|
رحمان ملک کیلیئے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری ۔ نوبل انعام کے بھی حقدار ۔ از ۔ صفدر ھمدانی
12.10.2011, 04:25am , بدھ (GMT+1)
صفدر ھمٰدانی۔لندن
ایک ایسی خبر جس نے مجھ جیسے ساکت و جامد کو بھی ایسا جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے کہ قلم پکڑے اور لکھے بنا جیسے بات بن ہی نہیں رہی۔ بہت روکا خود کو لیکن قلم اور ذہن ہے کہ مانتا ہی نہیں۔
خبر یہ ہے کہ ‘‘جامعہ کراچی نے پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک کو کراچی میں قیام ِ امن اور دہشت گردی کے خلاف کارہائے نمایاں انجام دینے پر پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی ہے‘‘۔ اسلام آباد سے محترمی قمر رضا کا کہنا ہے کہ ڈگری دی نہیں گئی بلکہ رحمان ملک نے لی ہے۔ اور کویت کی عزیزم شاہین رضوی نے نوید دی ہے کہ اب رحمان ملک نوبل انعام کے لیئے بھی نامزد ہونگے۔ انا اللہ و انا علیہ راجعون
آپ کو یاد ہو گا کہ جب کچھ عرصہ قبل صدر زرداری،بابر اعوان،رحمان فرشتہ اور عامر لیاقت (آمر لیاقت) کی جعلی ڈگریوں کا شور اٹھا تھا تو اسوقت بھی رحمان ملک کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے بارے میں تحقیق ہوئی تھی کہ جعلی ہے۔ اب بھی دل سے دعا نکلتی ہے کہ کاش یہ ڈگری بھی جعلی ہو تو شاید اس طرح جامعہ کراچی اور خود ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی عزت بچ جائے۔
ڈاکٹر صفدر محمود جیسے محقق اور بہت سنبھل کر لکھنے والے بھی لکھ چکے ہیں کہ ‘‘ڈاکٹر بابر اعوان، وزیر قانون، کی پی ایچ ڈی کی ڈگری جعلی ہے۔ ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ کم سے کم ان کی بی اے، ایل ایل بی اور ایم اے کی ڈگریاں جعلی نہیں ۔اگر وہ اصلی پی ایچ ڈی بھی ہوتے تو کیا فرق پڑتا کیونکہ ہماری سیاست میں بے پناہ جعلی کام کرنے پڑتے ہیں اور جعلی کام کرنے کے لئے جعلی ڈگریاں بھی ضروری ہوتی ہیں کیونکہ اصلی ڈگری بعض اوقات مسائل پیدا کرتی ہے وہ اس طرح کہ کبھی کبھی وہ انسان کو جعلی کام کرنے سے روک دیتی ہے اور ظاہر ہے کہ جو جعلی کام کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا وہ ہماری سیاست میں کامیاب نہیں ہو سکتا ‘‘۔
ڈاکٹر صفدر محمود نے اس جانب بھی لطیف پیرائے میں اشارہ کیا ہے کہ ‘‘ڈاکٹر بابر اعوان اور دوم ڈاکٹر رحمان ملک۔ اتفاق ہے کہ دونوں پر جعلی پی ایچ ڈی کا الزام ہے۔ آپ اسے اتفاق سمجھ لیجئے لیکن مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ جعلی ڈگریوں کی بناء پر ہی اتنی صلاحیت رکھتے تھے کہ وہ صدر صاحب پر چھا گئے کیونکہ صدر صاحب یا کسی بھی حکمران پر قبضہ کرنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے اور یہ مرحلے صرف وہی ”جوہر قابل“ طے کر سکتے ہیں جو جعلی ڈگری بنوانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ جعلی کام کرنے کے لئے بڑی عقل اور بڑی ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اصلی کام کرنے کے لئے معمولی کامن سینس ہی کافی ہوتی ہے‘‘۔
جی ہاں کامن سینس جو اکثر کامن نہیں ہوتی۔ میں عرض کرؤں کہ پاکستان میں جعلی ڈگریوں کا معاملہ کوئی نئی بات نہیں۔ ملکی پارلیمان کے اراکین کی ایک خاصی تعداد جعلی ڈگریوں کے معاملات میں پھنسی رہی ہے۔اراکین پارلیمنٹ میں ایک صاحب کے بارے میں مجھے پارلیمان کے ایک بہت اعلیٰ افسر نے نام کی رازداری کی شرط پر بتایا ہے کہ ایک رکن پارلیمان ایسے بھی ہیں جنہوں نے ڈگریوں کے مطابق بی اے پہلے کیا پھر ایف اے کیا اور آخر میں میٹرک کا امتحان بھی پاس کر لیا۔
