں۔ اور کسی نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی نہ جانے اُن ملاوں کو کیا ملتا ہے کہ اپنے رہبروں پر ناپاک رہبروں کے تقابل کر کے اور اشتعال انگیز باتیں پھیلا کر  جواب تو درکنار نہ جانے کیا دئے  مگر مجھے اس بات پر انتہائی دکھ ہوا کہ یہ نام نہاد ملا جو اپنی مخصوص وردی میں سکرین پر براجمان تھا اپنی کم علمی کا اعتراف کتاب کھول کر ثابت کر رہا تھا اور دین میں جو تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رہا تھا خدا کی پناہ ۔

لندن میں ہی ایک ایسا مسلکی چینل بھی ہے جس نے ایک ایسی پابندی لگا رکھی ہے کہ اگر اسے آف کام کے علم میں لایا جائے تو اسکا ایک ہفتے میں لائسنس منسوخ ہو جائے۔ اس ٹی وی چینل نے ایک فارم بنوا رکھا ہے جس میں پروگرام میں شرکت کرنے والے ہر فرد کو دستخط کرنے ہوتے ہیں کہ میں ‘‘ احمدی یا شیعہ‘‘ نہیں ہوں۔ برطانوی قانون اور آف کام کے رہبر اصولوں کے مطابق یہ بڑے پیمانے کا جرم ہے جو یہ لوگ سر عام کر رہے ہیں

ٹی وی سکرین پر ساراسارا دن بیٹھنے کا شوق ملاؤں کے ساتھ ساتھ ملانیوں کو بھی اس شدت سے پیدا ہو گیا ہے کہ ان ملانیوں کے گھروں میں خانگی فسادات شروع ہو چکے ہیں جنکا ذکر پھر کسی وقت کریں گے۔

آج کی قسط اس پر ختم کرتے ہیں کہ لندن کا ایک مسلکی ٹی وی چینل جو کئی ہفتے سے بند ہے اب اسکا مقدمہ دونوں مالکان عدالت میں لڑ رہے ہیں اور جب یہ قسط شائع ہو گی شاید اسی دن یا س سے اگلے روز اس مقدمے کی عدالت میں پیشی ہے۔ ہم بھی وہیں موجود ہونگے اور آپکو عدالتی کاروائی سے بھی مطلع کریں گے لیکن اسوقت صورت حال یہ ہے کہ دونوں مالکان ہونے کا دعویٰ کرنے والے لوگوں کو یہ کاغزات دکھا رہے ہیں کہ ٹی وی کا لائسینس انکے نام پر ہے۔
ان دونوں میں سے کوئی ایک تو جھوٹا ہے کیونکہ لائسینس دو لوگوں کے نام پر ہو نہیں سکتا اور اب اس بات کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس ٹی وی چینل کو ماہانہ رقم بنک کے ذریعے دیتے ہیں اور انہیں کئی ہفتوں سے یہ نشریات دیکھنے کو نہیں مل رہیں تو کیا یہ ایمانداری کا درس دینے والے اور ایماندار ہونے کا دعویٰ کرنے والے لوگ اپنے ممبران کو اتنے دن کے پیسے واپس کریں گے؟
نوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے

:دیگر مضامین
(21.09.2011) سویڈن میں غیر رواداری ،اور عدم برداشت کے متعلق ایک نمائش کا اہتمام
(19.09.2011) لندن میں آن لائن ٹیلی ویژن ''ولایت ٹی وی'' کی باقاعدہ نشریات کا آغاز ہو گیا
(18.09.2011) پاکستان میں ڈینگی بخار کے مریضوں میں اضافہ، سہولیات ناکافی ۔از؛ تنویر شہزاد
(16.09.2011) ٹوٹے مکان چیختے بچوں کا شورو شین۔شاعر و آواز۔صفدر ھمٰدانی
(13.09.2011) نائین الیون کے بعد اسلام قبول کرنے والی امریکی خاتون ۔از؛ /مدیحہ انور ۔ واشنگٹن
(12.09.2011) نائن الیون کو دس سال گزر چکے لیکن امن کا دنیا میں کہیں نام نہیں ہے
(11.09.2011) مسلمان امریکا سے متنفرہیں اورمتنفر رہیں گے.امریکی میڈیا؟ از۔محمداعظم عظیم اعظم
(10.09.2011) امریکہ کی پرانی فلم “امن “ کی ری میک ۔اشاعت مکرر. از“ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(09.09.2011) ہمارے ملک میں تو بے شمار ہزاروں ''انے'' ہیں ۔ ہاہاہاہا
(05.09.2011) ٹماٹر پھینکنے کے سالانہ میلے کا آغاز 1945ء میں سپین کے شہر ویلنیسا سے ہوا
(02.09.2011) انسانیت کی دشمن دوسری عالمی جنگ کے آغاز کے 72 سال
(31.08.2011) عالمی اٍخبار اپنے قارئین اور قلم کاروں کو عید الفطر کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہے
(29.08.2011) سال کا سب سے مبارک مہینہ رخصت ہورہا ہے ۔از نگہت نسیم
(28.08.2011) ماہِ رمضان کی روانگی کی نوید.... جمعتہ الوداع۔ازمحمد اعظم عظیم
(27.08.2011) لیلتہ القدر کو تلاش کرو رمضان کی طاق راتوں میں۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(24.08.2011) سویڈن میں شہادت مولائے متقیان حضرت علی علیہ سلام کی مجالس کی رپورٹ
(23.08.2011) اے عباد الرحمن آگے بڑھو ۔ ۔ از؛ محمد احمد ترازی ۔کراچی
(22.08.2011) ہے کوئی خیر کا طالب ۔ رحمت حق بہانہ می جوید ۔از؛ محمد احمد ترازی
(20.08.2011) شہید کوفہ، امام علی ابن ابی طالب علیھما السلام ۔از: سید مصباح حسین جیلانی
(19.08.2011) شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ ۔۔۔ از؛ شمس جیلانی ۔وینکوور ۔ کینیڈا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں