نظم:
مادرِ علمی عالمی اخبار کےنام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے مادرِ علمی ترا احسان ہے احسان
تونے ہی مجھے قوتِ تحریر عطا کی
تونے مری تحریر میں تاثیر عطا کی
تو نے ہی مجھے خواب کی تعبیر عطا کی
تو نے ہی مجھےعزت و توقیر عطا کی
تونے ہی مجھے جینے کی تدبیر عطا کی
تونے ہی مجھے قوتِ تسخیر عطا کی
تونے ہی مجھے علم کی شمشیرعطا کی
تونے ہی مجھے جراءت ِ شبّیر ع عطا کی
تیری ہی دعا سے مری ہوئی مشکل ہوءی آسان
خواہش ہے مری تجھ پہ مری جان ہو قربان
ا
۔۔۔۔۔۔۔
فقط:
منظور قاضی: میونخ جرمنی سے