گزشتہ مضمون میں ہم نے پاکستان کی ایک نابغہ روزگار ہستی، جنہو نے بغیر جدید سہولیات استعمال کیئے صرف اپنی خدا داد ذہانت کی بنا پر نا بینا ہو نے کے با وجود دنیا کا پہلا نا بینا وں میں فرسٹ کلاس فرسٹ پو لٹیکل سا ئینس میں ڈاکٹر بن کے دکھایا۔ اور وہ اس وقت کراچی یونیورسٹی میں شعبہ پولٹیکل سائنس کے ڈین ہیں ۔ جناب ڈاکٹر محمد عبد اللہ قادری ۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔

روانگی کی گھڑی آرہی تھی یہ گیارہ دن ایسے گزر گئے جیسے کہ آئے ہی نہیں تھے ۔ بہت سے دوستوں سے نہیں مل سکے رشتے داروں سے نہیں مل سکے ۔ اس لیئے کہ وقت نہیں تھا مجبوری تھی ۔ اب وہ کٹھن مر حلہ آرہا تھا کہ ہمیں رات کے دو بجے سب کو خدا حافظ کہنا اور اس شہر ِ پر آشوب میں گھر سے نکل کر ہوا اڈے تک پہونچنا تھا۔آپ پوچھیں گے کہ آخر آپ کو کس کتے نے کاٹا تھا کہ بجا ئے دن کے آپ نے رات کی فلا ئٹ منتخب کی؟ تو عرض ہے کہ اس میں ہما ری کو ئی کو تاہی نہیں تھی بلکہ اس میں قسمت کو دخل تھا۔ ہم چونکہ گئے ابو ظبی سے تھے جہاں سے اتحاد کے سوا اور کوئی ایر لا ئین فلا ئی نہیں کر تی، کسی اور سے جانے کے لیئے دوبئی جا نا پڑتا ہے۔ جبکہ اتحاد کی ایک ہی پرواز ہے جو رات گئے پہونچتی ہے اور رات میں ہی واپس آتی ہے؟
ہم نے پنچوں کے سامنے تجویز رکھی کہ ہم اتحادایر لا ئنز کی ہی گاڑی منگوا لیتے ہیں اور آپ لوگ زحمت نہ کریں کہ شہر کے حالات خراب ہیں ۔ مگر انہوں نے کہا کہ نہیں ہم آپ کوہوائی اڈے تک پہونچا کے یقین کر نا چا ہتے ہیں کہ واپس تو نہیں آجا ئیں گے ۔ یہ تو ایک تفریحی جملہ تھا جوہم نے استعمال کر دیا ؟ ورنہ حقیقت یہ تھی کہ ہم جیسے نکمے آدمی کو وہ ایک بہت ہی اہم چیز سمجھے ہو ئے تھے اور جیسے گیا رہ دن انہوں نے حفاظت کی ویسے ہی وہ با خیریت اپنے شہر سے رخصت کر نا چا ہتے تھے۔
ہمارے برادرِ نسبتی جناب شعب جیلانی اور بھانجے حا رس ساتھ چلے اور ہم کئی جگہ پولس چوکیوں سے گزرتے ہو ئے بلا روک ٹوک ہوائی اڈے تک پہونچنے میں کا میاب ہو گئے، بخیریت پہونچنے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور ان کی میز بانیوں کا شکریہ بھی ادا کیا ،پھر ان سے یہ راز کی بات پو چھنی چا ہی کہ ان چوکیوں نے ہمیں روک کر چیک کیوں نہیں کیا اگر نہیں کیا تو پھر ان کی ضرورت کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب میں بتا یا کہ یہ آپ کی وجہ سے ہوا کہ یہاں کی پولس اتنی ما ہر ہے کہ وہ شکل سے پہچان لیتی ہے کہ کون کیسا ہے ؟ ہم ان کے جواب سے مطمعن نہیں ہو ئے کیونکہ اس جواب سے ہمارے ذہن میں یہ سوال ابھراکہ اگر پولس اتنی ہی ما ہر ہے تو پھر یہ رات ودن ڈاکو ،اچکے لوٹ مار کیسے کر تے ہیں ؟ تو انہوں نے بتا یا کہ ان کے سا تھ ان کی پا رٹنر شپ ہے؟
