متحدہ طلبہ محاذ کرم ایجنسی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق گذشتہ پانچ سال سے ٹل پاراچنار روڈ کی مسلسل بندش کی وجہ سے ملک بھر کے کالجز و یونیورسٹیز میں زیر تعلیم پاراچنار کے سینکڑوں طلبہ اپنے ماں باپ و رشتہ داروں کے ساتھ ملنے سے محروم تھے۔تاہم اس سال پشاور میں سرکاری حکام کی طرف سے طلبہ کے لئے عید الفطر کے موقع پر پشاور سے پاراچنار کانوائی اور عید کے بعد پاراچنار سے پشاور محفوظ کانوائی مہیا کرنے کے اعلان پر سینکڑوں طلبہ عید گزارنے کے لئے پاراچنار آئے تھے۔لیکن عید گزرنے کے کئی دن تک کانوائی مہیا نہ ہونے اور درجنوں طلبہ کے امتحانات ضائع ہونے کی وجہ سے طلبہ نے پی اے کرم آفس کے سامنے پرامن احتجاج شروع کیا تھا۔

اس پرامن احتجاج کو بروز سوموار تیرہ ستمبر کو طاقت سے کچلنے اور طلبہ کی آواز دبانے کے لئے سیکورٹی فورسز نے پرامن طلبہ پر ریاستی دہشت گردی کی انتہا کرتے ہوئےاندھا دھند براہ راست فائرنگ کرکے نوید حسین سمیت کئی طلبہ کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ ابتدائی طور پرنوید حسین و دیگر ذخمیوں کو ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچایا گیا تھا،لیکن ہسپتال میں نیورو سرجن نہ ہونے اور سہولیات کے عدم فقدان کی وجہ سے نوید حیسن کو مجبورا اپنا علاج معالجے کے لئے پشاور یا اسلام آباد بھجوانا ضروری تھا۔ تاہم مسلسل روڈ کی بندش اور حکومت کے وعدے کہ مثاثرہ طلبہ کے لئے ہیلی کاپٹر یا پاراچنار تا پشاور محفوظ کانوائی مہیا کی جائے گی،جیسے زبانی جمع خرچ وعدوں کے باوجود عید الفطر کے ایک ماہ گزرنے کے باوجود طلبہ کے لئے بندوبست نہ ہوسکا جس کی وجہ سے سینکڑوں طلبہ کا مستقبل تباہ و برباد کیا گیا۔ا
سلئے مجبورا نوید حسین کی جان بچانے کے لئے انہیں ساتھی طلبہ نے افغانستان کے دشوار گزار راستوں سے پہلے پشاور اور پھر وہاں سے اسلام آباد پہنچایا گیا۔
متحدہ طلبہ محاذ کے بیان کے مطابق بروز جمعرات ستائیس اکتوبر کو اسلام آباد کے کمپلیکس پمز ہسپتال میں زخمی نوید حسین کے ہاتھ کے تین انگلیوں کا کامیاب نیورو آپریشن کیا گیا،جس کی صحت یابی کے لئے دعا کی اپیل کی گئی ہے۔
بیان کے آخر میں متحدہ طلبہ محاذ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دن دیہاڑے ریاستی دہشت گردی کا شکار طالب علم کے علاج معالجے کے لئے سرکاری حکوم نے پاراچنار سے لے کر اسلام آباد تک نہ ہی کوئی معاونت کی اور نہ ہی سرکاری علاج بلکہ زخمی طالب علم کے ساتھیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ساتھی کا علاج معالجہ کیا۔
انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ جب تک طلبہ پر ریاستی تشدد اور براہ راست فائرنگ میں ملوث پولٹیکل انتظامیہ کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی طلبہ چین سے نہیں بیٹھے گے۔