آج جی میں تھا کہ ہوسپٹل پہنچ کر جیسے ہی فرصت ملے گی تو کوئی نیا بلاگ کوئی نئی بات لکھونگی ۔ سو حسب معمول سب سے پہلے چائے کے ایک کپ کے ساتھ عالمی اخبار پڑھا ، پھر جی میل چیک کی اور اس کے بعد اپنے کنسٹلشین روم میں جانے سے پہلے فیس بک پر بھی نظر ڈالی ۔۔ پھر یوں ہوا کہ نظر ڈال کر وہاں سے ہٹا نہیں سکی ۔۔
خبر اس قدر دل گداز تھی کہ اس نے مجھے اندر باہر سے ہلا کر رکھ دیا ۔۔ میرے لئے مریضوں کو دیکھنا محال ہو گیا ۔۔۔ مسلمان معاشرے کی شکست و ریخت نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ وہ چاہے کسی بھی جگہ پر کام کرے وہ خود کو ، اپنی شناخت کو ، اپنے وقت کو سب سے اہم جانتا ہے اور باقی سب کو محکوم ، غلام یاپھر کیڑے مکوڑے ۔۔ اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ وہ انسانوں کو آزمائے گا اولاد سے ، دولت سے اور اقتدار سے ۔۔۔ اور یہ خبر بھی ایسی ہی کوئی آزمائش تھی ۔۔ خبر ٹیگ کرنے والے م
حترم احتشام جمیل شامی کو میں اس سے پہلے جانتی تک نہیں تھی ۔۔ مزید خبر کی تفصیل پڑھی توپتہ چلا کہ احتشام اوکاڑہ کے رہائشی ہیں اور پیشے کے اعتبار سے ڈسٹرکٹ چیئر مین : قومی امن کمیٹی و بین المذاہب ہم آہنگی وزارت داخلہ (حکومت پاکستان) ، چیف ایڈیٹر : ہفت روزہ گر دو نواح اوکاڑہ اور روزنامہ سٹی پریس لاہور ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہیں ۔۔
خبر کے ساتھ ایک ڈیڑھ سالہ زین احتشام کی تصویر بھی ٹیگ تھی ۔۔ احتشام نے لکھا تھا
تیس اکتوبر بروز اتوار میرا ڈیڑھ سالہ لخت جگر زین احتشام پانی کی بالٹی میں ہاتھ مار کر چھینٹوں سے کھیل رہا تھا ۔ اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور وہ سر کے بل بالٹی میں جا گرا ۔اس کی ماں نے اسے فوراً نکالا لیکن پانی اس کے حلق میں چلا گیا او روہ گہری گہری سانسیں لینے لگا ۔اسے اٹھا کر فوراً قریبی چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹراصغر چوہدری کے… کلینک لے جایا گیا۔ مگر اس بد بخت ڈاکٹر نے جب یہ سنا کہ بچہ پانی میں گر گیا ہے تو اس نے اسے فر سٹ ایڈ دینے سے انکا ر کر دیا۔ اور یہی کہتا رہا اسے سرکاری ہسپتال لے جائیں ہم10منٹ تک ا س کی منت سماجت کرتے رہے کہ آپ پیڈز ڈپلومہ ہولڈر ، چائلڈ سپیشلسٹ ہیں اس لیے سرکاری ہسپتال کے ایم او سے زیادہ قابل ہیں سو ہم اسی لئے آپ کے پاس لائے ہیں مگر
اس دو منزلہ ہسپتال کے مالک ڈاکٹر اصغر نے کہا کہ نہیں میں اسے ٹریٹمنٹ نہیں دے سکتا ۔ میرا دماغ نہ کھاؤ۔ ہم روتے پیٹتے ، ہچکیاں لیتے اپنے بچے کو اٹھا کر سرکاری ہسپتال کی طرف بھاگے ۔
ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی زین نے آخری قے کی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ۔
اس سفاک اور درندہ صفت ڈاکٹر کی وجہ سے ایک ہسنتا کھیلتا معصوم بچہ اپنی جان سے گیا۔ ایک گو میں صف ماتم بچھ گیا ۔ ایک ماں کی گود اجڑ ئی ۔ ایک باپ کا کلیجہ پھٹ گیا۔ ایک دور وز بعد خود یونین آف جر نلسٹ نے اس ڈاکٹر کی سفا کی کے خلاف نیوز اخبارات میں لگوائیں ۔ لیکن بحیثیت ایک باپ اور انسان میں نے کوئی بھی ایکشن لینے سے پہلے ڈاکٹر کو فون کیا اور پوچھا کہ آپ نے زین کو فر سٹ ایڈ کیوں نہیں دی ۔ تو اس درندے ڈاکٹر نے بر ملا کہا کہ ڈاکٹری قانون میں بھیگے ہوئے بچے کو ہم فرسٹ ایڈنہیں دے سکتے ۔ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب اگر آپ کا اپنا بچہ یوں بھیگ جاتا تو آپ بحیثیت ڈاکٹر اسے خود چیک کرتے یا ایم او کے پاس ہسپتال لے جاتے تو اس نے کہا ہسپتال لے جاتا۔ آپ ہی بتائیے یہ کون سا قانون ہے جو ایک ڈیڑھ سالہ معصول بچے کو یک کرنے سے روکتا ہے۔
میری سینئر ز داکٹر ز سے بات ہوئی تو سب نے کہا کہ ایسا کوئی قانون ہے ہی نہیں ۔ وہ صرف اپنی ریپوٹ بچانے کے لئے ایسے مریض ہینڈل ہی نہیں کرتا کہ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو اس کی دو کاندداری متاثر ہو گی ۔ یہ کیسی دو کانداری ہے یہ کیسی چور بازاری ہے ۔ خدا را اس ڈاکٹر کے خلاف جہاد میں میرا ساتھ دیں ۔وہ پہلے بھی اسی طرح کئی معصوم پھولوں کی جان لے چکا ہے مجھے تو 100فیصد یقین ہے کہ یہ ڈاکٹر ہے ہی نہیں ۔
اس کی ڈگر یاں چیک کی جائیں ۔ اور اس سے پوچھا جائے کہ یہ انتہائی نگہدا شت یا زخمی مریضوں کو چیک کیوں نہیں کرتا ۔کیایہ صرف نزلہ اور گلہ ہی کی دوائی دے سکتا ہے۔ ڈاکٹر اصغر گورنمنٹ ملازم ہے 18ویں سکیل میں EDOآفس میں جاب بھی کرتا ہے۔ وہاں حاضری لگا کر آجاتا ہے۔اور سارا دن دوکانداری کرتا ہے۔ میری احکام بالا سے گزارش ہے کہ اس کی محکمانہ کاروائی کی جائے آج سے میں ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتا ہوں ۔ میں تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک اسے قرار واقعی سزا نہ دی جاے ۔
انشائاللہ آئندہ اور کوئی زین اس درندے کے ہاتھوں نہیں مرے گا۔ حق اور سچ کی ا جنگ میں ۔۔۔میرا ساتھ دیجیئے ۔اگر ہم آج متحد ہو گئے تو معاشرے سے ایسی کالی بھیڑوں کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔
ایک سوگوار اور دکھی باپ احتشام جمیل شامی “
میری آنکھیں جھلملا گئیں اور دل دکھ سےبھر گیا ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں محترم احتشام بھائی کو کیسے دلاسہ دوں ۔۔ کیا کہوں ۔۔ لیکن اسلام کی روح سے مسلمان بھائی کی بہن ہونے کے ناطے مجھے انہیں ڈھارس دینی تھی ۔۔ میں نے انہیں لکھا ان کی لکھی ہوئی ایک ایک سطر کو پڑھا ۔۔ کبھی میں نے اسے ایک ماں باپ کی نظر سے پڑھا ۔۔تو کبھی ایک ڈاکٹر ہونے کی حثیت سے پڑھا اور پھر ایک ایسے قاری کی حثیت سے بھی پڑھا جو نہ توماں ہے اور نہ باپ اور نہ ہی ڈاکٹر ۔۔۔ بس یہی کہونگی کہ یہ سفاکی کی انتہائی شکل ہے ۔ ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں آپ سب احباب کو بتانا چاہتی ہوں کہ یہ میڈیسن کی کسی کتاب اور مرض کی گائیڈ لائینز میں نہیں ہے کہ ڈاکٹر کسی بھیگے ہوئے ی اڈوبتے ہوئے مریض کو بچا نہیں سکتا ۔۔ ڈاکٹر سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھے چلتے پھرتے ہوئے صرف ڈاکٹر ہوتا ہے ۔ اس پر کسی فٹ پاتھ پر سسکنے والے کی خدمت اتنی ہی محترم اور فرض ہوتی ہے جتنی کسی امیر کبیر کی ۔
سوچ یہ رہی ہوں کہ یہ سفاک انسان جس کا نام اصغر چوہدری ہے ڈاکٹر ہو ہی نہیں سکتا ۔۔ اور اگر ڈگریوں کی جانچ پڑتال کے دوران اگر یہ ثابت ہو بھی جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹر ہے تو ایسے درندہ صفت انسان کو پریکٹس کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اور نہ صرف اس کا پریکٹس لائسنس منسوخ ہونا چاہئے بلکہ اس کے دومنزلہ عمارت کو بھی سیل کر دینا چاہئے ۔اس کے ساتھ ساتھ بحثیت ایک سائیکاٹرسٹ کے یہ بھی کہنا چاہوں گی کہ
اس قسم کے اینٹی سوشل رویوں کا اگر علاج نہ کیا جائے تو ایسے لوگ عمر بھر اپنی عادات اور خصلتوں سے باز نہیں آتے ۔ اس قسم کے مجرمانہ رویئے اور مجرمانہ فعل ان کی تسکین کے لئے انتہائی ضروری ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر اصغر کے اس فعل نے انہیں اسی صف میں لا کھڑا کیا ہے ۔ ان جیسے لوگوں کے لئے کہ کسی کے آنسو اور کسی کی تکلیف کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ ان کے لئے باعث راحت ہوتی ہے اور وہ یہ راحت حاصل کرنے کے لئے ایسے فعل کرتے رہتے ہیں ۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر کا نہ صرف نفسیاتی علاج ہونا چاہئے بلکہ اس مجرمانہ فعل اور غفلت کی بنیاد پر اس کی رجسٹریشن پاکسان میڈیکل اینڈ ڈینٹل بورڈ کو اس کی صحتیابی تک کے لئے کینسل کر دینی چاہئے تاکہ دوسرے مریض اس سفاکانہ موت سے بچ سکیں ۔۔
انہی مجرمانہ رویوں کو مزید بے نقاب کیا جائے تو یہ دو خبریں پڑھئے ۔۔ چند کسان عورتوں کو کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی آواز آئی۔ ڈھونڈنے پر بوری میں بند ایک زندہ بچی ملی جسکی عمر دو دون تھی۔ عید کے دن نوزائیدہ بچوں کی لاشوں تک کو نہیں چھوڑا گیا۔ گلشن معمار کے قبرستان سے جادو کرنے کے لیئے دو شیطان کشن اور چیتن دیگر جادوگروں، عاملان حرام اور ڈاکٹروں کے ہمراہ بچوں کی لاشوں کو نکال کر نجانے کب سے اس مکروہ و قبیح دھندے میں مگن تھے۔اسلام آباد سے عالمی اخبار کے بیورو چیف قمر رضا نے اس خبر پر رنج و دکھ کے ساتھ تبصرہ کرتےہوئے لکھا “ ایسی خبریں کسی بھی انسانی معاشرے کی نیندیں حرام کرنے کے لئے کافی ہیں۔ مگر آفرین ہے اس اسلامی جمہوریہ پر کہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں اسکے طول و عرض میں ایسے شیطانی کھیل جاری رہتے ہیں اور اس مملکت کا تمام قانون نا معلوم مقام پر دفن کر دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے، پولیس اور ایجنسیاں ملک کے اعلٰی پائے کے ڈاکوؤں کی حفاظت پر مامور ہیں اور مظلومین کے منہ میں “مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے” کی چسنیاں ٹھونس دی گئی ہیں۔
یہاں گلی گلی ڈاکٹر، عامل، ٹوئشن والے، اسکولوں اور یونیورسٹیوں والے، ریکروٹمینٹ ایجنٹ اور ایجوکیشن اینڈ امیگریشن کنسلٹنٹ اپنی اپنی دکانیں کھولے بیٹھے ہیں۔ مجال ہے کسی کی کہ کوئی انکا بال بیکا تو درکنار ان سے پوچھے کہ کس بل بوتے پر تم لوگوں کی جان، عزت، دولت، حال اور مسقبل سے کھیل رہے ہو۔ اگر کوئی ہمت کرکے کان میں پوچھ ہی لے تو یقینا” دوسری جانب سے قہقہہ آئے گا کہ جن بیوقوفوں نے ملک بھر کے لٹیروں کو اسمبلیوں میں بھیجا ہے، انہوں نے ہی تو ہمیں یہ دکانیں کھولنے کے لائسینس جاری کیئے ہیں۔ ورنہ ہم میں اتنا دم اور اتنی عقل کہاں تھی؟؟؟؟
اسی دلسوز خبر پر عالمی اخبار کے چیف ایڈیٹر محترم المقام جناب صفدر ہمدانی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔۔۔“ جہاد صرف یہی نہیں کہ جلوس نکالا جائے اور توڑ پھوڑ ہو ،جلسے کیئے جائیں بلکہ سب سے بڑا اور موثر جہاد یہ ہے کہ لکھا جائے اور خوب لکھا جائے.ذاتی مفادات اور رنجشوں سے بالا تر ہو کر لکھا جائے کہ یہ ایک صحافی کے بیٹے کی بات نہیں بلکہ ہم سب کے بچوں کی بات ہے. وطن عزیز میں ڈاکٹروں کی اس مخصوص نسل سے تو قصاب بہتر ہیں.دراصل جب کوئی بھی معاشرہ رو بہ زوال ہوتا ہے تو اسکی بنیاد کے تمام سکون ہل جاتے ہیں اور عمارت کو دیمک چاٹنے لگتی ہے. ابھی دو دن ہی تو گزرے ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ مالدار لوگوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے لیئے قربانی کی بجائے دکھاوے کی قربانی کرتے ہیں. ایک صاحب نے چار لاکھ روپے میں بیل خریدا اور اسکی نمائش کی. کراچی کے ایک گھر والوں نے بیل.اونٹ اور بکرے خریدے اور اپنے گھر کے دروازے عوام کے لیئے کھول دیئے کہ وہ ان جانوروں کا دیدار کریں. آپ نے دیکھا جب عبادات میں دکھاوا آ جائے تو اس معاشرے کی کیا حالت ہوتی ہے.
ایسے سفاک اور انسان دشمن شخص کو ڈاکٹر کہنا اس مقدس پیشے کی توہین ہے.اسے تو قصاب بھی نہیں کہا جاسکتا. اب یہ کہنا کہ حکومت ایسے لوگوں کا احتساب کرے بے وقوفی ہے. حالت تو یہ ہے کہ حکومت کا احتساب ہو لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کہ چور چور کا احتساب کیسے کرے گا. معاشرے کی ترجیحات بدل چکی ہیں،اصول اور معیار بدل چکے ہیں.انصاف کے معنی بدل گئے ہیں،شرافت اور عزت کی اصطلاحات بدل گئی ہیں، آنکھیں بدل گئی ہیں، چہرے بدل گئے ہیں،جھوٹ اور سچ میں تمیز نہیں رہی،بس یوں سمجھیں کہ انسان بدل گیا ہے.
ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ایسے سفاک لوگوں کاپول تو کھول سکتے ہیں. ہمارے پاس قلم کا اختیار ہے جسکا زخم تلوار سے گہرا ہوتا ہے.بس جو اختیار آپ اور ہمارے پاس ہے کم از کم اس اختیار کو استعمال کریں ۔“
اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے عالمی اخبار کے لئے اسلام آباد کے بیوروچیف اظہر نسیم کو جب میں نے فون پر اطلاع دی تو وہ سخت افسردہ ہوئے ۔ اور پھر ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ اس خبر جہاں جہاں تک پہنچا سکیں گے پہنچائیں گے ۔ سو جیو نیوز اور دنیا ٹی وہ کو ای میل کے زریعہ اطلاع دی گئی ۔ ایکسپریس اخبار نے خبر اسی وقت شائع کر دی اور ایکسپریس ٹیلی وژن کے لئے خبر بن رہی ہے ۔ روشن دیہات ، ہمارا آج اور دی نیوز کو بھی آگاہ کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی عالمی اخبار کے ملٹی میڈیا کے لئے عادل خانزادہ نے اسپیشل رپورٹ بنائی ، بلاگ پر تبصروں کااہتمام اور سرورق پر ووٹنگ سسٹم تیار کیا گیا تاکہ ارباب اختیار تک بات پہنچائی جا سکے ۔ اور آخر میں عالمی اخبار کے ادارے ، قارئین کی طرف سے محترم احتشام جمیل شامی سے فون پر تعزیت بھی کی اور انہیں تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ۔دوستو اتناکچھ بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جتنا بھی ہم کر سکیں وہی بہت ہے کیونکہ یہی تھوڑ اتھوڑا بہت سے زیادہ ہو جائے گا ۔ ہم سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگوں تک اصل حقائق لائے جائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ میں
یہ بات بھی کہنا چاہوں گی کہ سارے ڈاکڑ ایسے نہیں ہوتے ۔ ابھی بھی ایسے مسیحا ہیں جو اپنے مال اور وقت کو صرف اپنے مریضوں میں تقسیم کر رہے ہیں ۔مسلہ یہ بھی ہے کہ برائی کی تشہیر خوب ہوتی ہے اور اچھائی کو دوسرے تک پہنچایا ہی نہیں جاتا ۔ اب بھی ڈاکٹرز کی ایک غالب اکثریت ہے جو دن میں کئی مریضوں کی جان بچاتے ہیں ۔ اصل میں جس معاشرے میں دین فروشی ہو وہاں تعلیم اور صحت کا بکنا کوئی اچنبھا نہیں ۔ اب یہی دیکھئے کسی سطح پر کسی شعبے میں کوئی احتساب نہیں ہے ۔ سرکار سے عوام تک سب احتساب سے مبرا ہیں۔ اگر احتساب کا خوف ہو تو جرائم خود بخود نصف رہ جاتے ہیں۔ کتنے ستم کی بات ہے پاکستان کے بڑے نجی ہیسپتالوں میں بھی آکسیجن فی گھنٹے کے حساب سے فروخت ہوتی ہے ۔ نجی اور سرکاری ہسپتالوں کے اندر فارمیسی پر جعلی ادویات اور استعمال شدہ سرنجیں بکتی ہیں ۔
ایسی ازیت ناک سچائیوں کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب پر فرض ہے اور ا سکی روک تھام ڈاکٹرز ایسوسیشن اور پاکستانی میڈیکل بورڈ کی “ ڈیوٹی آف کیر “ میں شامل ہے ۔ آپ سب کی طرح میں بھی سوچ رہی ہوں کہ ایک صحافی ہونے کی حثیت سے محترم احتشام جمیل شامی کو تو اپنے دکھ کو دوسروں تک پہنچانے کا سہارا اپنے پیشے کے باعث میسر آگیا۔ مگر ان کے درد کا مداوا کون کرے گا جو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