|
پاکستان میں جو تا چلتے چلتے کیوں رہ گیا ؟
19.12.2008, 01:04am , جمہ (GMT+1)
احسن پریمی۔اسلام آباد
گزشتہ اتوار کو بغداد میں ایک پریس کانفرنس میں صدر بش پر جوتے پھینکنے کے بعد صحافی منتظر الزیدی پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک مقبول شخصیت بن چکے ہیں۔ ان کے جوتے پھینکنے والے احتجاج اور رپورٹر کے طور پر ان کے کام کے پیچھے امریکی فوج کا عراق پر حملہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والا تشدد ہے جسے وہ ناانصافی سے تعبیر کرتے ہیں۔ منتظر الزیدی جنہیں اپنے قومی وقار پر فخر ہے اور جو ملک کی دل دہلا دینے والی صورتِ حال سے رنجیدہ ہی۔ وہ قابض امریکی فوجوں اور ان کی مدد کرنے والے عراقی حکام کے بہت خلاف ہیں۔قاہرہ میں قائم سیٹلائٹ ٹیلی ویڑن نیٹ ورک بغدادیہ کے رپورٹر ہیں جہاں انہوں نے سن دو ہزار پانچ میں بغداد یونیورسٹی سے صحافت میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد ملازمت اختیار کی تھی۔
البغدادیہ کے لیے ان کی زیادہ تر خبریں ان عورتوں اور بچوں سے متعلق تھی جو سن دو ہزار تین میں امریکی حملے کے بعد شروع ہونے والے تشدد کا نشانہ بنے۔ ایک عام سے رپورٹر تھے جو مغربی بغداد میں واقع ایک کمرہ کے گھر میں رہتے تھے۔ سن دو ہزار سات میں ان کا نام پہلے دفعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب انہیں بغداد میں رپورٹنگ کرتے ہوئے اغواءکر لیا گیا۔ عراقی ٹی وی کی اپیلوں کے بعد انہیں بغیر کوئی گزند پہنچائے رہا کر دیا گیا۔ اس وقت منتظر الزیدی نے کہا تھا کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ انہیں کس نے اغواءکیا تھا۔ تاہم ان کے خاندان نے ان کے اغواءکا الزام القاعدہ پر لگایا تھا۔
امریکی صدر بش پر جوتے پھینکنے والے عراقی صحافی منتظر زیدی کے حق میں گزشتہ جمعرات کو پاکستاان پروفیشنلر فورم (پی پی ایف ) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے کی قیادت جماعت اسلامی کے سنیٹر پروفیسر محمد ابراہیم، شوکت عزیز صدیقی ایڈووکیٹ، جمیل عباسی، حمیدا ایڈووکیٹ، حافظ وہاج سراج و دیگر کر رہے تھے ۔ مظاہرے میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد نے شرکت کی جنہوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی صدر بش کو جوتے مارنے والے عراقی صحافی منتظر زیدی کو امت مسلمہ کی طرف سے ان کے جرات کو سلام پیش کرنے کے نعرے درج تھے۔
مظاہرین نے بش کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ۔ بش کاجو جو یار ہے جو توں کا حق دار ہے ۔ منتظر زیدی جوتے مارو ہم تمھارے ساتھ ہیں کے نعرہ بازی بھی کی جبکہ جوتے اٹھا کر یکجہتی کا اظہار کیا گیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ۔ سینٹیر پروفیسر محمد ابراہیم نے کہا کہ عراق پر امریکی حملہ کرنے کے بعد اب تک دس لاکھ عراقی شہید ہو چکے ہیں
۔ افغانستان میں ہزاروں مسلمان شہید کئے گئے ہیں جبکہ ایران ، شام اور پاکستان کو دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن اس کے باوجو د بھی مسلم حکمران منافق بنے ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی دشمنوں کی حراست میں ہے ۔ ہزاروں لوگوں کو گرفتار کر کے یا تو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے یا پھر ٹارچر سیلوں میں رکھا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ عراقی صحافی منتظر زیدی نے جو کام ہے ان کو سلام پیش کرتے ہیں یہ امریکہ کے مظالم کے خلاف تحریک کا آغاز ہے اور یہ تحریک اب رکے گی نہیں ۔ ظلم کی رات ختم اور امن کا صبح جلد طلوع ہونے والا ہے۔ شوکت عزیز صدیقی نے اپنے خطاب مین کہا کہ امریکہ نے پوری دنیا میں دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے اور عراقی صحافی نے دنیا کے بڑے دہشت گرد کو جوتے مار کر غصے کا اظہار کیا ہے ہم ان کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔
پاکستان پروفیشنلز کی طرف سے بلیو ایریا میں محمد علی جناح یونیورسٹی کے سامنے جناح ایونیو پر منتظر زیدی کے نام سے ایک پودا بھی لگایا گیا اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری محمد علی جناح یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کو دی گئی ہے اور جو پودا منتظر زیدی کو خراج تحسین پیش کرتا رہے گا۔ جمیل عباسی نے کہا کہ حکومت اس واقعے کے حوالے سے اپنا پالیسی بیان جاری کرے ۔ بھارت کے سامنے جرات سے آگے بڑھ کر جواب دینے کی ضرورت ہے۔جبکہ عراقی صحافی منتظر الزیدی پر تشدد کے خلاف اور امریکی صدر بش کو جوتے مارنے پر خراج تحسین کی قرارداد سرحد اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے۔
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر جوتا پھیکنے والے صحافی المنتظر الزیدی کی رہائی کے لیے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں ،اس سلسلے میں عراق اور بنگلہ دیش میں بڑی تعداد میں لوگوں نے پیر کو مظاہرے کیے ہیں۔پیر کو ہزاروں عراقیوں نے اس مقامی ٹی وی رپورٹر کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے گزشتہ اتوار کو عراقی وزیر اعظم نورالمالکی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر جارج بش پر جوتے پھینکے تھے۔
لوگوں کا ہجوم بغداد کے صدر شہر کے علاقے میں جمع ہو گیا اور مطالبہ کرنے لگا کہ 'ہیرو المنتظرالزیدی کو حراست سے رہا کیا جائے۔ عراق کے ایک اور شہر نجف میں بھی زیرِ حراست صحافی کی رہائی کے لیے اسی طرح کے مظاہرے ہوئے ہیں۔عراقی ٹی وی چینل البغدادیہ کے حکام نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ المنتظر کو رہا کیا جائے۔البتہ عراقی حکومت کے اہلکاروں نے اس واقعہ کو شرمناک قرار دیا ہے۔حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے منتظر زیدی نے جو کچھ کیا جس میں صدر بش کی توہین بھی شامل ہے اس سے عراقی صحافیوں اور عراقی صحافت کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے۔حکومت نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس ٹی وی چینل کے مالکان آن ایئر معذرت کا اظہار کریں جس کے لیے المنتظر زیدی کام کرتے ہیں۔
حکام نے بتایا ہے کہ المنتظر کے جوتے ثبوت کے طور پر سرکاری تحویل میں ہیں اور یہ ٹیسٹ بھی کیئے جا رہے ہیں کہ کہیں انہوں نے کوئی نشہ آور شے یا شراب تو نہیں پی رکھی تھی۔المنتظر کے ٹی وی چینل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں رہا کیا جائے کیونکہ وہ اس آزادیِ رائے کا اظہار کر رہے تھے جس کا سابق صدر صدام حسین کو اقتدار سے معزول کرتے ہوئے امریکہ نے عراقیوں سے وعدہ کیا تھا۔ادارے کے مطابق منتظر کے خلاف کسی بھی کارروائی کو آمرانہ حکومت کے عمل سے تعبیر کیا جائے گا
ادھر اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں پیر کو درجنوں لوگ سڑکوں پہ نکل آئے اور عراقی المنتظر الزیدی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔بش کے ساتھ پیش آنے والے جوتے کا واقعہ بہت دیر بعد رونما ہوا ہے جبکہ پاکستان میںمشرف دور کے خاتمے اور نئی حکومت کے آغازکے ساتھ ہی جو تا کلچر کی ابتداءسندھ کے سابق وزیر اعلی ڈا کٹر ارباب رحیم سے شروع ہو گئی تھی۔بش کو تو جوتا پڑتے پڑتے رہ گیا ہے لیکن ڈا کٹر ارباب رحیم کے منہ پر جوجو تے پڑے وہ صحیح نشا نے پر لگے تھے۔کچھ عرصہ پہلے ایک خبر آئی تھی کہ ڈا کٹر ارباب رحیم جو تے کھا نے کے بعد اب گنہگاتے پھرتے ہیں۔مذکورہ خبر دینے والے صحا فی نے یہ نہیں لکھا کہ وہ کیوں گنگاتے پھر رہے تھے۔ کیا وہ اپنے جرموں کا اعتراف کر رہے تھے۔اس کے علاوہ ڈا کٹر شیر افگن کو بھی جو تے پڑ چکے ہیں ۔ ڈا کٹر شیر افگن کو بھی پڑنے والے جو تے بھی نشا نے سے خطا نہیں ہو ئے تھے۔
بش نے تو جو تے پڑنے کے بعد ان جو توں کے حوا لے سے و ضا حت کر دی ہے لیکن پاکستان میں ڈا کٹر ارباب رحیم اور ڈا کٹر شیر افگن نے جو تے کھانے کے بعد ابھی تک وضا حت نہیں کی۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ مشرف کے جا نے کے بعد پاکستان میں جو تا کلچر شروع ہو تے ہی کسی نے اچا نک سٹاپ کروا دیا؟ اس حوالے سے عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ سارے ہی جو تے کھا نے والے تھے لہذا ان سب نے جو تا کلچر کو فروغ دینے کی بجائے اس کی روک تھام پر اتفاق کر لیا ہے
|