16.10.2026, 06:16pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 55ویں قسط
22.10.2011, 12:05am , ہفتہ (GMT+1)

قمر رضوی اسلام آباد

روضہءاطہر کی جانب متوجہ ہو کر ایک بار پھر زیارت کا شرف حاصل کیا اور بی بی کا شکریہ ادا کرتا ہوا ازان کے کلمات کے ہم رفتار صفوں کو عبور کرتا ہوا اگلی صفوں میں جا بیٹھا۔ چند گھنٹوں کے توقف کے بعد اسی پرکیف اور روحانیت سے لبریز نماز کا لطف حاصل کیا۔ نماز سے فارغ ہو کر جب ہم حرم سے باہر آئے تو اندھیرا چھا چکا تھا اور فضا میں ٹھنڈک بتدریج بڑھتی جارہی تھی۔ ہم نے بازار کو عبور کیا اور اپنی قیام گاہ کی جانب چل پڑے۔ مگر قیام گاہ جانے کی بجائے اسکی اور حرم کی درمیانی شاہراہ پر بلا سمت ٹہلنا شروع کردیا۔ کچھ ہی دیر میں ہمیں اس مقدس شہر میں چوبیس گھنٹے ہونے کو تھے۔ محض چوبیس گھنٹے ۔۔۔ مگر محسوس یوں ہو رہا تھا کہ میں چوبیس سال سے یہیں مقیم ہوں۔ کاملا” اجنبی مگر اپنائیت سے بھرپور دیار۔ بالکل مشہد ِ مقدس کی مانند۔ سب کچھ پرایا ہونے کے باوجود بھی اپنا ہی تھا۔

روضے کے میناروں اور گنبد سے نکلنے والی طلائی روشنی شہر میں یوں پھیلی ہوئی تھی جیسے یہاں ایک آفتاب ِصغیر اپنا نور بکھیر رہا ہو۔ ہم فٹپاتھ پر ٹہل رہے تھے اور ہمارے ساتھ سے پیدل گزرنے والے، گاڑیوں میں گزرنے والے، حتّٰی کہ موٹر سائیکلوں پر گزرنے والے افراد بھی عبا، قبا اور عمامے میں ملبوس تھے۔ کہنے کو تو یہ قم کا قومی لباس تھا مگر ہمیں اس لیئے عجیب محسوس ہورہا تھا کیونکہ یہ وضع قطع ہمارے ملک میں ایک خاص طبقے کا ہی خاصہ ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اپنی دکان کے باہر جھاڑو لگاتے ہوئے ایک ایسے شخص کو دیکھا جسکے سر پر عمامہ تھا۔ یہ تمام مناظر میرے لیے اس لیے بھی باعث حیرت تھے کیونکہ ہمارے معاشرے میں مذہبی شخصیات کو یا تو معاشرے سے علیحدہ ایک مخلوق گردانا گیا یا ان شخصیات نے خود عوام سے ایک فاصلہ برتا، جسکی بنا پر مذہبی طبقے اور عوام کے درمیان ایک مصنوعی خلیج حائل ہوگئی۔ مذہبی طبقے کو محض نکاح، جنازہ، نماز اور مجلس کے لئے محدود کردیا گیا اور یوں ہمارا معاشرہ دو طبقوں میں بٹ گیا۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مسلمان کہلانے والے معاشرے کے ہر فرد کو نکاح، جنازہ اور دیگر فقہی مسائل سے مناسب حد تک آگاہ ہونا چاہیئے تھا اور علماء کو اپنا علم عوام کی شعوری سطح بلند کرنے کی خاطر استعمال کرنا چاہیئے تھا تاکہ مذہب ِ اہلبیت کے پیروکاران علوم ِ آل محمد کے سائے میں معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے۔