چونکہ ہمیں ہوا ئی اڈے کے اندر لے جا نے کے لیئے اتحاد ایر لا ئن کا عملہ تیار کھڑا تھا اور وہ لے جانے کے لیئے بیچین تھا ،لہذا ہم نے دونوں کو آخری بار خدا حافظ کہا اور جب تک وہ ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئے، وہ اور ہم ایک دوسرے کو پلٹ پلٹ کر دیکھتے رہے ۔ پھر ہم اتحاد کے عملے کے ساتھ ان کے کا ونٹر پر پہونچے ،ہم نے اپنے کاغذات جا کر دکھانا چا ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں آپ وہیں تشریف رکھئیے ،ہم وہیں آکر لے لیتے ہیں ۔ چونکہ فلا ئٹ ابھی آئی تھی ،لہذا ہمیں انہوں نےاپنے ویٹنگ لا ونج میں بٹھا دیا۔ اور اسکے بعدمیزباننیوں( ہوسٹسز) کی آمد رورفت شروع ہو گئی کہ آپ کے لیئے کیا لا ئیں؟ چونکہ ہم کھا پی کر چلے تھے ،ہمیں خواہش ہی نہیں تھی ۔ان کو ہم نے منع کر دیا، جبکہ دوران سفر اکثر مسافروں کو دیکھا ہے کہ وہ ہر لمحہ گھنٹی بجا کر کچھ نہ کچھ نہ کچھ منگواتے رہتے ہیں ۔ نہ جانے اس سے وہ اپنی کونسی بھوک کی تسکین کرتے ہیں؟ حالانکہ اسلامی تہذیب میں یہ سختی سے منع ہے۔
پھر بھی جب ان کے چکر جا ر ی رہے تو ہماری بیگم صاحبہ تو کسی حال کچھ کھانے کو تیار نہیں ہو ئیں۔ مگر ہم نے ان کا دل رکھنے کو اورنج جوس حفظ ِما تقدم کے طور پر منگوا لیاکہ یہ ہاضمہ بھی کرتا ہے۔
اتنے میں جہاز کی صفائی مکمل ہو گئی اور ہمیں عملہ لینے کے لیئے آگیا ، ہم جہاز میں اور بخیریت ابو ظبی پہو نچ گئے ، انہوں نے پھر اپنے مہمان خانے میں پہو نچا دیا وہاں بھی کھانے پر زور تھا ۔ مگر صبح ہو گئی تھی ہم اشراق کی نماز پڑھنے کے لیئے کسی مناسب جگہ کی تلاش میں تھے ۔ جو ہمیں نظر نہیں آئی تو مجبورا ً ہم نے میزبان خاتون سے استقبالیہ پر جا کر پوچھا ،تو وہ اٹھیں اور ہمیں اس عما رت کے آخری سرے تک لے گئیں جہاں کے عبادت کے لیئے جگہ مخصوص تھی ۔ اس سے آگے ایک کمرہ تھا جہاں دبیز قالین بچھا ہوا تھا، ایک طر ف وضو خانے کی تختی لگی ہو ئی تھی۔ ہم عام طور پر مساجد کے وضو خانوں میں جانے سے بہت گھبراتے ہیں؟ کیونکہ مسلمان وہی کام کر تے ہیں جس کو منع کیا گیا ہے؟ یعنی حکم یہ ہے کہ پانی کم سے کم خرچ کرو، مگر مو لوی صا حب نے یہ بھی بتایا ہوا کہ ایک بال بھی سوکھا رہ گیا تو وضو نہیں ہو گا؟
لہذا مسلمان حسبِ عادت حضور (ص) کی سنت جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ وہ کتنا پانی استعمال کرتے تھے، وضو اور غسل کے لیئے؟ اور مولوی کی بات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور وہ شاندار پانی کے چھپاکے منہ پر ما رتے ہیں کہ وضو خانے کی کو ئی جگہ سوکھی نہیں رہتی اور ساتھ میں برابر والے کو بھی نہلا دیتے ہیں؟ مگر اس کا ایک فا ئدہ اور ہے کہ ہر دیوار بھی با وضو رہتی ہے؟
مگر یہاں جب ہم دا خل ہو ئے تو بڑی خوشگوار حیرت ہو ئی کہ پورے وضو خانے میں پانی کے چھینٹوں کانام نہیں تھا اور اندر داخل ہو تے ہی دھلے ہو ئے تو لیئے بچھے ہو ئے تھے تاکہ آپ ان ٹو ٹیوں سے وضو کریں جو پانی کی صرف پھوار دیتی ہیں اور اپنے ہا تھ منہ الگ تولیہ سے اور پیر ان بچھے ہو ئے تو لیوں سے خشک کرلیں اورعبادت گاہ میں چلے جا ئیں ۔ جبکہ تو لیئے اتنے خشک تھے ان میں نمی کا شا ئبہ تک نہ تھا ۔ وہاں یقینا ً کو ئی نما زیوں کی نقل و حرکت پر نگا ہ رکھتا ہو گا، جو اس کے ہٹتے ہی استعمال شدہ تو لیہ اچک لے جا تا ہوگا۔ فجر کی نماز تو ہم نے جہاز میں بیٹھے بیٹھے ہی پڑھ لی تھی اشراق کی نماز اداکی اور واپس مہمان خانے میں چلے گئے ،جہاں ہم اپنی نصف بہتر کو چھوڑ آئے تھے۔ الحمد للہ وہ بھی ساتوں وقت نماز کی پابند ہیں ،واپس آکر ہم نے انہیں یہ خوشخبری سنائی اور انکو راستہ بتادیا دیا وہ زنا نے حصے میں چلی گئیں ۔
