کارلسروہے جرمنی کا صرف ایک خوبصورت شہر ہی نہیں بلکہ ا س شہر کی شہرت اور اہمیت میں جرمنی کی سپریم کورٹ کی موجودگی او ر ملک کی ایلیٹ یونیورسٹی کی وجہ سے اور بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔ یہ جرمنی کا واحد شہر ہے جس میں دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک سے آ کر مختلف قومیں آباد ہیں ۔ اس شہر کی انتظامیہ اور جرمن عوام کا یہاں پر آ کر آباد غیر ملکی قوموں کے ساتھ برتاؤ بہت اچھا ہے ۔ ویسے تو جرمنی میں رہنے وا لی ہر قوم کو مذہبی آز دی اور ثقافتی پروگراموں کی اجازت ہے مگر کارلسروہے کے عوام شہر میں رہنے والی دوسری قومو ں کے ثقافتی پروگراموں میں نہائت دلچسپی سے شرکت کر تے ہیں بلکہ اُن کی شانہ بہ شانہ مدد بھی کرتے ہیں یہی اس شہر کا طرہء امتیاز ہے ۔
ہمارے پاکستانی بھائی جو یہاں آکر آباد ہوئے یہاں کے دوستانہ ماحول سے بہر ا ور ہو رہے ہیں ۔ جس میں ’’ ڈوچ پاکستانش سوسائٹی کارلسروہے ‘‘ کا نام اور کام سر ِ فہرست ہے ۔ یہ سوسائٹی آج سے ستراں سال پہلے معرض وجود میں آئی ۔ پاکستا نی ثقافت کے علاوہ جرمن ’ ترکی ’ عربی ‘ افریقی ’ ایشین اور لاطینی ثقافتی پروگرموں کا ایک حسین امتزاج ہے ۔
اس لئے کارلسروہے میں ثقا فتی پروگراموں کی قوس قضاء اہپنے رنگ بکھیرتی رہتی ہے ۔ ’’ ڈوچ پاکستانش سوسائٹی کارلسروہے ‘‘ کے اغراض و مقاصد میں صرف پاکستانی کلچرل پروگرام کرانا ہی نہیں بلکہ ان کو پاکستان کا جغرافیہ ’ پاکستانی بطور ِ قوم ’ پاکستان کے وسائل اور اس کے مسائل سمجھانے کے علاوہ خاص طور پرجرمنوں اور دوسری قوموں سے اپنے پیارے ملک پاکستاں کے لئے دوست پیدا کرنا ہے ۔ جس کے لئے اس سوسائٹی کے سربراہ چوہدری محمد رفیق اور اُن کی جرمن اہلیہ ریگینہ رفیق اور اُن کی ٹیم بہت عمدگی سے عمل پیرا رہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر پاکستان کے وسائل پر سیمینار ۔ پاکستان میں ٹورزم ۔ پاکستان کی معیشت پاکستانی قوم اور ثقافت وغیر ہ ۔ اتنے سالوں کی پُر خلوص کاوش اور اَنتھک محنت اُس دن رنگ لائی جب آج سے چھ سال پہلے یعنی ۲۰۰۵ میں پاکستان میں اپنی تاریخ کا شدید تر ین اور تباہ کُن زلزلہ آیا ۔ جس کا ایپی سنٹر بالا کو ٹ تھا جس سے آزاد کشمیر اور شمالی پاکستان کے تمامم شہر تباہ و برباد ہو گئے لاکھوں ’ کروڑوں انسان لقمہء اجل بنے اور بے گھر ہو گئے ۔
اس مشکل گھڑی میں یوں تو پوری جرمنی نے پاکستان کی بھر پور مدد کی مگر کارلسروہے کے عوام نے درد دل سے مدد کر کے دوستی کی داستان رقم کر دی۔ زلزلے کے متاثرین کے لئے امدادی رقوم اکٹھی کرتے وقت شہر کے میئر نے وعدہ کیا کہ جتنی رقم عوام سے جمع ہو گی شہر کی انتظا میہ اس رقم کو ڈبل کر دے گی اور ایسا ہی ہوا ۔ اس کثیر رقم سے ’’ مانسہرا ‘‘ میں ایک ہائی سکول بنوایا گیا ہے جس کا سہرا اہلیان کارلسروہے اور ڈوچ پاکستانش سوسائٹی کے سر جاتا ہے ۲۰۱۰ میں پھر پاکستان کی تاریخ کا بد ترین سیلاب آ گیا اس میں بھی کارلسروہے شہر کے باسیوں نے سیلا ب زدگان کی بے تحاشہ مدد کر کے دو بارہ دوستی کا حق ادا کیا ۔ یہ سوسائٹی ہر سال کلچرل شو بھی کراتی ہے ۔
