محرم الحرام کی آمد ھے اور فضاؤں میں اس مہینے کی آمد سے ایک عجیب طرح کی اداسی اترنے لگتی ھے تو وہی کہیں دل سابقہ فرقہ وارانہ تصادم کو یاد کر کے رنجیدہ بھی ھو جاتا ھے ۔ اور میری طرح جانے کتنے دل آنے والے دنوں سے وقت سے پہلے ھی سہم بھی جاتے ھیں جیسے کسی ٹی وی سیٹ پر نیچے کی پٹی پر الرٹ کاٹیلپ چلتا ھے کہ ھر طرف خوصوصی انتظامات کیئے جانے کا حکم دیا جا چکا ھے ۔۔۔
ھم تو وہی قوم ھیں نا جس میں عبادت اور معاشرت کے سارے قوانین صرف اس لیئے لاگو کیئے گئے ھیں کہ مخلوق کارابطہ اپنے رب سے ھر حال میں جڑ ارھے۔ شفقت رحمت کی وجہ سے انسان کو سب پر فضیلت ملی ۔۔ مجھے ایک واقعہ یاد آگیا جو علامہ شبلی نغمانی نے سیرت النبی کی جلد ششم صفحہ نمر 178 پر لکھا ھے “ ایک صاحب نہایت خوش مزاج تھے لیکن انہیں شراب پینے کی عادت تھی اور وہ اس کی سزا بار بار بھگتتے بھی تھے ۔ ایک مرتبہ جب وہ اسی جرم میں پکڑ کر لائے گئے تو صحابہ میں سے کسی نے کہا “ اللہ تعالی اس پر لعنت کرے کہ اس قدر بار بار سزا پاتا ھے “
تو دوستو ھمارے نبی اکرم صلی علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا کہ “ تم لوگ اس پر لعنت نہ بھیجو ۔ خدا کی قسم ! مجھے اس کے متعلق جو معلوم ھے وہ یہ ھے کہ وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول سے بہت پیار کرتاھے “
اس بات کو جاننے کے بعد کیا کسی کو یہ حق پہنچتاھے کہ جو اللہ اور رسول کو ماننے والا اوراس سے پیار کرنے والا ھو اور وہی اپنے ھی مسلمان بھائی کو بے دریغ قتل کردے یا اس کی عزت سر بازار نیلام کر دے ،اسے جھوٹ اور فریب سے لوٹ لے ۔۔اسے ناکردہ گناہوں کی سزاؤں کی بھٹی میں جھونک دے ۔
کیا یاد حسین ھمیں اس بات کی طرف نہیں بلاتی کہ ایک دفعہ ھی سہی اپنے دل کی سچی پکار کو سنیں اور چاھے ایک بار ھی صحیح ایک بار ھی سچے دل سے معافی مانگ کر اپنے رب کو منا ھی لیں ۔۔۔ کہ کل کبھی نہیں آتی ۔۔
جب بھی ٹی وی پر الرٹ کاٹیلپ چلتا ھے جانے مجھے کیوں لگتا ھے جیسے وقت نے ھر مسمان کے منہ پر تھپڑ دے مارا ھو ۔۔ ھم کس حسین کی بات کرتے ھیں ۔ اس کی جس نے خود فرقہ وارانہ فساد اور غیر اللہ کی بیعت ختم کرنے کے لیئے جان مالک کے سپرد کر دی ۔۔
سوچتی ھوں کس یزید سے حسین کی لڑائی ھو ئی تھی ۔۔
یزید تو اب ھر نفس میں براجمان ھے اور شیطان کی بیعت ھر ایک سے لے رھا ھے ۔۔
ورنہ۔۔۔ ایک اللہ ، ایک رسول اور ایک کتاب کو ماننے والوں کا جھگڑا کیا ھے ؟