16.10.2026, 06:15pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر پیغامات تہنیت ۔حصہ دوئم ۔ .از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
03.11.2011, 01:05pm , جعمرات (GMT+1)

نگہت نسیم ۔عالمی اخبار سڈنی

بھکر سے بھائی محمد ثقلین رضا بہت پابندی سے کالم لکھتے ہیں ۔  بلاگ میں ضرور آتے ہیں  ۔۔ مجھے ان کی ایک بات بہت اچھی لگتی ہے ۔۔ وہ ہے ان کا انتہائی  معصومیت سے سوال پوچھنا اور جواب پر یقین بھی اسی خوش گمانی سے کرنا۔۔ ثقلین سیکھنے والوں میں سے ہیں اور سیکھتے ہوئے کسی بات کا برا نہیں مناتے بلکہ بڑی کسر نفسی سے اس کم کا اعتراف  کر لیتے ہیں  ۔ اپنی اس عادت کی وجہ سے  مجھے ثقلین بہت اپنے سے لگتے ہیں ۔ اتنے قلیل عرصہ میں انہوں نے اپنی زہانت اور شگفتگی کے باعث سب کے دلوں میں گھر بنا لیا ہے ۔ انہوں بہت ہی خوبصورت تحریر بھیجی ہے ۔۔آئیے پڑھتے ہیں ۔۔۔

ہم نے عالمی اخبار سے بہت کچھ سیکھا

ان دنوں مصروفیت کچھ زیادہ ہی بڑھ چکی ہے ' گویااپناآپ بھی فراموش کرچکے ہیں تاہم ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی ای میل نے یاد دلایا یکم نومبر کو ہماری چاہتوں 'امیدوں کی تیسری سالگرہ ہے' ہم نے چاہت اورامید کالفظ سوچ سمجھ کر لکھا ہے اس کے آگے چل کر وضاحت بھی کریں گے۔ فی الوقت اپنے بارے کچھ بتانا مقصود ہے کہ پاکستان کے ایک بہت چھوٹے سے شہر سے تعلق ہونے کے باوجود جس طرح سے عالمی اخبار کی انتظامیہ خاص طورپر باجی ڈاکٹرنگہت نسیم صاحبہ نے پذیرائی بخشی وہ یقینا ''سند امتیاز'' کادرجہ رکھتی ہے ۔ بہت پہلے کہیں پڑھاتھاکہ ''علاقے پسماندہ ہوں تو ترقی ممکن ہوسکتی ہے لیکن ذہن پسماندہ ہوجائیں تو ترقی خواب ہی رہتی ہے'' ہم یہ بات فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ بھکر پسماندہ ضرور ہے لیکن اس کے باسیوں کے ذہن پسماندہ نہیں ہیں۔ بہرحال عرض یہ کرنا ہے کہ آن لائن اخبار میں لکھنا ہمارا پہلا تجربہ تھابھرپور حوصلہ افزائی کی بدولت ہماری امیدوں' چاہتوں کا مرکز یہی اخبار بن چکاہے۔
پاکستان میں جس قسم کی صحافت رواج پاچکی ہے بلکہ الیکٹرانک میڈیا کی ''بھاگم بھاگ '' اس تیز ی کو''تڑکہ '' لگارہی ہے ایسے میں سنجیدہ اور وقار دور بھاگتا دکھائی دیتاہے ۔کسی بھی نجی چینل کو دیکھیں' کسی اخبار کامطالعہ کریں 'ہرسومایوسی' ناامیدی جھلکتی دکھائی دیتی ہے' یقین کریں کوئی بھی باشعور شخص کسی نجی چینل کاآدھ پون گھنٹے پرمحیط وہ ''ٹاک شو '' نہیں دیکھ پائیگا جس میں مختلف جماعتوں کے رہنمائوں کو اکٹھا کرکے ''الزامات '' کی بارش کرادی جاتی ہے درمیان میں اگر آگ ٹھنڈی پڑنے لگے تو میزبان (خاتون ومرد الاماشا اللہ ایک ہی جیسے روئیے کے حامل ہیں)تیل ڈال کر بجھتی آگ کو پھر سے تیز کردیتاہے۔ یہی صورتحال اخبارات کی بھی ہے۔اب تو یہی لگتاہے کہ مقابلہ خبریت کا نہیں سنسنی خیزی کاہے ' اخباری مالکان نے بھی الیکٹرانک میڈیا کی اپروچ کو دیکھتے ہوئے اخبارات کو بھی ''چٹخارہ'' ہائوس بناکررکھ دیا ہے۔
ایک اورخامی کی نشاندہی بھی ضرور کریں گے کہ اس تیز تر ہوتی صحافت نے بے شمار اورسنگین غلطیوں کو رواج دیا ہے انگریزی جملوں کے درمیان میں کہیں اگر اردو استعمال ہوتی بھی ہے تو وہ بھی اس طرح جیسے آٹے میں نمک ' بہرحال یہ تنقید ی جائزہ لینے کے بعد جونہی ''عالمی اخبار'' دیکھنے کا اتفاق ہوتو ہر باشعور انسان حیران دنگ رہ جاتاہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی اخلاقیات کے بل بوتے اور خالصتاً اردو لہجے کی حامل تحریریں اپنی مثال آپ دکھا ئی دیتی ہیں۔ پہلی دفعہ عالمی اخبار سے تعارف ہوا تو الیکٹرانک 'پرنٹ میڈیا سے چندھیائی آنکھوں کی وجہ سے یہ اخبار پھیکا پھیکالگا ' اس میں نہ تو وہ تندی'تیزی تھی جو الیکٹرانک پرنٹ میڈیا کاخاصا ہے ۔ جونہی آنکھوں کے سامنے سے رنگا رنگ پردے اتر ے تو پتہ چلا کہ حقیقت کیاہے
یہاں اپنی ایک غلطی کااعتراف بھی کرنا ضروری تصورکرتے ہیں کہ ہم نے عالمی اخبار سے بہت کچھ سیکھا ' بعض ایسے ''کڑوے کسیلے'' جملے جو ہم سالوں سے مقامی اخبارات کے صفحات پر بکھیر رہے تھے لیکن جونہی عالمی اخبار کا رخ کیا تو پتہ چلا کہ ''جذباتیت کی لہر میں بہہ کر لکھے گئے وہ جملے انسا ن کی روح تک زخمی کرسکتے ہیں'' کسی کا سیاسی صحافتی ' مذہبی کردا ر الگ 'کسی کی ذات کو موضوع بحث بنانا بذات خود ایسے ہی جیسا کہ بندہ اپنے آپ کو ہی ننگا کررہاہو۔حالانکہ اس خالق عظیم نے تو واضح ارشاد فرمادیا کہ تم بندوں کے عیب چھپاؤ میں تمہارے عیب چھپائوں گا۔ بہرحال عیب اور گناہ میں بڑا ہی فرق ہے' گناہ سے جرم تک کئی طرح کے مراحل آتے ہیں انہیں عیبوں میں شمار نہیں کیاجاسکتا ۔ ان جرائم پر پردہ ڈالنا بھی گویا گناہ کبیرہ ہے تاہم کسی کی ذات کو تنقیدکانشانہ بنانا قرین انصاف نہیں ' یہ سبق ہمیں عالمی اخبار نے دیا۔
دوسری بات کہ عالمی اخبار کے بلاگ میں داخلہ ہوا تو سائیں رحمت علی کے خوبصورت انداز تحریر نے متاثر کیا انہوں نے کٹھے میٹھے کے حسین امتزاج سے گویا بلاگ میں جان ہی ڈال دی' پھرجو ان پر تبصروں کی لہر چلی تو الامان والحفیظ ہم تو پوری طرح سے بھیگتے چلے گئے ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم کے علاوہ دیگر خوبصورت لکھاریوں کے انداز نے بیحد متاثرکیا یقینا یہ ایک خاندان ہے جس سے جان پہچا ن رکھنے والا بجا طورپر فخر محسوس کرتا ہے۔
ہم نے شروع میں چاہتوں 'امیدوں کی بات کی 'عرض یہ ہے کہ جب چہارسو ناامیدیوں کے اندھیروں کاراج ہو (جیسا کہ پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اخبارات کے صفحات اور الیکٹرانک میڈیا کے نیوز بلٹن' ٹاک شوز سننے 'دیکھنے پڑھنے والا مایوسی کی گہرائیوں میں جاگرتاہے) وہاں عالمی اخبارکا انداز صحافت یقینا اندھیروں میں چراغ جلانے کے مترادف ہے ' عالمی اخبار نے تیزی کے اس دور میں بھی روایت کو زندہ رکھا ہوا ہے ' ناامید کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں روشنی کی کرن محض اس امید پر جلارکھی ہے کہ کبھی نہ کبھی تو اجالا ضرور ہوگا ۔(انشا اللہ)
 رہی بات چاہت کی تو ہم اکثرکہاکرتے ہیں کہ چاہت وہ نہیں ہوتی جس میں کسی کو مائل کیا جائے بلکہ ہماری ڈکشنری میں چاہت وہ ہے جو خود بخود مائل کرے۔ یقینا اس معاملہ میں عالمی اخبار نے روایات قائم کی ہیں کہ ایک دفعہ وزٹ کرنے والا مہمان تھوڑے ہی عرصہ میں خود کو ''میزبان'' تصورکرنے لگتاہے۔ یقینا یہ عالمی اخبار کی چاہت کا ہی ثمر ہے کہ آج یہ خاندان ترقی کرتے کرتے ایک قبیلے کی شکل میں بدل رہاہے 'خداکرے کہ ناامیدی کے اندھیروں میں روشنی بن کر چمکنے والا یہ خاندان تازیست یونہی جگمگاتارہے۔
بہرحال مدیر اعلیٰ صفد رہمدانی'معاون مدیر اعلیٰ شمس جیلانی 'نائب مدیراعلیٰ ڈاکٹرنگہت نسیم سمیت تمام احباب کی خدمت میں یہی عرض کرنامقصود ہے کہ آپ گھٹاٹوپ اندھیروں میں گھری قوم کیلئے اس جگنو کی حیثیت رکھتے ہیں جو ظاہراً معمولی دکھائی دیتاہے لیکن اندھیرے میں امید کی کرن ضرور ہے۔ اتنی استدعا ہے کہ جب کوئی اندھیروں میں چراغ جلانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی دوگنا ہوجاتی ' یقینا اس کاادراک تمام احباب کو ہوگا ۔ خدا وند قدوس اپنے حبیبۖ کے طفیل عالمی اخبار کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی نصیب کرے اور اس حقیقی معنوں میں ''مشعل راہ '' بنائے کہ اس قوم نے بہت سے ''رہزنوں '' کو رہبر بناکر جو زخم کھائے ہیں اسکے بعد اس کا یقین بھی ٹوٹ چکا ہے اوراعتماد بھی۔
محمدثقلین رضا

