
ریحان
اکیڈمی انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام پانچواں بین ا لا قوامی طرحی جشنِ مرتضوی
امسال بھی کراچی کے مصروف علاقے میں مسجدِ رضویہ میں ہوا۔اس خوب صورت
،کامیاب روحانی تقریب کے انعقاد کا سہرا ریحان اکیڈمی کے چئرمین اور ان کے
ساتھیوں کے کو جاتا ہے ۔
پچھلے برسوں کی روایات کوبرقرار رکھتے
ہوئے اس بار بھی پورے علاقے کو رنگا رنگ برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ملک
میں دہشتگردی کے ہونے والے حملوں کے سبب سیکورٹی کاخصوصی انتظام بھی تھا
مسجد کے احاطے سے کافی دور ایک چیک پوسٹ قائم تھی جہاں ریحان اکیڈمی کے
رضاکار،سکاؤٹس موجود تھے جو ہر آنے والےکا نہائیت خوش اخلاقی سے استقبال
کرتے ہوئے اسے چیک بھی کر رہے تھے۔
احاطے میں داخل ہونے کے بعد استقبالیہ کا ٹینٹ تھا جہاں ریحان اعظمی اپنے ساتھیوں سے ساتھ ہر آنے والے مہمان کا استقبال خود کر رہے
تھے۔پروگرام ۹ بجے شب شروع ہو چکا تھا ۔استقبالیہ ٹینٹ میں انڈیا،عرب امارات،یورپ سے آئے شعرا کے علاوہ مقامی شعرا بھی موجود تھے۔

اس
بار کراچی کے شعراء میںپروفیسر حسن کمال،یدللہ حیدر،پروفیسر سبطِ
جعفر،فہیم اختر فہیم ،اقبال کاظمی،عابد رضا شکیب،محب فا ضلی،علی انصر
اعظمی شاعر حسین شاعرپاکستان کے دوسرے شہروں سے جو شعرا تشریف لائے انُ کے
نام تھے محسن چنگیزی،صادق صبا(کوئٹہ)ڈاکٹر شبہیہ ل الحسن ہاشمی(لاہور)
سیّد سردار حسین فہیم (حیدرآباد) ۔
میزبان شعراء کے نام کچھ اس طرح تھے..... احسن زیدی،مبین اختر،کلیم اختر کلیم،الطاف کاظمی،ضغیم زیدی اور ڈاکٹر ریحان اعظمی ۔
شعرا ء بھارت میں .....ناشر نقوی،کوثر کیرانوی،نیّر سرسوی،شکیل شمسی،عین الحسن،وقار سلطان پوری،ندیم ککرولوی،سردار پنچھی۔
عرب
امارات سے تشریف لائے شعرا میں سے موجود تھے .....نظیر عابدی،یعقوب
تصوّر،ابنِ عباس جعفری۔امریکہ سے جاوید رضا اور یورپ ،جرمنی سےسیّد اقبال
حیدر تشریف لائے۔

محفل
کی نظامت میرحسین تکلم اور ڈاکٹر ندیم نقوی نے اپنے مخصوص خوبصورت انداز
میں کی۔مسندِ صدارت پر افتخار عارف(صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان) متمکن
تھے جبکہ مہمانانِ گرامی میں نام تھے سیّد قائم علی شاہ (وزیرِ اعلی سندھ)
ڈاکٹر ذولفقار مرزا (وزیرِ داخلہ سندھ) ڈاکٹر عامر لیاقت( سابق وزیرِ
مملکت)حیدر عباس رضوی ( ممبر قومی اسمبلی) مگر تشریف لائے صرف حیدر عباس
رضوی ( ممبر قومی اسمبلی) ۔باقی حضرات اپنی مجبوریوں اور مصروفیات کے سبب
اس پُر نور محفل کے فیض یاب نہ ہو سکے۔
محفل کا آغاز حدیثِ کسا کی
تلاوت سے جناب حیدر جونپوری نے کیا اسد آغا نے اپنی خوبصور آواز میںنعتِ
رسول اکرمسنائی ۔منقبت خواں مختار فتح پوری،شاہد بلتی،رضوان زیدی تھے اور
اس محفل سے جناب مولانا محمد عون نقوی اور مولانا سیّد حسن ظفر نے خصوصی
خطاب فرمایا۔
یہ طرحی نشست مولائے کائنات حضرت علی کی ولادت، پُر سعادت کے سلسلے میں تھی اس میں طرح مصرح کچھ یو ں تھا.........
‘‘خانہ ء رب میں امامت کا اُجالا اترا‘‘
محفل
صبح فجر کی نماز تک رہی ۔یہاں یہ کہنا یہ فلاں شاعر نے اچھا پڑھا فلاں
شاعر کو بہت داد ملی نانصافی ہو گی۔شعرا کی ایک طویل فہرست تھی ۔نظامت
کرنےوالے حضرات نے خوب حقِ نظامت ادا کیا محفل کے پہلے شاعر سے لے کر
صاحبِ صدر تک تمام شعراء کرام نے بھی خوب پڑھا۔بقول صاحبِ صدرطرح مصرع
اتنا آسان بھی نہیں تھا۔مگر شعرا ء کرام نے محفل کو زندہ رکھا اور سامعین
نے بھی خوب سُنا اور ہر اچھے شعر پر خوب داد دی۔شاعر کتنی ہی محنت سے اپنی
منقبت لکھ کر لائے کتنے ہی خوبصور ت انداز میں اُسے پیش کرے اگر سامعین
بیدار نہ ہوں اور توجہ سے نہ سنیں تو وہ رنگ قائم نہیں ہوتا جو ایک
خوبصورت شعری محفل کا ہونا چاہیے۔
محفل کا اختتام انڈیا سے آئے شعراء کے کلام پر ہوا۔