اس پر ایک بہت پرانا لطیفہ یاد آ گیا جو پہلے تو کبھی لطیفہ تھا لیکن اب حقیقت بن چکا ہے۔ ہوا یوں کہ ایک نوجوان شہر سے ایم اے کر کے اپنے گاؤں واپس آیا اور اپنے دادا کی قدم بوسی کو حاضر ہوا۔ دادا نے اسکی کمر تھپتھپائی،سر پر ہاتھ پھیرا،دعا دی اور پھر پوچھا کہ‘‘ میرا بچہ یہ بتاؤ کہ کونسا امتحان پاس کر کے آئے ہو؟ نوجوان نے ادب سے عرض کی کہ۔۔دادا جان میں نے ایم اے شماریات اعلی درجے میں پاس کر لیا ہے۔ دادا نے شاباش دیتے ہوئے کہا ‘‘ شاباش میرا بچہ۔ جس طرح محنت کر کے ایم اے کر لیا ہے اسی طرح دل لگا کر محنت کرؤ اور اب انشااللہ میٹرک بھی کر ڈالو‘‘۔
اب جامعہ کراچی نے رحمان فرشتہ کو جو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی ہے تو رحمان ملک تو پہلے ہی مشکوک تھے ہی اب جامعہ کراچی کے ساتھ چانسلر عشرت العباد بھی مشکوک ہو گئے ہیں اور بیچارے ہمارے کرم فرما وائس چانسلر پیرزادہ قاسم بھی مشکوک ٹھہرے، پیرزادہ قاسم کو چونکہ ہم بخوبی جانتے ہیں اس لیئے کہہ سکتے ہیں کہ گیہوں کے ساتھ گھُن بھی پس گیا ہے۔
نہ جانے یہ کس کی تجویز تھی کہ جامعہ کراچی کے چانسلر اور وائس چانسلر سے یہ قومی جرم کروایا جائے کہ رحمان ملک کو پر پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی جائے اور اس پر بھی مزید مذاق قوم کو یہ بتا کر کیا جائے کہ انہیں یہ ڈگری کراچی میں قیام ِ امن اور دہشت گردی کے خلاف کارہائے نمایاں انجام دینے پر پر دی گئی ہے۔ کاش یہیں پر ہی سچ بول دیا جاتا اور بتایا جاتا کہ رحمان فرشتہ کو یہ ڈگری ملک میں دہشت گردی ختم نہ ہونے اور کراچی میں قیام امن نہ ہو سکنے پر دی گئی ہے۔ کیسا مذاق ہے کہ جس کراچی میں آج بھی امن قائم نہیں وہاں امن کے نام پر دہشت گردی کی ایسی کاروائی بھی کی گئی ہے۔ کاش رحمان ملک کو یہ ڈگری دیتے ہوئے ذوالفقار مرزا کا وہ بیان بھی پڑھ دیا جاتا جو انہوں نے سر پر قرآن رکھ کر رحمان ملک کے بارے میں دیا تھا۔
ڈگری دینے کی یہ تقریب جامعہ کراچی میں نہیں بلکہ گورنر ہاؤس سندھ میں ہوئی ہے اس طرح شکر ہے کہ جامعہ کراچی اس نجس کام کے انعقاد سے بچ گئی۔تقریب میں بتایا گیا کہ رحمان ملک نے مرے کالج سیالکوٹ سے بی اے کرنے کے بعد ١٩٧١میں جامعہ کراچی سے شماریات میں ایم اے کیا تھا۔یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے لندن سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی تھی اور ایک مدت تک وہ اپنے ویزیٹنگ کارڈ پر بھی ڈاکٹر رحمان ملک لکھتے تھے۔
وطن عزیز میں کونسا شعبہ ہے جسکے ساتھ مذاق اور اسکی تضحیک نہیں ہو رہی۔ ابھی پی سی بی کا چیرمین ایک ایسے شخص کو بنایا گیا ہے جس نے ساری حیاتی کبھی کرکٹ کھیلی ہی نہیں اور جو پہلے ہی تین اداروں چیر مین ہے۔
رحمان ملک کوجس کارکردگی پر یہ اعزازی ڈگری دی گئی ہے اگر کوئی مہذب اور قانون کا پاسدار ملک ہوتا تو اس کارکردگی ہر انکے خلاف ڈگری جاری کر دی جاتی۔
معلوم ہوا ہے کہ اعزازی ڈگری دینا جامعہ کے چانسلر کا استحقاق ہے اور وہ ہی کسی مستحق شخص کا معاملہ سنڈیکیٹ میں بھیجتے ہیں مگر کیونکہ اس وقت سنڈیکیٹ ہی موجود نہیں اس لیے وائس چانسلر نے سنڈیکیٹ کی جانب سے اس کی منظوری بھی خود ہی دے دی۔اب اس سے بہتر موقع کیا ہو سکتا تھا کہ سنڈیکیٹ ہی موجود نہیں۔اس سے پیشتر ادب میں مشتاق احمد یوسفی ، اور سائنس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اعزازی ڈگریاں دی گئی تھیں لیکن رحمان ملک کے بعد ان ڈگریوں کی عزت بھی جیسے خاک میں مل گئی ہے۔
ایسے میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کا یہ عالمانہ فقرہ یاد آرہا ہے کہ ۔۔۔۔۔ڈگری اصلی ہو یا جعلی۔ڈگری ڈگری ہوتی ہے۔۔۔۔۔
سو اے اہل ایمان اب اس سے کیا غرض کہ ڈگری کیسے ملی اور کس سازش کے تحت دی گئی۔ڈگری کس نے کس کو دی۔کس معیار پر دی،کس کے کہنے پر دی۔ڈگری تو ڈگری ہے جی، سو اب رحمان ملک ایک بار پھر ڈاکٹر رحمان ملک بن گئے ہیں۔
|