اسلام آباد سے بھائی اکرام الحق اکثر اپنے کالم بھیجتے رہتے ہیں ۔ بلاگ میں بھی آنا جانا رہتا ہے ۔ حالات حاضرہ پر مشاہداتی نظررکھنے کی عادت نےانہیں رائے رکھنے والوں میں نمایاں مقام  دے رکھا ہے ۔ انتہائی حساس اور کئی ویب سائٹ کی دیکھ بھال کرنے والے اکرام کی مصروفیت اپنی جگہ پر عالمی اخبار سے ان کی محبت ایک طرف ۔۔ بھائی لکھتے ہیں ۔۔۔

تیری صبح روز روشن کبھی شام کو نہ پہنچے

السلام علیکم
عالمی اخبار سے میرا تعارف حادثاتی سا ہی تھا لیکن یہاں کے علمی و خوشگوار ماحول اور انتہائی قابل احترام محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے پر خلوص تعلق نے اسے ایک مضبوط اور مستقل رشتے میں تبدیل کر دیا۔ عالمی اخبار بالعموم اور بلاگ سیکشن بالخصوص بہت ہی معلومات افزا ہے۔  جہاں جا کر نہ صرف مختلف نقطہ ہائے نظر سے آگاہی ملتی ہے بلکہ قاری  سوچ و فکر کے نئے زاویوں سے بھی روشناس ہوتا ہے۔
پہلے پہل تو عالمی اخبار پر حاضری دینا روزمرہ کے معمولات میں شامل تھا شاید ابتدائے عشق تھا اور گرمی جذبات بھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غم دنیا نے کچھ اس طرح آلیا کہ بزبان حال کہنا پڑا کہ "تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے" ۔ لیکن اب بھی بلاگ سیکشن میں آنا اور اہل علم کے تبصرہ جات کا مطالعہ کرنا نہیں چھوٹا کیوں کہ "چھٹتی نہیں یہ کافر منہ سے لگی ہوئی"۔۔
یکم نومبر کو عالمی اخبار کی سالگرہ ہے۔  اس موقع اپنی نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار میرا فرض ہے۔ دعا ہے کہ
رہے یونہی جگمگاتا تیرا آفتاب قسمت
تیری صبح روز روشن کبھی شام کو نہ پہنچے

کراچی سے بھائی جعفر حسین نے بھی حال ہی میں قلمکاری شروع کی  ہے اور ایک بار پھر یہ سہرا بھی عالمی اخبار ہی کو جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے اس سفر کا آغاز ہماری اخبار سے ہی کیا ہے ۔ ان کی تحریروں میں ایسے مسائل  کا زکر ہوتا ہے جو بسا اوقات نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں لیکن جعفر بھائی انہیں دوبارہ سامنے لے آتے ہیں کیونکہ ان کاتعلق ہماری زندگیوں سے بہت گہرا ہوتا ہے اور ان کے اثرات بھی دیرپا۔ جعفر بھائی لکھتے ہیں ۔۔۔

آپی سلام
دیر سے حاضر ہونے کے لیے معذرت چاہتے ہیں اصل وجہ یہ ہے کہ ھمارے گھر کا انٹرنیٹ فی الوقت فوت ہوا ہے اور ھم آفس میں ہی نیٹ پر حاضر ہوسکتے تھے اور گذشتہ 3 دن سے پاکستان میں تعطیل تھیں دو ھفتہ واری اور ایک زرداری والی ۔ بہرحال عللمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اس کے بارے میں یہی کہیں گے کہ آپ نے اور بابا ھمدانی نے ھم کو بھی قلم پکڑنا سکھا دیا ورنہ ھم کیا ۔ ھماری حیثیت آج بھی ایک طالبعلم کی سی ہے اور دعا یہ ہے کہ عالمی اخبار دن دوگنی ترقی کرے اور ھم  اپنے علم کے پیاس بجھانے کے لیئے اس کے قافلے میں شامل رہیں ۔۔
آمین

 دوستو آپ سب کو بھی یقیننا جی میل پر  پابندی سے روزانہ ایک قرانی آیت معہ ترجہ کے اور ایک حدیث پاک موصول ہوتی ہو گی  ۔ اس صدقہ جاریہ کو عادت بنا رکھنے والے ہیں بھائی عمران الیاس ہی ہیں  جو انتہائی بردبار اور تحمل والے انسان ہیں ۔ مجھے لگتا ہے جیسے انہوں نے کبھی وقت ضائع نہیں کیا ہوگا ۔۔نہ اپنا نہ کسی اور کا ۔۔ ان کی تحریر وں میں ان کی سنجیدگی اور موضوع کی گہرائی انہیں کئی لکھنے والوں میں ممتاز رکھتی  ہے ۔ عمران الیاس بھائی کاہمارے کاروان میں ہونا باعث برکت ہے ۔۔ بھائی مبارکباد دیتے ہوئے لکھتے ہیں ۔۔

عالمی اخبار کی سالگرہ  کے موقع پرآپ سب ساتھیوں کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔

دُعا ہے کے یہ فورم یوں ہی ترقی کرتا رہے اور اِس کے ذریع یوں ہی ہم سب ایک دوسرے کے خیالات ، حالات ، واقعات اور مصروفیات سے باخبر رہیں۔(آمین)
ایک تجویز بھی منتظمین کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں ۔ اِس فورم میں کچھ ایسا نظام ترتیب کیا جانا چاہیے کے جونئی بلاگ بھی  شامل ہو۔ اُس کی تمام  ساتھیوں  کو بذریعہ ای-میل اطلاع مل جائے ۔ اِسکے دو فوائد ہیں، ایک تو فوراُُ  ساتھیوں کو اِس طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا ہم سب وہ ای- میل اپنے اپنے دوستوں کو بھیج کر اس فورم کی رونق مزید بڑھا سکیں گے۔
(شکریہ)
عمران الیاس

سیوڈن کی زمین دوستو کے حساب سے بڑی زرخیز ہے ۔ امجد شیخ ، سائیں رحمت اور عابدہ سیال وہاں رہتے ہیں اور یہ تینوں نام عالی اخبار کے لئے نئے نہیں ہیں ۔ عابدہ نے نیٹ پر اردو لکھنا یہیں سے سیکھا اور  سیکھنے سے کبھی تکلف نہیں کیا ۔ اور عابدہ کی یہی بات مجھے بے حد پسند ہے ۔۔ عابدہ لکھتی ہیں

عالمی اخبار کو تیسری سالگرہ کی دلی مبارک باد
اخبار کی وجہ سے ہم اتنے اچھے دوستوں کے خیالات سے شناسا ہوتے ہیں - اپنی زبان میں خبریں کیا ہی بات ہے ! اتنے   دور بسے ہوے دوستوں نے "سوشل زندگی  میں رنگ بھر دیا ہے - کبھی وہ تبصرہ کر کے  ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو  علمی بحث سے ہمارے علم میں اضافہ  کرتے ہیں ۔ پھر تنقید کا اپنا مزہ ہے جو ہمارے لئے مزید نئی نئی راہیں اور گرہیں کھولتی ہیں ۔اللہ پاک اتنی پیارے ساتھی کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے ۔آمین

آیئے اب ہم بات کرتے ہیں اپنے ادارتی بوڑد کے سب سے کم عمر رکن سے جن کا نام ہے عادل عزیز خانزادہ جو کراچی میں کارساز کالچ میں فرسٹ ایر کے طالب علم ہیں ۔ لیکن اان کی لگن ، جنون شوق تو دیکھئے کہ آج ہم سب کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ عادل کی انکساری اور شوق کو دیکھ کر میں بے اختیار دعا دینے بیٹھ جاتی ہوں کہ اس ہونہار بچے کو اللہ کریم ہر بری نظر سے بچا کر رکھے اور عمر میں برکت عطا فرمائے ۔ پچھلے کیہ ماہ سے ملٹی میڈیا کی ایک ایک وڈیو کو ترتیب دینے والے یہ طالب علم احسن طریقے سے اپنی زمہ داریاں پوری کر رہے ہیں ۔ یہی دیکھئے کہ اس بار سالگرہ کی وڈیو عادل ہی نے بنائی ہے ۔۔ دیکھئے تو وہ ہم سب کو  مبارکباد دے رہے ہیں ۔۔۔۔

میں عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ جناب صفدر ہمدانی کا بہت شکر گزار ہوں

میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پہلی مئی 1994 میں پیدا ہوا تھا ۔ اور اس وقت کارساز کالج میں  فرسٹ ایر کا طالب علم  ہوں ۔ مجھے مییڈیا اور براڈ کاسٹنگ کا شوق بچپن سے ہی تھا۔  ۔لیکن سچ تو یہ ہے کے مجھے مشکل کام کرنے کا بہت شوق ہے ۔ میں عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ جناب صفدر ہمدانی کا بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے صحافت کے شوق کو مزید آگے بڑھنے میں میری مدد کی ہے اور مجھے اپنے اخبار کے ملٹی مییڈیا میں جگہ دی ہے ۔
اس دور میں جب صحافت دنیا بھر میں اورخاص طور پر ہمارے پاکستان میں صرف تجارت بن چکی ہے۔ تو عالمی اخبار اس دور میں بھی کسی قسم کے مالی وسائل کے بغیر ان تین برسوں میں جو کامیابی حاصل کی ہے وہ آج کے دور میں خاص کر انٹرنٹ اخبارات کی دنیا میں بہت بڑا کام ہے اور بہت بڑی کامیابی ہے ۔

