
دوسرے دن ہمیں جناب ڈاکٹر قاسم پیرزادہ وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی کا پیغام ملا کہ وہ اس احقر سے ملنا چا ہتے ہیں ۔ جوکہ انتہا ئی عظیم انسان ہیں۔ ورنہ اپنے ہاں لوگ اگر معمولی عہدے پر بھی فائز ہوں تو بھی کلف لگے کالر کی طرح اکڑے رہتے ہیں۔ میری ملا قات ان سے اس وقت ہو ئی جب میں گیارہ سال پہلے کراچی آیا تھا ۔ میں ۔ عالی جی کے پاس ان کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہ تشریف لا ئے عالی جی نے تعارف کرا یا، اس وقت اردو کالج جوکہ اردو یونیورسٹی بن چکا تھا اس کے وہ وائس چانسلر تھے۔ عالی جی چاہتے تھے کہ انجمن ترقی اردو کو مزید فعال کیا جا ئے اور اسے دوسرے ملکوں میں بھی روشناس کرایا جا ئے ا ور ہرسال اس سلسلہ میں ایک انٹر نیشنل اردو کانفرنس منعقد ہوا کرے؟ مگروہ اس منصوبے کو اپنی علالت کی وجہ سے بعد میں عملی جامہ نہیں پہنا سکے ؟
وہ مجھے بھی اس سلسلہ میں فعال کر نا چاہتے تھے اوراسی لیئے انجمن ترقی اردو لا ئبریری کے سربراہ سے مجھے ملوانا چا ہتے تھے۔ ڈاکٹر پیر زادہ صاحب سے انہوں نے کہا کہ آپ ذرا ان کو لا ئبریری تک چھوڑ دیں۔ جس خندہ پیشانی سے انہوں نے یہ عالی جی کا حکم سنا اور مجھے اعزاز ِ ہم سفری بخشا ،وہ میرے دل میں گھر کر گیا ۔ اس کے بعد سے کراچی میرا آنا ہی نہیں ہوا، جو ان سے دوبارہ ملا قات ہوتی ،البتہ جب میں نے اپنی حضور (ص) کی سیرت پر کتاب “روشنی حرا سے ً کراچی سے شا ئع کی، تو انہیں اس امید پر اپنی کتاب جناب طا ہر سلطانی کے ہا تھ بھجوائی کے اگر بھولے نہیں ہو نگے تو پہچان لیں گے ؟ کیونکہ بڑے آدمی ایک دن میں اتنے لو گوں سے ملتے ہیں کہ انہیں یا د مشکل سے رہتا ہے۔ مگر میں ان کی یاداشت کا قائل ہو گیا کہ انہوں نے اس احقر کو یاد رکھا اور وہ کتاب کمال محبت سے قبول فرما ئی۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنی اچھی یاداشت کے مالک تین ہی اشخاص دیکھے ہیں جن میں پہلے جناب حسین شہید سہروردی مرحوم ، دوسرے جناب ذوالفقارعلی بھٹو شہید تھے اور تیسرے یہ جناب پیر زادہ ہیں؟ انہوں نے نہ صرف یہ کہ کتاب وصول کی بلکہ اس کی دوسری کاپی جو کہ میں نے پولٹیکل سا ئنس کے سربراہ ڈا کٹر محمد عبد اللہ صا حب کے لیئے بھیجی تھی، وہ بھی سلطانی صا حب سے لیکر ان کو اپنے پیون کے ذریعہ بھجوادی ۔ جب مجھے یہ خبر فون پر طاہر سلطانی صا حب نے دی تو مجھے بہت خوشی ہو ئی اور میں ان کی عالی ظرفی کا مزید قائل ہو گیا۔ لہذا مجھے جب میرے عزیز ، میرے بھائی، ڈاکٹر محمد احمد صا حب جو شعبہ پو لٹیکل سا ئنس میں پرو فیسر ہیں اور ملت ِ اسلامیہ کے لیئے انتہائی فعال انسان بھی ،ان کا یہ پیغام لیکر آئے تو میں انہیں انکار نہ کر سکا کہ ایسے لوگ اپنے دیس میں کہاں ملتے ہیں جن سے ملنے سے روح کو بالیدگی حاصل ہوتی ہو ؟
حالانکہ وہ کراچی میں میرا آخری دن تھا اور مجھے رات کو دوبجے کنیڈا اتحاد ایر لا ئن سے روانہ ہو نا تھا۔ جبکہ میں صبح ڈاکٹر محمد احمد صاحب کی ایک پر خلوص تجویز پر جو کہ ان کے کلاس کے بچوں کو خطاب کرنے کے لیئےتھی معذرت کر چکا تھا ۔
