|
قذافی ۔۔۔ رونقِ بزمِ جہاں تھا پہلے ۔از؛ خاورچودھری ۔اسلام آباد
24.10.2011, 12:10am , سوموار (GMT+1)
خاورچودھری ۔اسلام آباد
غالب نے کہاتھا
گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھروکہ میں جاں دادۂ ہوائے سرِ راہ گزار تھا
لیکن یہاں توایسا نہیں ہے۔ عشرت کدۂِ جہاں کی رنگینیوں پر بیالیس سال کی تخت نشینی کچھ کم نہیں ہوتی۔اس دورانیے میں تو دوسری نسل بھی جوان ہوجاتی ہے۔اسے مالک نے اس جہانِ رنگ وبو میں اپنے حصے کاکردار ادا کرنے کے لیے پوری چاردہائیاں عطا کیں اور جب پانچویں دہائی میں داخل ہوا تواُس کے پاؤں کوکیڑے لگ چک تھے۔ چیونٹیاں اس کے جسم پر سرسراتی تھیں اور اژدھے اس کاراہ دیکھتے تھے۔ وہ اپنی کھچار میں پوری قامت کے ساتھ موجود تھا اوراپنے تعاقب میں نکلے ہوؤں کو پچھاڑتا تھا۔وہ مردِ جری تھا‘اس لیے جرات آزمائی اس کے قرینے میں شامل تھی۔ وہ ان عرب بہادروں کی نشانی تھاجن کی مائیں اپنے بچوں کو بھی میدانِ جنگ میں اتارنے سے نہیں چوکتی تھیں‘ جوخودآگ و خون کے کھیل میں شریک ہوتی تھیں‘ جنگی ترانے پڑھتیں‘ زخمیوں کی دیکھ بھال کرتیں‘ لڑنے والوں کی ہمت بندھاتیں۔مگراُسے بونوں سے لڑائی آن پڑی تھی۔اس کے مدمقابل وہ لوگ تھے جوپیچھے سے وار کرنے کے عادی ہیں۔غلام گردشوں کی سازشوں میں کھوئے ہوئے لوگ جواپنے ہاتھوں اپنا ہی وجودکاٹ بیٹھتے ہیں اورانھیں احساس تب ہوتا ہے جب ان کے زخم ناسوربننے لگتے ہیں۔ ایسے ہی منظرنامے کے لیے میں نے یہ ہائیکو قلم بند کیا تھا :
دوست کہاں ہیں دوست ؟ نیلے خون کی خوش بو نے راز اُگل ڈالے میرے لیے یہ قطعاً نئی بات نہیں ہے کہ عالم اسلام کے ایک اور ہیرومعمرقذافی کوشیطان کے گماشتوں نے گرفتارکرنے کے بعد توہین آمیزطریقے سے شہید کردیا ہے‘کہ اس سے پہلے کئی ایک کے ساتھ ایسا کیا جاچکا ہے۔آپ صرف صدام حسین اوراسامہ بن لادن کودیکھ لیجیے‘ ذراپیچھے جایے اورملامحمدعمر اوران کے رفقاء کے ساتھ مغرب کی دشمنی کودل کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کیجیے۔ یہ اور ان جیسے کئی ایک حوالے ہیں جو ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اسلامیانِ عالم اوران کے راہ نماؤں کے خلاف امریکا اور اس کے حواری کیا کچھ نہیں کرتے۔ایمان داری سے تجزیہ کیجیے ملامحمدعمرکی امارت کے بعدافغانستان میں رنگِ حکم رانی سے افغانوں کو کیا ملا؟ صدام حسین شہید کے بعدعراقیوں نے کیاپایا اوراب یہ بھی دیکھ لیجیے گا معمرقذافی کے بعدلیبیائی باشندوں کے لیے کون سی دودھ کی نہریں بہتی ہیں؟ ہم کورچشم اورعقل سے اندھے لوگ بغیرسوچے سمجھے دوسروں کے پروپیگنڈے کاشکار ہوجاتے ہیں۔پھرہمارے الفاظ اپنے نہیں رہتے‘ ہمارے دماغ اپنے نہیں رہتے‘ ہمارے اخبار اورٹیلی ویژن اپنے نہیں رہتے۔ ہم بلاچون وچرا دوسروں کے طے کیے گئے ایجنڈے پرکام شروع کردیتے ہیں اوراس وقت تک کرتے رہتے ہیں جب تک وہ چاہتے ہیں۔