میں نے دنیا بھر کے آن لائین اخبارات دیکھے ہیں ۔ لیکن سچ تو یہ ہے کے اس دور میں جو معیارعالمی اخبار کا ہے وہ بلا شعبہ انٹرنٹ اردو اخبارات میں سب سے آگے ہے۔
میں اپنی ٹیم میں شامل سڈنی آسٹریلیا سے ڈاکر نگہت نسیم کا بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے ابتدائی دنوں ہی سے میری حوصلہ افزائی کی ۔ میں ان کی  اخبار سے اس درجہ وابستگی سے پہلے روز ہی سے بہت متاثر ہوں ۔ وہ جس  اعلیٰ انداز اور لگن  سے اپنا کام کرتی ہیں وہ ہم نئے آنے والوں کے لئے قابل تقلید ہے ۔
میں عالمی اخبار کے مدیر جناب صفدر ہمدانی اور ڈپٹی  ایڈیٹر ڈاکٹر نگہت نسیم اور ان تمام دوستوں کو عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں  جن کی بدولت آج عالمی اخبار نے یہ بے مثال کامیابی حاصل کی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مندرجہ بالا احباب کے علاوہ کچھ دوستو نے اس موقع پر اپنے پیغامات رومن میں ارسال کئے ہیں ۔عالمی اخبار اگرچہ اپنی پالیسی کے اعتبار سے اس پر سختی سے کاربند ہے کہ اردو رسم الخط کے نام پر رومن کا فروغ نا قابل قبول ہے لیکن سالگرہ کے اس موقع پر یہ سوچتے ہوئے کہ یہ دوست اظہار سے محروم نہ رہ جائے ہم ان کی مبارکباد من و عن رومن میں ہی اس درخواست کے ساتھ شائع کر رہے ہیں کہ آئیندہ سے ازراہ کرم اردو رسم الخط میں ہی اپنے پیغامات ارسال کرنے کی کوشش کریں ۔۔ شکریہ ۔

ادب شناس فریدہ لاکھانی سڈنی میں ایک عرصہ سے مقیم ہیں ۔ وہ افسانہ نگار اورشاعرہ  ہونے کے ساتھ تھ کالم نگار بھی ہیں ۔ سڈنی میں کئی ادبی انجمنوں اور جریدوں کی روح روا بھی ہیں ۔۔ اردو مشاعروں کے لئے بیرون ملک جانے والی فریدہ کو کئی زبانوں پو عبور حاصل ہے ۔ عالمی اخبار سے ان کا تعلق بہت پرانا ہے ۔ اپنی گوناں گو مصروفیت کی باوجود عالمی اخبار کے لئے لکھتی رہتی ہیں سو اس اہم موقع پر پیغام دینا کیسے بھولتی ۔۔ بڑی محبت سے لکھتی ہیں

Safdar Bhai ,Nighat aur tamam team ko:
AALMI AKHBAR kEY", salgira mubarak ho.Khuda karey zindagi ki har ahaT sey yehi awaz sunaee dey
key AALMI AKHBAR KHOOB TARAQQI KAREY.
Jub taraqqi ki dastak apna dar kholtee hai tou khwab haqeeqat mein badaltey,lehratey nazar atey
hain......Apney ehsas-e-masarrat ko bala kiye huey hoon aur duago hoon
key Aalmi akhbar aur oonchey zeeney chadhey...Ameen!
Duago
Farida Lakhany



 راحیلہ ظہیر چھ ماہ پہلے ہی  آسٹریلیا کے شہر پرتھ  پڑھنے اور جاب کے سلسلے میں آئی ہے ۔ راحیلہ ،  بھائی جعفر حسین کی بہن بھی ہیں ۔ مجھے جعفر بھائی سے کیا وعدہ نبھاہنا تھا سو جو فون نمبر انہوں نے مجھے دیا تھا اس پر راحیلہ کو خبر گیری  کے لئے فون کر دیا ۔ دوسری طرف سے انتہائی محبت بھری میٹھی سی آواز نے استقبال کیا ۔ حال احوال کے بعد موسم ۔ سیاست ، گھر داری  سے بات دل لگانے تک آ پہنچی ۔ بات جب جب دل لگانے کی ہوتو عالمی اخبار کی بات نہ ہو ۔۔ سارے ایڈریس نوٹ کروا کر فون بند ہو چکا تھا  ۔ راحیلہ کو عالمی اخبار بہت پسند ہے اورجیسے ہی اسے  اخبار کی تیسری سالگرہ کی خبر ہوئی اس نے بڑی محبت سے مجھے لکھا ۔۔۔

Dear Dr. Nighat
Hope you are fine and enjoying good health.
Ap ko Almi akhbar ki teesri salgirah boht boht mubarak ho.
I have found that its part of your valuable efforts for the mankind without  any discrimination. God bless you.
Best wihes
Raheela Zaheer


عالمی اخبار کے جرمنی کے لیئے بیورو چیف اور پاکستان کے سینئر فوٹو گرافر و صحافی بھائی طاہر ملک نے عالمی اخبار کی سالگرہ  پر اپنی محبت کا اظہار اس طرح سے کیا ہے

...............................................................................................................................................................................

اظہر الحق نسیم یوں تو راولپنڈی میں رہتے ہیں لیکن ہمیں تو ہمیشہ یہ لگا کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں۔اس لیئے کہ جب بھی کبھی پکارا،آواز دی اظہر ویر کو اپنے پاس ہی پایا۔ اظہر میں اور مجھ میں شاید سب سے بڑی قدر مشترک ..نسیم.. ہونا ہے۔اظہر کپمیوٹر کا ماہر ہے لیکن مشین کے ساتج رہ رہ کر رشتوں کے احترام اور تسلسل کو کبھی نہیں بھولا۔ میرا یہ ویر عزم و ہمت کا ایک پہاڑ ہے۔اظہر کوکوئی کام کہو کبھی نا نہیں کرتا اور سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ پاک نے اظہر کو احسان مندی کی دولت سے نوازا ہوا ہے۔عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر بھی اظہر کی سپاس گزاری دیدنی ہے


‎چُھٹی لینا بھی کون چاہتا ہے

‎کہنے کو تو اردو کی بہت ساری ویب سائٹس ہیں ، جو اپنے قارئین تک تازہ ترین خبروں سے لیکر عام گفتگو تک پہنچاتی ہیں ، مگر عالمی اخبار ان سب میں ایک نمایاں حیثیت کی حامل ویب سائٹ ہے ، جہاں بظاہر تو سب ملتا ہے ، مگر ہر ایک خبر اور ہر بلاگ پر ایک واضح رنگ نظر آتا ہے اور وہ رنگ ہے ، محبت کا ، حب الوطنی کا اور اردو سے لگاؤ کا ، اور یہاں قارئین ملتے ہیں ، صفدر ہمدانی جیسے شاعر اور دانشور سے ، نگہت نسیم جیسی لکھاری اور محبت بھری ڈاکٹر سے ، زرقا جیسی ادب نواز سے ، شمس جیلانی اور بجو جیسے بزرگوں سے ، اور شاہین ، عالم آراء اور روبینہ فیصل جیسی ٹیم سے ، جو ہر پل ہر گھڑی اپنے پڑھنے والوں کو سحر میں جکڑنے کے لیے تیار رہتی ہے ۔
‎خبروں کا انتخاب اور ان میں خبریت کا عنصر ہی کسی بھی اخبار کو دوسروں سے مختلف بناتا ہے ، ہم جانتے ہیں ، کہ ہر کوئی اپنی اپنی پسند کی انفارمیشن چاہتا ہے ، چاہے وہ کوئی بھی موضوع ہو ، نگار خانے سے لیکر سیاست کے عقوبت خانے تک ، جنگ کے میدان سے لیکر کھیل کے میدان تک ، جہاں خبریں بنتیں ہیں ، اور افواہیں گردش کرتیں ہیں ، خبر اور افواہ کے درمیان شاید ایک باریک لائن ہوتی ہے ، جو چند صحافی ہی دیکھ پاتے ہیں ، اور عالمی اخبار کی خوش قسمتی کہ اسے ایسے صحافی میسر ہے جو افواہ کی اصلیت اور خبر کی جامعیت کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ دوسرے قارئین تک بھی پہنچاتے ہیں ۔
‎عالمی اخبار کا ایک اور اعزاز ہے اسکے ساتھ منسلک ادبی افراد کا ہونا بھی ہے جو قارئین کے لیے معیاری ادب پہنچاتے ہیں ، وہ چاہے شاعری ہو افسانے ہوں یا پھر ادبی تنقید و تعریف ، غرض قاری وہ سب پاتا ہے جو اسے دوسری ویب سائٹ میں کم ہی میسر آتا ہے ۔
‎مجھے خوشی ہے کہ میں ایک ایسے اخبار سے لنک ہوں جو ایک ادارہ ہے ، جہاں ایک ذہنی تربیت ہوتی ہے ، اور اپنی بات کہی اور سُنی جاتی ہے ، یہ ہی وجہ ہے کہ میں جب عالمی اخبار کی بات کرتا ہوں تو مجھے ایک مدرسے کا خیال آتا ہے جہاں کا میں ایک طالب علم ہوں ۔ اور نالائق طالب علم رہنا چاہتا ہوں ، تا کہ ہمیشہ اس مدرسے میں رہوں ۔  اور ویسے بھی مجھے یقین ہے کہ یہاں سبق یاد کرنے پر چُھٹی نہیں ملے گی  ۔ ۔ ۔ ۔ اور چُھٹی لینا بھی کون چاہتا ہے !!!!!!!!!!!!!