اس کا کیا حال تھا ہمیں معلوم نہ تھا مگر جب وہ بھی متحیر واپس آئیں تو ہم بھی مطمعن ہو گئے۔ اتنے میں جہاز کی روانگی کا اعلان ہو گیا اور اتحاد کا چاق و چوبند عملہ ہمیں سکو ریٹی سے گزار تا ہوا جہاز میں لے گیا۔ کیبن بہت ہی خوبصورت تھی اور سیٹوں کی ما ہیت کچھ ایسی تھی کہ جب چا ہیں صوفہ بنا کر بیٹھ جا ئیں اور جب سامنے والے حصہ کو ملا لیں تو بستر بنا کر سو جا ئیں ۔ وہاں سے روانہ ہو ئے پندرہ گھنٹے کے

طویل سفر کے بعد ہم نیویار ک پہونچے ۔ جہاں ہما رے فرزند ِ نسبتی جمیل وقار منتظر تھے وہ ہمیں لیکر اپنے گھر چلے گئے۔
یہاں بھی گیارہ دن کا چلہ کھینچا اور گیارہویں دن یہاں سے وینکور کے لیئے روانہ ہو ئے چونکہ ہمیں سیاٹل پر جہاز بدلنا تھا وینکور کے لیئے اور ایر لا ئن تھی الا سکا چونکہ یورپ اور امریکہ پہلے ہی کا فی فضول خرچی چکے ہیں اور آجکل ہما ری طرح دیوالیہ ہو نے کے قریب ہیں، لہذا انہوں نے اپنے اخراجات کم کر دیئے ہیں جوکچھ بھی خریدنا ہو اپنی جیب سے خریدو اور مسافر عام طور سے اپنی جیب استمعال کرنے سے اجتناب کرتے ہیں؟ سوائے شراب کے کہ وہ اس کے بغیر زیادہ دیر نہیں رہ سکتے۔ البتہ پانی جوس یا چائے ایک مرتبہ ایر لا ئن والے مفت دیدیتے ہیں اور ایک مونگ پھلیوں کا پیکٹ یا ایک بسکٹ بھی جس سےانسان تونہیں ایک چڑیا سیر ہو سکتی ہے؟ اس جہاز میں کھانے پینے پر زور با لکل نہی تھا جبکہ یہاں سےہم کچھ خرید کر بھی نہیں کھا سکتے تھے کیونکہ اگر خریدیتے تو حلال اور حرام کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لہذا اسی پر اکتفا کیا اور چھ گھنٹے کی مسافت کے بعدسیاٹل ایر پورٹ اترے ، وہاں سے وینکور کے لیئےجہاز بدلنا تھا ۔
ہم پریشان تھے کہ یہاں چونکہ ایک ٹرمنل سے دوسرے ٹرمنل جا نے کے لیئے لوکل ٹرین لینا ہو تی ہے لہذا پریشانی نہ ہو؟
مگر یہاں ان کا انتظام کھانے کے طرح خراب نہیں تھا ، انہیں ہمیں وینکور جا نے والے جہاز میں بٹھا نے کے لے جا نا تھا لہذا وہ ٹرین میں بٹھا کر کھلے میدان میں لے گئے جہاں ہوا بہت ٹھنڈی تھی اور سامنے ایک ٹڈا نما جہاز کھڑا تھا۔ چونکہ وینکو ر وہاں سے تقریبا ً دوسو میل ہے لہذا اسے اڑنے سے پہلے ہی اتر نا پڑتا ہے۔ اس لیئے یہا ں ہوائی جہاز کی تا ریخ یاد لانے کے لیئے یہ کمپنی ٹڈے اڑاتی ہے۔ سیڑھی چڑھ کر اوپر جہاز میں پہونچے تو ایسا معلوم ہوا کہ جیسے ہم عربی النسل گھوڑے پر سوار ہوگئے ہیں، جو کہ ہما رے بچپن میں شرفا کی سواری کے لیئے استعمال ہو تے تھے۔ وہ ہوا میں بلند ہوا مگر پرواز اتنی اونچی تھی کہ ڈر لگ رہا تھا کہ یہ کسی اونچی بلڈنگ سے اب ٹکرا یا، اورتب ٹکرایا مگر اس کے شاید اونچا اڑنے سے پر جلتے تھے ۔ لہذا وہ اسی طرح اڑتا ہوا ، وینکور ایر پورٹ پر پہونچ گیا جہاں ہمارے دو پوتے اور دو نوں بیٹے موجود تھے اور ہم یہ کہتے ہو ئے گھر پہونچ گئے کہ خیر سے بدھو گھر کو آئے ۔ (ختم شد)