یہ اصول ہے‘ ہمیشہ تخریبی عمل کم زورحصے سے شروع ہوتا ہے یا کیاجاتاہے۔ امریکا نے اپنے پنجے پہلے ہم جیسے ملکوں میں گاڑے۔اس نے اپنے اندازِ حکم رانی اورطرزِ عسکریت کو ہم پرآزمایا۔ جب یہاں اُسے مطلوبہ ہدف تک رسائی ہو گئی تواُس نے پورے عالم اسلام کی بساط لپیٹنے کی سوچ لی۔ اب وہ اسی منصوبے پرکام کررہاہے۔ افغانستان‘ عراق‘تیونس‘ مصر اور اب لیبیا میں اُٹھائی گئی نئی لہر کے پس پردہ صرف اسلام دشمن ہیں جنھیں اپنے لیے مہرے ہمیشہ ہمی سے مل جاتے ہیں۔جوہمارے ہی خلاف لڑتے مرتے اورمارتے ہیں‘ دوسرے لفظوں میں ہم اپنے ہاتھوں ہی اپناگریبان پھاڑتے ہیں۔مجھے یہ کہنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ اب امریکا کااگلاہدف سعودی عرب ہوگا اوراس کے درمیانی عرصے میں پاکستان کے ساتھ بھی وہ زورآزمائی کرے گا۔یہ کام وہ انھی ممالک کی مدد سے کرے گا‘ یعنی ماضی کی طرح’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ پھربلند ہوسکتا ہے۔یہ زمینی حقائق ہیں‘ان سے چشم پوشی یقیناًہماری کوتاہ اندیشی ہے۔آپ ایران اورسعودی عرب کے درمیان ہونے والے حالیہ تندوتیز معاملات کوامریکی تخریب کاپہلاوارسمجھ سکتے ہیں۔اورپاکستان کے ضمن میں امریکا کی جانب سے مسلسل بداعتمادی کی فضا بھی اسی منصوبے کاحصہ ہے۔ اس لیے آج جولوگ معمرقذافی کی شہادت پرخوش ہورہے ہیں ‘میں دعوے سے کہتا ہوں کل وہ روئیں گے۔شاہانِ عرب اوردیگراسلامی قیادت نے ضمیروں کوبیدارنہ کیا تودیکھ لیجیے گاامریکا اوراس کے گماشتے ہرایک کوباری باری ٹھکانے لگائیں گے اور وہ جودُنیا کوقبضے میں کرنے کی امریکی خواہش ہے ضرور پوری ہوجائے گی۔ ہماری کج فہمی نے اب تک جو ہمارے ساتھ کیاوہ بہت زیادہ ہے مگرجوآگے ہوگا وہ کہیں زیادہ ہے اور مان لیجیے کہ پھراس کاازالہ بھی ممکن نہیں ہوگا۔
قذافی کاکیا ہے ؟ پورے شان سے اس مردِ مجاہد نے زندگی گزاری۔سال ہال سال تک دُنیا بھرسے علمائے اسلام کوبلا کران سے مشاورت اورراہ نمائی لینا‘ان کی خدمت کرنا‘ مسلم ممالک کی اخلاقی اور مالی مدد کرنا‘ غریب مسلم ممالک کے ہنر مندوں اور مزدروں کواپنے یہاں روزگاردینا اور سب سے بڑھ کرپاکستان کے ساتھ قلبی لگاؤ رکھنا۔ یہ سب شہید قذافی کی محبت کاعکاس ہیں۔ ہماراایٹمی پروگرام شروع ہوتا ہے توقذافی اس میں معاونت کرتے ہیں‘ ہمیں اخلاقی اورمالی مدد کی ضرورت پیش آتی ہے تووہ چشمِ ماروشن دلِ ماشاد کی تصویر نظرآتے ہیں اورپھراسلام کے ازلی دشمن امریکا کے خلاف تیس سال تک مسلسل سینہ سپررہتے ہیں۔اوراب شہادت سے قبل کادورانیہ تواس مردِ خودآگاہ کی عظمتوں ‘ بہادری اور جرات آزمائی کازمانہ ہے اورہرہرلمحہ اسے سلام پیش کرنے پرمائل کرتا ہے۔یہاں مشہورزمانہ مصرع یادآنافطری ہے :
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ‘ وہ شان سلامت رہتی ہے
میرے سامنے اخبارات کاڈھیرپڑا ہے۔ہرایک نے اپنے انداز سے سرخیاں جمائی ہیں۔ کسی نے لکھا ہے کہ’’ آمریت کے بیالیس سالہ دورکاخاتمہ‘ لیبیا کے عوام پرآزادی کا سورج طلوع‘‘ کسی نے لکھا کہ’’شخصی آمریت کادورختم‘ لیبیا کے عوام آزاد‘‘ اورکسی نے دردمندی سے یہ سرخی جمائی’’قذافی کابے رحمانہ قتل۔‘‘میں ان سرخیوں کودیکھتا ہوں اور پھرحق شناسوں اور عاقبت نااندیشوں کے فرق کو محسوس کرتا ہوں۔ میرے دماغ میں بہ یک وقت احسان مندی اور نفرت کے جھکڑ چلتے ہیں‘ میں سوچناچاہتاہوں‘ لکھناچاہتاہوں وہ سب جو میرے اندر لاوے کی طرح ابل رہا ہے مگرمیں یہ سب نہیں کرپارہا۔اس لیے کہ میں اپنے قلم کو جذباتی ہونے سے بچاناچاہتاہوں‘اسی لیے میں نے اوپر بھی وہی کچھ لکھا جو میری فکر کانتیجہ ہے۔جس پر میں نے ایک عرصے سے غوروخوض کیا ہے۔ جو میرے ایمان میں شامل ہے۔ میں نہ توکسی ایسے پروپیگنڈے کاشکار ہوناچاہتاہوں جوامریکا اوراس کے حواریوں نے پھیلا رکھا ہے اور نہ ان کے طے کیے گئے اہداف کاحصہ بنتا ہوں۔اس لیے واضح لفظوں میں امریکا اور اس کے حامیوں کی مذمت کرتا ہوں اورمعمرقذافی کی شہادت پردردمندی کے اظہار کے ساتھ اس کے درجات کی بلندی کے لیے جھولی پھیلا تا ہوں۔
انسان خطا کاپتلا ہے‘ یقیناًقذافی کی طویل حکم رانی میں ان سے کچھ ایسے کام ہوئے ہوں گے جولوگوں میں مقبول نہیں ہوسکے ہوں گے۔ ممکن ہے ان کے بعض کاموں سے مسلمانوں کوتکلیف بھی ہوئی ہو مگراس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ وہ اسلام کے سپاہی تھے اورانھوں نے امریکا کاڈٹ کرمقابلہ کیا۔ علمائے اسلام کی قدردانی کی‘ مسلمانوں سے محبت کی۔آج اسی محبت کا نتیجہ ہے کہ مجھ ایسے لوگ بھی انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اورکرتے رہیں گے۔
میں نہایت درد مندی سے آپ کی توجہ اس جانب مبذول کراتا ہوں کہ انگریزاورامریکانے ہمیشہ ہمارے بادشاہوں اورحکم رانوں کی تذلیل کی ہے۔ا ن کے حوالے سے ایسے قصے مشہور کیے ہیں کہ ہم میں سے بہت سے ان کو سچ مان رہے ہیں۔اسی بنا پراپنے حکم رانوں سے نفرت بھی کرتے ہیں۔ان اسلام کے دشمنوں کی اس سے بڑی خباثت کیا ہوگی کہ شیرِ میسور کانام ان بدبختوں نے اپنے کتوں کودیا۔آپ صدام حسین کادردناک انجام کیوں بھولتے ہیں‘آپ کواسامہ بن لادن اورملامحمدعمرکاانجام کیوں نظر نہیںآتا؟ ہماری اس مسلم قیادت کے خلاف جتنازہرامریکا اور اس کے گماشتوں نے اگلا اُس سے کہیں زیادہ خود ہمارے میڈیا اور نام نہاد دانش وروں نے اُگلا ہے۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ ہم میں سے ہزاروں لاکھوں امریکاکے منصوبوں کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔اس عمل میں جہاں ہماری قیادتیں شامل ہیں وہاں ہمارے افسران اورعامتہ الناس بھی ہیں۔
سوچیے اور سمجھئے کہ ہمارا سفر کس جانب ہے اوراس کاانجام کیا ہوگا؟جانے والے توچلے جاتے ہیں لیکن پچھلوں کے لیے سخت امتحان رہ جاتے ہیں۔قذافی ہم میں نہیں رہے‘ مالک کے سامنے موجود ہوں گے اوراپنے اعمال پیش کریں گے۔یقینامالک کے سامنے سرخ رو ہوں گے کہ انھوں نے مالک کے دشمن کے مقابلے میں شہادت پائی۔اپنے اس شعر پر ختم کرتا ہوں :
وہ ستارہ بھی کہیں ٹوٹ گرا رونقِ بزمِ جہاں تھا پہلے
|