ان ملبوسان ِ پیراہن ِ دینی کو اس شہر میں میں نے معاشرے میں رائج ہر کام کرتا ہوا پایا۔ ہر شخص یا تو طالب ِ علم ہے، یا فارغ التحصیل عالم۔ مگر گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے کی بجائے اپنی نجی اور کاروباری زندگی کو احسن طریقے سے گزارنے میں مصروف ہے۔  ایسے ہی معمم افراد کو میں نے دکانوں میں سودا سلف بیچتے ہوئے بھی پایا۔ ٹیکسی چلا کر اپنا روزگار کماتے ہوئے بھی دیکھا۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں اپنی ملازمت کرتے ہوئے بھی مشاہدہ کیا اور شام کے فارغ اوقات میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ پارکوں میں ورزش کرتے ہوئے اور بچوں کے ساتھ فٹبال کھیلتے ہوئے بھی دیکھا۔

سڑک کے کنارے مختلف دکانوں کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہماری ملاقات کچھ غیر ایرانی فیمیلیز سے بھی ہوئی۔ وہاں ہم جیسے لوگ الگ ہی نظر آجاتے ہیں۔ ہمارا لباس، بول چال اور چال ڈھال وہاں کے مقامی باشندوں سے یکسر مختلف ہے۔ ہمارے یہ بچھڑے ہوئے بہن بھائی یا تو ہندوستان سے آئے ہوئے تھے یا افریقہ اور یورپ کے مختلف علاقوں سے۔ ان اجنبیوں سے مل کر اتنی خوشی ہوئی جو بیان سے باہر ہے۔ میں نے دل سے ان محبان ِ اہلبیت کو سراہا جنکے قلوب ان مقدس مقامات کے لیئے مقناطیسیت رکھتے ہیں۔ وگرنہ آجکل کے مادی دور میں لوگوں کی ترجیحات کچھ اور ہی ہو گئی ہیں۔ میرے دل سے تمام محبان ِ اہلبیت کے لیئے زیارات کا ازن ملنے کی دعا بھی نکلی۔ اپنے ان دوستوں سے رخصت ہو کر ہم چلتے چلتے سڑک کے کنارے تک پہنچ گئے۔ رک کر جو دیکھا تو منظر انتہائی دلنشین تھا۔

مجھے نہیں معلوم تھا کہ یونہی سر ِ راہ چلتے چلتے جس خوبصورت عمارت سے نظریں جا ملیں گی وہ قم کی تاریخی ترین مسجد یعنی مسجد ِ امام حسن عسکری علیہ السلام ہوگی۔ اس مسجد کی خاص بات یہ ہے کہ اسے تیسری صدی میں امام عسکری (ع) کے نمائیندہءخصوصی جناب احمد بن اسحاق قمی (رح) نے حکم ِ امام پر تعمیر کروایا تھا۔ اس مسجد کی دوسری خصوصیت اس سے متعلق علمائے کرام اور مراجع ِ عظام ہیں۔ مثلا” آیت اللہ محمد تقی خوانساری یہیں درس دیا کرتے تھے اور آیت اللہ اراکی اور امام خمینی جیسے طلباء اسی مسجد کے صحن میں تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ مسجد عالم گر ہے۔ اتنی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اس مسجد کی شان و شوکت اور رعب و شکوہ میں زرہ برابر کمی نہیں آئی۔

ابھی حال ہی میں اس مسجد سے متعلق ایک بزرگ شخصیت آیت اللہ سید عباس کاشانی ہم سے جدا ہوئی ہے۔ آپ کے بارے میں ایک حیران کن حقیقت یہ تھی کہ آپ عرصہ چالیس سال سے موٹاپے کے شدید مرض میں مبتلا تھے۔ آپ اس حد تک مریض تھے کہ اٹھنے بیٹھنے سے بھی قاصر تھے۔ خدام اور شاگردان آپ کو اٹھنے بیٹھنے میں مدد کیا کرتے تھے۔ اس عالم میں بھی تا دم ِ حیات درس و تدریس اور ترویج ِ علوم ِ محمد و آل محمد میں مصروف رہے۔ آپ کی شخصیت کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ اس شدید بیماری کے عالم میں بھی کبھی خدا سے شکوہ نہ کیا۔ بلکہ آپ کی ایک خاص مسکراہٹ آپکی شخصیت کا ایک خاصہ تھی جو آپکی پہچان تھی۔ شاگردان، زائرین اور مقامی مؤمنین کی ایک کثیر تعداد آپکے استخارے، دعاؤں اور تعویذات سے مستفید ہوتی تھی۔