اس شو میں اپنی تہذیب کو سامنے رکھتے ہوئے پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں مگر یورپ کی طرف سے پاکستان میں د ہشت گردی اور مذہبی بنیاد پرستی جیسے الزامات کے پیش ِ نظر ایک حد تک کچھ روشن خیالی کامظاہرہ بھی کیا جاتا ہے تاکہ دوستی کی فضاء گرد آلود نہ ہو ۔ مثلاََ فیشن شو ’ ڈانس اور فلمی گانے ’ علاقائی روائتی ڈانس ’ بھنگڑا ’ لوک گیت اور قوالی کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ ہمارے پاکستانی دوست جرمنی کے دوسرے شہروں میں بھی ایسے کلچرل پروگرام پیش کرتے رہتے ہیں مگر کارلسروہے کا پروگرام اپنا ایک معیار قائم رکھتا ہے ۔ بلکہ ایک ٹریڈیشن بن چکا ہے جس کی ہرسال تجدید کرنی ہوتی ہے ۔ لہذٰ سابقہ روائیت کو قائم رکھتے ہوئے اس سال بھی پروگرام اور شُو کے معیار میں کمی نہیں آئی ۔
کارلسروہے شہر جس میں عوام کے علاوہ کلچرل ڈیپارٹمنٹ کی سربر اہ محترمہ ڈاکٹر سوزانے آشے ’ صوبائی ممبر مسٹر جو ہا نس سٹو بر ’ کارلسروہے شہر کی انتظامیہ کے ممبر مسٹر مشائل زہے ’ کارلسروہے شہر کے سابقہ میئر جناب نو برٹ وو ر نگر ’ اِنٹی گریشن آفس کی نائب سربراہ محترمہ میر ی جا نا ڈیمی نک ’ کارلروہے سے جرمنی کی طرف سے یورپی یونین کے ممبر جناب ہارٹ موٹ لورک ’ امیگریشں ڈیپارٹسمنٹ کارلسروہے کی رکن محترمہ ایوا ن گیلیہ اور کارلسرو ہے میں ترکی کے وائس قونصلر جناب مراد باصر پروگرا م میں تشریف لائے جرمنی کے دوسرے شہروں مثلاََ ہائیڈل برگ سے بہت سے پاکستانی دوست جس میں سوسائٹی کے وائس پریزڈنٹ محترم شفیق چوہدری بھی شامل ہوئے ۔
سٹٹگارٹ سے محترم منیر شیخ اور اُن کے ساتھی بھی اس پروگرا م میں خاص طور پر شریک ہوئے ۔ فرینکفرٹ سے آنے والے بہت سے دوستوں کے علاوہ فرینکفر ٹ میں پاکستانی قونصلیٹ کے قونصلر محترم زاہد حسین اور انکی ٹیم ’ نیشنل بنک آف پاکستان کے وا ئس پریزیڈنٹ اور منیجر جنرل محترم شاہد اقبال خان بمعی فیملی اور سعید انصاری ’ فرینکفر ٹ کی کاروباری شخصیت محترم راشد محمود غوری ’ فن و ادب فرینکفرٹ اسوسی ایشن کے چیئرمین محترم ارشاد ہاشمی ’ اُردو ویب سائٹس چنگا ری کے چیف ایڈیٹر مسٹر دانیال رضا ’ عالمی اخبار کے جرمنی میں بیورو چیف محترم طاہر ملک اور شانِ پاکستان کے ایڈیٹر انچیف محترم حاجی نذر محمد ’ پریس کلب کے صدر اور ر وزنامہ جنگ کے نمائیدہ محترم مظفر شیخ اس بار اپنی بیمار ی کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے ’ فرینکفرٹ شہر کی فال اور معروف شخصیت محترم محمد بابر چستی اور خضر ملک ’ ہالینڈ سے معروف پروفیسر اور ایجوکیشن سکالر محترم ڈاکٹر زاہد منیر عا مر بھی پروگرام میں تشریف لائے ڈاکٹر صاحب پاکستان کی نمایئدگی کیلئے گوٹنگ یونیورسٹی میں ایک تعلیمی سیمینار میں حصّہ لینے آئے تھے۔
