اردوادب کی ممتاز افسانہ نگار عصمت چغتائی کوبچھڑے دس برس بیت گئے۔ عصمت چغتائی سماج کی باغی تھیں انہوں نے ہر سطح پر بغاوت کی۔
عصمت چغتائی ہندوستان کی ایک مشہور اردو مصنفہ۔جنہوں نے افسانوی نثر افسانہ ، خاکہ نگاری اور ناول نگاری میں نام پیدا کیا۔ اتر پردیش میں پیدا ہوئیںجبکہ جودھ پور میں پلی بڑھیںجہاںان کے والد ایک سول ملازم تھے۔ 1934ءمیں انہوں نے، لحاف ،کے نام سے کہانی لکھی۔ راشدہ جہاں ، واجدہ تبسم اور قراۃالعین حیدر کی طرح عصمت چغتائی نے بھی اردو ادب میں انقلاب پیدا کر دیا۔
عصمت چغتائی لکھنئو میں پروگریسیو رائٹرز موومنٹ سے بھی منسلک رہیں۔ عصمت چغتائی 1991ءمیںانتقال کر گئیںان کے مشہورِ زمانہ ناولوں میں ضدی ، معصومہ ، ٹیڑھی لکیروغیرہ شامل ہیں۔ ٹیرھی لکیر کا انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔
عصمت نے کالج کے زمانے میں ہی ایک کہانی فسادی لکھی۔ عصمت نے تین سو سے زائد کہانیاں لکھیں جو پانچ افسانوی مجموعوں کی شکل میں شائع ہوئیں ان میں کلیاں، چوٹیں، چھوئی موئی، ایک بات، دو ہاتھ شامل ہیں۔
ان کے انداز تحریر میں بغاوت تھی جسے معاشرے نے قبول نہ کیا۔ زندگی کی طرح موت کے بعد بھی عصمت چغتائی متنازعہ بنی رہیں
انہوں نے مرنے سے قبل خود کو جلانے کی وصیت کی اور چوبیس اکتوبرانیس سو اکانوےکو ان کی موت کے بعد انہیں ممبئی کے چندن باڑی شمشان میں جلا دیا گیا۔
مشہور افسانہ نگار عصمت چغتائی فلم جنون میں
1978 میں شیام بینیگل نے غدر کے تناظر میں ایک فلم بنائی تھی جس کا نام "جنون" تھا اس فلم میں نصیرالدین شاہ، ششی کپور اور شبانہ اعظمی کے ساتھ عصمت چغتائی نے بھی دادی کا کردار کیا تھا۔