|
کشمیرکی صورت حال پہ جموں سے عالمی اخبار کے دلاور حسین کی اہم رپورٹ
01.10.2011, 01:42am , ہفتہ (GMT+1)
دلاورحسین جعفری ؍عالمی اخبار جموں
عدالت عظمیٰ کے احکام کی خلاف ورزی پر بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار لڑکیوں سے معافی مانگنی پڑی ۔عمر عبداللہ نے یہ معافی ان لڑکیوں سے مانگی ہے جن کی گزشتہ پانچ برسوں کے دوران عصمت ریزی کی گئی اور پھر قانون ساز اسمبلی میں ان لڑکیوں کے نام اور پتہ افشا ء کئے گئے ۔ یہاں یہ واضح رہے کہ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کی طرف سے ایک سوال کے جواب میں حکومت نے پانچ سال کے دوران عصمت دری کا شکار ہونے والی 1326لڑکیوں کی تفصیل معہ نام و پتہ اسمبلی میں پیش کی جو عدالت عظمیٰ کے احکامات کی صریحاًخلاف ورزی ہے
۔یہ اعداد و شمار حکومت کے محکمہ داخلہ کی طرف سے پیش کی گئی تھیں اور یہ محکمہ وزیر اعلیٰ کے ماتحت کام کرتاہے ۔وزیر اعلیٰ نے ایوان کو اس بات کی یقین دہانی دلائی کہ وہ اس معاملے کو خود یکھیں گے اور یہ معلوم کیاجائے گاکہ ان کے ماتحت محکمہ میں اس طرح کی سنگین غلطی کس سے سرزد ہوئی ہے ۔اس سے قبل جمعہ کے روز اسمبلی کی کاروائی شروع ہوتے ہی پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اپنی نشست سے کھڑی ہوگئیںاور عصمت دری کا شکار ہوئی لڑکیوں کے نام افشا کرنے پر زبردست غم و غصہ کااظہار کیا۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ حکومت نے قانون سازیہ میں اُن 1300لڑکیوں کے نام ظاہر کئے ہیں جوعصمت دریوں کا شکار ہوئی ہیں۔
انہوںنے کہاکہ حکومت اگر عصمت دری کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے صرف اعداد وشمار پیش کرتی تو اُس پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور اگر اس سلسلے میں متاثرہ لڑکیوں کی تعداد تک ہی محدود رہا جاتا تو وہی مناسب ہوتا ، مگر حکومت نے اُن لڑکیوں کے نام اور پتہ ظاہر کرکے اُنہیں سنگین مسائل میں مبتلاء کیا ہے اور اب حکومت اپنی غلطی کا زالہ بھی نہیں کرسکتی ہے کیونکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں اب تیر کمان سے نکل چکا ہے ۔انہوںنے اس غلطی کیلئے وزیر اعلیٰ کو بھی نشانہ بنایاکیوں کہ محکمہ داخلہ انہیں کے ماتحت ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک اخلاقی اور سماجی جرم کاہی ارتکاب ہوا ہے بلکہ قانونی نقطہ نگاہ سے بھی یہ ایک سنگین جرم ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی اس طرح کے متاثرین کے نام ظاہر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
محبوبہ مفتی کی تائید کرتے ہوئے اس موقعہ پر کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کے ریاستی سیکریٹری محمد یوسف تاریگامی نے بھی کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ حکومت نے عصمت دری کی متاثرہ لڑکیوں کی شناخت کی ہے مگر یہ جرم کرنے والے سماج دشمنوں کے ناموں کو چھپایا گیا ہے۔اپوزیشن لیڈران کی کھری کھری سننے کے بعد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بات کا اعتراف کیاکہ ان کے محکمے سے یہ سنگین غلطی ہوئی ہے جس پر انہوںنے فوری طور پر معافی مانگ لی ۔ انہوں نے کہاکہ اس کی مکمل تحقیقات ہوگی اور تمام وجوہات کے بارے میں معلوم کیاجائے گا۔انہوںنے ان تمام لڑکیوں سے معافی مانگی جن کے نام ایوان میں افشا ء کئے گئے تھے ۔دریں اثنا ء ہندوستانی زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی میں اس بات کا انکشاف ہواہے کہ وادی کشمیر میں چھبیس ہزار کنال اراضی پر فوج غیر قانونی طور پر قابض ہے جبکہ صوبہ جموں میں سینتالیس ہزار کنال سے زائد اراضی پر فوج قابض ہے ۔
یہ زمین فوج نے 1990کے نامساعد حالات کے بعد زیر قبضہ رکھی ہوئی ہے ۔ یاد رہے کہ ریاست میں فوج کے زیر قبضہ اراضی کا مالکان کو معاوضہ بھی نہیں دیاگیاہے اور بیشتر مالکان بے گھر ہوکر کسم پرسی کی زندگی گزاررہے ہیں ۔محبوبہ مفتی کے ہی ایک سوال کے جواب میں حکومت میں شامل کانگریس پارٹی کے وزیربرائے مال رمن بھلہ نے بتایاکہ وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں فوج ، بی ایس ایف، سی آر پی ایف، آئی ٹی بی پی، پولیس اور ائر فورس نے 25957کنال اراضی پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔
علاوہ ازیںانہوںنے بتایاکہ جموں خطے میں سینتالیس ہزار کنال سے زائد اراضی فوج کے زیر قبضہ ہے تاہم انہوںنے ساتھ ہی وضاحت کی کہ خطے میں کہیں پر بھی فورسز نے ریاست کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ نہیں کیا ہے البتہ خطے میں مجموعی طور پر 47561کنال اور10مرلہ اراضی فورسز کی مختلف ایجنسیوں کی تحویل میں ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ قانون کے تحت لوازمات پورا کرنے کا عمل مختلف ضلع کمشنروں کی طرف سے جاری ہے
|