غزل
نظر کا زاویہ ایسا بدل گیا ہے مرا
ہر ایک لمحے تقاضا بدل گیا ہے مرا
ترا اشارہ تو جاں سے عزیز تر تھا مجھے
ترے اشارے سے قبلہ بدل گیا ہے مرا
مرا قلم مرے لوگوں کی اب امانت ہے
قلم کا مقصد اولی بدل گیا ہے مرا
وہی جو کرتا ہے پتھر کو موم لمحوں میں
بس اک نظر میں وہ لہجہ بدل گیا ہے مرا
ہوا ہے مجھ میں ہویدا جہان نو کوئی
ملا ہوں تجھ سے تو نقشہ بدل گیا ہے مرا
نہیں ہے میرے لیے اور راستہ کوئی
کچھ اس طرح سے وہ کانٹا بدل گیا ہے مرا
بجائے طالب دنیا رقیب دنیا ہوں
ترے طفیل یہ رشتہ بدل گیا ہے مرا
بدلتے وقت کے وہ تو نئے تقاضے تھے
مجھے لگا تھا کہ بیٹا بدل گیا ہے مرا