
آج کی خاتون کو آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کے لئے بھی فرصت کہاں ہوتی ہے؟مگر جن کی دنیا آئینے کے گرد ہی گھومتی تھی، ان شاہی خواتین کے حسن کے ذرائع کیسے تھے ؟ہندوستان کے شاہی خواتین کے حسن اور جمال کے تعلق سے تفتیش کرتے وقت معلوم ہوا کے ہمارے یہاں خواتین کی اتنی پرسنل باتوںکے متعلق، اور پھر شاہی خواتین کے حسن و جمال کے تعلق سے تفصیلی طور پر لکھنا،بولنا عیب سمجھا جاتا تھا۔جس کی وجہ سے ان کے سراپا حسن کا ذکر نظموں،گیتوں ،غزل اور کہانیوں میں بھلے ہی آتا ہو،مگر ان کے حمام یا غسل خانے کیسے تھے ،یہ پوچھنے کے لئے زبان لڑکھڑاتی ہے۔یہ کیسا سوال ہے؟جھانسی کی رانی کا غسل خا نہ کیسا تھا؟نہانے کے لئے وہ کیا استعمال کرتی تھی؟اس طرح کے سوالات اپنے ذہن میں بھی نہیں آتے ہیں،اس کا بیان اور اس کی منظر کشی اس کے کارناموں سے وابستہ ہے۔

اپنے حسن اور جمال پر اگر کسی نے توجہ دی تھی تو وہ تھی نورجہاں،یہ حسن کی ملکہ کابل سے یہاں آئی تھی۔فطرتاً اس نے یہاں کی آب وہوا اور غذا پر توجہ دے کر اپنے حسن کی نگرانی کی،اس کی توجہ شاہی مصروفیت کے علاوہ خود کے رکھ رکھاؤ اور حسن جمال کی جانب بھی تھی۔صرف چہرہ اور جسمانی ساخت کے حسن کی ہی اسے فکر نہ تھی بلکہ اسے گھوڑ سواری اور شکار کا بھی شوق تھا۔اس نے ان کھیلوں میں بھی مہارت حاصل کی تھی۔دیگر سردار خواتین کو بھی اس نے اس شوق کی طرف راغب کیا۔ان شوق کی وجہ سے اس کے جلد پر اثرات ہونے کے امکانات شروع ہوگئے۔اس کے لئے اس نے گلاب کی پنکھڑیوں کا استعمال شروع کیا۔
اپنے غسل خانے میں سرد اور گرم پانی بہتے رہنے کااس نے انتظام کیا۔وہاں پر سنگ مرمر کو اس طرح پیوست کیا تھا کہ اسے کہ سہارے پانی جھرنے کی صورت بدن پر آہستہ آہستہ گرے، اس میں دوسری طرف سے گرم کیا ہوا پانی

بھی اس میں ملانے کا انتظام کیا۔اس میں گلاب کی پنکھڑیا ں ڈالی جاتی تھیں۔دائرے کی شکل میں ایک سنگ مرمر کا ٹب بنایا تھا، جس میں سنگ مرمر کے رنگین پتھرںنصب کرکے نقش و نگاری کا کام کیا تھا،اس پانی گرنے سے میٹھی آواز سنائی دیتی تھی۔اس میں آہستہ سے اتر کر نورجہاں اپنے غسل کا مزہ لوٹتی تھی۔اسی طرح غسل کرتے وقت ایک گلاب کی پنکھڑی پرتیل کی بوند نظر آئی، اور وہ دیکھ کر اسے عطر بنانے کی ترکیب سجھائی دی۔زعفران اور شہد یہ اس کے حسن و جمال کو سنوارنے اور نکھارنے کے لئے دو معاون عناصر تھے۔وہ خود کے لئے ہیرے اور موتی جڑے ہوئے لبا س بنوا کر لیتی تھی۔سفید رنگ اسے بے پناہ بھاتا تھا۔راجپوتوں میں یہ رنگ غم اور ماتم کے وقت استعما ل ہواکرتا تھا۔نورجہاں نے بے شمار خوبصورت ڈیزائن کے ملبوسات اپنے وارڈ رو میں جمع کئے تھے، یہ کہنا بھی نا مناسب کیونکہ ایک مرتبہ استعمال کردہ لباس کو وہ دوبارہ زیب تن نہیں کرتی تھی۔

جہاں جہانگیر کبھی نہیں رہا ایسے اس کے نام کا محل مدھیہ پریش میں ارچھا مقام پر موجود ہے۔وہ راجپوت راجہ نے اس کے لئے تعمیر کیا تھا۔اسے پھر راجپوت راجاؤں نے ہی استعمال کیا،اس میں تمام سجاوٹ راجستھانی طرز کی ہے۔یہاں موجو د غسل خانے رقبے کے اعتبار سے چھوٹے ہی تھے مگر وہاں پر اپنے ہاتھوں پانی اپنے بدن پرڈالنے کا چلن نہ تھا بلکہ پانی ڈالنے کا کام داسی یا خادمائیں کرتی تھیں۔
بڑے چاندی کے برتن سے وہ پانی ڈالا کرتی تھیں۔وہ پانی معطر ہوا کرتا تھا۔باہر لکڑی کا چولہا جلا کر پانی گرم کیا جاتا تھااوراس گرم پانی کو پتھروں سے بنایا گیا نالی نما راستے سے غسل خانے تک لایا جاتا تھا۔شہزادیوں کو متفریق ایسی اشیاء ملائے ہوئے پیسٹ سے ان کے بدن کی مالش کی جاتی تھی۔بالوں کو استعمال کرنے والا تیل مختلف ہواکرتا تھا، جس میں مقامی طور پر دستیاب دوائیاں ملائی جاتی تھیں۔اور مالش کے کمرے کی دیواریں رامائن اور مہابھارت کی کہانیوں کی تصویروں سے رنگائی جاتی تھیں۔آج بھی ان کے رنگ تروتازہ لگتے ہیں۔وہاں پریم کہانیوں کی تصویروں کو زیادہ جگہ دی گئی تھی۔

ترن کور کی حکومت یہ نسائی حکومت سمجھ جاتی تھی ، وہاں کی شاہی خاتون کاغسل کے تعلق سے یہ کہنا ہے کہ ’’ہمارے دن کے دو گھنٹے بدن کی مالش اور نہانے میں گزر جاتے تھے۔۔ ہم صابن کا استعمال نہیں کرتے تھے،اس دور میں تین چاندی کی کٹوری میں مختلف قسم کے تین تیل ہوا کرتے تھے، ان سے چہرے پر،بدن پر او ربالوں کی مالش کی جاتی تھی۔تانبے کے چار برتنوں میں خوشبوملاکرپانی استعمال کیا جاتا تھا،پہلے بال دھوئے جاتے تھے ،اس کے لئے پیسٹ استعمال کیا جاتاتھا۔جو تازہ پتوں سے بنایا جاتا تھا۔تازہ پتوں کو ناریل کے تیل میں ڈوبوکر رکھا جاتا تھا، اس سکھا کر پھر پسا جاتا تھا۔بالوں کو دھونے کے بعدچالیس پیڑوں کی جڑی بوٹی کے ٹکڑے پانی میں ابال کرتیار کئے ہوئے سرخ پانی بدن پر ڈالا جاتا تھا۔جالی دار کھردرے سوکھے ہوئے پھلوں کے چھلکوں سے دھیرے دھیرے بدن کو رگڑاجاتا تھا۔جسم اور چہرے پر تیل مسلتے وقت وہ بالوں پر نہ گرے اس کا دھیان رکھا جاتا تھاکیونکہ جسم کی مالش کے تیل میں زعفران کا استعمال کیاجاتا تھا جو بالوں کی نشونما کے لئے مضر ہوتا ہے۔پھر بالوں کو سکھانے کے لئے آگ کی انگیٹھی میں خوشبودار سفوف ڈال کر اس سے اٹھنے والے دھویں پر بالوں کو سکھایا جاتا تھا، جس کی وجہ سے سردی زکام ہونے کا ڈر نہیں رہتا تھا۔ایڑیاں گھسنے کے لئے چاندی میں کھردرا پتھر نصب کیا جاتا تھا۔بیٹھنے کے لئے سنگ مرمرکا نقش ونگاری کیا ہوا خوبصور ت ٹیبل بنایا جاتا تھا۔اس کے بعد پہلا زیور پاؤں میں پہنا جاتا تھا،جو یقینا طلائی ہوا کرتا تھا۔‘‘رانی اور راجکماریوں میں اپنے پاؤ ں میں سونے کے پائل پہننے کا رواج تھا۔اسی لئے آج بھی عام خاتون سونے کے بنے زیور پاؤں میں نہیں پہنتی۔(پہلے یہ خوف تھا یہ عام خاتون اگر رانی اور راجکماری کی طرح پاؤ ں میں سونے کا زیور پہن لے گی تو رانی اور راجکماری ناراض یا غصہ ہوجائے گی، اور وہی خوف اس دور میں رواج بن گیا ہے کہ کوئی خاتون پاؤں میں سونے کا زیور پہننا پسند نہیں کرتی۔)

شاہی حمام کیا رواج اپنے یہاںایرانی لوگوں کے آنے جانے کے بعد سے شروع ہوا۔اس میں زنانہ حمام میں ایک ساتھ کئی خواتین کے نہانے کا رواج تھا۔راجکماریاں ایک ساتھ حمام میں جمع ہوتی تھیں اوروہ اس فکر میں رہتی کہ ایک دوسرے سے کیا چھپایا جائے۔بڑے اونچے تانبے کے برتن میںنہانے کا پانی رکھا جاتا تھا۔اسے گرم کیا جاتا تھا۔داسی یا خادماں بدن کو پیسٹ لگا کر مالش کیاکرتی تھیں۔پیر گھسنے کے لئے کھردرے پتھر کا استعمال ہوا کرتا تھا۔بیٹھنے کے لئے سنگ مرمر سے بنا چھوٹا چبوترا ہوا کرتا تھا۔زمین پر رنگین سنگ مرمر کے ٹکڑے نصب کرکے خوبصورت نقش و نگاری کی جاتی تھی۔
ان کے نہانے کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے بالوں کو مہندی سے بنا پیسٹ لگایا جاتا تھا۔بالوں کا باندھ لیا جاتا تھا۔پھر بدن پر مہندی سے بناپانی ڈالا جاتا تھا۔پھر بدن کو گھس لیا جاتا تھا ،جس سے جلدپر ایک جھاگ جیسی بنتی تھی، مالش ، پانی ڈالنے میں کافی وقت لگ جاتا تھا، پھر یہاں ہلکا ناشتہ لیا جاتا تھا۔، شاہی خواتین صابن کے بجاے سفیدہ نامی کوئی چیز استعمال کرتی تھی، جو ایران سے لائی جاتی تھی۔جو پتھر کی طرح گول اور چپٹے شکل میں ہواکرتے تھے، جس کے استعمال سے جلد ملائم بن جاتی تھی۔جب وہ ملنا بند ہوئے تو اس کی جگہ بادام کا تیل اور زعفران کی لکڑیاں ڈال کر بنا گیا تیل استعمال کیا جاتا تھا۔اس طرح کے حمام میں ہنسی مذاق اور چھیڑ چھاڑ ہوا کرتی ہونگی۔بالوں لگی مہندی دھونے میں کافی وقت لگتا تھا۔مگر اس کے کئی دنوں تک بالوں سے خوشبواٹھتی تھی اور بال چمک دار نظر آتے تھے۔ان خواتین کے ارد گرد خوشبو ایک حلقہ بنائے رہتی تھی۔چھوٹے بچے کو نہلاتے وقت یہ خواتین کچھ پڑھ کر ان کے کاندھے پر پانی ڈالا کرتی تھیں۔

مختلف علاقوں میں آب و ہوا کے مطابق حسن و جمال کے تعلق سے کئے جانے والے شاہی نسخے اور علاج بھی مختلف ہوا کرتے تھے۔کشمیر کی ٹھنڈی میں وہاں کی شہزادیاں بادام کے تیل کا استعمال زیادہ کیا کرتی تھیں۔وہاں کے خوشبودار پھولوں کا استعمال نہانے کے پانی میں کیا جاتا تھا۔ان کے حمام میں ایک لمبا پتھر نصب کیا جاتا تھا، جس کا ایک سرا باہر موجو د چولھے پر گرم کیا جاتا تھا، نہانے کے لئے آئی ہوئی خواتین اس پتھر پر پیٹھ اور پیٹ کے دردسے راحت پانے کے لئے اس پتھر پر لیٹ جاتی تھی، اور بدن کو بھی اس پر سینک لیتی تھی۔اس پتھر پر پانی گرنے سے نکلنے والی بھاپ کے سینک سے آرام محسوس ہوتا تھا۔
عالمی سطح پر سب سے حسین و جمیل خاتون کو جسے تاریخ پہچانتی ہے وہ ہے Cleopatra،جو مصر کی تاریخ میں

سب سے زیادہ طاقت ور،پرامیدخاتون کو آج تک قلمکاروں نے اسے حسن کو زیادہ اہمیت دی ہے۔اس کی بہادوری کی کہانیاں بھلے کم لوگوں کو معلوم ہو ،مگر اس کے حسن اور جمال کے قصے آج بھی لوگوں کو زبانی یاد ہیں۔وہ خود کو حسین و جمیل رکھنے کے لئے مختلف نسخے استعمال کیا کرتی تھی، جس میںگدھی کے دودھ اور شہد کا کثرت سے استعمال شامل تھا۔
آج یہ تمام نسخے اور علاج عام خواتین کو آسانی سے دستیاب ہوسکتے ہیں۔جس میں ایک ہے چاکلیٹ پیسٹ،یہ صرف کھانے کی شے ہے یہ ہم سمجھتے تھے مگرچاکلیٹ اور Mint کے محلول سے آپ کی جلد ملائم اور چمکدار ہو سکتی ہے۔جو تن اور من میں نکھار پیدار کرتی ہے۔آپ بھی اپنے حسن اور جمال کی حفاظت شاہی طور پر کرسکتے ہیں، اور خود کو راجکماری کی طرح بنا سکتے ہو۔(یو این این)