مگر اس پر میں معذرت نہ کر سکا۔ کیونکہ ڈاکٹر محمد احمد قادری مجھ سے کس قدر پیار کرتے ہیں میں اس کا اظہار لفظوں میں نہیں کر سکتا۔ اتفاق سے وہ ان دنوں وینکور میں تھے ۔ جب میری “ کتاب روشنی حرا سے “ کی رونما ئی کے لیئے جناب صفدر ھمدانی صا حب لندن سے تشریف لا ئے تھے جوکہ ا س وقت بی بی سی لندن سے وابستہ تھے ۔اس موقعہ پر احقر پر محمد احمد صا حب نے پون گھنٹہ بہت ہی مدلل تقریر کی، جس میں رچمنڈ کے قائم مقام مئیر بل میک نا ئیٹی ، اس وقت کے پاکستان کے کونسل جنرل جناب معین حق صاحب اور ہر مذ ہب اور ملت کے لوگ ایک چھت کے نیچے جمع تھے۔ اور ہر ایک کچھ نہ کچھ اس احقر پر کہہ رہا تھا۔
قصہ مختصر ڈاکٹر محمد احمد صاحب مجھے اپنے بھتیجے طاہر کے ساتھ لینے آگئے اور میں یونیورسٹی پہو نچا ڈاکٹر صا حب سے ملا

قات ہو ئی سلسلہ کام و دہن شروع ہوا کہ شاید وہ اس کے بھی قائل ہیں جو کہ حضور (ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ “اگر ایک مومن دوسرے مومن کے پا س گیا اور اس نے کچھ کھا یا پیا نہیں تو گویا اس نے مردے کی زیارت کی “حالانکہ ہم پہونچے تو وہ کہیں جانے کو تیار تھے۔ پھر بھی امت کی موجودہ حالت پر بات ہو تی رہی ۔ میں نے ان کی توجہ اس طرف دلا ئی کہ اس کی اصل وجہ اس سیکنڈ ڈیفیس لا ئین کی مکمل تبا ہی ہے جو کہ حضور (ص) کی سنت کو جاری رکھتے ہو ئے تزکیہ نفس کراتی تھی، وہ تھی صوفیا ئے کرام (رح) کی جما عت، جو پہلی ڈیفنس لا ئین کے کرپٹ ہو جانے کے بعد بھی ہر موقعہ پر باد شاہوں کے آڑے آئی اور جس کی وجہ سے اسلام پھیلتا بھی رہا اور محفوظ بھی رہا۔اور یہ کہ یہ ڈیوٹی حضور (ص) کو اکملیت پر فا ئز کر نے کے لیئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کے سپرد کی تھے جو انہوں (ص) نے امت کے سپرد تبلیغ کی طرح منتقل فر ما دی اور اس کی دلیل یہ ہے کہ پورا قر آن دیکھ جا ئیے تو آپ ہر نبی (ع) کے ساتھ “ یتلو علیھم “ تو پا ئیں گے مگر “ یزکیکم “ کا لفظ نہیں پا ئیں گے۔ سوائے حضور (ص) کے ، کہ وہ صرف پیغام پہو نچا نے کے لیئے تھے جبکہ حضور (ص) کے ذمہ یہ اضافی ڈیو ٹی تھی کہ وہ اپنے ماننے والوں کو (پاک بھی کریں) یعنی تزکیہ نفس بھی کرائیں۔ جس کے ذریعہ وہ مشینری حضور (ص)نے تیار فرما ئی جس نے تین عشروں سے کچھ زیادہ عرصہ تک ان کے نظام کو چلایا اور ان کے مشن کو آگے بڑھا یا۔ مگر جب لوگ بہت بڑی تعداد میں مشرف بہ اسلام ہو ئے تو وہ حضور (ص) کا آخری دور تھا لہذا نئے لوگوں کے لیئے وہ نظام تربیت قائم نہیں رہ سکا کہ جو ان سب کا تزکیہ نفس کرا تا؟ ڈاکٹر صا حب میرے ان الفاط سے بہت متا ثر ہو ئے، اب تک جو میری طویل گفتگو یک طرفہ طورپر غور سے سن رہے تھے، پہلے دفعہ گویا ہوئے اور میری ہمت افزائی یہ کہہ کر فرما ئی کہ آپ کا خیال صحیح ہے اور میں بھی اس سے متفق ہوں کے جب اسلامی فتوحات بڑھ گئیں تو اسلام قبول کرنے والوں کی تربیت کا وہ معیار نہیں رکھا جاسکا۔
دل تو ان کو چھوڑنے کو نہیں چا ہ رہا تھا ۔ مگر ان کو بھی کہیں جانا تھا مجھے بھی کئی کام کرنا تھے۔ لہذا ہم نے انہیں خدا حافط کہا اور مجھے وہ دروازے تک چھوڑ نے آئے اور پھر کوریڈور میں انکی جھنڈا لگی کار انہیں لے جانے کے لیئے تیار تھی وہ اس میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد ہم اردو اکا دیمی کے سر براہ ڈا کٹر اقبال صا حب سے ملے ان سے اردو کے مستقبل پر باتیں ہو تی رہیں ۔ چونکہ کافی دیر ہو گئی تھی لہذا ڈاکٹر محمد عبد اللہ قادری صاحب گھر چلے گئے تھے ،ان سے ملنے ہم ان کے گھر چلے گئے جو کہ یونیوسٹی کیمپس میں ہی تھا ۔
باقی آئندہ