پچھلے دنوں ڈائریکٹر میڈیا شریف اکیڈمی جرمنی کے حوالے سے چند جگہوں پر یہ خبر شائع کروائی گئی کہ فیض کمیٹی کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے جرمنی سے معروف ادبی علمی شخصیت اور فن و ادب ایسوسی ایشن کے صدر جناب ارشاد ہاشمی کو جرمنی سے کمیٹی کاممبر نامزد کیا گیا ۔ ارشاد ہاشمی جرمنی کے ادبی علمی اور سیاسی حلقوں میں اپنی پہچان رکھتے ہیں اور فروغ ادب اور کمیونٹی کی خدمات میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں ۔ دوسری طرف ڈنمارک سے چوہدری امانت علی ، ایڈیٹر وطن نیوز ویب سائٹ اور علمی ادبی ثقافتی جریدہ وطن کے ایڈیٹر کو ڈنمارک سے کمیٹی میں شامل کیا گیا تاکہ جرمنی اور ڈنمارک میں فیض تقریبات کے سلسلے کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ چوہدری امانت علی بے لوث نڈر اور سچے پاکستانی ہیں ۔
اس عہد میں فیض احمد فیض نے مر کر بھی جس طرح ادب کے بے فیض لوگوں کو فیض پہنچایا ہے یہ خبر اسکی ایک مثال ہے۔ ایسے ایسے لوگ جو شاید فیض کا مصرعہ بھی درست نہیں پڑھ سکتے وہ فیض کے کلام کو عام کریں گے۔ پرانی قبروں پر مجاور بن جانے کا یہ قصہ پرانا ہے اور ادب میں تعلقات اور دوسروں کی بیساکھیوں کے زور پر قد بلند کرنے والوں کی یہ کوئی نئی مثال نہیں ہے۔
ڈنمارک کے چوہدری امانت سے ہم چونکہ واقف نہیں کہ ادب اور صحافت میں انکا کیا مقام ہے لیکن فن و ادب ایسوسی ایشن جرمنی کے صدر جناب ارشاد ہاشمی ایک بااصول شخصیت ہیں اور انہوں نے شریف اکیڈیمی کے اس اعلان پر سخت احتجاج کرتے ہوئے مندجہ ذیل بیان جاری کیا ہے۔