قم کی اس سڑک پر ٹہلتے ہوئے مجھے اس وقت تک یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس شہر کی سرزمین پر پڑنے والا ایک ایک قدم کتنی اہمیت کا حامل ہوگا۔ ابھی تک تو ہم اس حرم کی حدود سے باہر ہی نہ نکلے تھے، چنانچہ زہن میں یہی تھا کہ چند زیارات کے مقامات ہوں گے اور حوزہءعلمیہ تو یہ شہر ہے ہی اور بس۔ قم کی سردی کے بارے میں محض سنا تھا، دیکھنے کا موقع تو نہ مل سکا مگر ہمارے لئے قم کا اکتوبر ہی کافی تھا جس کی چڑھتی رات میں اسلام آباد کے دسمبر جیسی خنکی تھی۔ دھیمی رفتار میں چلتی ہوئی ہوا کانوں کی لوؤں کو منجمد کرتی ہوئی گزررہی تھی۔ منہ سے نکلنے والے بخارات سردی کے باعث بھاپ میں تبدیل ہوتے دیکھے جا سکتے تھے۔ رات کافی حد تک چھا چکی تھی اور سڑک پر ٹریفک کا شوروغل بتدریج کم ہوتا جارہا تھا۔ دکانیں البتہ ابھی تک کھلی ہوئی تھیں جن میں سے زیادہ تر پیٹزا اور مٹھائیوں کی دکانیں تھیں۔ ٹھنڈی ہوا کی اس چھیڑخانی نے ہمیں کافی پینے پر مجبور کردیا۔ ہم کافی کے کپ لیئے ایک منڈیر پر بیٹھ گئے اور میں روضے کی جگمگاہٹ میں کھوتا ہوا مشہد ِ مقدس پہنچ گیا۔ چند روز قبل تک مشہد میں بھی ایسا ہی کچھ ہوتا تھا۔ یہاں بھی مولا کی خواہر ِ معظمہ کا روضہ اپنی ہی آب و تاب سے جگمگا رہا تھا۔ کیا مماثلت تھی دونوں بہن بھائیوں کے مراقد کی۔ دونوں ہی نوروخیر کے سمندر مگر اپنی اپنی وسعتوں میں یکتا۔ ان مناظر کی منظر کشی دنیا کا بڑے سے بڑا مصور و مفکر بھی اپنے الفاظ میں نہیں کرسکتا۔ شاید یہ وہ منظر ہے جسکو سمجھنے کے لیئے ازخود اپنی آنکھوں سے زیارت و مشاہدہ کرنا ضروری ہے۔

کافی کے کپ تو ختم ہوگئے مگر وہاں سے اٹھنے کو دل بالکل بھی نہیں چاہ رہا تھا، سو کچھ دیر مزید وہاں بیٹھے رہے اور زائرہ مجھے اس شہر کے بارے میں اپنی معلومات سے آگاہ کرتی رہی۔ جب نیند پوری طرح آنکھوں میں گھر کر چکی تو ہم لوگ وہاں سے اٹھے اور اپنی قیام گاہ کی جانب چل پڑے جو دو قدم پر ہی تھی۔ روضے کے حسین منظر کو آنکھوں کی پتلیوں پر سجائے کب میں محو ِ خواب ہوا، یہ یاد نہیں۔ صبح جب ہم بیدار ہوئے تو ایک اور حسین اور مصروف ترین دن ہمارا منتظر تھا۔    

