|
بیگم نصرت بھٹو ۔ کچھ یادیں اور اظہار عقیدت و تشکر۔از۔مظفر شیخ
26.10.2011, 08:30pm , بدھ (GMT+1)
مظفر شیخ ، فرینکفرٹ ، جرمنی
WE ALL MUST BE BRAVE TO TRIUMPH - NUSRAT BHUTTO
پاکستان میں جہوریت اور منصفانہ نظام کے قیام کی تحر یک ا ور خاص طور پر پیپلزپارٹی آج ایک نئے صدمہ سے دوچار ہے۔بیگم نصرت بھٹو علالت کے باعث منظر عام سے طویل عرصہ تک دور رہیں مگر پارٹی کارکنوں اور ضیاءآمریت کے سیاہ سالوں میں تحریکِ بحالی جمہوریت کے دوران قید وبند اور جلاوطنی کی صعوبتیں اٹھانے والوں نے انہیں تحریک کی جرا¾ت مند رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا اور گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران ان کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے رہے۔بیگم نصرت بھٹو نے پولیس تشدد، قیدو نظربندی، جلاوطنی اپنے شوہر اور دو جواں سال بیٹوں کے قتل کے صدمے اٹھائے اور اس کے نتیجہ میں ناقابل علاج بیماری کا شکار ہوئیں،کسی کو معلوم نہیں کی انہیں سیاسی جدو جہد میں اپنی رفیق اور بہادر بیٹی کے قتل کا علم ہوا تھا یا نہیں۔صرف ضیاءآمریت کے خلاف ہی نہیں بیگم نصرت بھٹو نے ایوب خان کے خلاف تحریک کی قیادت بھی اس وقت آگے بڑھ کر سنبھالی تھی جب ابھی پیپلز پارٹی کے خدو خال بھی واضح نہیں ہوئے تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کو جیل میںڈال دیا گیا تھا۔
مادر ملّت محترمہ فاطمہ جناح کے بعد وہ پاکستان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے قافلہءجمہوریت کو بے درا نہیں ہونے دیا۔پارٹی کارکنوں اورمنصفانہ نظام کے قیام کی جدوجہدکے شرکاءسے ان کا رابطہ اور رشتہ حزب اختلاف یا ایوان اقتدارکی حدود اور سے بالاتر رہا ۔ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوران وزیراعظم ہاﺅس کے دروازے اگر پارٹی کارکنوں اور بے لوث جیالوں کے لئے کھلے تھے تو بیگم صاحبہ ہی کی وجہ سے ۔پارٹی رہنماﺅں پر اقتدار کے نشے اور عوامی حکومت پر بیوروکریسی کے قبضہ کے مقابلہ میں کارکنوں کی شنوائی کہیں ممکن تھی تو وہ خاتونِ اوّل کا دفتر ہی تھا۔آج بھی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بیگم صاحبہ کی مدد سے ہونے والے اپنے کاموں کو تشکّر اور محبت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ پارٹی کی جڑوں کے ساتھ بیگم نصرت بھٹو کا یہی رشتہ تھا جو ضیاءالحق کے مارشل لاءکے بعد پارٹی قیادت کے پابند سلاسل ہونے اور بیگم صاحبہ اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ موقع پرستوں کی غداری کے بعد مارشل لاءکے خلاف تحریک کی بنیاد بنا اور عوام دیوانہ وار باہر نکلنے لگے مگر اس تحریک کو ظلم اور جبر کے ساتھ کچل دیا گیا ۔ایک طرف بھٹو صاحب پر قتل کے الزام میں مقدمہ جس کا مقصد اور نتیجہ روز بروز واضح ہوتا جا رہا تھا اور دوسری طرف ملک پر ایک طویل آمریت کے منڈلاتے ہوئے گہرے سائے پیپلز پارٹی کی بچھی کھچی قیادت اور تنظیم کے لئے ایک بہت بڑی آزمائش بن گئے۔ پارٹی سے باہر ہی نہیں اس کے اندر بھی ایک مﺅقف تھا کہ بھٹو صاحب کی زندگی بچانے کے لئے سمجھوتہ اور مصلحت کا راستہ اختیار کیا جائے مگر جیل میں قتل کئے جانے کے منتظر قائد کی بہادر شریک حیات اور پُر عزم بیٹی نے عوام کے ساتھ قائد کے وعدہ کو نبھانے کے لئے جدو جہد کا انتخاب کر کے عوام اور قائد عوام میں سے کسی کو بھی مایوس نہ کیا ۔
عدالتوں میں پیشییاں، جیلوں کی انتظارگاہوں میں حاضریاں، کبھی اپنے اور کبھی دوستوں کے گھروں میں نظربندیاں، جیلوں میں قیدِتنہائی، بیٹوں کی جلاوطنی اور ان سے جدائی، کردار کُشی کی شرمناک مہمیں، ملک میں لگی ہوئی سرسری سماعت کی فوجی عدالتوں سے بے گناہ نوجوانوں کو سزائیں اور گلی کوچوں میں پارٹی کارکنوں پر کوڑوں کی بارشیں بیگم بھٹو کے عزم اور صبر کو متزلزل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں اور ان کی یہی ثابت قدمی ان کے اور پارٹی کارکنوں کے درمیان ایک ماں اور بیٹوں جیسے پاکیزہ رشتہ کی بنیاد بنیں ۔ ضیاءآمریت کے خلاف منظم ہونے والی پہلی تحریک بحالئی جمہوریت میں شامل پیپلز پارٹی کے بدترین مخالفین نے بھی بیگم نصرت بھٹو کو اپنی قائد منتخب کرکے ان کی صلاحیتوں اور قربانیوں کا اعتراف کیا۔ انہیں اپنی پارٹی اور خاندان کے دشمنوں کی پہچان تھی مگر جمہوریت کی خاطروہ سیاسی سمجھوتوں پر مجبور ہونے کے باوجود مخالفین کے سامنے عزم و استقلال اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ شفقت اور محبت کا پیکر بن کر رہیں۔آمریت کے خلاف جدوجہد اور اپنے خاندان پر ٹُوٹے ہوئے مصائب کے مقابلہ کے دوران منافق ساتھیوں اور مخالفین کے ایجنٹوںکی سازشوں کا نشانہ بھی بنیں جنہوں نے ان کی فراخدلی اور دوسروں پر اعتمادکے وصف سے فائدے اٹھائے، مگر بیگم صاحبہ کبھی ان لوگوں سے بھی غافل نہیںہوئیں جنہوں نے کسی نام و نمود اور صلہ و ستائش کے بغیر پارٹی کی جدوجہد میں قربانیاں دیں اور مصائب جھیلے۔دورِ آمریت کے دوران مارشل لاءکی قید ، روپوشی اور جلاوطنی کے دوران بیگم نصرت بھٹو کی ہمدردانہ توجہ اور شفقت کا ذاتی تجربہ میرے لئے ناقابل فراموش ہے۔
بھٹو صاحب کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد پارٹی پر ایک کاری وار اس کے ترجمان روزنامہ مساوات کی بندش تھی۔میں اور سید عباس اطہر اسوقت عملی صحافت کے ساتھ ساتھ ایک پرنٹنگ پریس بھی چلا رہے تھے جس میں پبلشر ملک عمر دراز خان کا روزنامہ پیامِ قائد چھپتا تھا ، مساوات کے مینیجر خواجہ نذیر احمدکی وساطت سے بیگم صاحبہ سے جو گلبرگ لاہور کے ایک مکان میں نظربند تھیں رابطہ کے بعد ہم نے روزنامہ پیام قائد کو مساوات کے متبادل کے طور پر شائع کردیا۔فوجی انتظامیہ نے فوری طور پرنہ صرف اخبار بند اور پرنٹنگ پرضبط کرلیا بلکہ سید عباس اطہر ، مجھے اور متعدد پریس کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔کئی مہینوں تک فوجی عدالت میں پیشیوں کے بعد مجھے چھ ماہ قید بامشقت سنا کر لاہور کیمپ جیل سے کوٹ لکھپت اور پھر فیصل آباد جیل منتقل کر دیاگیا۔رہائی کے لئے مجھے جب دوبارہ لاہور لایا گیا تو جیل انتظامیہ نے بتایا کہ بیگم نصرت بھٹو نے ایک وکیل کے ذریعے میرے لئے ایک پنکھا بھجوایا تھا جو میری جیل در جیل منتقلی کے باعث مجھ تک تو نہ پہنچ سکامگر بیگم صاحبہ کی توجہ اور شفقت حالات کی گرما گرمی میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح مجھ تک پہنچتی رہی۔ آج تیس برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے پرپارٹی کے ہزاروں کارکن اور ہمدرد مرحومہ کے شکرگزاراور ممنون ہیں کہ انہوں نے خود بے مثال مصائب اور اذیتوں سے دوچار ہونے کے باوجود انہیں نہ صرف یاد رکھا بلکہ جہاں تک اور جیسے بھی ممکن ہوا ان کی دلجوئی اور تحفظ کا سامان کیا۔1978-79جب بھٹو صاحب کی جیل میں لکھی ہوئی تحریر اگر مجھے قتل کیا گیا چھاپنے پر میں ایک بار پھر مارشل لاء کو مطلوب ہوا تو بیگم بھٹو نے اپنی نظربندی میں ہی ایک معاون کے ذریعے روپوشی میں میرا سراغ لگوا کر نہ صرف یہ پیغام بھجوایا کہ ہو سکے تو ملک چھوڑنے کی کوشش کرو بلکہ زادِراہ کا انتظام بھی کردیاجس کے لئے میرا دل آج بھی تشکر سے معمور ہے مگر اس سے بھی زیادہ عزیز مجھے ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک مختصر رقعہ ہے جس میں WE MUST ALL BE BRAVE TO wTRIUMPHانھوں نے لکھا
(فتح یاب ہونے کے لئے ہم سب کو بھادری سے کام لینا ہوگا) انہوں نے اپنے اس قول پر عمل کر کلے بھی دکھایا اور اپنے بچوں کو بھی بھادری اور ثابت قدمی کا جو سبق دیا وہ سب کے سامنے ہے۔ بیگم نصرت بھٹو نے جہاں بہادری کے ساتھ ظلم وجبر کا مقابلہ کیا اسی طرح وقار اور صبر کے ساتھ ان محلاتی سازشوں کو بھی برداشت کیا جو اپنے اور پرایوں نے ان کے،پارٹی اور خاندان کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی لئے کیں۔جرمنی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو دو مرتبہ بیگم نصرت بھٹو کی میزبانی کا موقع ملا، پہلا 1982میں جب وہ قید سے رہائی کے بعد پہلی مرتبہ میونخ آیئںاور دوسرا جب وہ 1994میں فرینکفرٹ میں ملک زمان علی اعوان مرحوم کی رہائش گاہ پر اور برلن میں کارکنوں سے ملیں۔وہ اسوقت پارٹی کے سربراہی سے دستبردار ہو چکی تھیں اوران کی صحت بھی اطمینان بخش نہیں تھی مگر محسوس ہو رہا تھا کہ ان کو دورے پر لانے وا لے ایک دوسرے یورپی ملک کے لوگوں کے کچھ مخصوص مقاصد ہیں مگر کارکنوں کے ساتھ گفتگو میں بیگم صاحبہ نے ہر موقع پر اپنی بیٹی کا ذکر محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ وزیراعظم پاکستان کے الفاظ کے ساتھ کیااور پارٹی یامحترمہ کی حکومت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ۔
ان کی زندگی پاکستانی سیاسست کی تمام خوبیوں اور خامیوں سے عبارت تھی ۔مگر وہ تمام نشیب و فراز میں صبرو استقامت اور عزت و وقار کی تصویر بن کر رہیں اور اپنے دُکھ اور رنج و الم اپنے ساتھ لے کر منظر سے اوجھل ہوئیں اور اب اپنے پیاروں کے ساتھ آسودئہ خاک ہونے کے لئے گڑھی خدا بخش واپس آگئی ہیں۔بیگم بھٹو پارٹی اور سب سے بڑھ کر بھٹو خاندان کے لئے احترام اور بزرگی کا درجہ رکھتی تھیں کیا ہی اچھا ہو کہ بھٹو خاندان کی جوان نسل ان کی وفات کے دکھ سے رشتوں کی بحالی کا راستہ نکالے ، دُ کھ اور غم کے رشتے تو بڑے مضبوط رشتے بن سکتے ہیں۔
|