پروگرام کا آغاز سٹیج سکریٹری محترم ڈاکٹر یوسف شائب اور ریگینہ رفیق نے جوش و جذبے کے ساتھ مہمانوں اور حاضرین کا خیر مقدم سے کیا اس کے فوراََ بعد جرمن اور پاکستانی ترانے پیش کئے گئے ۔ جس میں جرمن اور پاکستانی بچوں اور خواتین نے حصّہ لیا دونوں ترانوں میں ریگینہ رفیق کی آواز نمایاں تھی ۔ تالیوں کی گونج میں پروگرام کی ابتدا معمول کے مطابق کارلسروہے شہر کے میئر کی نمائیدگی کرتے ہوئے محترمہ ڈاکٹر سوزانے آشے نے کی اپنے خیلات کا اظہار کیا انہوں نے چوہدری رفیق اُن کی اہلیہ ریگینہ رفیق اور سوسائٹی کی کارکردگی کوسراہا اور خوشی کا اظہار کیا کہ کارلسروہے میں پاکستانی کلچرل پروگراموں کی وساطت سے یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں اور اس طرح ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔
اس کا واضع ثبوت ہال میں بیٹھے یہ تین سو کے قریب حاضرین ہیں جن میں اکثریت جرمنوں کی ہے جس پر مجھے فخر ہے اور اُمید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی طرح پرو گرام ہوتے رہیں گے ۔ پاکستانی قونصلر زاید حسین نے اپنے خطاب میں چوہدری رفیق ا ن کی بیگم ریگینہ
اور سوسائٹی کو سترویں سالگرہ پر مبارک باد پیش کی اور اُن کے کام کی تعریف کی مانسہرا میں سکول اور پاکستان میں سیلاب زدگان کیلئے جرمنی سے فنڈ ریزنگ پر اُن کا شکریہ ادا کیا ۔ ڈاکٹر پروفیسر زاہد منیر عامر نے کہا کہ اسلام انسانوں کی قدر ’ پیار ’ محبت اور سلامتی کا پیغام ا د ر درس دیتا ہے اور ہمیں اپنی تعلیمات کو فر اموش نہیں کرنا چاہے اسی میں فلسفہ ء حیات ہے ۔ ان مختصر تقار یر کے بعد پروگرام کا دوسرا حضّہ یعنی کلچرل شو جس کے لئے حاضرین بیقرار تھے شروع کیا گیا سب سے پہلے کٹھ پتلی ڈانس پیش کیا گیا پھر یکے بعد دیگرے مختلف ’ خوبصورت اور رنگا رنگ ملبوسات میں بہت سے ورائیٹی شو ڈانس سٹیچ کئے گئے ہر پرفارمنس پر ناظرین نے تالیاں بجا کر خوب داد دی اور محضوظ ہو ئے ۔ اس ثقافتی شو میں جن نوجوان بچیوں نے حصہ لیا ان میں خاص طور پر دُعا ء آفتاب ’ لینا اور اٹکا نے اپنی کارکردگی اور فن میں مہارت اور لگاؤ کا خوب مظاہرہ کیا ۔ بعد میں فیشن شو پیش کیا گیا جس میں پاکستان کے علاوہ یورپ کی دوشیزؤں نے بھی حصّہ لیا اور پاکستانی پُر کشش ’ خوبصورت ’ ماڈرن ’ علاقائی اور رنگ برنگے ملبوسات پہن کر سٹیج پر ’’ کیڈ واک ‘‘ کی ا ور ناظرین سے تالیوں کی گونج میں
داد پائی ۔
شو کے اس حصّے کا سارا سہرا ’’ فَن اکیڈمی ‘‘ کے سربراہ آفتاب حسین اور ان کی بیگم مسرت آفتاب کے سر جاتا ہے ۔ کھانے کے مختصر وقفے کے بعد پروگرام کا آخری حصّہ پیش کیا گیا جس میں نیاز محی الدین کی ‘‘ ونجھلی دی تان ‘‘ چند گانے اور اختتام پر پاکستان کے معروف اور سینئر قوال محمود صابری کی قوالی کو خوب سُنا اور پسند کیا گیا ۔
پروگرا م کی کامیابی کے ضامن ہمیشہ کی طرح اس سال بھی ’’ ڈوج پاکستانش اسوسی ایشن کارلسروہے ’’ کی ٹیم تھی جو انتظامیہ اور مہمانوں کی مہمانوازی میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں جن میں محمد عاشق فریا د ( جو طعام کے سپانسر بھی تھے ) ’ ارشد محمود ’ راجہ بشارت حسین ’ چوہدری ارشد محمود ’ اعجاز محمود ’ ماسٹر محمد اصغر ’ خواجہ محمد رفیق ’ فضل احمد اور شاہد اقبال کے قابل ِ ذکر ہیں ۔