میری پیاری آپا عالم آ را جو عالمی اخبار  کی وینکوور کی بیورو چیف ہیں ۔  مجھے ان سے بہت انس ہے ۔ میں ان کے خلوص اور محبت کی قرضدار ہوں ۔ وہ جتنی پابندی سے میرا حال پوچھتی ہیں اتنی پابندی سے تو میں خود خود سے نہیں ملتی ۔ ان کی صلح جو طبعیت ان کی تحریر کی  ایک ایک سطر سے چھلکتی ہے ۔ کسی کو ناراض کرنا تو دور کی بات ہے وہ دو افراد کو آپس میں ناراض ہوتا تک نہیں دیکھ سکتیں ۔ پڑھنے کے لئے اپنی نئی ایک کتاب کی بجائے دو کتابیں بھجوانے والی آپا سے میں محبت کرنا سیکھ رہی ہوں ۔۔ انہوں نے لکھا ہے
 
پیاری بہن نگہت  اللہ تمہیں ہمیشہ شاد و آباد رکھے ۔ 
 اسلام علیکم ساتھیو

اتنی ساری سالگرہوں کہ درمیان ماشاء اللہ عالمی اخبار کی سالگرہ بہت بہت مبارک سب لکھنے والوں کو بھی اور سب پڑھنے والوں کو بھی ۔ اللہ رب العزت اس اخبار کو دن دونی اور رات چوگنی ترقی دے ۔
      محترم شمس بھائی کی مبارکباد بے حد خوبصورت ہے ۔لکھتے ہوئے خوشی ہورہی ہے
      میں بتا ؤں کیا تمہیں کیا “عالمی اخبار” ہے
      جس کا میرِ کارواں خود صفدرِ جرار ہے
      جھوٹ پا ؤگے نہیں جس کا ہے سچائی شعار
      اس میں جو بھی لکھ رہا ہے صاحبِ کردار ہے
یہاں میں اُن تمام ساتھیوں کے ساتھ کھڑی ہوں جن کا کہنا ہے کہ عالمی اخبار اپنے بانی اور اُن کی دستِ راست کا مرہونِ منت ہے ۔ کہ اتنے سارے لوگ ایک اسٹیج پر آکر اپنی اپنی بات بلا جھجک کر جاتے ہیں ۔کیونکہ محترم صفدر ھمٰدانی بھائی اور بہن نگہت نسیم ایسے استقبال کرتے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ ہم نئے ہیں اور یہ بات ہر ایک کا خاصہ نہیں ہوتی ۔
اختلافِ رائے ایک مثبت عمل ہے جو اپنی خرابیوں کو سنوارنے کا موقعہ فراہم کرتا ہے ۔اور اسے دل والے ہی قبول کرتے ہیں ۔یہاں بھی عالمی اخبار بہت امیر ہے کہ اس پر تنقید بھی ہوتی ہے اور وہ اس کا مثبت جواب بھی دیتا ہے کہ خامیوں سے خالی کوئی نہیں ۔
 میں اُن تمام بھائیوں اور بہنوں کی انتہائی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے اس محفل میں غیریت محسوس ہی نہ ہونے دی ۔عالمی اخبار کے لئےمیری دعا ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ حسین سالگرہیں منائے اور سب لکھنے والے اسی طرح محبت اور خلوص کی ڈوری میں بندھے رہیں ،۔
میں بخیر و عافیت واپس آگئی ہوں الحمدُ للہ لیکن ابھی تک تھکن نہیں اتری ہے ۔ مگر عالمی اخبار کی سالگرہ نے جاگنے پر مجبور کیا ۔نثر میں لکھنا مشکل لگا تو نہ جانے کیسے یہ سب کچھ لکھ لیا اگر اچھا لگے تو پبلش کرنا ورنہ میری مبارکباد لکھ دینا ۔کہ یہ سالگرہ ہم سب کے لئے بہت اہم ہے کہ یہ عالمی اخبار کی سالگرہ ہے ۔
عالمی اخبار نے عالم دکھایا ہے ہمیں
ہے ھمٰدانی ،نگہت اور شمس کا اس میں ظہور

عالمی اخبار ہے عٰالم پہ یوں چھایا ہوا
علم کا زیور ہے اِس نے سب کو پہنایا ہوا

گر بلاگوں پر چلے جائیں تو اک میلہ لگے
تبصرہ ہر اک انگوٹھی میں جڑا نگینہ لگے

جب لکھے اقبال کیانی علم کا دفتر کُھلے
فاطمہ ابرار کا ہر تبصرہ دل کو چھوئے

شاھین تو شاھین ہے اُس کا تو ہے کہنا ہی کیا
عالمی خاندان کو دیتی ہیں وہ بس پیار ہی پیار

ہے شِفا خانئہ بجو میں شِفا سب کے لئے
شمس بھائی کی نصیحت آسرا سب کے لئے

مصباح کی باتیں پڑھیں تو دل میں حرارت سی بڑھے
فریدہ کی تحریر سے ہر حوصلہ ہر چاہ بڑھے

دل کو تھامے ہیں کہیں منظور قاضی کے تبصرے
اظہر کی تحریر سے سجتے ہیں سارے تبصرے

کالموں کے لکھنے والے ہیں ستونوں کی طرح
عالمی اخبار کو دیتے ہیں وہ سارے جِلاء

ہیں ترازی بھی ہمیشہ اک نیا موضوع لئے
زرقا کی تحریر بھی ہے روشنی سب کے لئے

عالمی اخبار نے سب کو سمیٹا اس طرح
اِک قدم آگے بڑھو وہ دو قدم آگے بڑھے

مناف کی گرافک سے سجتا ہے اِس کا ہر اک صفحہ
اصغر انصاری بھی شامل ہوگئے ہیں اِس دفعہ

