میں خوش نصیب ہوں جو ہر برس اپنے دوستو ں کے شکریے اور مبارکبادیں لئے آپ سب کے پاس چلی آتی ہوں ۔خوشیاں بانٹنا ۔۔ محبتوں کو پھیلانا اور سب کو ساتھ لے کر چلنا مجھے ہمیشہ سے محبوب رہا ہے ۔ جانتی ہوں میرا سفر کٹھن اور مشکل ترین ہے ۔ لیکن میرے پاک رب نے اپنی خاص رحمت و برکت سے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل مبارک کے صدقے ہمیشہ ہی میرے عمل کو نہ صرف بابرکت اور آسان فرمایا بلکہ مجھے کامیابیوں سے بھی نوازا ۔ میری امی جی کہتی ہیں کہ انسانوں کو اس کی نیت کے بدلے خوشیاں اور زندگی کی برکتیں عطا ہوتی ہے ۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہماری نیتوں کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اعلی ظرفی اور کشادہ دلی عطا فرمائے ۔آمین
آیئے اپنے دوستوں کے پیغامات تہنیت پڑھتے ہیں اور ان کا دل کی گہرایئوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں ۔۔
میں آغاز میں ہی لندن میں اپنے بھائی
سید اکمل حسین کا بھی اپنی طرف سے اور تمام ادارتی بورڈ کی طرف سے شکریہ ادا کردوں کہ انہوں نے سالگرہ کے اس موقع پر بہت خوبصورت گرافکس بنا کر بھیجے ہیں۔ اس صفحے میں لگے ہوئے یہ گرافکس انہی کی محنت اور تخلیقی عمل کا نتیجہ ہے
میر کارواں صفدر ھمٰدانی چیف ایڈیٹر عالمی اخبار جن کا حوصلہ پہاڑ جیسا ہے اور ہمت نہ تھکنے والی ۔۔ وہ خاموش ہوں یا خفا سارے کام تواتر سے کرتے رہتے ہیں ۔ جو ان سے کوئی پوچھ بیٹھے تو سکون سے کہہ دیتے ہیں کہ میں تم سے خفا ہوں اپنے کام سے نہیں ۔۔ اس لئے ہم سب اتنے بے لوث ، محتنی اور ایماندار میر کارواں کو “ بابا“ کہتے ہیں ۔ مجھے جو ان کی بات سب سے زیادہ حیران رکھتی ہے وہ ہے ان کی احساس زمیداری ۔۔۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا مجھے عالمی اخبار کی سالگرہ پر ملنے والا پہلا تہنیتی پیغام بھی محترم المقام جانب صفدر ہمدانی ہی کا تھا ۔۔آیئے پڑھتے ہیں انہوں نے کیا لکھا ہے ۔۔۔عالمی اخبار ایک تحریک اور فکر کا نام ہے۔از۔ صفدر ھمدانیاس قافلے میں شامل لوگ کسی مالی منفعت کے بغیر سرگرم عمل ہیں
اس پاک پروردگار کا شکر ہے کہ جس نے قلم کو خلق کیا اور طلب علم کی پہلی وحی اپنے حبیب پاک پر نازل کی۔ اور احسان ہے اس خانوادہ اہلبیت کا کہ جسمیں باب العلم سے باقر العلوم تک کی تمام شہادتیں موجود ہیں۔ اسی حریت فکر اور آزادی اظہار کا یہ تسلسل یہ عالمی اخبار ہے جو اپنی ظاہری مسافت کے تین سال مکمل کر چکا۔ظاہری میں نے اس لیئے لکھا کہ اسمیں شامل ہم فکر احباب کی یہ مسافت کتنے ہی برسوں پر محیط ہے اور انکے تمام تجربات کا نچوڑ ہمیں اس اخبار میں میسر ہے۔
تین سال قبل یکم نومبر دو ہزار آٹھ کو عالمی اخبار اسوقت معرض وجود میں آیا تھا جب ہم روایتی دھوکہ بازی کی بھینٹ چڑھے تھے اور ہماری کمر میں دوست بن کر ایک مفاد پرست نے چھرا گھونپا تھا اور اسوقت ہمارے قافلے میں شامل چند کوتاہ اندیش اور نام نہاد دوست فکر یزیدی کے ہمنوا بن گئے تھے۔ایسے میں مجھ جیسے فقیر اور بے سروسامان کے سامنے دو ہی راستے تھے۔ایک تو یہ کہ روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے مفاد پرست اور دوست نما دشمنوں کے سامنے سر تسلیم خم کر دوں اور خاموش ہو کر بیٹھ جاؤں اور دوسرا راستہ وہی تھا جو میرا مزاج ہے اور میرے مرحوم باپ کا درس کہ غلط انسان اور غلط فکر کے سامنے آہنی دیوار بن جاؤ۔
میں نے اپنی عادت کے مطابق دوسرا راستہ ہی اختیار کیا اور کوئی لمحہ ضائع کیئے بغیر یہ فیصلہ کیا کہ راستہ مشکل سہی لیکن اسی راستے کو اختیار کرونگا اور اپنی فکر کو آگے بڑھاؤنگا۔ میرے بالکل اولیں ساتھیوں میں جنہوں نے اس حالت میں میرا ساتھ دیا ان میں سویڈن سے امجد شیخ،سڈنی سے ڈاکٹر نگہت نسیم،کینڈا وینکور سے شمس جیلانی،لاہور سے زرقا مفتی،سڈنی سے ہی مصباح جیلانی،لندن سے آصف جیلانی تھے جبکہ میونخ جرمنی کے منظور قاضی کی ہمیں بلا مفاد حامیت حاصل تھی کہ انہوں نے دھوکہ دینے والوں کو اپنے طور پر سبق سکھانے کا جیسے عہد کر رکھا تھا جو انکی اپنی طرز کی جنگ تھی
امجد شیخ،نگہت نسیم اور میں نے صرف دو گھنٹے میں اخبار کا نام طے کیا، امجد شیخ نے دن رات لگا کر عالمی اخبار کی ویب سائٹ کا ڈیزائین تیار کیا،زرقا مفتی نے بلاگ کا کام شروع کیا اور ادبی صفحہ سنبھالا اور پھر جیسے مہینوں کا کام دنوں میں ہو گیا۔ دنیا کے مختلف کونوں میں ہونے کے باجود ہم فون اور انٹر نیٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اور برابر مشورے ہوتے تھے،اور پھر دنوں میں انٹر نیٹ ڈومین اور ہوسٹنگ کا کام مکمل ہوا اور آزمائشی اشاعت شروع ہو ئی اور پھر چند ہی دنوں کے بعد یکم نومبر دو ہزار آٹھ کو عالمی اخبار کی پہلی باقاعدہ اشاعت سامنے آئی۔
مولائے متقیان باب العلم علی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ دشمن سے نہیں بلکہ کمینے دشمن سے ڈرو۔ ہمیں بھی ایسے ہی کمینے دشمن کا سامنا تھا لیکن بلا مفاد دوستوں کی وجہ سے سفر کی صعوبتیں آسان ہو گئیں۔ اس کمینے دشمن نے اپنے اوچھے ہتھکنڈے جاری رکھے اور کئی بار عالمی اخبار کی سائٹ کو ‘‘ہیک‘‘ کرنے کی بھی کوشش کی اور پھر ہمارے خلاف کردار کشی کی مہم بھی جاری رکھی جسمیں اسوقت کے ہمارے کچھ نام نہاد دوست بھی شامل تھے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت۔
عالمی اخبار کو اب دوہزار گیارہ یکم نومبر کو پورے تین سال ہو گئے اور ان تین برس میں سچ کہوں تو ہم نے کوئی تیس برس کا سفر کیا ہے اور اس مسافت میں جن دوستوں،قلم کاروں،ادارتی بورڈ کے فعال اور غیر فعال ساتھیوں اور قارئین نے ہمارا ساتھ دیا اسکے لیئے ‘‘شکریہ‘‘ کا لفظ بہت چھوٹا ہے۔ مالی وسائل اور افرادی وسائل کے بغیر تین سال کے بعد عالمی اخبار جس جگہ کھڑا ہے یہ کسی رخ سے بھی کسی بھی بڑے عالمی نشریاتی یا صحافتی ادارے کی خبری ویب سائٹ سے کم نہیں بلکہ کئی جہتوں میں ان سے بہتر ہے۔ ہزارہا پاؤنڈ اور ڈالروں کے بجٹ والے اداروں کی اردو خبری ویب سائٹوں میں عالمی اخبار نے اپنا راستہ اور معیار خود بنایا ہے اور وہ بڑے بڑے ادارے جنکے سربراہ یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ اب سنجیدہ صحافت کوئی نہیں پڑھتا وہی آج عالمی اخبار کو پڑھتے بھی ہیں اور اپنے مطلب کی چیز عالمی اخبار کا نام لیئے بغیر یہاں سے اپنے لیئے اٹھا بھی لیتے ہیں۔
میں اس موقع پر خاص طور پر ڈاکٹر نگہت نسیم،امجد شیخ اور شمس جیلانی کا شکر گزار ہوں کہ جن کا تعاون ہر لمحے مجھے میسر ہے اخبار کو اس مقام تک پہنچانے میں۔ سب سے بڑا کردار ہمارے قلم کاروں، نمائیندوں اور قارئین کا جن کی طرف سے حوصلہ برابر ملتا رہتا ہے۔
ہم نے الحمد اللہ عالمی اخبار میں ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے لیئے مواد شامل کیا ہے اور اظہار رائے کے حوالےسے آخری حد تک کی آزادی کے ہم قائل ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر آزادی کی بھی کچھ حدود و قیود ہوتی ہیں جنکا احترام کرنا پڑتا ہے۔ صحافت بھی آج عبادت کی طرح تجارت بن چکی ہے لیکن اللہ کا شکر کہ ہم اس قلم فروشی میں شامل نہیں۔ عالمی اخبار کسی اشتہار کے بغیر، کسی سرکاری، خفیہ ایجنسی یا دینی ادارے یا کسی ملک کی مالی ،افرادی یا حمایتی اعانت کے بغیر چل رہا ہے۔
اپنے انتہائی محدود وسائل کے باوجود عالمی اخبار کا ملٹی میڈیا کا سیکشن پوری شدومد سے کام کر رہا ہے اور اب کراچی کے نوجوان عادل عزیز خانزادہ کے آ جانے سے ملٹی میڈیا میں نوجوان خون دوڑنے لگا ہے۔
عالمی اخبار نے ویب سائٹ پر ‘‘ولایت ٹی وی‘‘ کے نام سے بھی ایک الگ پروجیکٹ شروع کر رکھا ہے اور یہ بھی ہمارے فکری سفر کا ایک رخ ہے جسمیں ہمیں لندن کے سید اکمل حیسن کی مکمل اعانت حاصل ہے اور دونوں ادارے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔میں تیسری سالگرہ کے موقع پر کوئی مقالہ تحریر نہیں کرنا چاہتا لیکن ابتدائی دنوں کی کہانی کے بعد ان احباب کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو اس مشکل سفر میں کچھ دور تک ہی سہی ہمارے ساتھ چلے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے لفظ لکھنے کے عمل کا آغاز عالمی اخبار سے کیا اور وہ بھی جنہوں نے اس عالمی اخبار کو اچھے وقتوں میں اپنا استاد مانا۔ ہم ہر اس فرد کے ممنون ہیں جس نے ہمارے ساتھ اس سفر میں چاہے چند لمحے بھی گزارے ہوں، ہمیں اس بات کا یقین کا ہے کہ ہر کسی نے یہاں سے کچھ نہ کچھ حاصل ضرور کیا ہے جو انہیں اپنی عملی زندگی میں کام آرہا ہے اور آتا رہے گا تاہم اعتراف کرنے کے لیئے بہت بڑے دل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ احسان مندی بھی عطائے پروردگار ہے
آج ہمارے ساتھ سفر کرنے والوں میں معدودے چند احباب بے حد فعال دوست ہیں جبکہ بڑی تعداد غیر فعال دوستوں کی ہے لیکن انکا شکریہ کہ وہ تا دم تحریر ہمارے ساتھ ہیں، تحریکیں اور ادارے ہمیشہ افراد کے مرہون منت نہیں ہوتے بلکہ اسکی بنیاد وہ فکر ہوتی ہے جو انکی بقا کی ضمانت بنتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ افراد ایسے اداروں کے لیئے ایندھن کا کام کرتے ہیں اور شکر ہے کہ عالمی اخبار کو قوت اور طاقت کے لیئے جن معدودے چند افراد کی ہر قسم کی معاونت حاصل ہے وہ ہمارا افتخار ہیں۔
عالمی اخبار صفدر ھمدانی کی وجہ سے نہیں بلکہ صفدر ھمدانی آج اپنے تمام عملی ،صحافتی اور ادبی سفر کے بعد عالمی اخبار کی وجہ سے فعال ہے اور اسمیں آپ سب کی بقدر استطاعت اور ظرف اعانت شامل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے نہ ہونے کے بعد بھی یہ شجر ثمر بار رہے گا۔
آپ سب باوفا اور فعال ساتھیوں کا احسان مند اور ممنون
صفدر ھمدانی
مدیر اعلیٰ۔عالمی اخبار
لندن
نومبر ٢٠١١
لیجئے شمس بھائی بھی آگئے ۔۔ انہوں نے پہلے تو حسب سابق ایک قطعہ بھیجا جو کہ معاون مدیر اعلی کی حثیت سے ہمیں انتہائی ناکافی لگا ۔۔ اور ویسے بھی شمس بھائی سے فرمائیش کرتے ہوئے ہمیں قطعی ڈر نہیں لگتا ۔۔ بھائی جو ہوئے اور بہنوں کے مان رکھنا ان کی محبت بھری عادت بھی ہے جس کی ہمیں عادت سی ہو چکی ہے ۔ سو فرمائیش کر ڈالی کہ بھائی اس قطعہ سے کام نہیں چلے گا بلکہ کوئی برفی جیسی میٹھی سے مبارک لکھ بھیجئے ۔۔ انہوں نے کمال محبت سے دوسرے ہی دن ہمیں ٹوکرا بھر کر مٹھائی بھیج دی ۔۔آئیے ہم سب مل کر مٹھائی کھاتے ہیں ۔۔اخبار نکالنا جو ئے شیر لانے سے کم نہیں؟ شمس جیلانی . معاون مدیر اعلی ۔عالمی اخبار اگر شیریں کو یہ راز معلوم ہو تا کہ اخبار نکالنا زیادہ مشکل ہے، تو مجھے یقین ہے کہ وہ فرہاد سے اخبار نکا لنے کی فر ما ئش کر تی ،اور وہ بیچارہ گھبراکر عشق سے توبہ کر لیتا۔ مگر خواتین کو آج کے دور میں بھی علم سے دور رکھتے ہیں کہ جہالت کی رسم ہے اور لوگ اسے زندہ رکھنا چا ہتے ہیں۔ اس لیئے اس بیچاری کو کس نے پڑھنے دیا ہو گا پھراس دور میں اخبار تھا ہی کہاں؟ صرف لوگ سینہ گزٹ سے کام لیتے تھے کہ وہ بے ضرر تھا؟ کیونکہ اس وقت تو باد شاہ با ت بات پر سر اڑوا دیا کرتے تھے جو کہ پہلی رسم جہالت کی طرح یہ بھی ابھی تک جا ری ہے، کہ سچ لکھنے پر آج بھی یہ ہی انجام ہوتا ہے؟ البتہ قصیدہ لکھنے پر ہمارے ہم پیشہ جب بھی نوازے جاتے تھے اور اب بھی نوا زے جا تے ہیں۔ چونکہ ہم نے چرخے اور مشین کے دو نوں دور دیکھے ہیں ۔
لہذا پہلے تو ہم بتاتے چلیں کہ ہما رے بچپن میں پریس کیسا ہو تا تھا اور اخبار کیسے نکلتا تھا، اورآج کل کیسا ہے اور کن مشکلا ت سے گزرنا پڑتاہے؟ یوں تو ہمارا خاندان لکھنے پڑھنے لکھنے کے خبط میں ہما رے پر دادا کے زمانے سے مبتلا تھا اور وہ صا حب دیوان شا عر تھے جبکہ یہ جراثیم ان سے نسل در نسل منتقل ہو تے ہو ئے ہم تک پہونچے۔ مگر جب مسلم لیگ کی تحریک کانگریس کی ١٩٣٦میں بد عہدی کی بنا پر یوپی میں زوروں پر شروع ہو ئی ، تو ہما رے والد صاحب نے بھی قلم سے کام لینا چا ہا اور١٩٣٨ میں ۔ اخبار نکا لنے کا ارادہ کیا؟ اس زمانہ میں پریس آج کی طرح چھو ٹا سا نہیں ہو تا تھا جو کہ ایک میز پر آجا ئے وہ لکڑی کا ایک بہت بڑا قد َ آدم فریم ہوا کرتا تھا جس میں پتھر کی سلیں جن پرلو ہے کے چوکھٹے چڑھے ہو تے تھے چھپا ئی کے لیئے استعمال ہو تی تھیں۔ مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ اس کے آرام کر نے کے لیئے ایک ہال چا ہیئے ، جو اس وقت تک عام نہیں تھے ۔ وجہ درختوں کی لمبا ئی کاکم ہو نا تھا کہ انہیں کے تنے، شہتیر کے طور پر بجا ئے گارڈر کے استعمال ہو تے تھے۔ اسکا حل یہ نکا لا گیا کہ فیل خانہ استعمال کیا جا ئے ۔ قصہ مختصر ہا تھی کی جگہ پریس نے لے لی کیونکہ یہ بھی کھا تا ہی تھا اور اس زمانے میں کما تا کچھ نہیں تھا۔
اس پر لکھنے کے لیئے پہلے ایک پیلے رنگ کا مخصوص مومی کاغذ کا تب خود تیار کر تا تھا جس کا نسخہ اس کے آبا و اجداد سے سینہ بہ سینے چلا آرہا تھے، پھر وہ تحریر کو اس کاغذ پر منتقل کر تا اور وہ کا غذ پتھر پر چپکاد یا جا تا۔ اس جادوئی کاغذ کی بنا پر وہ عبارت اس پر منتقل ہو جا تی، پھر اس چر خے نما چیز کے ہینڈل کو مزدور گھما تے اور وہا ں ایک بیلن نما چیز پتھر پر سیاہی پھیرتی اورر دوسری طرف سے کاغذآتا اور اخبا رکا صفحہ تیار ہوجاتا جبکہ اس دور میں اخبار کی ضخامت دو سے چا ر صفحے ہواکرتی تھی اور چار صفحے والا اخباربڑے اخباروں میں شمار ہوتا تھا ۔ رہیں خبریں تو ایک آدھ قومی ورنہ زیادہ تر مقامی ہو تی تھیں ؟
جب کہ آج کے دورمیں جو کمپیوٹر کا دور ہے اس کام کے لیئے صرف ایک کمپیوٹر چا ہیئے ہوتا ہے ۔ مگر اس سے لمحہہ بہ لمحہ پوری دنیا کو با خبر رکھنا ہوتا ہے اورضخامت سینکڑوں صفحات تک ہے۔جبکہ آجکل سیکشن انگنت ہیں ۔مگر اس ترقی کا فا ئدہ یہ ہوا کہ ہر بوالہوس نے اخبار نویسی اختیار کر لی، پہلے تو یہ ہو تا کہ مضامین طبع زاد ہو تے تھے لہذا انہیں لکھنے کے لیئے علم کی ضرورت ہو تی تھی ۔ مگر اب اخبار نکالنے کے لیئے یہ شرط بھی نہیں رہی۔ انٹر نیٹ پر جا ئیں تلاش کریں تمام دنیا سے مضامین ہر سبجیکٹ پر حاضر ؟ صرف اتنا سا کام کر نا ہے کہ پہلے اسے ہا ئی لائٹ کریں اور پھر کاپی کریں اور اپنی ویب سائٹ پر پیسٹ کر لیں ۔ لیجئے پورا اخبار تیار ہوگیا اور ایڈیٹر انچیف؟لہذا نتیجہ یہ ہے کہ پہلے تو صرف نطم میں توارد ہو تاتھا تو ہنگامہ کھڑا ہو جا تا تھا! اب کوئی اگر سرقہ با لجبر (ڈکیتی) بھی کرے اور اسے گوگل کی پہو نچ سے با ہر کردے تو وہ شعر یا مضمون اسی کا کہلا ئے گا۔ جس کے نام سے لگا ہوا ہے جب تک کہ مالک کو پتہ نہ چلے؟ آجکل انٹرنیٹ اخباروں کی تعداد دنیا میں حشرات الارض سے بھی زیادہ ہے۔ اور ہر ایک کے اوپر آپ کو لکھا ملے گا کہ دنیا کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اردو اخبار؟ ان میں اشتہا روں کی بھر مار اتنی ہوتی ہےکہ آپ انہیں پڑھنا چا ہیں تو پڑھ نہیں سکتے کیونکہ بیچ میں آنے والی تصاویر بار بار پلک جھپکانے پر مجبورکر تی رہیں گی کہ و ہی تو ان کی کما ئی کا ذریعہ ہیں۔
ایسے میں آج سے تین سال پہلے ہما رے میر ِ کارواں جناب صفدرھمدانی صاحب نے جو خود بھی ایک عظیم انسان ہیں اور ایک درد مند دل بھی رکھتے ہیں، جنکا خاندان ادبی دنیامیں پاکستان کا ایک معروف خاندان ہے اور بات صرف پدرم سلطان بود تک ہی نہیں بلکہ پسر اتنا مشہور ہے کہ دنیا میں پہچانا جا تا ہے!اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا اس وقت تک گلوبل ولییج نہیں بنی تھی لہذا ان کے زمانے میں اور چیزوں کی طرح مشہوری کی بھی حدود تھیں اور لوگ ایک حد تک مشہور ہوتے تھے انہیں میں سے ان کے والد جناب مصطفی علی ھمدانی (رح) تھے ،جنہوں نے ریڈیو لاہور سے پاکستان کے قیام کا اعلان فر مایا تھا۔مگر اب کوئی بات بھی حدود کی پابند نہیں ہے اور جناب صفدر ھمدانی کی آواز بی بی سی لندن سے سالوں سنا ئی دیتی رہی اور ان میں اوصاف اتنے ہیں کہ وہ دنیا میں پہچانے جا تے ہیں؟ اور کلیہ ہے کہ اس صورت حال میں بھی جو صلا حیت رکھتا ہو اس کے لیئے مییدان وسیع ہے اور وہ اپنا لوہا منوا سکتاہےاور انہوں نے یہ کر کے دکھایا۔
آج سے تین سال پہلے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک اخبار نکالا جا ئے جو سچ کا داعی ہو؟ پھر انتخاب کے لئے پرانے ساتھیوں کی طرف نظر یں دوڑانا شروع کیں! ابتدائی مشاور ت میں صرف چارنفوس تھے ۔جن میں بہن ڈاکٹر نگہت نسیم سڈنی آسٹریلیا سے۔سویڈن سے امجد شیہخ اور یہ خادم دنیا کے دوسرے سرے یعنی وینکور کینیڈا سے۔ بس طے ہو گیا کہ اخبار نکا لا جا ئے۔اب سوال پیدا ہوا کہ ویب کے لیئے کسی ما ہر کو تلاش کیا جا ئے، صفدر بھا ئی کی جناب امجد شیخ صاحب سے ی د اللہ تھی ان سے در خواست کی گئی اور انہوں نے ازراہِ مہر بانی اس کا رخیر میں حصہ لینے کی حامی بھر لی، کام شروع ہوا ۔چوروں چکوروں سے بچنےکے لیئے کہ کوئی اور عالمی اخبار کا نام نہ استعمال کر سکے ؟ اپنے خیال میں صفدر بھائی نے سارے را ستے بند کر دیئے اور جو اسپیس بیچنے والی کمپنیاں تھیں وہاں سب میں عالمی اخبار رجسٹرد ہو گیا، مگر کہتے ہیں کہیں نہ کہیں خامی رہ ہی جا تی ہے یوکے کی ایک کمپنی بچ گئی اور کسی نے یہ نام گپچ لیا ؟جس طرح ہندو عقیدے کے مطابق ہنو مان جی نے سورج گپچ لیا تھا اور دنیا میں اندھیرا چھا گیا تھا وہاں تو دیوتاؤں کی مدا خلت نے وہ سورج کا گولا واپس نکلوالیا اور دنیا دوبارہ روشن ہو گئی ۔ مگرہمیں یہ سہولت حاصلل نہیں تھی ۔ لہذا آپ کوکوئی عالمی اخبار کے نام کی حدتک ہم زاد نظر آئے تو ہم اس سے بری الذمہ ہیں؟
پھر بہت سے احباب کو ٹٹولا گیا ، کچھ نے گڑ دیا، کچھ نے گڑ جیسی بات کہہ دی ،بہر حال ہم ان کے ممنون ہیں کہ انہوں نے حو صلہ تو دیا۔ کہ ابتدائی دور میں ہم سفر اتنے بہت سے مل گئے کہ ایک قافلہ بن گیا؟اور اخبار یکم نومبر کو آج سے تین سال پہلے انٹر نیٹ پر آگیا؟ لانے والوں میں سر ِ فہرست صفدر ھمدانی صاحب ہیں جو اس پر سب کچھ تج بیٹھے اور اس دن سے فنا فی الاخبار ہو گئے ہیں ؟ دوسری ہستی ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی ہے کہ جب سے آج تک اسی طرح سر گرم ِ عمل ہیں ۔ رہا خادم ! وہ ان کے ساتھ نام لکھواکر پانچویں سواروں میں داخل ہو گیا ہے ۔ورنہ آپ جا نتے ہیں کہ ایک اسی سالہ بوڑھا کیا کر سکتا ہے؟مجھے کمپیوٹر میں تھوڑی بہت شد بد تھی مزید جلا صفدر بھا ئی سے ملی اور اب ما شا اللہ میرا پوتا بھی بڑا ہوگیا اس سے بھی مدد لیتا ہوں اس لیئے کہ میرے اندر انا نام کی کوئی چیز نہیں ہے، لہذا کسی سے سیکھنے اور اعتراف کرنے میں عار نہیں سمجھتا؟ اور یہ ہی مغربی دنیا میں رہنے والے بزرگوں کو بھی مشورہ دیتا ہوں ۔کہ وہ نئی نسل سے سیکھنے میں عار نہ سمجھیں کہ یہ ٹیکنا لوجی کا دور ہے اور نئی نسل اس میں بہت آگے ہے؟
جولوگ ساتھ چل سکے وہ چلے، بہت سے چھوڑ گئے ان کی جگہ نئے آگئے؟ جانے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اِس میں سب کو بے لوث رہ کر بغیر پیسے ، سچائی اور اتحاد بین المسلمین کے لیئے کام کر نا تھا؟ اور اس کو ظاہر کرنے کے لیئے اس کے سرورق پرجو آیت لکھی گئی ہے وہی اس کا کڑامنشور بھی ہے کہ “ اے ایمان والو!جو کرتے نہیں ہو وہ کہتے کیوں ہو“اس کا تقاضہ یہ تھا کہ ہم جو اس سے وابستہ ہیں وہ جو کہیں وہ کر یں بھی، جب کہ مسلم قوم کا المیہ یہ ہے کہ جو کہتی وہ کر تی نہیں ہے؟ لہذا جنہوں نے اسے کسی بھی قسم کے تعصب کی طرف لےجانے کی یا کسی طرح اس آیت سے سے انحراف کر نے کی کو شش کی وہ نہیں چل سکے۔ پھر دوسری مشکل یہ ہے کہ اس سے کسی قسم کی کو ئی آمدنی یوں نہیں ہے کہ صفدر بھا ئی کے اشتہارات کے لیئے بھی اصول ہیں جن میں سچائی شرط ِ اول ہے اور فحا شی سے بھی اجنتاب ضروری ہے۔ لہذا ایسا اشتہار ملنا بہت مشکل ہے ؟ مگر ان کا کمال یہ ہے کہ ان دونوں نے کسی کی کمی محسوس نہیں ہو نے دی ؟ میں جب بھی دیکھتا ہوں انہیں کمپیوٹر پر بیٹھا دیکھتا ہوں بعض لوگ کہہ سکتے ہیں جو کمپویٹر سے واقف نہیں ہیں کہ آپ وینکور سے لندن یا سڈنی کیسے دیکھ سکتے ہیں ۔ انہیں بتانا چا ہونگا ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں؟ جنہیں رسا ئی ملی ہو ئی ہے کہ کون کام کر رہا ہے اور کون نہیں۔ جبکہ سب اپنے گھروں سے بیٹھ کر کام کر تے ہیں۔
صفدر بھا ئی کا یہ عالم ہے کہ وہ بمشکل دو تین گھنٹے سوتے ہیں ،اور رہیں نگہت صا حبہ تو میرے خیال میں وہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق ہیں جو اس دنیا میں راستہ بھول کر آگئی ہیں ۔ وہ ملازمت بھی کرتی ہیں، ۔ گروسری بھی کر تی ہیں ،کھانا پکا کر بھی کھاتی، شوہر اور بچوں کو بھی کھلاتی ہیں اور وہ بھی بمشکل چند گھنٹے سوتی ہیں ۔ یہ ہی دو شخصیا ت ،اس اخبارکی جان ہیں۔ جوکہ آپ سے کچھ نہیں ما نگتے خاموش ورکر ہیں، تو ہما را بھی یہ حق بنتا ہے کہ اگر کچھ نہ کریں تو ان کی خد مات کو سرا ہیں توسہی؟اس سے ان کی ہمت افزائی ہوگی حوصلہ بڑھے گا؟ میرا معاملہ تو مختلف ہے کہ میں ریٹائرڈ آدمی ہوں، اور اپنے دواصول بنا ئے ہوئے ہیں، ایک تو میں کسی سے ووٹ نہیں ما نگتا اور دوسرے نوٹ نہیں ما نگتا؟ میرے نزدیک ووٹ میں شہرت بھی آتی ہے، لہذا میں بغییر ان دو چیزوں کہ خدمت کر نے کو حاضرہوں ؟ اوراس لیئے بھی میں کچھ نہیں چا ہتا کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ میں نے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں جب اپنی ذمہ داریوں سے فا رغ ہو جا ونگا ،تو تیرے دین اور انسا نیت کی خد مت کر ونگا ؟ مگر یہ لوگ تو جوان ہیں انہیں ابھی آگے بڑھنا ہے۔تو کیا آپ چند الفاظ ستا ئش کےانہیں عطا نہیں کر سکتے؟ جبکہ میرے آقا (ص) کا ارشادِ گرامی ہے کہ “اپنے مسلمان بھا ئی کی طرف دیکھ کر مسکرانا بھی صدقہ ہے “ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ آپ اسی اخبار کو کیوں سراہیں اوراس سے فا ئدہ کیا پہونچا ؟
الحمد للہ جولوگ اس کو با قاعدگی سے پڑھتے ہیں وہ اگر ایمانداری سےجا ئزہ لیں تو اس بات کی تردید نہیں کر سکتے کہ یہ اخبار مسلمانوں کو اس تین سال کے مختصر عرصہ میں کس قدرقریب لا یا ہے اور اس کے لیئے وہ لٹریچر بھی پیش کیا جو کہ قریب لانے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا با عث ہوا ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ قر آن میں فرما تا ہے کہ “ان اہلِ کتاب سے فرما دیجئے کہ کم از کم تم ان با توں پر تو متفق ہو جاؤ، جوکہ مشترک ہیں؟ ہم تو الحمد للہ ایک ہی امت ہیں اور زیادہ تر باتوں پر متفق بھی لہذا ہم ان پر آسانی سے متحد ہو سکتے ہیں اور ہو نا چا ہیئے۔ میری پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ میری اس عرضداشت پر غور فرما ئیں تاکہ یہ ملت اس مشکل دور سے نکل سکے؟
اب میں سا تھیوں کی طرف آتا ہوں ،جو لوگ ابھی تک ساتھ چلے ہیں ان میں محترمہ زر قا مفتی ہیں، جو ادبی صفحات سنبھا لے ہو ئے ہیں ۔ جناب مصباح جیلانی بلاگ کے نگران ہیں اور انگریزی سیکشن کے جناب محمد صفدر ہیں ۔ جبکہ نئے آنے والوں میں سبب سے زیادہ محنتی محمد احمد ترا زی ، عظیم اعظم بھا ئی ہیں اور محترمہ عالم آرا ہیں جنکا اوڑھنا بچھونا ہی عالمی اخبار ہے۔ جبکہ انہیں بھی بہت سے کام ہوتے ہیں ۔ ان کے علاوہ شاہین رضوی صاحبہ اور اظہار الحق صاحب بھی ہیں ۔ میں ان سب کو مبارکباد پیش کر تا ہوں ۔ جبکہ بلاگرز میں ہم سب جناب منظور قاضی صاحب کی کمی بہت محسوس کرتے ہیں وہاں پرانے اورنئے آنے والوں کی تعداد اتنی ہے کہ میں ان کے نام نہیں لے رہاہوں کہ مجھ سے کوئی نام نہ رہ جا ئے؟ مگر میں اپنے اور عالمی اخبار کی طرف سے اِن سب کا شکریہ ادا کر تا ہوں ۔ اللہ سبحانہ ان سب کو خوش و خرم رکھے اور جزا ئے خیر دے آمین !اور انہیں استقاامت بھی دے کہ وہ اس نیک مشن پر اسی طرح کام کر تے ہیں، بلا شبہ یہ سب سچا ئی کے امین ہیں۔اور قارئین کو بھی مبا رکباد پیش کر تاا ہوں کہ انہوں نے پڑھنے کے لیئے سچا ئی کو چنا اور یہ فیصلہ بھی ان ہی کے سپرد کر تا ہوں کہ عالمی خبار ان کے معیار پرپو را اترا یا نہیں اور انٹر نیٹ اخبا روں میں “ اررد کا سب سے زیا دہ پڑھاجانے والا “ اخبار کا اس نے ابھی تک مقام حا صل کیا یا نہیں ؟
شمس جیلانی ۔وینکوور
اب بات کرتے ہیں بھائی سید مصباح حسین جیلانی کی جو سڈنی کے بیوروچیف ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی اخبار کے ترجمان اور بلاگ کے نگران بھی ہیں ۔۔۔ ان کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں اخبار کو تکیہ کی طرح ساتھ رکھتے ہیں ۔ حتی کہ اپنی علالت کے دوران بھی اخبار و بلاگ پر نظر رکھتے تھے ۔ اپنی مصروفیت کے باوجود اخبار کی زمہ دارایاں حتی المکان نبھانا ان کے گہرے اخلاص کا پتہ دیتی ہیں ۔ مجھے ذاتی طور پر ان کے دینی حوالے سے لکھے مضامین بہت پسند ہیں ۔ مصباح بھائی کی تحریروں کی خاص بات ان کا توازن ہے جو شدت پسندی کی جڑیں پنپنے نہیں دیتا ۔ اسی طرح ان کے فکری اور تحقیقی کالم قارئین کو پوری تحریر پڑھے بغیر آگے بڑھنے نہیں دیتے ۔۔ کامیاب لکھنے والی کی نشانی ہوتی ہے کہ اس کی تحریر فکری پیاس کو نہ صرف بجھاتی ہو بلکہ وہ فکر پڑھنے والے کے ہمراہ بھی ہو جاتی ہو ۔۔بلاشبہ مصباح بھائی اس میں کامیاب ہیں ۔۔۔ مصباح بھائی لکھتے ہیں نگہ بلند، سخن دلنواز اور جان پُر سوز۔کہتے ہیں صحافت معاشرے کے آئینے کا نام ہے اور جیسا معاشرہ ہوگا، صحافت اسی کی تصویر دکھائے گی۔ لیکن اب حالات کچھ یوں ہیں کہ معاشرہ صحافت کا آئینہ بن چکاہے اور جیسا ذرائع ابلاغ چاہتے ہیں، ویسا ہی وہ معاشرہ تشکیل دے دیتے ہیں۔ ان حالات میں ایک سچےصحافی کی ذمہ داریاں اور بھی سنجیدہ اور حساس ہو جاتی ہیں، کیونکہ قوموں کی تعمیر و تخریب میں انکا کردار سب سے زیادہ بنیادی ہے۔
عالمی اخبار کے قیام کے وقت سے ہمارا سب کا یہی عندیہ تھا کہ ہم میدان صحافت میں راہنما کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ ایک اندھی تقلید کی روش قائم کریں گے۔ ہمیں معلوم تھا کہ راستہ مہیب اور پُر خار ہے اور ساتھ نہایت محدود۔ آبلہ پائی یقینی ہے، لیکن ہمیں اپنے حصے کی شمع روشن کرنا تھی، سو کردی۔ اخبار اور اسکا سفر ہم سب کے سامنے ہے۔ جو خار تھے، وہ اسکی ادارتی ٹیم نے چن لئے ہیں اور پھول ہمیں تھما دئیے ہیں۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان پھولوں کی حفاظت کر یں اور انکی خوشبو چہار دانگ عالم پہنچا دیں۔
عالمی اخبار میں ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ایک طرف بلا روک ٹوک اور حد اخلاق میں ہر ایک کو دل کی کہنے سننے کا موقع دیا جائے تو دوسری طرف مکمل کوشش کی ہے کہ درباری، بازاری، سرکاری اور مداری یا درآمدی برآمدی و خوشامدی قسم کی تحریروں سے بچا جائے اور انکے لکھاریوں سے بری ہی رہیں تو بہتر۔ ایسے میں مشکلات اور بھی سوا ہو جاتی ہیں، کیونکہ آپکو وہ سودا بیچنا ہے جسکا سیلز مین دستیاب ہے نہ ہی گاہک۔
لیکن نیت نیک ہو اور عزم پختہ ہو تو خدا مخلص لوگوں کی ایک جماعت کا ساتھ آپکو دے ہی دیتا ہے۔ یہی خوش قسمتی عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ جناب صفدر ہمدانی صاحب کی ہے جنہیں انکی نیک نیتی کے بدلے خدا نےمحترمہ نگہت نسیم، شمس جیلانی، امجد شیخ، زرقاء مفتی، احمد ترازی، اعظم عظیم، اور ان جیسے بیسیوں مخلص ساتھیوں کی ایک جماعت دے دی ہے جو کسی بھی مفاد سے بالاتر ہو کر ان کے اس مشکل سفر میں کبھی خار چنتے ہیں تو کبھی سائبان بنتے ہیں۔
ایسے مخلص ساتھی زندگی کی تلخیوں کو شیرینیوں میں بدل دیتے ہیں، نالوں کی جگہ نغمگی لینے لگتی ہے ، سوز جاں آسودگی سے بدلنے لگتا ہے اور پاؤں کے چھالے ہونٹوں کی ہنسی سے مندمل ہونے لگتے ہیں۔ سچ کا سفر اپنی تما م تر مشکلات کے باوجود آسان لگنے لگتا ہے اور وقت کی قید کٹتے پتہ ہی نہیں لگتا۔ ۔۔۔مشکلات اپنی جگہ موجود رہتی ہیں، لیکن انکے ساتھ مانوسیت سی ہونے لگتی ہے۔ یہی حال ہمدانی صاحب کا ہے۔آج عالمی اخبار تین برس کا ہو چکا، اور وقت کٹتے ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔ یہ سب شاید اتنی آسانی سےممکن نہ ہوتا اگر اسقدر مخلص اور اہل ساتھیوں کی جماعت ہماری سرخیل کاروان نہ ہوتی۔ مجھے فخر ہے کہ میں بھی اس کاروان کے عقب میں چلا آ رہا ہوں۔
دنیا کی کسی بھی جماعت میں اختلافات کی عدم موجودگی در اصل مردنی اور بے حسی کی علامت ہے۔ تنوع اور اختلاف ذہنوں کی زندگی اور آزادی ء فکر کی علامت ہیں۔ اس لئے اختلافات اور فکر میں تنوع ہمیشہ نئے نئے راستے کھولتے ہیں اور سوچ بچار سے جماعت کو پھر واحد حل پر یکجا کر دیتے ہیں۔ وہ جماعت ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے جو اپنے اختلافات کا اظہار کرے اور ان کے ساتھ جینے کا ڈھنگ جانتی ہو۔ الحمد للہ عالمی اخبارآزادیء فکر و عمل کی مشاق تنظیم ہے جو معاملات کو ذاتی وابستگیوں سے بلند تر ہو کر دیکھتی ہے اور ہمیشہ سوچ بچار اور مشاورت سے یکجان رہتی ہے۔ سو شکر ہے کہ ہم زندہ ہیں اور زندہ ضمیر ہیں۔
میں اس موقع پر تمام ادارتی، مشاورتی، تکنیکی اور لکھاری جماعتوں کو اور تمام قارئین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ہمارے سچ کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہے اور انشاء اللہ ہم سچ کو بازار میں نیلام نہیں ہونے یں گے۔ساتھ ہی میں دعا بھی کرتا ہوں کہ خدا ہمیں اس کام کو نیک نیتی سے جاری رکھنے اور ذاتی نمود و نمائیش اور خود ستائیشی جیسی امراض سے بچا کر صحافت کے میدان میں صحتمند رجحان قائم کرنے کی سعادت عطا کرے تاکہ صحافت مرید کی بجائے عوام کے راہنما کا کردار ادا کر سکے۔
سیّد مصباح حسین جیلانی

امجد شیخ عالمی اخبار کے قارئین کے لیئے کوئی نیا نام نہیں۔مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی ہوں،بھائی شمس جیلانی ہوں یا میں نگہت نیسم۔ جہاں اخبار کا ذکر ہو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ احسان مندی کے فلسفے کے تحت ہم امجد بھائی کا ذکر نہ کریں۔ انکا زیادہ تر کام پس پردہ رہ کر ہوتا ہے یعنی یہ کام کہ سائٹ ہر روز اور ہر لمحے آپکو نظر آتی رہے۔ وہ خود یہ نہیں چاہتے کہ انکا ذکر کیا جائے لیکن ہم کیا کریں کہ ہمیں تو احسان مندی کی سزا ملی ہوئی ہے۔ عالمی اخبار کی سالگرہ پر ہماری فرمائش پر انہوں نے اس انداز میں مبارک باد دی ہے

عالمی اخبار دو زبانوں میں اول روز سے شائع ہو رہا ہے۔انگریزی اور اردو۔اور اول روز سے ہی انگریزی شعبے کے ایڈیٹر کے طورپر محمد صفدر یہ خدمات احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں۔ جب انہوں نے یہ کام شروع کیا تو وہ تعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن اب الحمد اللہ ملازمت کی ذمیداریوں کے باوجود اس کام کو بھی نہایت ذمیداری سے کر رہے ہیں۔صحافت کے جراثیم محمد صفدر میں اپنے خاندان سے آئے ہیں کہ وہ عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ کے اکلوتے بیٹے بھی ہیں۔ محمد صفدر کا منصوبہ ہے کہ اگلے یعنی چوتھے سال میں وہ عالمی اخبار کا الگ انگریزی اخبار شائع کریں گے۔اللہ پاک انہیں انکے نیک ارادے میں کامیابی سے۔ محمد چونکہ انگریزی شعبے کے انچارج ہیں اس لیئے عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر انکا پیغام بھی انگریزی میں ہی ہے۔محمد صفدر لکھتے ہیں
Our
birthday is your birthday, and we are excited to share it with you
Foremostly
we would like to thank you all for a wonderful three years, and hope that you
enjoy reading just as much as we enjoy writing, reporting and analysing the
most important issues of our day. It's a testament to the hard work the editing
panel put in, that this paper is updated so regularly, with such few resources.
We believe we have moved far beyond anything we could have envisioned, with a
solid base of readers and contributors. The thousands of you who choose us to
understand how the world is shaping up on a daily basis, show that there is
still room in this market for the type of serious journalism so many
institutions lack.
We don't
believe in a watered down, corporate backed agenda, and hope you are able to
see our commitment to presenting the news that others so flippantly skim over.
We hope that in the coming years we are able to build upon this, portray the
world from a realist perspective, and ofcourse, encourage as many of you to
contribute as is possible. We are a community, and pride ourselves on our
inclusive, non discriminatory stance. So please share our news, our views and
tell us yours. We believe that an opinion is only as good as the criticism it
can contend with, and hope that we challenge a way of thinking by presenting
something different

زرقا مفتی ادبی صفحے کی ایڈیٹر ہیں ۔۔ زرقا کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنا کام انتہائی لگن اور خاموشی سے کرتا رہتا ہے اور جب انعام لینے کی باری آتی ہے تو سب سے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ دراصل ہر صلے اور مفاد سے دور زرقا نہ صرف کالم نگار ہے بلکہ شاعرہ اور افسانہ نگار بھی ہے ۔ مجھے زرقا کی تحریروں کی بےساختگی اور اس میں تہہ در تہہ احساسات بہت اچھے لگتے ہیں ۔۔۔ زرقا اپنے قارئین کو عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر تہنیتی پیغام دیتے ہوئے لکھتی ہیں ۔۔۔۔
قلم کا قرض چکا رہے ہیں ہم جس دور میں جی رہے ہیں اُسے ذرائع ابلاغ کے تسلط کا دور کہا جا سکتا ہے۔ ٹیلی وژن کا بٹن دبائیے تو بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دیتی ہیں۔ ہر چینل کے دانشور اپنے نظریات کو سچ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اور ناظرین اپنی پسند کا سچ اپنا لیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال کاغذی اخباروں کا ہے۔ اشتہاروں کی بھر مار، سنسنی آمیز خبروں اور مخصوص نظریات کے پرچار سے لیس یہ اخبارات دروازے سے گھر کی میز تک اور پھر ردی کی ٹوکری تک کا سفر بڑی سرعت سے طے کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے دانشورقلم کی بجائے لفافوں یا احسانات کا قرض چکا رہے ہیں۔
اخباری بیانات پڑھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ حقیقت کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ لگتا ہے ہماری سمجھ یا ہمارے ذہن کاقصور ہے جو ہمیں ہربیان جھوٹ اور فریب لگتا ہے۔ اب لاہور کے اخبارات کی مثال لیجئے ہر روز ہمارے اخبار کے پہلے صفحے کا آدھا حصہ خادم اعلی کی خدمات کےذکر سے بھرا ہوتا ہے۔ صوبے میں اُن کی خدمات کو جانچنے کے لئے صحت اور تعلیم کے دو شعبے ہی کافی ہیں۔ لاہور میں تین چار سو افراد ڈینگی وائرس کا شکار ہو کر اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ کہنے کو ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے مگر شہر کے نوے فیصد علاقے سپرے سے محروم ہیں۔ محکمہ تعلیم کی شاندار کارکردگی تو انٹر کے رزلٹ کی منسوخی سے ہی واضح ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگر اخبارات خادم اعلی کی خدمات کا ذکر سنہرے الفاظ میں کریں گے تو ان کو کیا کہا جائے۔
بڑے بڑے اخباروں میں ہم جیسے عام لوگوں کے سچ کے لئے کوئی صفحہ یا کوئی کالم مختص نہیں۔ معاشرے میں بہت سے سرپھرے سچ اُگلنے کو تیار ہیں مگر کوئی پلیٹ فارم نہیں۔ ایسے میں عالمی اخبار جیسی سائٹس کا وجود غنیمت ہے جہاں کسی سفارش یا اشتہار کے بغیر آپ اپنا سچ دُنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔
ہم محترم صفدر ھمدانی صاحب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں دُنیا کے کسی گوشے میں بسنے والے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہ اخبار ایک اُمید جگائے رکھتا ہے کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو قلم کا قرض چکا رہے ہیں۔
اللہ تعالیِ سے دُعا ہے کہ ہمارا اخبار اسی طرح سچ کے سفر کو جاری رکھے۔
زرقا مفتی ۔لاہور
بھائی محمد احمد ترازی جو عالمی اخبار کے بیورو چیف ۔پاکستان ہیں ۔۔۔ احمد بھائی کی خاص بات ان کی معتدل مزاجی اور ان کی نیک فطرت ہے جو ان کی تحریروں سے بھی شعاعوں کی طرح پھوٹتی رہتی ہے ۔ بے لوث احمد بھائی پر جتنا مان بھائی عظیم اعظم کو ہے اس سے کہیں زیادہ مجھے ان پر ہے ۔ مجھے یاد نہیں جب احمد بھائی نے مجھے'' نہ'' کہا ہو ۔۔ کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ اگر میں کہوں کہ دن کی جگہ رات ہے بھائی میرا دل میرا مان رکھنے کے لئے کہہ دیں گے “ جی باجی “ ۔ تجزیاتی اور تحقیقی کالمز لکھنے پر عبور رکھنے والے احمد بھائی کا دینی مضامین لکھنے کا اپنا الگ منفرد انداز ہے جو طوالت کے باوجود گراں نہیں ہوتا اور قاری سہولت سے پوری کی پوری تحریر سے علم و دانش کے موتی چنتے ہوئے مسکرا دیتا ہے ۔۔۔ احمد بھائی لکھتے ہیں ۔۔
ہم ہی کو جرات اظہار کا سلیقہ ہےآج عالمی اخبار نے اپنی صحافتی زندگی کے تین سال پورے کرکے چوتھے سال میں قدم رکھا ہے،عالمی اخبار کا یہ تین سالہ سفر محترم جناب صفدرہمدانی صاحب اور باجی ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی زیر ادارت علم و ادراک اور شعور و آگہی کا سفر ہے،جس عالمی اخبار نے صحافتی سچائیوں کے ساتھ ” غیر جانبدار نہ اور حقائق پر مبنی خبریں دینے“،” خبر کے معیار پر کبھی کوئی سودے بازی اور سمجھوتہ نہ کرنے “،” جرات ِ اظہار اور حق گوئی سے کام لینے“،”حالات و واقعات کے سارے پہلوؤں کو دنیا کے سامنے لانے “اور ”دین اسلام اور وطن عزیز پاکستان کی سلامتی،بقا،استحکام اور قومی و ملی غیرت کے تحفظ میں تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے ۔
اپنے اِس تین سالہ سفر میں عالمی اخبار نے نشاط و آسائش اورنعمت و انعام کی پیشکشوں کو ٹھکراکر،اشرار کی طرف سے پتھروں کی بارش کے باوجود حق کاپیغام پہنچانے میں جس جرات و استقامت کا مظاہرہ کیا ہے،وہ اِس اخبار کا اعزاز ،خاصہ اور طرہ امتیاز ہے،جس کا کریڈٹ جناب صفدر ہمدانی صاحب،محترم جناب شمس جیلانی صاحب،باجی ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور مصباح بھائی سمیت پوری ٹیم کا جاتا ہے ۔
ہمیں فخر ہے کہ ہم اِس قافلہ حق کے ایک ادنیٰ سے کارکن ہیں،اپنی وابستگی کے اِس مختصر سفر میں ہم نے بابا صفدر ہمدانی،باجی نگہت نسیم اور جناب شمس جیلانی صاحب کو ہر مرحلہ زندگی میں اپنے قریب پایا،دیار غیر میں ہم سے لاکھوں میل دور ہونے کے باوجود ان مخلصین کی محبتیں،شفقتیں اور عنایتیں ہمیشہ ہمارے شامل حال رہیں،اپنی اِس خوش نصیبی پر ہم ربّ تعالیٰ کے شکرگزار ہیں،ہماری دعا ہے کہ یہ اخبار ہمیشہ اسی طرح خوشامد اور مصلحت کوشی سے دور حق کو حق اور ناحق کو ناحق کہنے کا فریضہ سرانجام دیتا رہے،کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
ہم ہی کو جرات اظہار کا سلیقہ ہےصدا کا قحط پڑے گا تو ہم ہی بولیں گےآج اِس اہم موقع پر عالمی اخبار کے اربابِ اختیار اور اُن کے وہ بے لوث شرکائے کار دلی دعاوں اور مبارک باد کے مستحق ہیں،جنھوں نے اپنی تمام توانیاں اس اخبار کی خدمت کے لیے وقف کردیں ہیں،اللہ کریم اِن تمام احباب کو ہمیشہ ہمیشہ صحت و تندرستی کےساتھ سلامت رکھے اور اِس کٹھن کام میں آسانیاں عطا فرمائے ۔آمین ثمہ آمین یا رب العالمین بحرمة سیّدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ہماری جانب سے عالمی اخبار کے چاہنے والوں،پڑھنے والوں،لکھنے والوں اور بالخصوص عالمی اخبار کی انتظامیہ کو سالگرہ مبارک ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔

لیجئے خاصی تاخیر سے ہی سہی بھائی سائیں رحمت علی بھی آ ہی گئے۔ بھیا جی اگر اتنی دیر سے ہی آنا تھا تو کم ازکم مٹھائی کا ٹوکرا ساتھ لے کر آتے۔ بھائی جی معاف کرنا میں ناتھن شاہی لکھنا بھول گئی کہ آپکا اصرار ہوتا ہے کہ پورا نام لکھا جائے۔ سائیں رحمت علی ناتھن شاہی۔ بھیا جی یہ بھی نامکمل ہے۔پورا نام تو سائیں رحمت علی ناتھن شاہی بروزن نادر شاہی حال مقیم پنڈ سویڈن ہونا چاہییئے۔ ہاہاہاہا۔ آج سالگرہ کی خوشی میں یہ سب باتیں ہو رہی ہیں۔ سائیں جی کے لکھنے کا اپنا وکھرا سٹائل ہے جیسے بولنے میں مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت کا بولنے میں۔ عالمی اخبار کی بہت سی یادیں سائیں جی کے پاس ہیں اور یادوں کا پورا بکس ساتھ لائے ہیں۔ آیئے اس بکس میں جھانک کر دیکھیںعالمی اخبار ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک درسگاہآج عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ ہے۔ 3 سال قبل شروع ہونے والے عالمی اخبار کو قبلہ صفدر صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی کاوش کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس کاوش نے دنیائے ابلاغ میں نئے اور پرانے لکھنے والوں کو دعوت علم و عمل اور قلم و فکر دی۔ اس اخبار نے جہاں پرانے دانشوروں کو ایک مخصوص جگہ دی وہاں نئے لکھنے والوں کو بھی لکھنے کے لئے ایک کھلا میدان فراہم کیا۔
میںاردو میں دو مرتبہ فیل ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ میرا تلفظ درست نہیں تھا۔ میں ق کو ک ہی کہتا تھا۔ س، ص اور ث کا فرق بھی واضع نہیں کر سکتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میٹرک میں ہمارے اردو ٹئچر نے مجھے بری طرح فیل کر دیا۔ ایف ایس سی فائنل میں اردو اورل میں فیل ہو گیا۔ میری زبان سندھی تھی اور تعلیمی زبان بھی سندھی تھی لہٰذا اردو عبارت اور تلفظ کی غلطیاں نہ چاہتے ہوئے بھی سرزد ہو جاتی تھیں۔ میں نے سندھی زبان میں سب سے پہلے عبرت میں بھٹو صاحب کی سزائے موت پہ لکھا اس کے بعد لکھنے لکھانے کا یہ سلسلہ چلتا رہا مگر سندھی میں۔
آغا صفدر صاحب سے نیازمندی پرانی تھی مگر جب آپ پہلی دفعہ سویڈن تشریف لائے تو رات کے کھانے پہ آپ نے عالمی اخبار کا ذکر خیر فرمایا اور ساتھ ساتھ مجھے نادرشاہی فرمان جاری کیا۔ ٌ رحمت تم اس اخبار میں لکھا کرو ٌ میں نے جواباً عرض کیا کہ آغا جی لکھنے لکھانے کے علاہ جو بھی خدمت ہو میں حاضر ہوں۔ میری اس جسارت پر آغا صاحب جلال میں آگئے اور خونخوار نگاہوں سے لیپ ٹاپ لانے کا اشارہ کیا۔ لیپ ٹاپ کھول کر مجھے قریب بٹھایا اور فرمایا کہ اب اپنا پہلا بلاگ لکھو۔ میرا پہلا بلاگ 8 سطور کا تھا جسکو لکھنے میں 2 گھنٹے لگ گئے۔ اس کے بعد لکھنا شروع کیا تو آغا صاحب پرائمری ٹیچر کی طرح میری عبارت کی غلطیاں ٹھیک کرتے رہے۔ ڈاکٹر صاحبہ اور آغا صاحب کی حوصلہ افزائی نے ہفتہ میں ایک کالم لکھنے کے قابل بنا دیا۔ عالمی اخبار کے تمام کالم نویسوں نے بہت حوصلہ افزائی کی۔ قابل صد احترام جناب شمس جیلانی صاحب، منظور قاضی صاحب اور ڈاکٹر عارف کسانی صاحب نے وقتاًفوقتاً نہایت ہی خوبصورت الفاظ میں مجھے داد و تحسین دی جو کہ یقیناً غلو تھا۔
آغا صاحب یا ڈاکٹر صاحبہ کبھی ناراض بھی ہو جائیں تو لکھنے کے معمالہ میں حکم وہی ہوتا ہے۔ ایک دن میںاپنی میل دکھ رہا تھا کہ پہلے آغا صاحب نے نہ لکھنے پہ ڈانٹ پلائی اور رہی سہی کثر باجی نے پوری کر دی۔ میں نے چڑ کر کہا کہ میں ناراض ہوں۔ باجی نے کہا کہ لکھتے ہو یا سویڈن آ کے ٹھیک کروں۔
عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ عالمی اخبار صرف ایک اخبار ہی نہیں بلکہ ایک درسگاہ ہے جہاں پر میرے جیسے نالائق بچوں کو سبق دیا جاتا ہے۔
عالمی اخبار ان 3 سالوں میں ایک سماجی ادارہ بھی بن چکا ہے۔ میرے جواں سال بھتیجے کی ناگہانی موت پر اور میرے والد صاحب کی موت پر میرے دکھ اور غم کو عالمی اخبار نے لوٹے ہوئے خزانے کی طرح آپس میں بانٹ لیا۔ میری ہر خوشی میں یہ عالمی لوگ شامل ہوتے ہیں۔ یہ فخر و اعزاز مجھے مغرور نہ بنا دے۔
مجھے عالمی اخبار کی پہلی سالگرہ کا اہتمام کرنے کا فخر حاصل ہوا۔ آغا صاحب جب دوسری مرتبہ سویڈن ٹشریف لائے تو لین شوپنگ یونیورسٹی میں پروگرام تھا اور آغا صاحب کی مجودگی میں بچوں نے ملکر پہلی سالگرہ کا کیک کاٹا۔
وقت کے ساتھ ساتھ عالمی اخبار ایک سماجی ، مذہبی، سیاسی اور معاشرتی علوم کی درسگاہ بن چکا ہے۔ آغا صاحب نے وقت ملتے ہی ولایت ٹی وی بھی شروع کر دیا ہے۔ عالمی اخبار کی طرح اس ٹی وی کی بنیاد بھی علم و عمل اور فکر و قلم پر رکھی گئی ہے۔ آغا صاحب اور باجی نگہت نے نا مساعد حالات کے با وجود جس لگن سے اس کام کو جاری رکھا ہے یہ انہی کا حوصلہ اور حصہ ہے۔ میں عالمی اخبار کی پوری ٹیم کو اس موقع پر دلی مبارک باد کہتا ہوں۔ اللہ اپنے نیک بندوں کے صدقے میں اس درسگاہ کو سلامت رکھے اور مزید ترقی دے۔ آمین۔
عالمی اخبار ایک درسگاہ ہے ارو مجھے اس درسگاہ کا ادنیٰ سا طالبعلم ہونے پر فخر ہے۔
سائیں رحمت علی ناتھن شاہی

بھائی قمر رضا اسلام آباد کے بیورو چیف ہیں ۔ ان کی عالمی اخبار کے کاروان میں شمولیت پچھلے برس ہوئی تھی ۔ لیکن ہم میں سے کسی کو نہیں لگا کہ قمر کوئی “ نیو کمر“ ہیں ۔ بلاگ پر بے لاگ لکھنا ۔ عالمی اخبار پر چھپنے والا پہلا سفرنامہ قمر ہی نے شروع کیا اور تاحال جاری ہے اور کتابی شکل میں آنے سے پہلے ہی عوام و خاص میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے ۔ اس کے علاوہ کالم بھی لکھتے ہیں ۔ ان کی تحریوں میں تمام تر توجہ جزیات نگاری کی طرف نظر آتی ہیں جو قاری کو اسی ماحول اور ٹائم زون میں لے جاتی ہیں جہاں کی بات ہو رہی ہوتی ہیں ۔۔ قمر رضا لکھتے ہیں ۔۔
منظم، متحد اور مربوط نظام شہد کی مکھی کو خدا نے وہ صلاحیت عطا کی ہے کہ بظاہر ایک ادنٰی سی مخلوق ہوتے ہوئے وہ ایک منظم، متحد اور مربوط نظام کے تحت اپنی محنت کا ایسا نتیجہ دیتی ہے، جس میں انسان اور انسانیت کے لیئے فائدہ ہی فائدہ ہے۔ شہد بنانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں۔ ہزاروں مکھیاں میلوں کی مسافت طے کرکے پاکیزہ پھولوں کا عرق چوس کر ایک بلند و محفوظ مقام پر اکٹھا کرتی رہتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق نصف کلو گرام شہد کی تیاری کے لئیے ان مکھیوں کو مجموعی طور پر تین لاکھ میل کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ مکھیوں کی محنت کا یہ ثمرہ انسان کی جسمانی اور زہنی نشوونما کا ضامن ہے۔ شہد کی تیاری کے حیران کن خدائی نظام میں اہل عقل کے لیئے منصوبہ بندی، اتحاد، نظم، اتصال، بے غرضی، عالی حوصلگی، لگن، محنتِ شاقہ اور خدمت جیسے بیشمار اسباق پنہاں ہیں۔
اسی نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے نظر کو تھوڑا وسیع کرکے دیکھوں تو عالمی اخبار بھی مجھے ایسی ہی بے لوث کچھ مکھیوں کا چھتہ نظر آتا ہے جو کتابوں، اخبارات، رسائل، مقالات، بیانات، گفتگوؤں،مناظرات اور مسابقات کا عرق نچوڑ کر بغیر کسی طمع، لالچ اور خوف کے حوالہءقلم کردیتی ہیں جو عامۃالناس کی معلومات میں اضافہ کرکے انکی فکری بالیدگی کا سامان پیدا کرتا ہے۔
جس طرح سے شہد خالص اور کسی بھی نجاست سے پاک ہوتا ہے، بالکل اسی طرح عالمی اخبار بھی زمانے کی آلایشوں اور حالات کی کثافتوں سے پاک ہے۔
عالمی اخبار کے پاک صحافتی نظام کا ایک حصہ ہونا میرے لیئے باعثِ فخر ہے اور یہ بھی میرا افتخار ہے کہ میری قلمی زندگی کا آغاز بھی اسی اخبارکے ایک صفحے سے ہوا۔ کبھی وہ وقت تھا جب میں پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور اب یہ وقت ہے کہ میں لکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میرے ہاتھ میں قلم تھما کر قلم آزمائی کروانے کا سارا سہرا قبلہ صفدر ہمٰدانی صاحب کے سر ہے جنہوں نے محض ایک جملہ "باب العلم (ع) کا پیروکار اور اہل قلم نہ ہو، یہ ہو نہیں سکتا" کہہ کر میرے اندر لکھنے کی محوِ خواب حس کو بیدار کر ڈالا اور اپنے اس چھتے کی ایک مکھی بنا کر معلومات کی عرق ریزی کی ذمہ داری سونپ ڈالی۔ اس عنایت پر میں قبلہ کا تمام عمر ممنون رہوں گا۔
یہ کل ہی کی بات لگتی ہے کہ خبر آئی تھی کہ عالمی اخبار دو سال کا ہونے کو ہے۔ اور آج یہ خبر تازہ ہے کہ یہ نوزائیدہ اخبار تین سال کا ہونے چلا ہے۔ عالمی اخبار کو یہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی مبارک ہو۔ خدا کرے کہ یہ ستارہ آسمانِ صحافت پر تا قیامت جگمگاتا رہے۔
میری جانب سے اخبار سے متعلق ایک ایک فرد کو فردا”فردا” مبارکباد قبول ہو۔
میری دوست ، میری دلاری ۔ میری غمگسار شاہین حیدر رضوی جو گلف کی بیوروچیف ہے ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کیا لکھوں کہ شاہین خوبصورت زیادہ ہے یا خوب سیرت ۔ ست رنگی میری یہ دوست ہر رنگ میں قابل بھروسہ اور دیانت دار ہے ۔ رشتوں کا بھرم رکھنا اور ان کی توقیر ان کی غیر موجودگی میں سلامت رکھنا شاہین کا ایسا ہنر ہے جو آج کل نایاب ہوا جاتا ہے ۔۔ مجھے جب بھی کوئی مشکل آتی ہے میں ہمیشہ شاہین کو فون کرتی ہوں ۔۔اور بلا تکان بولتی جاتی ہوں اور وہ بڑے سکون سے سنتی جاتی ہے اور جواب میں ایک تسلی دیتی ہے کہ شاہین غمگسار کا روپ لے لیتی ہے ۔ تعریف سے کبھی بخل سے کام نہ لینا شاہین کی کشادہ دل ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے ۔۔ شاہین ایک کامیاب اور شہرت یافتہ افسانہ نگار ، ایک حساس شاعرہ اور دردمند کالم نگار ہے ۔ کویت میں ہونے والی ادبی تقریبات اور تحریکوں کی روح رواں شاہین حیدر رضوی کا نام ہم سب کے لئے باعث فخر ہے ۔۔ وہ لکھتی ہے ۔۔
چلتے رھو کہ چلنا ھی منزل کی شرط ھےاسلام علکیم ۔
حق و سچائی کے مضبوط ستونوں پر قائم عالمی آخبار کی شاندار عمارت ھمارے سامنے ھے۔
عالمی آخبار کی تیسری سالگرہ کے پر مسرت موقع پر عالمی اخبار کے میر کارواں، ابلاغ کی دنیا کا بہت معتبر نام ۔نامور صحافی ۔ ادیب شاعر مريثہ گو ، صدا کار ، مشہور قلم کار ۔ان گنت خوبیوں کے حامل محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کے قائدانہ کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ھیں اور بے حد محنتی ،حساس ،جفاکش، منفرد لب ولہجے کی مالک ، مخلص ۔مہربان ، دکھہ سکھہ کے سارے موسموں میں ساتھہ دینے والی ھم سب کی بے حد محترم دوست اور بہت اچھی بہن ڈاکٹر نگہت نسیم اور انکی آزمائش کی بھٹی میں تپ کر کندن بننے والے بے مثال باضمیر قلم کاروں کی جماعت کو دل کی گہرائی سے مبارک باد پیش کرتے ھیں ۔
ھم سب جانتے ھیں کہ عالمی اخبار کو سال اول سےھی ایک منفرد شناخت کے علاوہ ساری دنیا میں موجود اردو پڑھنے والے لوگوں کی پسندیدگی کی سند مل چکی ھے۔خبرنگاری کے میدان میں سب سے آگۓ عصر حاضر کے گوناگوں مسائل اور دنیا کی ھر لمحہ بدلتی صورتحال سے اول بہ اول باخبرکرنے والا عالمی اخبار سب کو لمحہ بہ لمحہ دنیا کی بدلتی ھوں سیاسی سماجی ۔ادبی ،فکری ، سرگرمیوں سے آگاہ کرنے والا عالمی اخبار آج ماشا اللہ اپنی تیسری سالگرہ کا جشن منا رھا ھے ۔
اعلی ادبی معیار کا حامل عالمی اخبار جہاں ادب اور صحافت کے شہسوار ایک عظیم تر مقصد کے لیے کام کر رھے ھیں ۔ ان روشن چہرے والے روشن دماغ منفرد اور بے مثال حق اور سچا کو فروغ دینے والے لوگوں کو عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ بہت بہت مبارک ھو۔
سربیچ کر متاع دل وجاں خریدناسودا ھے وہ کہ جس میں خسارہ نیہں کوئیاردو صحافت کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ سراغ ملتا ھے کہ صحاف کی پر خاروادی میں سرفروش ھی قدم رکھتے اور ٹکتے ھیں اور نام پاتے ھیں۔ آج ابلاغ اور انقلاب بشری تاریخ کا رخ موڑ کر ایک نیا سورج آگا رھے ھیں ۔ صاحب بصیرت اندھیروں کو مسترد کرکے اپنے حصے کی شمع روشن کر رھے ھیں۔
اللہ پاک عالمی اخبار کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے ۔
آمین ثمہ آمین
بھائی خاور چودھری جو بہت ہی منفرد افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں اور اس کے ساتھ نظم ، غزل ، دوحے ، ہائیکو اور نعت گوئی پر عبور رکھتے ہیں ۔۔ خاور کی تحریروں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ رائے بنانے میں بے حد مددگار ہوتی ہیں ۔ ان کی نظریاتی کالم بے حد مقبول ہیں ۔ ہمارے لئے ان کا ہمارے کاروان میں ہونا ہمارے لئے باعث افتخار ہے ۔۔ خاور بھائی اپنی اہلیہ کی شدید علالت کی وجہ سے کچھ عرصہ کے لئے منظر سے غائب ہو گئے تھے جس کا انہیں بے قلق رہتا ہے ۔۔اسی غیر حاضری کا زکر رکتے ہوئے لکھتے ہیں ۔۔خوش بو کا قافلہابھی کل کی بات ہے جب محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے آسٹریلیا سے فون کرکے اطلاع دی تھی کہ انھوں نے ’ عالمی اخبار‘ کا اجراء کیا ہے اور اُس میں میرا وہ انٹرویو بھی شامل کیا ہے جو ’ اردو محفل‘ پر چھپ چکا تھا۔ میں نے انھیں مبارک باد دی تو انھوں نے مجھے نہ صرف اپنے قافلے میں شامل ہونے کی دعوت دی بلکہ انتہائی احسان کرتے ہوئے مجھے پاکستان کے لیے نائب بیوروچیف بھی مقرر کردیا۔ یقیناًیہ ایک اعزاز ہی ہے میرے لیے کہ اتنے بڑے لوگوں نے اپنے زیر انصرام چلنے والے انٹرنیٹ اخبار کی ٹیم میں مجھے اہمیت دی۔ مجھے اپنی نا لائقی کا شروع دن سے احساس رہا ہے کہ میں وہ کام نہیں کر سکا ہوں جو مجھے کرناچاہیے تھا۔ شروع میں چندایک انٹرویو دیے اور کالم لکھے پھر جب ’یونی کوڈ‘ کا مسئلہ پیدا ہوا تو کالم لکھنے کے باوجود عالمی اخبارتک نہ پہنچا سکا۔ کئی بار خیال آیا کہ میری ان نالائقیوں کی وجہ سے کسی روز چپ چاپ میرا نام ادارے کے وابستگان کی فہرست سے خارج ہوجائے گا مگرکمال محبت کرنے والے لوگ ہیں جنھوں نے مجھ ایسے ناکارہ شخص کو ابھی تک برداشت کیا ہوا ہے۔
عالمی اخبار کے حوالے سے کچھ کہنا میرے لیے اس لیے بھی مشکل ہے کہ میں اتنے بڑے لوگوں کی موجودگی میں ایک نقطے سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتا مگر حکم ملا ہے تو اس حوالے سے میں کچھ محسوسات ضرور آپ تک پہنچاؤں گا۔ میری دانست میں عالمی اخبار ایک یونی ورسٹی ہے جہاں ہر طرح کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مذہب ‘ سیاست ‘ معیشت‘ ادب اور فنون لطیفہ کی تقریباًتمام جہتوں کااحاطہ اس پلیٹ فارم پرہوتا ہے۔ اس کی انتظامیہ میں محترم صفدر ہمدانی جیسے بے بدل ادیب اور مرثیہ گو‘ محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم جیسی اخلاق کی پیکر اورنام ورافسانہ نگار کے نام شامل ہیں۔ جس اخبار کے ایڈیٹوریل بورڈ میں قبلہ شمس جیلانی جیسے جید لوگ شامل ہوں۔ جسے زرقا مفتی جیسے پرخلوص لوگ میسر ہوں اور جس کے قافلے میں ایک سے بڑھ کر ایک خوش بو بانٹنے والا شامل ہو تو اس اخبار کی نکہتوں سے چہاردانگ عالم میں خوش بو ہی پھیلے گی۔
میرے لیے آج بہت خوشی کا دن ہے کہ ہماراعالمی اخبار تیسری سال گرہ منا رہا ہے اور اس سے بھی بڑی خوش کی بات یہ ہے کہ جو قافلہ محترم صفدر ہمدانی صاحب اورمحترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی قیادت میں نکلا تھا پورے اعتماد اور خلوص کے ساتھ گام زن ہے اور اپنی قیادت پر بھر پوراعتماد کرتا ہے‘ ورنہ تو انٹر نیٹ کی دنیا میں راستہ بدلنے میں دیر نہیں لگتی اور پھر ہمارے دوست شاعر نواز شاہد کی زبان میں
میں ذرا مڑ کے دیکھ لیتا ہوںجب کوئی راستہ بدلتا ہےمیں اس بات کوانتظامیہ کاخلوص‘ مروت اور محبت ہی کہوں گا۔
آخر میں عالمی اخبار کی انتظامیہ اور جملہ وابستگان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اپنی کوتاہیوں پر شرمندگی کا اظہار بھی۔ اللہ کریم عالمی اخبار کے لیے خوشی کے ایسے کئی مواقع لائے۔ آمین
بھائی منظور قاضی گو رہتے جرمنی میں ہیں لیکن ہم سب کو لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں ۔ شفیق اور اصلاح پسند منطور بھائی کے لکھے ہوئے لاتعداد بلاگ ایسے ہیں جو ایک تاریخ رقم کرتے ملتے ہیں ۔ کئی لوگ بطور حوالہ انہی بلاگز کو لکھتے ہیں ۔ مجھے ہمیشہ ہی سے بلاگ لکھنا کالم لکھنے سے مشکل لگتا ہے ۔ مختصر سے پیرائے میں اپنی بات کہنا وہ بھی ایسے کہ بات بھی واضح ہو جائے اور پڑھنے والا سوچ میں پڑ جائے اور ایسی سوچ میں کہ لکھے بنا رہی نہ سکے ۔۔یہی بلاگ لکھنے کا ہنر ہے ۔ منظور بھائی شاعری بھی کرتے ہیں اور اس بار بھی انہوں نے تحفے میں اپنی شاعری ہی ارسال کی ہے ۔۔ آئے پڑھتے ہیں ۔۔
محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کو اور عالمی اخبار کے ارباب اختیار کواور ساتھ ہی ساتھ عالمی اخبار کے تمام شیدائیوںکو عالمی اخبار کی سالگرہ مبارک ہو:
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یکم نومبر تک عالمی اخبار کی سالگرہ کے سلسلے میں اپنے پیغامات انہیں بھجوائے جائیں : میں کئی دن سے فیس بک کی شاعری کی محفلوں ، مجلسوں اور انجمنوںکے پروگراموں میں شرکت کررہا ہوں اس لیے اپنی مادر علمی عالمی اخبار جس کے ابتدائی ڈھائ سال میری زندگی کاحصہ بنے ، کے بلاگوں میں حصہ نہ لے سکا جس کا افسوس ہے :اب عجلت میں لکھے ہوئے اپنے منظوم تاثرات اس برقی خط کے ذریعہ بھجوارہا ہوں :
گر قبول افتد زہےعزو شرف:
نظم:مادرِ علمی عالمی اخبار کےنام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے مادرِ علمی ترا احسان ہے احسانتونے ہی مجھے قوتِ تحریر عطا کیتونے مری تحریر میں تاثیر عطا کیتو نے ہی مجھے خواب کی تعبیر عطا کی تو نے ہی مجھےعزت و توقیر عطا کیتونے ہی مجھے جینے کی تدبیر عطا کیتونے ہی مجھے قوتِ تسخیر عطا کی تونے ہی مجھے علم کی شمشیرعطا کیتونے ہی مجھے جراءت ِ شبّیر ع عطا کیتیری ہی دعا سے مری ہوئی مشکل ہوءی آسانخواہش ہے مری تجھ پہ مری جان ہو قرباناےمادر علمی ترا احسان ہے احسان۔۔۔۔۔۔۔فقط:
منظور قاضی: میونخ جرمنی سے
اکتوبر ۲011ع
بجو سیدہ زائرہ عابدی ایڈمنٹن کینڈا میں رہتی ہیں ۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ عالمی اخبار پر چھپنے والا پہلا ناول انہوں نے ہی لکھا تھا جو خاص و عام میں بہت مقبول ہوا ۔۔ بجو ہماری بلاگ فیملی کے لئے ایک شجر سایہ دار کی طرح ہیں جن کے سائے میں بیٹھ کر ہم سب ان کی دعائیں لیتے ہیں ۔ ان سے جینے کے نسخے بھی سمیٹتے ہیں اور ان سے مزے مزے کی داستانیں بھی سنتے ہیں ۔ پرشفقت بجو ہم سب کی دلجوئی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتیں ۔ مجھے انکی تحریروں کی سادگی اور گھریلو پن بہت بہت اچھا لگتا ہے ۔ اپنی ثقافت اور ورثہ کو محفوظ کرنے لئے بجو کی کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔۔ زائرہ بجو لکھتی ہیں ۔۔
سالگرہ کا دن آیا ہے عالمی اخبار کے بانی صفدر بھیّا کو ، بیٹی نگہت نسیم کو اور اس کی آبیاری کرنے والوں کی پوری ٹیم کو تیسری سالگرہ مبارک ہو،آمین ثمّہ آمین
قران پاک میں ا للہ تعالٰی کا فرمان ہے سر راہ پھل درخت لگا ؤ ، اگر دیکھا جائے تو عالمی اخبار وہی پھل د ار درخت ہئے جس کو سر راہ عوام النّاس کے لئے لگا دیا گیا ہے اب اس سے فیضیاب ہونا یا نہیں ہونا یہ اس کے قریب سے گزرنے والوں پر منحصر ہے ۔دنیا کے مختلف ملکو ں میں بسنے والے اعلٰی تعلیم یافتہ افراد کی ٹیم نے دن اور رات محنت کر کے اس اخبار کو میرے خیال میں صف اوّل کے اخبار کا درجہ دے دیا ہے۔ کیونکہ میرے زیر مطالعہ کسی بھی اون لائن اخبار میں اتنی مختلف النّو ع تحریریں اور وہ بھی اتنی ضخیم تعداد میں مجھے کہیں نہیں ملیں ،اس اخبار کے پلیٹ فا رم پر آزادئ اظہار کے مہذّب مو اقع بھی ملیں گے۔ن مکالماتی بلاگ بھی پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہئے کہ ہم روبرو خالص گھریلو ماحول میں محو گفتگو ہیں ۔ادبی تحریریں ،مذہبی تحریریں ،شاعری ،ویڈیوز پینٹنگ گیلری قارئین کی دل بستگی کے سارے سامان اس کے دامن پر ہی سجے ہوئے ہیں
اس اخبارکی انفرادیت یہ بھی ہے کہ یہ آیا اور بہت جلدی چھا گیا اس کے لئے میں پھر ایک بار عالمی اخبار کی انتظامیہ کو اور پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں
میری دعاء ہے کہ اس کی فصل بہاران یو نہی سدا لہلہاتی رہے آمین
دعائے خیر کے ہمراہ اللہ حافظ و ناصر
سیّدہ زائرہ عابدی بجّو
وحید اختر واحد میرے بہت ہی اچھے بھائی ہیں جنہیں “ اٹامک انرجی “ میں یا ستاروں کی چال جاننے والا “ ماہر فلکیات “ ہونا تھا لیکن اللہ کریم نے انہیں ستاروں پر کمند ڈالنے والا شاعر بنا ڈالا ۔۔ لیکن باتیں ان کی جوہریوں والی ہیں ۔۔ ان کی مشکل پرست بے چین طبعیت انہیں اس سے بےنیاز رکھتی ہے کہ ان کی شاعری کسی کوسمجھ آتی ہے یا نہیں وہ اپنی دھن میں مگن ہی رہتے ہیں ۔۔اور ۔۔یقین جانئے یہی وہ لوگ ہوتے ہیں کامیابیاں جن کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں ۔۔سو یہی ہوا اور وحید اختر واحد شاعری کی دینا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔۔۔ ہمارے ساتھ ان کا ساتھ کئی برس پرانا ہے ۔۔ بھلا اب کیوں نہ لکھتے ۔۔۔
نگہت صاحبہبہت بہت مبارکباد عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کے موقع پر۔ حسب۔ وعدہ میری ایک نظم حاضر ہے۔
(جوہری معراج: ایک خود کلامیپی نہیں کہ لطف تھوڑی چھوڑ کر جانے میں ہے
آخری قطرہ ابھی تک میرے پیمانے میں ہے
آخری قطرہ کہ جس میں ہے اثر میرا کمال
حالتِ بادہ کشی پر ضبط کے تاروں کی چال
داستاں سادہ تھی اس میں رنگ مرجینا کا تھا
آخری قطرے سے نم ساغر میں کچھ مینا کا تھا
دیکھتی ہے آنکھ جب بھی آسمانی سلسلے
فکر کرتی ہے مرتب زندگی کے زاوئے
جزویاتِ جوہری ہیں خواہشِ وجدان میں
وجد آنے دے ذرا اس جوہری سامان میں
مست کر طبلے کی دھڑکن، روشنی کے سر نکال
ڈالنے دے ان سروں کو راگ کے اندر دھمال
گونج سُر کی بن رہی ہے سائبانِ موجِ صوت
ہست جاں، ہستم مکاں، مستم زمانِ موجِ صوت
یہ اکائی جس پہ طاری جذب ہے منصور کا
ہے تدبر یلدرم کی چال میں تیمور کا
آنکھ نے دیکھا نہیں جو، وہ ابھی پردے میں ہے
منظرِ امکان کی سب روشنی پردے میں ہے
زندگی ذرات میں ٹھہرا ہوا اسلوب ہے
باہمی رغبت سے ہستی کل کی کل منسوب ہے
رونقِ الفاظ سے ہے روشنی قرطاس پر
ہر عبارت ہو رہی ہے زندگی کی ہم سفر
روشنائی، آنکھ کے پردے کی بینائی بھی ہے
روح کے سب داخلی رستوں کی زیبائی بھی ہے
فکر کے متضاد دھارے جس جگہ ہوں ہمکنار
خوف ان دھاروں کے سنگم پر ہی کرتا ہے شکار
خوف شہوت خیز ہونے ہی نہیں دیتا اسے
آنکھ ورنہ ماپتی ہے زاوئے الہام کے
کندنی ذرات کا دل میں گزر ہونے تو دے
فکر لکھے گی زمانی سلسلوں کے ضابطے
وقت ہی جوہر ہے اس جوہر کا مرکز آج ہے
وقت کی تنظیم سازی جوہری معراج ہے
وحیداخترواحد
برلن سے سید انور ظہیر رہبر ہمارے بہت ہی پرانے ساتھیو میں سے ہیں ۔۔اتنے اپنے ہیں کہ کبھی کبھی انہیں یاد کروانا پڑتا ہے کہ بھائی یاد رکھنے کے آداب ہوتے ہیں ۔۔مثلا ای میل لکھ کر پوچھنا کہ آپ سب کیسے ہیں ۔۔ کبھی بلاگ پر آجانا ۔۔ کبھی افسانہ یاغزل بھیج دینا ۔۔ انور بھائی بہت اچھے ہیں اس بار میں نے انہیں کہہ دیا کہ بس اتنی لمبی غیر حاضری کی سزا ہوتی ہے ہمارے ہاں ۔۔ بڑی محبت سے کہا ''بولئے میں تیار ہوں'' ۔۔ میں نے کہا کہ ابھی کہ ابھی کان پکڑئے اور کہئے کہ آئیندہ کبھی اتنی لمبی غیر حاضری نہپیں کرونگا ۔۔ انور بھائی نے میری بات دہرائی اور یقین دلایا کہ انہوں نے کان پکڑ لئے ہیں ۔۔ میں ہنس پڑی ۔۔ بھائی نے بتایا کہ سیما( انور بھائی کی اہلیہ ) بھی ہنس رہی ہے اور پھر انہوں نے گواہی کے لئے سیما کو فون دے دیا ۔۔۔ انور بھائی نے اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے لکھا ۔۔ عالمی اخبارکی تیسری سالگرہ !
محترمہ ڈاکٹر نگہت صاحبہ آپ کے فون نے مجھے ایک نئی زندگی دے ڈالی بالکل ایسے جس طرح آپ اپنے پیشے میں “مسیحا“ بن کر مریض کو شفا دیتی ہیں ۔ لیجئے میری طرف سے عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر بہت بہت مبارک لیجئے ۔عالم صحافت میں قدم رکھے ہوئے یہ تین سال " عالمی اخبار " کے لیے بھی اتنے ہی شاندار ہیں جتنی انسانی زندگی میں تین سالوں میں وقوع پذیر ہونے والی شاندارتبدیلیاں۔ ان تین سالوں میں " عالمی اخبار" کے کرتا دھرتاؤں نے جس خوبصورتی سے اسے سینچا ہے وہ "عالمی اخبار " کی آج تک کی کارکردگی سے صاف عیاں ہے۔ "عالمی اخبار " نے مجھ ناچیز کو یہ سعادت بخشی ہے کہ میں "عالمی اخبار" کے شروع کے لمحات سے ابتک "عالمی اخبار" کے ساتھ ہوں اور اسی لیے "عالمی اخبار " کے ان تین سالوں کی ایک ایک خوبصورت یادیں میری زندگی کے بھی خوبصورت لمحات میں شمار ہوتے ہیں۔ " عالمی اخبار " کو تیسری سالگرہ کی دلی مبارک باد، خدا کرے کے
" عالمی اخبار " عالم صحافت میں یونہی چمکتا اور دمکتا رہے اور " عالمی اخبار " صرف سچ کا سچا ساتھی رہے۔ (آمین)
سید انور ظہیر رہبر
عشرت معین سیما جو انور ظہیر رہبر کی اہلیہ ہیں جو خود مشہور ومعروف افسانہ نگار بھی ہیں ۔ گھر اور بچوں کے ساتھ جاب کی مصروفیت انہیں بھی ہم سے کبھ یکبھی دور کر دیتی ہیں لیکن ہم سے رابطہ بھولتی نہیں ہیں ۔۔ لکھتی ہیں ۔۔
تیسری سالگرہ مبارک نگہت باجی اور جناب صفدر ہمدانی صاحب کو عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ مبارک ہو۔ صحافت میں بے لاگ تبصرے ہی سچائی کے ضامن اور اسکے رکھوالے ہوتے ہيں اور یہی بات عالمی اخبار میں جابجا نظر آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ مجھے اس چیز نے کسی نہ کسی انداز میں اس سے جوڑے رکھا ہے۔ خدا کرے کے یہ اخبار یونہی ترقی کے منازل طے کرتا رہے۔
(آمین)
بھائی اکمل سید بے انتہا محنتی اور جفاکش انسان ہیں ۔ محترم المقام جناب صفدر ہمدانی کے ہمدم دیرینہ بھی ہیں اور ان کے ساتھ ہر پل شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں ۔ پہلے دن سے ان کی جو وفاداریاں عالمی اخبار کے ساتھ تھیں وہ آج تک اسی محبت اور خلوص سے جاری و ساری ہیں ۔ اس وقت وہ عالمی اخبار سے منسلک “ ولایت ٹی وی “ کے انچارج بھی ہیں ۔ عالمی اخبار کی زیادہ تر گرافکس بھی اکمل بھائی ہی بناتے ہیں اور اس بار سالگرہ کے کارڈز بھی انہوں نے ہی بنائے ہیں ۔ایک اہم خبر بھائی اکمل حیسن کے حوالے سے یہ بھی کہ اگر چہ وہ اخبار کے اول روز سے ہمارے شانہ بشانہ ہیں اور بلاگ پر بھی باقاعدگی سے آتے اور لکھتے ہیں لیکن اس بار ہماری درخواست پر عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کے موقع پر انہیں لندن کے لیئے عالمی اخبار کا بیورو چیف مقرر کیا جا رہا ہے۔ ہم سب کی طرف سے انہیں مبارکباد۔ اکمل بھائی لکھتے ہیں ۔۔عالمی اخبار میرے لئے کشتی نوح کی طرح ہے دور حاضر کی تاریخ کا ہر ورق خونِ ناحق سے داغدار ہے اور بشریت کا کارواں قدم قدم پر سختیوں دشواریوں رکاوٹوں مسائل و مشکلات مصائب و آفات زحمتوں و مشقتوں متوقع اور غیر متوقع صورت حالات اور اپنے ہی بنی نوع انسان کی سازشوں عداوتوں اور منافقتوں کا شکار نظر آتا ہے ۔آدمیت کی کشتی ضلالت و گمراہی اور معصیت و بے راہروی کی بلا خیز و تباہ کن طوفانی موجوں کے حوصلہ شکن تھپیڑوں سے ہر وقت دو چار رہتی ہے ایسے میں اگر صحافت کے میدان میں نظر دوڑائی جائے تو بے شمار طریقے انسان کو باخبر رکھنے کے نظر آتے ہیں اس برقیاتی دور جبکہ ساری دنیا ایک ہتھیلی پر نظر آتی ہے کچھ ذرائع ایسے بھی ملتے ہیں جو سازش سے پاک اور کاوش کے عملی آثار کا دامن لیکر صحافت کی دنیا میں اپنا نام روشن کر رہے ہیں۔
ثقافت سیاست معیشت و معاشرت سمیت تمام حوالوں سے ایک فکری و اعتقادی دولت و ثروت کا حامل اور مالی و اقتصادی قوت نہ رکھنے والا یہ ادارہ اپنی مثال آپ ہے۔ صحافت کے میدان میں پاکیزہ تحریریں جاہلیت سے پاک ، جذبہ و ایثار کی پاکیزہ داستانیں اخلاق حسنہ اور انسانی عظمتوں کی نشان دہی کرنے والا یہ اخبار صرف اور صرف عالمی اخبار ہے۔
عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ ہے اور یکم نومبر کو یہ اخبار اپنے تین سال پورے کر رہا ہے اس کا مقصد تخلیق ہے صرف اور صرف ان کامیاب افراد کے لئے ہے جو شاید کثیر تعداد میں تو نہیں بلکہ اپنے قلمکاروں اور قارئیں کے ذریعے حق و حقیقت اور انسانیت و آدمیت کی روشن راہوں سے آگاہی دلانے کے صحافتی نظام و آئین میں پیش پیش ہے ۔
عالمی اخبار میرے لئے کشتی نوح کی طرح ہے جو اس کا سوار بن گیا وہ علمی میدان میں کامیاب ہوااور جس نے اس علمی میدان کو چھوڑ دیا وہ گمراہ ہو گیا
عالمی اخبار پرچم صحافت کو جس انداز سے بلند کر رہا ہے وہ نہ صرف قابلِ تعریف ہےبلکہ دین کی شمع ہو باطل قوتوں اور شیطانی گروہوں کی متفقہ و مشترکہ سازش ہو اس کا عملی اور قلمی دامن اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ اب صحافت کی ترقی کا ایک کامیاب میدان نظر آتا ہے۔ جس طرہ امتیاز سے قلم کار اپنے عالمی اخبار اور قارئین کی خدمت اپنی پاکیزہ تحریوں سے کر رہے ہیں اس کا فیصلہ تو آپ خود ہی اخبار پڑھ کر کریں گے میری نظر میں یہ اخبار جس کا ضابطہ اخلاق و طریقہ عمل کتاب اللہ اور سنت نبوی کی ہمہ گیر پیروی ہے قران حکیم، آئین اسلام اور سنت نبوی اور تعلیمات محمد و آل محمد اس کی عملداری کا روشن نمونہ ہیں ، اس کی طیبہ تحیروں سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ اخبار خود ساختہ صحافی خداؤں کے سامنے کبھی بھی سجدہ زیر ہو کر آداب بندگی بجا نہیں لاتا صداقتِ و گفتار عظمت کردار کا اعتراف کرتے ہوئے آستانہ صحافت پر سر کو خم کرتا ہوا نظر آنے والا یہ اخبار منفرد اور واحد چراغ روشن کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ معاشرے کی تشکیل اور اپنی بھر پور توانائیوں کے جو تابندہ نقوش امت صحافت کے لئے عالمی اخبار چھوڑ رہا ہے وہ مستبقل کی نسل کے لئے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔
فسق فجور کے اس دور میں نہ صرف اخلاقی و تہزیبی حوالوں سے بھی غلبہ پانے اور نجات و سعادت سے ہمکنار ہونے والی جو تحریریں اس اخبار میں ملتی ہیں وہ بھی نظریہ اعتقاد کی صحت، گفتار و رفتار کی صیحع سمت پر رواں دواں ہیں۔ بروں کی برائی سے نفرت و دوری کا جو راستہ عالمی اخبار نے دکھایا وہ ہم سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ پاکیزہ خیالات تعلیمات اور مقدس کردار کو اپنی منفرد انداز میں ابھارنے کی جو کوشش عالمی اخبار نے ہی کی ہے وہ بھی ہم سب کے سامنے ہے۔ باہمی اتحاد و یک جہتی اور اجتماعی و معاشرتی ہم آہنگی کی فضا صحافت کے میدان میں جو عالمی اخبار نے دکھائی وہ بھی ہم سب پر عیاں ہے۔ یوں تو عالمی اخبار کسی طرح بھی خاموش نہیں ہر مقام پر قولی فعلی تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لکھاری جھوٹ، تہمت، غیبت ، دھوکہ، حق تلفی اور نفرت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ خبر کوئی بھی ہو عالمی اخبار اس کو پیش کرنے میں صف اول میں ہے۔
عالمی اخبار ہمیشہ حق و انصاف کا بادگار ثابت ہوا اور رہے گا اس کے دست بازو صفدر ہمدانی، شمش جیلانی، ڈاکٹر نگہت نسیم، امجد شیخ ،سید مصباح حسین ، محمد احمد ترازی، زرقا مفتی ، شاہین حیدر رضوی ، خورشید عالم آرا ، محمد صفدر اور تمام قلم کار مبارک باد کے مستحق ہیں جو ہر قسم کے تعصب سے پاک کاموں میں ایک دوسرے کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور خود کو اس اخبار کے یاور و انصار بھی جانتے ہوئے۔ جس جانفشانی سے کام کرتے ہوئے تو یہ افراد اپنی نیند کا مزا بھی بھول جاتے ہیں۔ اور اپنی اس لگن میں حق پرستی کے اس کام کو انجام دے کر شکر نعمت ادا کر کے اپنے لیئے آسانیوں کی زینت اور حفظ نعمت کا ایک قلعہ تیار کر رہے ہیں۔ اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ عوام کی سوائے عدل کے کوئی چیز اصلاح نہیں کر سکتی اے رب الرحیم اور محمد و آل محمد کے رب ان مجاہدین کو دین کے ستون کے سائے اور نیک بختوں کی روشن صف اول پر قائم و دائم رکھنا ۔ آمین
صحافت کے جب ورق کھنگالے ہم نے ڈورئے مہہ و خورشید پہ ذالے ہم نے
اے عالمی اخبار تریے تحفط کے لئے ٹھکرا دئے سونے کے نوالے ہم نے ہم تو قطرےہیں لیکن پھر بھی ہم کوعلمِ سمندر کی نگہبانی ملی ہم کو اکمل سید

فرخندہ رضوی عالمی اخبار میں لکھتی تو گاہے بگاہے ہیں لیکن موجود ہر دم رہتی ہیں۔افسانے اور شاعری میں ایک الگ مقام کی طرح عالمی اخبار میں بھی فرخندہ کی شمولیت منفرد رہتی ہے۔ اچھا دوست ایک نعمت ہوتا ہے اور اسی ناطے فرخندہ ایک نعمت ہی تو ہے اور نعمت کے طور پر کیک بھی خود اپنے ہاتھوں سے بنا کر بھیجا ہے

جرمنی کے شہر فرانکفرٹ سے حلقہ فن و ادب کے سربراہ ارشاد ہاشمی نے عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر یہ پیغام بھیجا ہےآج عالمی اخبار کی کامیابیوں بھری تیسری سالگرہ پرمدیر اعلیٰ صفدر ہمدانی اوراسُکی ٹیم کو دلی مبارک باد ارشاد ہاشمی جرمنی : میں بطورِ قاری آج محترم صفدرہمدانی مدیرِ اعلیٰ ’’عالمی اخبار ‘‘ اور اُسکی انتھک ٹیم کو کامیابیوں بھری تیسری سالگرہ پر د لی مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ آپ نے یکم نونمبر ۲۰۰۸ میں جن مشکل اور تکلیف دہ حالات میں عالمی اخبار کا الیکٹرانک اور انٹرنیٹ میڈیاکے ذریعے بطور ویب سائٹ تعا رف کرایا وہ قابلِ تحسین ہے ۔
آپ نے ان تین سالوں میں ثابت کر دیا ہے کہ بغیر کسی کمرشل مدد ’ اشتہار ات ’ کسی کے مالی تعاون اور بلیک میلنگ کے بھی صحافت ممکن ہے بلکہ یہی غیر جانبدار ’ سنجیدہ اور معیاری صحافت ہے۔ اور یہی شفا ف اور آزا د صحافت ہے ۔
آپ نے انٹرنیٹ اور ملٹی میڈیا کے آسمان پر اپنا ستارہ روشن کر دیا ہے جو انشااللہ اپنی پوری آب و تاب سے روشنی پھیلا کر ہمیں قارئین کو روشنی پہنچاتا رہے گا اور اپنے لکھاریوں اور قلمکاروں کو منّور کرتا رہے گا ۔ ہمیںآپ پر فخر ہے

نادیہ بخاری نوجوان صحافیوں میں پاکستانی صحافت کانمایاں نام ہے۔اس ننھی گڑیا کے باقی سب کام اپنی جگہ لیکن یہ احسان مندی کی دولت سے مالا مال ہے۔ جس کسی سے جو سیکھتی ہے یا فیض پاتی ہے اسکو یاد بھی رکھتی ہے اور موقع و محل کی مناسبت سے اسکا ذکر بھی کرتی ہے۔ عالمی اخبار کے بلاگ میں اگر چہ اس طرح شامل نہیں ہوتی جیسے پہلے بلا ناغہ ہو اکرتی تھی لیکن عالمی اخبار کو بھولی نہیں ہے۔ تھینک یو۔ گڑیا رانی نادیہ بخاری
شکریہ آپکا عالمی اخبار
عالمی اخبار آپ کو میں آپ کی تیسری سالگرہ کے دن بہت سی دعایٔیں دیتی ہوں کہ آپ دوستوں کے درمیان وجہ دوستی ہیں ۔کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اللہ نےآپکو صرف اور صرف میرے لیٔے بنایا ہے ۔
مجھے اپنا امریکہ کا وہ دورہ کبھی نہیں بھولے گا جو کہ آپ کی وجہ سے کامیاب ٹھہرا کہ آپ نے مجھے ظفر جعفری صاحب جیسے شفیق انسان سے ملاقات کا شرف بخشا ورنہ امریکہ کی ریاست اوکلاہاما میں میرا کون جاننے والا تھا ۔میرے ساتھ کے تمام صحافی حیران تھے کہ نادیہ کہ یہاں بھی جاننے والے موجود ہیں حالانکہ وجہ دوستی تو آپ تھے
یہ ہی نہیں مجھے ہمیشہ سے اردو ٹایٔپنگ کا خوف رہا آپ نے مجھے اردو ٹایٔپنگ کا حوصلہ دیا اور دیکھیں آج میں خود سے لکھ رہی ہوں اسی طرح جب میں لندن میں تھی اور اپنے والدین سے دور پہلی مرتبہ عید منا رہی تھی وہاںآپ کے اور میر ے محسن عمو جان صفدر ھمدانی اور انکی بیگم معروف ٹی وی ریڈیو نیوز اینکر ماہ پارہ صفدر نے مجھے پردیس میں دیس جیسی عید منانے کا موقع فراہم کیا ۔
آپ نے مجھے بہت پیار کرنے والے دوست دیٔے آج اس پر مسرت موقع پر میں دل سے آپکوآپکے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے والوں کو لمبی عمر کی دعا دیتی ہوں
نادیہ بخاری،لاہور،پاکستان