ہم ہوٹل کی لابی میں ناشتہ کررہے تھے کہ فون بجا۔ اٹھا کر دیکھا تو اصغر بھائی کے مقرر کردہ ایک پاکستانی گائیڈ کا فون تھا جو قم میں ٹیکسی چلاتے تھے اور اس شہر کے ہر کوچے سے واقف تھے۔ منور صاحب قم میں ہندوستانی اور پاکستانی زائرین کی اپنی ٹیکسی میں رہنمائی کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ اصغر بھائی نے انہیں ہماری رہنمائی کے لیے مقرر فرمایا ہے اور وہ دس منٹ میں ہمیں لینے کے لئے آرہے ہیں۔ یہ اس مانوس اجنبی کا ایک اور احسان تھا جو کبھی بھولنے والا نہیں۔ اس شخص نے مولا کے دیار میں کسی بھی آنے والی پریشانی پر بند باندھے رکھا تھا۔ اس وقت بھی منور صاحب کا ایسے وقت میں فون آیا جب ہم بیٹھے ہوئے یہ منصوبہ بنارہے تھے کہ اب کیا کیا جائے۔

ہم لوگ ناشتے سے فارغ ہوکر وہیں بیٹھ گئے۔ اسی اثناء میں منور صاحب بھی تشریف لے آئے۔ ہم نے اکٹھے چائے پی اور نکل کھڑے ہوئے میری انجانی اور منور صاحب کی جانی پہچانی منازل کی طرف۔ منور صاحب نے گاڑی مرکزی شاہراہ پر لاتے ہوئے اپنا تفصیلی تعارف کروایا اور ہمیں اپنے تجربے کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے عام ڈگر سے ہٹ کر میری دلچسپی کی بات کی کہ عموما” جو لوگ قم میں زائرین کی رہنمائی کا کام کرتے ہیں، وہ چند چیدہ چیدہ مقامات پر لیکر جاتے ہیں۔ جبکہ میں آپکو زرا مختلف انداز میں زیارات کرواؤں گا اور ہم ان مقامات پر بھی چلیں گے جو عام طور پر غیرملکی زائرین کے مشاہدے میں نہیں آتے۔ میں جوش عقیدت میں آبدیدہ ہوگیا اور خدا کا شکر ادا کرنے لگا جس نے اس سرزمین پر قدم رنجا ہوتے ساتھ ہی اصغر علی نامی شخص کو ہم سے ہم آہنگ کردیا۔ ابھی ہماری گفتگو ابھی یہیں تک پہنچی تھی اور گاڑی ابھی تیسرے گیر میں بھی نہ چڑھی تھی انہوں نے کہ دائیں جانب موڑ کر ایک کھنڈر نما میدان میں لے جا کر روک دی۔ سامنے کی جانب اشارہ کرکے انہوں نے حکم صادر فرمایا کہ جائیے اور اہل بیت کے ایک ایسے شہزادے کی زیارت کیجئیے، جسکا نام پتا بھی ابھی کسی کو معلوم نہیں۔ میں نے نظریں جماتے ہوئے دیکھا تو میدان کے درمیان میں ایک قبر پر بانسوں کے سہارے سبز کپڑا تنا ہوا تھا اور اسکے اردگرد فولادی جالی کی پستہ سی دیوار کھڑی ہوئی تھی۔ کھلے میدان میں قبر کے گرد دو مستورات تلاوت کلام پاک میں مشغول تھیں۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کیا جگہ ہے۔ البتہ ہم گاڑی سے اترے اور میں عقیدت بھرے قدموں سے قبر کی جانب چلا۔ وہاں پہنچ کر فاتحہ خوانی کی اور اہل ِ مرقد کے حضور درودوسلام پیش کیا۔ خدا سے اپنے مرحومین کی بلندیءدرجات کی دعا مانگی اور الٹے قدموں لوٹ آیا۔ واپس آنے پر اپنے رہنما سے اس انجانی قبر کی بابت دریافت کیا جو ویران ہونے کے باوجود پروقار و پرنور تھی۔ مجھے معلوم ہوا کہ وہ قبر حال ہی میں محکمہءآثار قدیمہ کی جانب سے دریافت ہوئی ہے۔ جیسے ہی اس بات کی تصدیق ہوئی کہ اہل ِ مرقد خانوادہءاہل بیت کا کوئی مسافر شاہزادہ ہے جو قم کی سرزمین میں شہید ہوا تھا، حکومت کی جانب سے قبر کا نشان متعین کیا گیا اور آہنی دیوار کھینچ کر روضے کی باقاعدہ تعمیر کا آغاز کردیا گیا۔ کچھ فاصلے سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ تعمیر ہونیوالا روضہ پورے میدان پر محیط ہوگا۔ اپنے دن کا آغاز اس انوکھی زیارت کرنے پر میں خوش تو بہت ہوا مگر دل ملول بھی ہوا یہ جان کرکہ اتنی صدیاں بیت گئیں اور ہمارے اس آقازادے کا نام و نشان تک پوشیدہ رہا۔ شکستہ دل سے ان مؤرخین اور ماہرین ِ آثار قدیمہ کے لئے دعائیں نکلیں جو آج بھی دن رات ان کھوئی ہوئی قبروں کو کھوج کر انکا جائز مقام دلوانے میں مگن ہیں۔ یہ اس عظیم انقلاب کا ایک اور ثمر ہے کہ جن قبور کے نشانات کو دشمن نے ہمیشہ مٹانا چاہا، آج رخ ِ زمین پر آسمان کے تاروں کی مانند جگمگا رہے ہیں۔ میں خوش تھا کہ مجھے ان زیارات کے لیئے چنا گیا جو عمومی طور پر بیرونی زائرین کی توجہ سے محروم رہتی ہیں۔ اسکے بعد ہم چھوٹی چھوٹی گلیوں میں پھرتے رہے اور ہر جگہ کسی نہ کسی شاہزادے یا شاہزادی کی قبر ہماری منتظر ہوتی۔ اگر میری یادداشت اور ان قبور کی صحیح تاریخ میرا ساتھ دیتی تو ان شہداء کے متعلق ایک علیحدہ تحقیق نامہ مرتب ہوجاتا۔

خانوادہءاہلبیت کے چار سو سے زائد شاہزادے اور شاہزادیوں کے علاوہ ہزاروں عاشقان ِ اہلبیت ہیں جو یا تو ان ہستیوں کے نقش قدم کی تلاش میں، یا انکی قدم بوسی کی چاہ میں خدا کے حضور پیش ہوگئے۔ ہم جہاں بھی جاتے کوئی نہ کوئی قبرستان ہی ہوتا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے یہ شہر نہیں، قبرستان ہو اور شاید ایسا ہی تھا۔ ہر قبرستان کے عین مرکز میں گنبد والی ایک عمارت ہوتی جسمیں کسی سید کی قبر ہوتی اور اس مقبرے کے اردگرد ایک وسیع و عریض قبرستان ہوتا۔ ایک دن میں اتنی مرتبہ فاتحہ خوانی کا میرا یہ پہلا تجربہ تھا جو روحانیت میں اضافے کا تو باعث تھا ہی مگر ساتھ ہی میری روح وحشت کا شکار ہو رہی تھی۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ آج سے قبل تک قبور کی زیارت اور سیر دونوں عوامل ساتھ ساتھ جاری تھے۔ مگر آج مشاہدے میں صرف قبریں ہی قبریں تھیں اور ہر قبر اپنے کتبے تلے علیحدہ تاریخ لئے لیٹی تھی۔ ان میں سے اکثر اہل ِ قبور، جو موت کی سزا پا کر اس خاک کا پیوند ہوئے تھے انکا جرم یا تو اولاد ِ سیدہ (ع) ہونا تھا یا پھر غلام ِ سیدہ (ع) ہونا۔  مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آج میرے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ کم سن بچوں سے لیکر معمر بزرگ تک کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑا گیا۔ آج میرے ایران میں قیام کا اداس ترین دن تھا۔ میں چشم ِ تصور میں ان شہداء کی شہادت کے مناظر بُنتا رہا اور فاتحہ خوانی کرتا رہا۔ ہمارا گائیڈ ہمیں ایک قبرستان سے نکال کر دوسرے قبرستان میں چھوڑ آتا۔ راستے میں ظہر کا وقت ہوا تو لب ِ سڑک رک کر ایک مسجد میں نماز ِ ظہرین ادا کی اور آگے چل دیئے۔