ہیں محمد ادریس کھیلوں کی خبر لاتے ہوئے
اور مظہر ہر دفعہ کارٹون سے ہنساتے ہوئے

ہیں روبینہ بھی یہاں پوری طرح سے جلوہ گر
اور خاور چودھری بھی عالمی کے با ہنر

عالمی اخبار کی سب کو مبارک سالگرہ
لکھنے والوں کو ہمیشہ اِس نے دی ہے کھلی راہ

عالمی اخبار نے میلہ سا اک لگا دیا
جس کا چاہے جتنا چاہے علم سے جھولی بھرے
ہے دعا میری رہے یہ عالمی اخبار یوں
جیسے ہو منبع محبت چلتا رہے اِس کا فسوٍن

 بہن نگہت نسیم ،بھائی صفدر ہمٰدانی کو اپنی کاوشوں کی تیسری سالگرہ بہت بہت مبارک اور اپنے  تمام ساتھیوں کو بھی مبارکباد ۔اللہ کرے یہ اخبار پھلتا پھولتا رہے اور سب  کو اسی طرح خوشیاں بانٹتا رہے۔
      عالم آرا ۔ وینکور

لیجئے سائرہ کو بھی یاد آگیا کہ اوہ ہو آج تو عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ ہے ۔ سائرہ ۔۔ جی آیا نوں ۔۔ کوئی بات نہیں بچوں اور جاب میں ایسا ہو جاتا ہے ۔ سائرہ اتنی پیاری ہے کہ میں بتا نہیں سکتی ۔۔ مدھم میٹھے لیجے والی سائرہ بھلے دیر سے آئے ۔۔ چاہے تو کئی دن آئے ہی نہ لیکن ایسا کبھی ہوا ہی نہیں کہ وہ نہ آئے ۔ میری سائرہ سے ملاقات لندن میں ہوئی تھی  جو ابھی تک مجھے یاد ہے اور  اس کی یاد دلاتی رہتی ہے ۔ سائرہ کی شاعری میں ایک خاص تمکنت بھرا رچاؤ اور اسلوب میں نسوانیت ہے جو صرف سائرہ کا خاصہ ہے ۔۔ مجھے لگتا ہے کہ شاعری  کو بتانا چاہئے کہ وہ کس کی ہے ۔۔ یعنی احساسات اور محسوسات کا فرق اور توازن رکھنا اور وہ بھی ایسے کہ وہ شعر سب کو اپنا بھی لگے یہی شاعری کا سب سے بڑ احسن ہے ۔۔ ایسی ہی حسین شاعری کرنے والی سائرہ  لکھتی ہیں ۔۔۔

پیاری نگہت آپی اور میرے بہت پیارے صفدر بھائی

آپ کی نالائق بہن ہمیشہ کی طرح دیر سے حاضر ہو رہی ہے مگر یقین کیجئے عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پرآپ سب کی طرح میں بھی بہت خوش ہوں کیونکہ میں نے اس کلی کو چٹکتے دیکھا تھا یہ کلی جو اب کھل کر ایک بہت ہی خوشنما پھول بن چکی ہے اس کی خوبصورتی اور اس کی رنگت آپ جیسے حق و صداقت کے امیں لوگوں کے حوصلہ اور انتھک محنت کا نتیجہ ہے. اس عہد بے بصر میں جہاں ہر شے دولت اور روپے پیسے کے ترازو پر تولی جاتی ہے وہاں  سچ کو عام کرنے اور جرآتوں کا سبق دینے والوں کا انعام صرف طعنہ تشنیع ہی ہوا کرتے ہیں اور یہ سودا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں . خیر میں بھی کیا لے بیٹھی کہنا یہ تھا کہ
 میرے پیارے عالمی اخبار
(تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ)
تم پھولو پھلو ہزاروں سال اور ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
میری طرف سے آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو.

سائرہ بتول ۔لندن

برمنگھم میں مقیم جرمنی والے  آویز بھائی کی آمد ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے ۔ ان کی گاہے گاہے بلاگ پر آمد ہر لکھنے والے کے لئے ایک حوصلہ بن جاتی ہے ۔ آویز بھائی انتہائی شفقت کرنے والے انسان ہیں ۔ اپنی بے لاگ رائے سے نہ صرف اپنا خیال اور نظریہ بتانے میں کوئی جھجھک محسوس کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے خیالات پر مثبت تنقید بھی کرتے جاتے ہیں ۔ آویز بھائی کی توسط سے بھائی جاوید اقبال کیانی بھی بلاگ کے معزز رکن ہیں جو آج کل پاکستان  گئے ہوئے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ پاکستان میں انکو کمپیوٹر میسر نہ ہو ورنہ بھی سالگرہ پر لکھتے۔  آویز بھائی کی مبارکباد کا انداز بھی انکی طرح منفرد ہے۔



 دہلی سے ڈاکٹر بھائی خواجہ اکرام میرے بے حد لاڈلے بھائی ہیں ۔ اور یہ “ لاڈلے بھائی “ کا تخلص  محترم المقام جانب صفدر ہمدانی نے  انہیں دے رکھا ہے ۔ میں ہمیشہ سوچتی ہوں کہ  ایک تو ڈاکٹر بھائی اتنی دور رہتے ہیں ۔۔۔ اتنی محنت سے مسلمانوں کا نام بنائے ہوئے ہیں ۔۔۔ پابندی سے بلاگ اور کالم لکھتے ہیں ۔۔ ہم سب کی تحریروں کو اپنی ویب سائٹ پر بھی لگاتے رہتے ہیں تاکہ بھارت میں بھی پڑھی جائیں ۔۔ بھلا بتائیں کیسے نہ میرے لاڈلے بھائی ہوں ۔ یقین جانئے بھائی  اتنے اچھے ہیں کہ انہوں نے کبھی نہیں پوچھا کہ میری بہن آپ کو کئی ہفتے پہلے کالم یا سفر نامہ بھیجا تھا ابھی تک اشاعت میں کیوں شامل نہیں کیا ۔۔ اور کئی بار ایسا ہوا ہے کہ مجھ سے وقت پر ان کے کالم لگنے سے رہ گئے پھر بھی اکرام بھائی نے کبھی مجھے شرمندہ نہیں کیا ۔۔ میں اپنے ڈاکٹر بھائی کے ظرف اور مروت  کی قدردان ہوں ۔۔ بھائی لکھتے ہیں

کامیابی و کامرانی کی تین سال مبارک
 
مبارک باد قبلہ ہمدانی صاحب کو،بہن ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کو اوراس سے منسلک  تمام احباب کو  ، مجھے خوشی اس بات  کی ہے کہ ان تین برسوں میں یہ عالمی کنبہ مسلسل ترقی کی طرف گامزن ہے۔ میں اسے اخبار کے بجائے کنبہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس سے منسلک تمام قلمکار اور  منتظمین ایک فیملی کی طرح جڑے ہوئے ہیں ۔ اکثر بلاگز اور اور کالم کی تحریروں سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ  محترم صفدر صاحب  اور نگہت نسیم صاحبہ  کی  ذمہ دارانہ اور قائدانہ صالحیتوں کے ساتھ ایک خاص بات ہی بھی ہے  یہ کبھی اپنے قلکاروں  کو کبھی  خاموش بیٹھنے نہیں دیتے وقتا ً فوقتاً اپنے خوبصورت لب ولہجے سے مہمیز کرتے رہتے ہیں ۔ یہ بڑی بات ہے کہ اس کنبے سے جڑے افرادایک دوسرے سے  قلبی لگاو رکھتے ہیں اور قلمکار بھی ایک دوسرے کو اسی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں۔
عالمی اخبار کی ایک اہم صفت یہ بھی  ہے  ہمیشہ غیر جانبداری سے کام لیا ہے  کسی رپورٹ ، بلاگ اور کالم سے صحافت کے تقدس کو ٹھیس نہیں لگی ہے۔ورنہ سال گذشتہ میں کئی اہم واقعات سامنے آئے جن میں جانبداری برتنے کا بہت موقع تھا ۔ لیکن شکر ہے کہ  ہر طرح کی آلائشوں سے پاک رہا ۔ مستقبل  کے لیے امید بھی رکھتا ہوں اور دعا بھی کرتا ہوں کہ مزید نکھار آئے اور مزید ترقیوں سے ہمکنار ہو۔
تیسرے سال کی مبارک باد دیتے ہوئے قارئین کو ایک خوشخبری بھی دینا چاہتا ہوں کہ عہد حاضر میں بلاگ ایک نئی صنف کے طور پر اپنے وجود کو ثابت کر رہی ہے او ر مستقبل میں یقیناً ادب میں اس اسلوب کو ایک نئی صنف کے طور پر شناخت ملے گی۔ اس حوالےسے میری ایک کتاب  ‘‘ اردو کا تکنیکی افق ’’ انشا اللہ دسمبر تک شائع ہوجائے گی ۔  یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ، پہلے حصے میں نئے تکنیکی وسائل پر بات ہوگی اور دوسرے حصے میں بلاگ کی کئی  تحریریں بطور نمونہ شامل ہیں، اس حصے میں عالمی اخبار کے بلاگ کو بھی میں نے منتخب کیا ہے اور بہن نگہت نسیم سے اس کی پیشگی اجازت بھی لے لی تھی ۔
اب صفدر صاحب اور نگہت نسیم صاحبہ سے یہ اجازت بھی چاہیے کہ میں اسے عالمی اخبار کے نام معنون کر سکوں۔ اور اس عالمی کنبے کو ہندوستان کی جانب سے یہ تحفہ پیش کرسکوں۔

میری بہن فاطمہ ابرار سے پہلے دن سے ہی میرے قریب ہیں ۔ ان کے پاس محبت ، شفقت  اور علم کی زنبیل ہے جس کو وہ بڑی فراخدلی  سے  سب پر لٹاتی رہتی ہیں ۔ لیکن غزل اور تبصروں کے لئے  تھوڑا سا اصرار کرواتی ہیں کہ انہیں وہم ہے کہ ان کا علم فورم کے صاحب علم احباب کے سامنے بے حد کم ہے  ۔۔یقیننا یہ فاطمہ کا وہم ہی ہے ۔۔۔ لیکن مجھے ان کے ناز اٹھانا ۔۔ان سے ضد کر کے تبصرے اور غزل لکھوانا بہت اچھا لگتا ہے ۔ مجھے ان سے فون پر باتیں کرنا بھی اچھا لگتا ہے ۔ ایک اور بات بتاؤں اگر میں انہیں چار دن نظر نہ آؤں تو ان کے برقی خطوں کی تو جیسے ڈاک بیٹھ جاتی ہے ۔۔اور میرا دل چاہنے لگتا ہے کہ وقفہ طویل کردوں  تو شاید فاطمہ میری خیریت کے لئے سڈنی ہی پہنچ جائیں ۔۔ لیکن پھر ایسا ہوتا ہے کہ مجھ سے ان کی بے چینی دیکھی نہیں جاتی ۔۔ سو یوں کئی خوبصورت سے پل ہمارے پاس رہنے آجاتے ہیں ۔۔ فاطمہ لکھتی ہیں

یہ علم ھاتھ میں جو عالمی اخبار کا ھے

عالمی اخبار میں میری آمد جناب محترم صفدر ھمدانی کے توسط سے ھوئی وہ میرے لیئے استاد کا درجہ رکھتے ھیں انھوں نے مجھے اردو ٹائپنگ کے طریقے سے لیکر بلاگ کی رسم الخط تک میں میری رھنمائی کی کئی جگہ میری کم علمی نے ان کو پریشان بھی کیا لیکن جب ھمدانی صاحب کسی سے کام کرانے کی سوچ لیں تو اسکی انگلی پکڑ کر چلنا بھی سکھاتے ھیں محبت انسانی جبلت کا ازلی تعارف ھے اور یہ تعارف زندگی کو تحفظ اپنا پن عطا کرتا ھے اور عالمی اخبار میں سب نے ھی اور خصوصا ڈاکٹر نگہت نسیم نے میری جھولی کو اپنی بے لوث مححبت سے بھر دیا عالمی اخبار کی تمام ادارت اور لکھنے والوں نے اخبار کے کام کو زندگی کا حصہ بنایا ھوا ھے اور وہ اپنے شب وروز کی بہترین ساعتیں اخبار کے حوالے کی ھوئی ھیں میں اب عالمی اخبار سے اسطرح جڑ چکی ھوں
میں ھر وقت اپنے آپ کو آپ سب کے درمیان محسوس کرتی ھوں خدا ھماری محبتوں اور معاونتوں کو یونہی بنائے رکھے آمین اور عالمی اخبار یونہی اپنی عمر کے منازل کو طے کرتا ھوا درجہ کمال تک پہنوچے آمین چند اشعار آپ حضرات کی نظر ھیں پسند نہ بھی آئیں تو کوئی بات نہیں میرے دل کی آواز ھے
                                             یہ علم ھاتھ میں جو عالمی اخبار کا ھے
                                            زندگانی کے تقاضوں کا ھے 'معیارکاھے
   
                                            تین برسوں میں سمیٹا ھے جو صدیوں کاسفر
                                           کیا یہ کم معجزہ  'اس آہنی  کردار  کا ھے

                                         جو بھی صفحات یہ قرطاس پہ کرتے ھیں  رقم
                                           نرم ونازک ساقلم 'حوصلہ تلوار کا ھے
        
                                           ھو جہاں ظلم وھاں روح  مچل جاتی ھے
                                           مسلہء یہ تو فقط  دیدہء بیدار  کا 


بڑوں کا احترام کرنے والی سیدہ ثمرین بخاری ہم سب کو بے حد عزیز ہے ۔ گو کہ ثمرین کے قلمی سفر کا ابھی آغاز  ہوا ہے اور اس کا سفر ہماری اخبار ہی سے  شروع ہوا ہے ۔ لیکن جس قدر جلد اس نے سیکھا ہے اس سے اس کی محنت ، شوق اور لگن کا اندازہ  کیا جا سکتا ہے ۔ اور یہ کسی کے لئے بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ مستقبل میں ثمرین  کا نام بہت دور تک سنا جائے گا ۔ ثمرین نے مبارکباد بھجواتے ہوئے لکھا ہے

السلام و علیکم
مُجھے آپی کی میل ملی جس میں ذکر تھا کہ ہمارے اس خوبصورت گھر عالمی اخبار کے قیام کو خیر سے تین سال مکمل ہو گئے ۔ اور اس حوالے سے تمام اہل خانہ سے درخواست ہے کہ اپنے جذبات کو لفظوں کی صورت ڈھال کر انہیں روانہ کر دیا جائے تاکہ عالمی اخبار کی سالگرہ کے معوقع پر سب تک ہر فرد کی مبارک باد پہنچ جائے ۔
میں عالمی اخبار کو دل سے گھر اس لئے ہی مانتی ہوں کیونکہ گھر وہ جگہ ہوتی ہے جہاں بچہ چلنا سکھتا ہے ، بولنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا سیکھتا ہے ۔ میں نے بھی اسی گھر سے ابتدا کی تھی میرے اپنے گھر سے ۔ مُجھے یہاں پر سب کا پیار ملا ، تھوڑی تھوڑی ڈانٹ بھی ملی جو میں جانتی ہوں کہ میری ہی اصلاح کے لئے تھی ۔ مُجھ پر میرے پیاروں کی  نارضگی کسی ضرب کی طرح تھی ۔ لیکن مُجھے احساس ہوتا گیا کہ ڈانٹ کی صورت پڑنے والی ہرضرب میرے نقش کو ایک بہتر صورت دے رہی ہے
  میری ماں جی ہمیشہ کہتی ہیں کہ انسان کتنی ہی منازل طے کر لے لیکن منزل کو جاتے راستے پر پہلا قدم بہت ہی عزیز اور یاد گار ہوا کرتا ہے ۔ اور سچ میں میرے پہلے قدم پر مُجھے میرے گھر عالمی اخبار سے  بہت عزیز ائر بہت پیارے سر صفدر  سے آپی سے اور تمام اہل خانہ کی جانب سے بے حد پیار ملا ۔ آج میرے گھر کو خدا نے تیسری خوشی عطا کی ہے اور میری دلی دُعا ہے کہ جب تک میری سانس میں سانس ہے میں اپنے پیارے عالمی اخبار کے گُلشن کو ہمیشہ آباد اور مہکتا دکھوں الہی آمین ۔
مُجھے یہ نظم ہمیشہ سے میرے دل کے بہت نزدیک رہی ہے ۔ میرے بہت اپنوں کی جب بھی سالگرہ ہو میں اس نظم کو اس مبارک میں ضرور استمعال کرتی ہوں بات یہ نہیں کہ لفظوں سے کوئی اور دُعا کی مالا نہیں بنائی جا سکتی بات فقط اتنی ہے کہ اس میں  نظم میں خلوص کا ہر وہ رنگ شامل ہے جو کوئی بھی اپنے بہت عزیز کو دینا چاہئے گا ۔ ممکن ہے کہ آپ سب نے یہ پہلے بھی کئی بار پڑھی ہو ۔ مگر میرے دل سے میرے پیارے عالمی اخبار کے لئے یہ ہی سب خلوص اور دُعائیں ہیں کہ یہ صدا آباد رہے اس گھر کا ہر فرد شاد و آباد رہے اور جب تک ہم لوگ ہیں اس وقت تک اور ہمارے بعد آنے والے بھی اس کی سالگرہ ہر سال مناتے رہیں ۔ خدا سچ بولنے کی روش پر چلتے ہمارے پیارے عالمی اخبار کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا کرے الہی آمین ۔۔۔
آپ تمام اہل ِ خانہ کو عالمی اخبار پڑھنے والے ہر فرد کو عالمی اخبار کی سالگرہ بہت بہت مبارک ہو ۔ ہم آپ تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور آگے بھی اُمید رکھتے ہیں کہ آپ تمام افراد کی محبتیں اور ساتھ ہمیشہ یو ہی بنا رہے گا ۔
دُعا گو
سیدہ ثمرین بخاری
پیارے عالمی اخبار تم کو تمھاری سالگرہ بہت بہت مبارک ہو ۔۔
عالمی اخبار کے نام

یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہو
تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

کبھی نہ آئے کوئی غم بھی قریب تیرے
جہاں میں سب سے ہوں اچھے نصیب تیرے

خلوص و پیار بھری دوستی مبارک ہو
تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

خدا کرے کہ ہوں فرشتے سپاہ میں تیری
بچھائیں پھول سبھی لوگ راہ میں تیری

شفق کے رنگ صدف چاندنی مبارک ہو
تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

سبھی کے ہاتھ اُٹھے ہیں اسی دُعا کے لئے
مسرتیں تجھے حاصل رہیں صدا کے لئے

نئے دوست نئی زندگی مبارک ہو
تجھے  یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

وہ رفعتیں ہوں کہ بلندی بھی تجھ پر ناز کرے
تیری یہ عمر خدا اور بھی دراز کرے

( الہی آمین )

:دیگر مضامین
(02.11.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر پیغامات تہنیت ۔حصہ اول۔ .از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(30.10.2011) کراچی سے محمد احمد ترازی کو عالمی اخبار کی طرف سے دوسرا ” مصطفی علی ہمدانی ایوارڈ ” ۔
(30.10.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کے موقع پر عادل عزیز خانزادہ ملٹی میڈیا کے انچارج متعین
(30.10.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کے موقع پر سید اکمل حسین کی ادارتی بورڈ میں شمولیت
(29.10.2011) انجمن ادب اردو واشنگٹن ''سول'' کا ماہانہ اجلاس 30 اکتوبر اتوار کے روز منعقد ہو گا
(22.10.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 55ویں قسط
(18.10.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔20ویں قسط
(18.10.2011) حسینی اسلامک مشن آئزل ورتھ لندن کے سابق صدر سید مسعود رضوی کی تدفین
(17.10.2011) عروف ترقی پسند مصنف، صحافی، فلمساز ، شاعر اور کالم نگار حمید اختر کا انتقال
(17.10.2011) ممتاز ادیب اور نقاد منشا یادکو اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ہے
(15.10.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 54ویں قسط
(15.10.2011) ومبلڈن کمیونیٹی سنٹرمیں بزمِ اُردو لندن کی جانب سے ایک محفلِ شعرو سخن
(09.10.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔19ویں قسط
(06.10.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 53ویں قسط
(02.10.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔18ویں قسط
(28.09.2011) جرمنی سے ارشاد ہاشمی کا خط شریف اکیڈمی کے شفیق مرآد کے نام
(25.09.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔17ویں قسط
(21.09.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 51ویں قسط
(18.09.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔16ویں قسط
(17.09.2011) بزم اردولندن کے زیر اہتمام ومبیلڈن میں ایک محفلِ مشاعره ہو رہی ہے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں