
پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو تئیس اکتوبر دوہزار گیارہ اتوار کے روز بیاسی سال کی عمر میں طویل علالات کے بعد دبئی میں انتقال کرگئیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ،سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ، بیگم نصرت بھٹو نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلیے عظیم قربانیاں دیں،اپنے شوہر کی پھانسی، دو بیٹوں اور بیٹی کی اموات کے گہرے صدمے بھی جھیلنے پڑے
۔نصرت بھٹو ایران کے صوبے اصفہان میں 23 مارچ 1929 کو پیدا ہوئیں۔ آٹھ ستمبر 1951 کو ذوالفقارعلی بھٹو سے کراچی میں ان کی شادی ہوئی۔بیگم نصرت بھٹو پیپلزپارٹی کے قیام کے دن سے ہی عملی سیاست میں متحرک ہوگئیں۔ انہوں نے1973سے1977تک بطور خاتون اول اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں۔ضیاء دورمیں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بنیں،جمہوری جدوجہد کی قیادت کرتے ہوئے لاٹھیاں بھی کھائیں بیگم نصرت بھٹو نے پیپلزپارٹی میں شعبہ خواتین کی بنیاد رکھی،ہمیشہ کارکنوں کیساتھ اپنے رابطے رکھے ،غریب اور ضرورت مند کارکنوں کی بھی مددکرتیں۔

ان کی اولاد میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹواور صنم بھٹو شامل ہیں۔ نصرت بھٹو 1996ء میں بینظیر کے دورحکومت میں مرتضیٰ بھٹو کے ماورائے عدالت قتل کے بعد شدیدبیمار ہوگئی تھیں اور بہت کم منظر عام پر آئیں۔نصرت بھٹو بینظیر کی جلاوطنی کے دور سے خاندان کے ساتھ دبئی میں مقیم تھیں۔بیگم نصرت بھٹو دوبار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔اپنی صاحبزادی بینظیر بھٹوکے پہلے دورحکومت میں وزیر بھی رہیں۔
بیگم نصرت بھٹو نے سیاسی جدوجہد کے دوران سختیوں کے ساتھ ذاتی زندگی میں گہرے دکھ بھی دیکھے ۔اپنے خاوند ذوالفقار علی بھٹو،بیٹوں شاہنواز بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کی موت کے صدمات کے بعدعملی سیاست سے کنارہ کش ہوگئیں۔ بیٹی بینظیر بھٹوکی شہادت کے وقت وہ شدید بیمارتھیں ،بیگم نصرت بھٹو کی زندگی جدوجہد اور دکھوں سے عبارت رہی۔
نصرت بھٹو کا ستر کی دہائی سے پاکستان کی سیاست میں نمایاں کردار رہا۔ وہ1973ء سے 1977ء تک پاکستان کی سابق خاتونِ اول رہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست میں ان کے شانہ بشانہ رہیں۔ 1979ء میں سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد وہ پاکستان کی چےئر پرسن منتخب ہوئیں۔ 1988 ء اور 1993 ء کے انتخابات میں وہ لاڑکانہ سے رکنِ قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئیں ۔
نصرت بھٹو نے 1996 ء میں کراچی میں اپنے بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد سے گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی ۔ جس کے بعد اپنی علالت کے دوران وہ دبئی میں ہی رہائش پذیر رہیں۔ ان کے بچوں میں اب صرف صنم بھٹو ہی حیات ہیں۔