
یوں تو دیگر عمارات کی مانند یہ عمارت بھی زیر ِ تعمیر و مرمت تھی مگر اپنی اصل حالت میں بدستور موجود تھی۔ اسکے دروازے پر ان دو جلیل القدر ہستیوں کے اسمائے گرامی مرقوم تھے جو اس کے احاطے میں مدفون ہو کر تشنگان ِ نور کے واسطے تجلیات بکھیر رہے تھے۔ ایک شخصیت کا نام تو امامزادہ احمد بن محمد علیہ السلام تھا جبکہ دوسری ہستی جناب حضرت موسٰی مبرقع ابن امام تقی الجواد علیہ السلام تھے۔ ان دونوں اصحاب کی قبور ایک ہی ضریح کے اندر موجود ہیں۔
داخلی دروازے کی بالائی دیوار پر حضرت موسٰی مبرقع (ع) کا زیارت نامہ درج تھا جبکہ دائیں جانب والی دیوار پر آپکا شجرہءنسب اور شخصیت نامہ۔ اس شخصی تعارف کی پہلی سطر نے مجھے وہیں جامد و ساکت کردیا کیونکہ وہ سطر مجھے بتا رہی تھی کہ اس وقت میں اپنے جد ِ اعلٰی کے مرقد پر حاضر ہوں۔ وہاں لکھا تھا کہ حضرت موسٰی مبرقع، امام علی بن موسٰی رضا علیہ السلام کے پوتے، امام تقی الجواد علیہ السلام کے فرزند اور امام علی النقی علیہ السلام کے برادر ہیں۔ آپ امام تقی علیہ السلام کے وہ فرزند ہیں جنکی بدولت سادات ِ رضویہ تمام عالم میں آباد ہیں۔ آپکی کنیت ابو جعفر اور ابو محمد تھی۔ اور مبرقع آپکا لقب یوں پڑا تھا کہ آپ حسن و جمال کا ایک ایسا سراپا تھے کہ نگاہ کرنے والے مبہوت ہوکر آپ پر فریفتہ ہو جاتے تھے، جسکی بنا پر آپ اپنے رخ ِ انور پر برقعہ ڈالے رکھتے تھے۔ تمام امامزادگان میں آپ کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہے۔ علم، زہد، تقوٰی، سخاوت اور شجاعت میں آپ اپنے اجداد کی مثل تھے۔ زمانے کی ہواؤں نے آپکو 252ھ میں قم پہنچا دیا مگر اہل ِ قم آپکی شخصیت سے نابلد ہی رہے۔ اس روئیے سے نالاں و مایوس ہو کر آپ نے کاشان کی جانب سفر اختیار کیا۔ جب کاشان پہنچے تو احمد بن عبدالعزیز بن دلف عجلی، جو ایک نامور محب ِ اہل بیت اور کاشان کی مقتدر شخصیت تھے، نے آپکو خوش آمدید کہا۔ اہل ِ کاشان آپکی عظمت و منزلت کو جانچ گئے اور آپکی شایان ِ شان توقیر کی۔ آپکے نسب اور منزلت کو مدنظر رکھتے ہوئے احمد عجلی نے آپکو کثیر خلعتیں، تحائف اور سواریاں پیش کیں اور آپکے لئے ہر سال ایک ہزار مثقال سونا مع سازوسامان اور گھوڑا بطور وظیفہ مقرر کیا۔ آپ کاشان میں بس گئے اور اپنے فرائض ِ دینی انجام دینے میں مصروف ہوگئے۔
جب قم والوں کو معلوم ہوا کہ وہ اپنی نادانی میں ایک ہیرے کو گنوا بیٹھے ہیں تو اپنے حال پر شرمندہ ہوئے اور عالم ِ ندامت میں اکابرین کا ایک وفد آپکی خدمت میں کاشان بھیجا۔ آپ نے اپنے اجداد کی سنت کو دہراتے ہوئے ان کو معاف فرما دیا۔ اب اہل ِ قم آپکو شایان ِ شان طریقے سے اپنے ساتھ قم لے آئے۔ یہاں آکر آپ نے زمین خریدی اور اپنی رہائش کا انتظام کیا۔ اسکے علاوہ آپ نے زراعت کے لیئے بھی زمینیں خریدیں اور اپنی رقم سے قم میں رہائشی بستیاں بھی تعمیر کروائیں۔ اسکے بعد آپکی ہمشیرگان جناب زینب، ام محمد اور میمونہ سلام اللہ علیہان بھی آپکے پاس تشریف لے آئیں۔ ان تمام مخدرات کی وفات بھی قم میں ہی ہوئی اور آپ تینوں شاہزادیاں حضرت فاطمہ (س) کے جوار میں ہی مدفون ہیں۔ آپ تینوں میں حضرت زینب (س) وہی معظمہ ہیں جنہوں نے حضرت معصومہ (س) کے روضے پر گنبد تعمیر کروا کر باقاعدہ مزار کی صورت عطا کی تھی۔
حضرت موسٰی مبرقع (ع) تمام عمر عبادت و ریاضت اور ترویج ِ علوم ِ آل محمد میں مگن رہے اور یہیں ربیع الثانی 292ھ کے اواخر میں جان، جان ِ آفرین کے سپرد فرمائی۔ اس دور کے امیر ِ قم، عباس بن عمروغنوی نے آپکی نماز جنازہ پڑھائی اور عزت و احترام کے ساتھ وہاں دفن کیا جہاں اس وقت میں بذات ِ خود موجود ماضی کے اس سفر میں محو تھا۔ اس وقت یہ مقام محمد بن حسن بن ابو خالد اشعری صاحب کا مکان تھا اور جب میں نے آنکھ جھپکی تو میں آج کے "کوچہ شمارہ 555، خیابان طالقانی، قم" پر موجود تھا۔

ایک بار پھر صدیوں کا سفر پلک کی ایک جھپک میں تمام ہوا اور میری نظروں کے سامنے میرے جد ِ اعلٰی کا مرقد تھا۔ میں بے اختیار اشکبار ہو گیا اور دروازے پر آویزاں زیارت کے متن کو تلاوت کرتا ہوا مؤدب اندر کی جانب چل پڑا۔ یہاں احساسات کا ایک اور ڈھنگ محسوس کرنے کو نصیب ہوا جو دیگر مقامات کے احساسات کی مانند بیان سے باہر ہے۔ بھاری بھاری قدموں کو گھسیٹتا ہوا ضریح کے عین سامنے جا پہنچا اور اسکے بڑے بڑے خانوں کو تھام کر ان کے اندر جھانکنے لگا۔ اس ضریح کی خاص بات یہ تھی کہ اسکی جالی کے خانے قدرے کشادہ تھے جن میں سے قبر ِ اطہر کا اچھا نظارہ ہو سکتا تھا۔ چند لمحے ضریح کو تھام کر اپنے آقا سے خاموش گفتگو کی اور وہیں رخ جانب ِ کعبہ پھیر کر دورکعت نماز ِ ہدیہ ادا کی۔ ضریح کے بوسے لئے اور وہیں ٹک کر زمین پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ زمانے کی کیسی ستم ظریفیاں ہیں کہ خانوادہءرسالت کو اپنا گھر مدینہ چھوڑنے پر ایسا مجبور کیا گیا کہ گلو بند ِ فاطمہ کے یہ جواہر کہاں کہاں بکھر گئے۔ ظاہرا” تو دشمن نے اہلبیت کو گھر سے بے دخل کیا مگر اس خیرالماکرین (ج) کی منصوبہ بندی دیکھیئے کہ "ابتر" کے طعنے سننے والے کو اس نے ایسی "خیر ِ کثیر" سے نوازا جسکے چشمے دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئے اور آج یہ عالم ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں سادات آباد نہ ہوں۔ سبحان اللہ۔
وہیں بیٹھے بیٹھے مجھے حضرت کے لقب "مبرقع" سے متعلق ایک خیال آیا اور میں حسب ِ عادت مماثلتوں کے تانے بانے بننے لگا۔ میرے زہن میں حضرت موسٰی مبرقع کی اولاد میں سے اپنے وہ جد آئے جو سبزوار سے مشہد اور پھر مشہد سے ہندوستان تشریف لائے۔ آپکا نام نامی حضرت سید محمود روحی تھا اور آپکا لقب بھی نقاب پوش رہنے کے باعث یہاں کی مقامی زبان کے مطابق برقعہ پوش پڑگیا تھا۔ جب تیمور لنگ نے خراسان و سبزوار کو تاراج کیا تو آپ ترک ِ وطن کرکے ہندوستان میں دہلی کے چار کنوؤں پر مشتمل ایک نواحی گاؤں "چہارچاہ" میں آکر آباد ہوئے جو وقت کے ساتھ ساتھ بگڑ کر "جارچہ" بن گیا اور آپکی اولاد کے ناموں کے ساتھ سبزواری کے علاوہ جارچوی کا لاحقہ بھی شامل ہوتا گیا۔
میری سوچ کا سفر مدینہ، خراسان، سبزوار اور ہندوستان کی بھول بھلئیوں میں جاری تھا کہ جیب میں موجود فون کی گھرگھراہٹ نے سارا سلسلہ توڑ ڈالا۔ نکال کر دیکھا تو گھر سے ظہیر رضوی صاحب کا فون تھا۔ فرمانے لگے کہ جب ہمارے جد ِ اعلٰی کے دربار میں حاضر ہونے جائیں تو ہمارا سلام اور ہدایہ پہنچانا نہ بھولیئے گا۔ میں نے جوابا” عرض کیا کہ مطلقا” وہیں موجود ہوں اور تمام سادات ِ رضویہ کی جانب سے اپنے جد ِ اعلٰی کو سلام پیش کررہا ہوں۔ یہ سن کر رضوی صاحب کی خوشی کا کیا عالم ہوگا، وہ خود ہی بہتر جانتے ہیں۔
اسکے بعد میں متوجہ ہوا دوسری قبر ِ انور کی جانب جو کہ حضرت احمد بن محمد اعرج کی تھی۔ آپ سید ِ جلیل القدر، رفیع المنزلۃ، عظیم الشان رئیس و نقیب ِ قم تھے۔ آپکی ولادت قم میں 311ھ میں اور وفات 358ھ میں ہوئی۔ آپ اپنے دور کے عابدین و زاہدین میں ایک بلند مقام و مرتبہ رکھتے تھے۔ اہل ِ قم کو آپکے وصال سے شدید صدمہ پہنچا اور انہوں نے آپکو حضرت مبرقع کے پہلو میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے حضرت کے حضور نذرانہءعقیدت پیش کیا اور دعا و مناجات میں مشغول ہوگیا۔ اس مقام پر بیٹھے بیٹھے میں کھو سا گیا اور مجھے گردوپیش کا چنداں احساس نہ رہا کہ ناگاہ زائرہ نے آکر شانہ سہلا کر مجھے اٹھایا اور بتلایا کہ یہیں ایک اور اہم مقام زیارت کے لیئے باقی ہے۔
چنانچہ ہم وہاں سے اٹھے اور دربار ِ حضرت موسٰی مبرقع (ع) سے متصل ایک بڑے سے گنبد والی بوسیدہ سی عمارت کی جانب چل پڑے۔ جب میں اس عمارت میں داخل ہوا تو دل پر ایک انجانا سا خوف لپکا جو وحشت میں تبدیل ہوگیا۔ مجھے قبل ازیں اس مقام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ بس زائرہ نے اتنا بتایا کہ آل ِ محمد (ع) کے چالیس بچے اسی عمارت میں زندہ جلا دئے گئے تھے۔ اسی نسبت سے اس مقام کا نام "چہل اختران" یعنی "آسمان محمدی کے بجھائے گئے چالیس ستارے" ہے۔ ہم دونوں قدم بہ قدم ساتھ ساتھ آگے کی جانب بڑھ رہے تھے کہ ناگاہ ایک وسیع و عریض ضریح کے سامنے پہنچ گئے۔ اس فولادی پنجرے میں چالیس معصوم قبریں اپنے مدفونین کا ماتم کرتی ہوئی صاف نظر آرہی تھیں۔ میں نے آگے بڑھ اہلیان ِ قبور کو سلام کیا اور ضریح کی جالی کو تھام کر اپنی نظروں کو ان قبور سے متصل کرلیا۔ نظر و قبر کے اس اتصال نے آنسوؤں کی ایک نہر جاری کر ڈالی اور میں اولاد ِ زہرہ کی مظلومیت پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ میں ظالموں سے پوچھنے میں حق بجانب تھا کہ کیا اصغر و سکینہ (ع) اور بیشمار ان بچوں کے خون سے تمہاری پیاس نہ بجھ سکی جو کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک کے ہولناک صحراؤں میں دوڑتے ہوئے اونٹوں سے گر گر کر جام ِ شہادت نوش کرتے رہے۔ صاحب ِ معراج کی اولاد کے ساتھ امت نے یہ سب کیا! اس عمارت کے درودیوار وحشت ٹپکارہے تھے جسکے باعث بدن پر کپکپی سی طاری ہوگئی۔ روایات میں ہے کہ اس مقام پر 17 افراد اولاد ِ امام جواد علیہ السلام اور 23 افراد امام کاظم علیہ السلام کی اولاد میں سے رہائش پذیر تھے۔ شیطان کو جب امام زادگان کے اس ٹھکانے کا پتا چلا تو اس مکان پر آگ کے الاؤ داغے گئے جسکے نتیجے میں پوری عمارت زمین بوس ہوگئی اور تسبیح ِ سیدہ کے یہ موتی خاکستر ہوکر اسی خاک کا پیوند ہوگئے۔ ہم نے ملول دل کے ساتھ نماز ِ ہدیہ اور زیارت ادا کی۔ یہاں مجھ سے زیادہ دیر رکا نہ گیا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کسی ظالم نے دل کو پنجے میں بھینچ کر چھوڑ دیا ہو۔ ہدیہء فاتحہ کرتے ہوئے الٹے پیروں پلٹے اور باہر آکر کھلے آسمان اور اس عمارت پر سایہ فگن گنبد کو دیکھا۔ یہ گنبد بھی نوحہ کناں ہی نظر آیا۔
میں نے مڑ کر ایک بار پھر ان مراقد کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور دوبارہ یہ سعادت حاصل کرنے کی نیت سے اپنے قدموں پر نظریں جمائے باہر کی جانب چل پڑا۔ سوچنے لگا کہ ہر غم کے بعد خوشی اور ہر خوشی کے بعد غم ضرور آتا ہے۔ اپنے اس سفر ِ زیارات میں اب تک خوشیاں، غموں پر حاوی رہی تھیں مگر آجکا دن کیسا عجیب تھا جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اداس کرتا جارہا تھا۔ جو خوشی حضرت مبرقع (ع) کی زیارت کرکے حاصل ہوئی تھی، چہل اختران (ع) کی بابت معلوم ہوکر غم کے سیل میں بہہ گئی۔
میں نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے منور صاحب سے درخواست کی کہ جلدی سے کسی ایسے مقام پر لیکر چلیں جہاں روح کو کچھ تازگی میسر آسکے۔ گاڑی قم کے کوچوں کے پیچ و خم کو عبور کرتی جارہی تھی اور میرا زہن ہنوز اسی آگ میں جل کر پگھلا جارہا تھا کہ گاڑی اچانک ایک اور عمارت کے سامنے، بلکہ اسکے کھلے ہوئے صدر دروازے کے سامنے جا کر رک گئی۔ سامنے دیکھا تو رنگین روشنیوں سے لکھا "یا فاطمہ اشفعی لنا فی الجنۃ" جگمگا رہا تھا۔ اس رنگین روشنی نے میرے یکرنگے ہالے کو بھی دھنک کے سات رنگ بخش دئے اور میں گاڑی سے اتر کر دیوانہ وار اپنے مقام ِ سجدہ کی جانب بھاگ کھڑا ہوا۔