16.10.2026, 09:07pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔16ویں قسط
20.10.2011, 04:12am , جعمرات (GMT+1)

افضال بن غنی،لندن
برطانیہ میں مسلکی ٹی وی چینلوں کے حوالے سے یہ ہماری سولہھویں قسط اور پہلی پندرہ اقساط کے بعد یوں تو ای میل اور دیگر ذرائع سے متعدد افراد نے پسندیدگی کا اظہار کیا اور اس امر کو جہاد قرار دیا لیکن ملائیت کی گرفت میں سانس نہ لے سکنے والے یہ عام مسسلمان۔مومن اور عشاق اہلبیت صرف اس لیئے نام نہاد وردی بر دوش ملاؤں کے بارے میں کچھ کہنے سے خود گھبراتے ہیں کہ انکے والد کا فاتحہ کون پڑھے گا اور اگر کوئی مر گیا تو نماز جنازہ کون پڑھائے گا اور بچے کی رسم بسم اللہ کسے ادا کروائیں گے

یہی وہ آہنی حصار ہیں جو پیشہ ور ملاؤں اور اب ملانیوں نے عام اور کم علم اور عمل سے بہت دور مسلمانوں کے گرد قائم کر رکھے ہیں۔ وعظ دینے والا خود سگریٹ پیتا ہے اور حدیث یہ سناتا ہے کہ چونکہ اللہ کے نبی نے خود گڑ کھایا ہوا تھا اس لیئے بچے کو اس دن منع نہیں کیا۔ بنک سے خود سود کھانے والا ملاں کس منہہ سے سود کے خلاف بولتا ہے اور پیش امام کے طور پر اپنے پیچھے نماز پڑھنے والوں کو سود سے منع کرتا ہے۔ سٹاک ایکسچیج میں شیئرز میں پیسے لگانے والے واعظین اور پیش امام کیسے اپنے مقلدین کو کہتے ہیں کہ یہ حرام کام ہے۔ اپنے گھروں میں باون باون انچ کے ٹی رکھنے والے اور ہر قسم کے پروگرام دیکھنے والے یہ دین فروش کیسے اس سائینسی ایجاد کو شیطانی چرخہ کہتے ہیں اور خود کیسے چوبیس گھنٹے کیمرے اور سکرین پر براجمان رہتے ہیں؟

یہی وہ بے عملی ہے جس نے ان لوگوں کو صرف رٹو طوطا بنایا ہوا ہے۔ یہ راگ راگنی والے پرانے بوڑھے موسیقی جاننے والے کی طرح ہر قسم کے علم کو اپنے تک محدود رکھتے ہیں اور علم کو اس لیئے نہیں آگے پھیلاتے کہ اگر عام آدمی علم جان گیا تو انکا کیا بنے گا کیونکہ یہی تو انکا کاروبار ہے۔

اب وہی شروع کی بات کہ یہ ملاں حضرات عام آدمی کو یہ نہیں بتاتے کہ بھائیو نماز جنازہ اول تو نماز نہیں ہے اور دوسرے اسے کوئی بھی نمازی اور متقی فرد پڑھا سکتا ہے۔ اہل تشیح میں مرنے والے کے لیئے تلقین پڑھانے سے کسی عام انسان کو کس نے روکا ہے۔

اپنے مرحومین کا فاتحہ آپ نے خود دینا ہے، اپنے بچوں کی رسم بسم اللہ آپ نے خود کرنی ہے۔ نیاز نزر خود دینی ہے۔ آپ نے یہ سارے کام پیشہ ور مولوی کے حوالے کر رکھے ہیں۔ اپنے جوان بچوں کو نماز جنازہ سکھایئے تا کہ وہ خود اس موقع پر آگے آ سکیں۔

دین کی ترویج اب ایک بزنس بن چکی ہے اور اس بزنس کا ایک بڑا ہتھیار ٹی وی چینل ہے۔ میں نے اپنی ان تحقیقاتی رپورٹوں میں کئی بار یہ لکھا ہے کہ یہ معاملہ کسی ایک مسلک کا نہیں ہے بلکہ مسالک کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے والوں کا ہے۔ کوئی سعودی عرب کے فنڈ سے،کوئی ایرانی امداد سے،کوئی کسی ایرانی آیت اللہ کے پیسے سے،کوئی مرزا احمد کی باقیات کی اعانت سے،کوئی پیری فقیری سے لوٹی ہو ئی رقم سے اور عوام کو بے وقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کر رہا ہے تو اسمیں اسکا اپنا کمال کم اور بے وقوف بننے والے سادہ لوح اور کم علم عوام کا کمال زیادہ ہے

لندن کی بعض نجی محفلوں کی کچھ بات چیت مجھ تک میرے ذرائع سے پہنچی ہے جہاں لوگ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ یہ رپورٹ عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی فرضی نام سے لکھتے ہیں یا پھر مرثیہ تحت اللفظ پڑھنے والے اور ایک مسلکی ٹی وی کے جو اب بند ہو چکا ہے کہ پرانے میزبان اکمل سید لکھتے ہیں۔ میں افضال بن غنی آپکو یقین دلوانا چاہتا ہوں جبکہ یہ یقین دلوانے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ یہ سب کچھ میری اپنی تحقیق ہے ، ہاں عالمی اخبار نے یہ ہمت کی ہے کہ اسے ہر قسم کے دباؤ کے باوجود شائع کر رہے ہیں۔ ہم نے ابھی تک کوئی ایک چیز بھی کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر شائع نہیں کی اور کبھی ضرورت پڑی تو یہ ثبوت کسی بھی فورم پر مہیا کیئے جا سکتے ہیں۔

ایک بات تمام اقساط پڑھ کر دیکھ لیجئے کہ میں نے کسی کا نام کبھی نہیں لکھا بلکہ بے عملی،دین فروشی،دھوکہ دہی اور کردار کی بات کی ہے اور اب ایسے میں اس کردار پر کوئی بھی جو پورا اترتا ہے وہ اسے اپنے بارے میں ہی سمجھے۔ رہی یہ دھمکیاں کہ اخبار پر ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا جائے گا تو بسم اللہ۔ عدالت میں پہلے یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ لکھا ہوا میرے بارے میں ہے۔اور پھر اس عدالتی عمل میں جو چہرے مزید بے نقاب ہو نگے اور جو مزید دھوکہ دہی سامنے آئے گی اسی ذمیداری بھی صاحب معاملہ کی ہی ہو گی

گزشتہ قسط میں ایک ملانی کے بارے میں عشرے کی قیمت چکانے کے بارے میں لکھا تھا۔لندن کی ایک ملانی نے مختلف حلقوں میں یہ کہہ کر اخبار اور انتظامیہ پر لعن طعن کی کہ یہ انکے بارے میں ہے۔ ایک خاتون نے ان سے پوچھا کہ اسمیں تو کسی کا نام نہیں۔ جواب دیا کہ لیکن اسکے باوجود یہ میرے بارے میں ہی ہے۔ اب  اگر چور خود اقرار کر رہا ہو تو پھر تفتیش کی کیا ضرورت؟

لیجئے پاکستان کی ایک ملانی کے بارے میں بھی سن لیجئے جو لندن امریکہ خوب دورے کرتی ہیں اور پاکستان کے سرکاری حلقوں میں اوپر اعلیٰ سطح پر خوب جانی پہچانی جاتی ہیں۔ انہوں نے آنے والے محرم میں امریکہ میں دوسرے عشرے کے لیئے پانچ ہزار ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ جی ہاں یہ بات ہمیں امریکہ سے ہی صاحبان معاملہ میں سے ایک نے بتائی ہے۔ دروغ بر گردن راوی

گزشتہ دنوں لندن میں چند مولویوں نے ایک ٹیلی ویژن کی شاخ کا افتتاح کیا تمام احباب خوش بھی ہوئے اور تقریبا 3.5گھنٹے کا پروگرام پیش کر کے نہ جانے 24مقررین کیا ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ شاید ان کو دوبار سکرین مل یا نہ ملے اور قوم کے جمع کردہ پیسے کا زیاں خوب دیکھنے کو ملا

 لندن کے اکثر اداروں کے نام نہاد افراد جمع تھے اور ایسے نام نہاد لیڈر کہ اپنے گھر والے انکے ساتھ نہیں اور چور دروازوں سے صدارتیں حاصل کر کے اداروں کے سربراہ بن بیٹھے ہیں اور اپنے گھریلو اخراجات ان اداروں یا اپنے بچوں کی شادی پر ان اداروں سے قرضہ حسنہ حاصل کر کے اپنا گزار کرتے ہیں

 یہ مسلکی ٹیلی وژیرن کے مالکان اپنے مسلک کی مناسبت سے امام زمانہ کا نام لے کر نہ جانےکب تک قوم کو بے وقوف بناتے رہیں گے اور لوگ بنتے رہیں گے

جس جگہ یہ تقریب ہوئی اس ادراے کے سربراہ نے بھی ایک خوب چال چلی کہ یورپ کی ایک تنظیم کا صدر ہونا کانی نہ جانا اور اس بزنس میں  اپنے آپ کو مشہور کرنے کے لئے ان کو بھی ٹیلی وژیرن کا سہارا لینے پڑا یا ان کو بھی کوئی پیسے کی کمی محسوس ہوئی جو انہون نے بھئ ان مسلکی ٹیلی وژیرن کا سہارا لیا

 ایک خاتون نے تو شاعری کی انتہا کر دی۔ کہنے کو وہ خود کو عالمہ کہتی ہیں مگر شاعری کے بنیادی رموز سے قطعی ناواقف۔ کاش کوئی اس ریکارڈنگ کو دوبارہ سنے اور معیار ادب پر افسوس کرے۔ مزے کی بات یہ کہ  پیشہ ور صاحبان دستار اور حبہ  اس پر بھی خوب مسکرا مسکرا کر داد دے رہے تھے۔

اس مسلکی ٹی وی کے لیئےاب تو میدان صاف ہو گیا ہے پہلے ان کا مقابلہ دوسرے ٹیلی وژیرن سے بھی تھا مگر اب کہاں کا مقابلہ ۔ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے والے یہ ماہر ، چوروں اور لیٹروں کے ہمراہ مل کر ان چینل کا کاروبار چمکا رہے ہیں۔  جبکہ ایک بات سن کر حیرانی بھی ہوئی کہ اس چینل کو جتنا اپنوں نے نقصان پہنچایا ہے دوسروں نے نہیں۔ ان کی بات اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خود تو جب شو کرنے آتے ہیں چینل سے جو تنخواہ وصول کرنے ہیں وہ بھی ایک لوٹ کا مال سمجھ کر وصول کرتے ہیں یہ باتیں تو ویب سایٹ پر بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔

 شوال کے پہلے دن اسلامی اور مسلکی  ایک چینل  نے مسلمانوں کو عید پر ایک تحفہ کچھ اس طرح چینل کو بند کر کے دیا  کہ ایک تو ان کے پاس فنڈ نہ تھے اور دوسرے نئے مالکان نے چھوٹ بول بول کر عوام کو ایک بار پھر بےوقوف بنایا کہ یہ اب نئی انتظامیہ چلا رہی ہے جبکہ کہ پرانے مالکان اپنے پسران کے گھر آباد کرنے لاہور گئے ہوئے تھے واپسی پر انہوں نے جو کاروائی کی وہ عوام اور قوم کے سامنے ہے اور ان ہر دو افراد کے کاروبار رقابت کی بنا پر یہ چینل بھی بند ہو گیا اور جب عوام فون کر کے پوچھتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ فنی خرابی کی بنا پر اس کو بند کیا گیا ہے جبکہ کہ ایسا نہیں ہے

دوسری طرف نئے مالک کے گھر والے عوام کو یہ کہتے ہیں ان کی پاکستان میں بہت جائیداد ہے وہ بیچ کر بھی اس چینل کو کامیابی سے چلا سکتےہیں جب کہ ایسا نہیں ہوا۔ انصاف کی بات تو یہ ہے غصب کا مال کسی کے پاس نہیں رہتا ۔قانون آپ لاکھ جانیں مگر خدا کی لاٹھی تو بے آواز ہے اُس نے صرف ایک ماہ میں ہی نئے مالکان کی قلعی کھول دی اور دوسروں کو بد دعائیں دنیے والے خود اس لاٹھی کا شکار ہو گئے۔

بزرگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ خدا نے کسی کو سزا دینی ہو تو وہ  مرد پر عورت کو حاوی کر دیتا ہے ۔دوسرے پر کیچیڑ اچھالنے سے پہلے اپنے گربیان میں جھانک لینا چائیے۔

والتھم اسٹو کی ایک متنازعہ خاتون اب عبادت گاہوں میں جاتی ہیں اور سابقہ مالکان اور ان کے افراد خانہ  کے خلاف جو زہر اُگل رہی ہیں وہ شاید یہ بات بھول رہی ہیں کہ انکے بھی تعلق اسی خاندان سے رہا ہے اگر کوئی ان کے گھر میں فوں کرتا ہے تو یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ خود زیارات پر گئی ہوئی ہیں اور بہو اور بیٹیوں کو جھوٹ پولنے پر مجبور کرتی ہیں۔

سکرین پر آکر بڑی بڑی باتیں کرنے والے یہ بزعم خویش ‘‘علمائے کرام‘‘ بھی اب تک یہی جھوٹ بول رہے ہیں نجی محفلوں میں کہ ٹی وی بس چند دن میں شروع ہو جائے گا۔ ان فساد پھیلانے کے ماہر ملاں نے تو یہاں تک ایک عام مومن کو کہا تھا کہ بند ٹی وی 23 تک منظر عام پر دوبارہ آ جائے گا مگر پاکستان ریلوے کی طرح سال اور ماہ نہیں بتایا۔۔۔۔۔باقی اگلی قسط میں۔۔۔

نوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے

:دیگر مضامین
(19.10.2011) جرمنی کے شہر کارلسروہے میں سترہواں کامیاب اور شاندار پاکستانی کلچرل شو
(18.10.2011) مسلمانوں میں بیداری علم کے محرک سر سید احمد خان کا یوم ولادت سترہ اکتوبر ہے
(15.10.2011) ہم نے دوپٹے کو پرچم بنا لیا ہے۔برمنگھم میں خواتین کی ایک شعری نشست
(11.10.2011) غزل گائیک جگجیت سنگھ ۔ کراچی سے راشد اشرف کی ایک تاثراتی تحریر
(11.10.2011) شہرہ آفاق غزل گلوکار جگجیت سنگھ،موت کے ساتھ جنگ ہار گئے۔ایک آواز خاموش
(09.10.2011) دنیا بھر میں لمحہ بہ لمحہ بدلتی خبریں ایک نظر میں۔عادل عزیز خانزادہ کی رپورٹ
(08.10.2011) ہر 3 میں 1 امریکی فوجی عراق اور افغانستان میں فوجی کارروائی کے خلاف
(07.10.2011) معروف شاعر ڈاکٹر صفی حسن کی عالمی اخبار کے لیئے دو غزلیں
(04.10.2011) معروف کارٹونسٹ مظہر شہزاد خان کا عالمی اخبار کے لیئے بنایا ہوا کارٹون
(01.10.2011) کشمیرکی صورت حال پہ جموں سے عالمی اخبار کے دلاور حسین کی اہم رپورٹ
(30.09.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔15ویں قسط
(24.09.2011) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں محمود عباس کی تاریخی تقریر۔بشکریہ ۔الجزیرہ ٹی وی
(22.09.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔14ویں قسط
(21.09.2011) سویڈن میں غیر رواداری ،اور عدم برداشت کے متعلق ایک نمائش کا اہتمام
(19.09.2011) لندن میں آن لائن ٹیلی ویژن ''ولایت ٹی وی'' کی باقاعدہ نشریات کا آغاز ہو گیا
(18.09.2011) پاکستان میں ڈینگی بخار کے مریضوں میں اضافہ، سہولیات ناکافی ۔از؛ تنویر شہزاد
(16.09.2011) ٹوٹے مکان چیختے بچوں کا شورو شین۔شاعر و آواز۔صفدر ھمٰدانی
(13.09.2011) نائین الیون کے بعد اسلام قبول کرنے والی امریکی خاتون ۔از؛ /مدیحہ انور ۔ واشنگٹن
(12.09.2011) نائن الیون کو دس سال گزر چکے لیکن امن کا دنیا میں کہیں نام نہیں ہے
(11.09.2011) مسلمان امریکا سے متنفرہیں اورمتنفر رہیں گے.امریکی میڈیا؟ از۔محمداعظم عظیم اعظم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں