گلشن مرا ویران ہے
ہر اک شجر بے جان ہے
پنچھی اُڑانیں بھر چکے
آنے لگا طوفان ہے
سایہ ہی اپنے ساتھ ہے
ہر اک ڈگر ویران ہے
بے نام ہے میری طرح
قصہ بلا عنوان ہے
ظالم میرے حالات سے
تو ہی ذرا انجان ہے
جھوٹے بہانے مت بنا
جھوٹا ترا پیمان ہے
تجھ کو بھلا تو دوں
مگر کیا بھولنا آسان ہے
دل کی تباہی دیکھ کر
یہ عقل بھی حیران ہے
ملنا ہے اب تو موت سے
باقی یہی ارمان ہے