اسی طرح چلتے چلتے ایک قبرستان میں تشییع ِ جنازہ اور تدفین میں شرکت کی سعادت بھی حاصل ہوگئی۔ یہاں منظر اپنے ملک سے خاصا مختلف تھا۔ جنازہ تو جنازہ ہی ہوتا ہے مگر یہاں پاکستان کی ثقافت کے برعکس خواتین بھی جنازے میں علیحدہ سے شریک تھیں۔ دوسرا اہم مشاہدہ یہ تھا کہ سو فیصد افراد ملبوس ِ سیاہ تھے۔ میں تمام چیزوں کا بغور مشاہدہ اور تقابلی جائزہ کرتا رہا۔ یہاں تمام افراد زیر ِ لب کلمہءشہادت اور کلمہءاستغفار کا ورد کررہے تھے اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے سے بات نہیں کررہا تھا۔ تمام مراحل بغیر لقمہ زنی اور مشوروں کے طے ہوئے چلے جارہے تھے۔ ایسا پرسکون اور اطمنان بخش جنازہ میں نے قم میں ہی تجربہ کیا اور خواہش کی کہ کاش ہم بھی جنازے کے ساتھ ساتھ تمام عبادات کا ایسے ہی حق ادا کر پائیں۔ جنازے میں شرکت کا یہ مختلف تجربہ کرکے طبیعت کچھ سنبھل سی گئی اور میں نے ایک اور سعادت ملنے پر خدا کا شکر ادا کیا۔ یہ یقینا” بہت بڑی سعادت تھی کیونکہ فرمان نبیءاکرم (ص) کے مطابق کسی مؤمن کے جنازے کا کوئی ایک رکن بھی ادا کرنا انسان کی بخشش کا ضامن ہوتا ہے۔ اور جنت کے اس ٹکڑے میں جنازہ یقینا” بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

واپس ٹیکسی میں آکر بیٹھے تو ہمارے گائیڈ نے قم اور اہل ِ قم کے بارے میں معلومات دینا شروع کردیں۔ منور صاحب کے پاس معلومات کے ساتھ ساتھ مصالحہ بھی وافر مقدار میں موجود تھا جسکا استعمال وہ اپنی گفتگو میں بخوبی کررہے تھے۔ دس پندرہ منٹ کی چھوٹی چھوٹی چند سڑکوں اور گلیوں کی مسافت طے کرکے ہماری گاڑی ایک مقام پر آکر رک گئی۔ سامنے والی عمارت کے صدر دروازے پر جو میری نظر پڑی تو دل ٹھٹک کر رہ گیا۔

:دیگر مضامین
(18.10.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔20ویں قسط
(18.10.2011) حسینی اسلامک مشن آئزل ورتھ لندن کے سابق صدر سید مسعود رضوی کی تدفین
(17.10.2011) عروف ترقی پسند مصنف، صحافی، فلمساز ، شاعر اور کالم نگار حمید اختر کا انتقال
(17.10.2011) ممتاز ادیب اور نقاد منشا یادکو اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ہے
(15.10.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 54ویں قسط
(15.10.2011) ومبلڈن کمیونیٹی سنٹرمیں بزمِ اُردو لندن کی جانب سے ایک محفلِ شعرو سخن
(09.10.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔19ویں قسط
(06.10.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 53ویں قسط
(02.10.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔18ویں قسط
(28.09.2011) جرمنی سے ارشاد ہاشمی کا خط شریف اکیڈمی کے شفیق مرآد کے نام
(25.09.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔17ویں قسط
(21.09.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 51ویں قسط
(18.09.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔16ویں قسط
(17.09.2011) بزم اردولندن کے زیر اہتمام ومبیلڈن میں ایک محفلِ مشاعره ہو رہی ہے
(08.09.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔15ویں قسط
(06.09.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 49ویں قسط
(30.08.2011) پیر سید شبیر حسین شاہ بخاری (سجادہ نشین گنگوالہ شریف ) رحمان آباد گوجرخان میں انتقال فرما گئے
(30.07.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔14ویں قسط
(24.07.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔13ویں قسط
(21.07.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔بارہویں قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں