شہرہ آفاق غزل گلوکار جگجیت سنگھ،موت کے ساتھ جنگ ہار گئے۔ایک آواز خاموش 11.10.2011, 04:13am , منگل (GMT+1)
صفدر ھمدانی عالمی اخبار لندن
لندن میں جگجہت سنگھ کے شاگرد سید آصٖف رضا کی اطلاع کے مطابق معروف بھارتی غزل گائیک جگجیت سنگھ چل بسے۔70 سالہ جگجیت سنگھ 23 ستمبر
برین ہیمرج کے بعد ممبئی کے لیلا وتی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں انکی
حالت تشویشناک بتائی جارہی تھی۔
گزشتہ چار دہائی سے غزل گائیکی میں اپنی
آوازکا جادو جگانے والے جگجیت سنگھ 8 فروری 1941 ء کو سری گنگانگر،
راجستھان میں پیدا ہوئے، انہیں بچپن ہی سے موسیقی سے لگاؤ تھا، انہوں نے
اپنے کیریئر کا باقاعدہ آغاز 1974 ء میں کیا۔جگجیت سنگھ نے اپنی اہلیہ چترا
سنگھ کے ساتھ کئی ریکارڈ توڑ البمز میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، اور ان
جوڑی کو زبردست پذیرائی ملی۔
جگجیت سنگھ کو 2003 ء میں بھارت کے سب سے بڑے
سرکاری اعزاز پدما بھوشن سے بھی نوازا گیا، غزل گائیکی میں نئی جہتیں
روشناس کرانے والے جگجیت سنگھ نے نے 60 سے زائد فلمی اور غیر فلمی البمز
میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔
جگجیت سنگھ نے ’وہ کاغذ کی کشتی‘،’ چاک جگر
کے‘،’ کل چودھویں کی رات تھی‘ اور’ شام سے آنکھ میں نمی سی ہے‘، جیسی
لازوال غزلیں گائیں۔انہوں نے ہندی، اردو، پنجابی اور نیپالی سمیت کئی
زبانوں میں غزل سرائی کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے قبل تئیس ستمبر کو عالمی اخبار نے خبر لگائی تھی کہ بھارت کے مایہ ناز اور شہرہ آفاق غزل گلوکار جگجیت سنگھ کی دماغ کی شریان
پھٹ گئی اور ڈاکٹرز کے مطابق ان کی حالت بہت نازک ہےہے۔ انہیں ممبئی کے
علاقے باندہ میں واقع لیلا وتی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ۔
ممبئی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق انہیں جمعہ کی شام اچانک برین ہیمریج
ہوا جس کے بعد فوری طور پر اسپتال میں ان کے دماغ کی سرجری کی گئی۔ ڈاکٹرز
کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے۔اس وقت وہ آئی سی یو میں داخل ہیں۔
جمعہ کی شام انہیں ممبئی میں ہی ایک لائیو کنسرٹ میں شرکت کرنا تھی کہ
اچانک ان کے دماغ کی شریان پھٹ گئی۔جگجیت سنگھ کی عمر ستر سال ہے ۔
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں