ہم مسلمانوں کی ایک بد قسمتی یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم فروعی مسائل کا شکار
ہوئے بیٹھے ہیں تو دوسری طرف ہم نے بانیان اسلام جیسی معتبر اور بزرگ
شخصیات کو بھی اپنی اپنی فروعات سے منسلک کر لیا ہے اور ایک دوسرے کے
اکابرین کو کسی لحاظ سے بھی در خور اعتناء نہیں جانتے۔ چاہے کسی کا کردار
کتنا ہی مھم اور مقام بلند کیوں نہ ہو، ہم فریق مخالف کی تردید میں انکے
ممدوحین کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔ اسکی ایک مظبوط ترین مثال سیدہ فاطمہ
بنت رسول اللہ ہیں، جو کہ نہ صرف آپ (ص) کی نور نظر تھیں، بلکہ رسالتمآب
نے انہیں بضعت منی کہ کر اپنا ٹکڑا قرار دیا۔ ہم مسلمانوں نے خانوادہ
رسالت کو اسطرح سے پس پشت ڈالا کہ آج نو جواں نسل کی اکثریت نہ صرف اہل
البیت سے بے خبر نظر آتی ہے، بلکہ انکے ناموں پر اپنے نام ہونے کے باوجود
اس خاندان کی ذکر اور انکی یاد سے بیزار نظر آتے ہیں۔ آج چونکہ جمادی
الثانی کا چاند نظر آ چکا ہے اور اس مہینے کی بنت رسول اللہ سے دوہری نسبت
ہے، اس لئے مناسب سمجھا کہ چند سطریں اس بی بی کی یاد میں حوالہ قرطاس
کردوں جس کے احترام میں رسول اللہ کھڑے ہوتے تھے اور بیٹھنے کو اپنی چادر
بچھا دیتے تھے۔ اس ماہ کی تین تاریخ کو بی بی کی شہادت واقع ہوئی اور بیس
تاریخ کو ولادت با سعادت ہوئی۔
بی بی کی زندگی کے پہلو اتنے وسیع
اور بلیغ ہیں کہ مجھ گنہگار کی بساط نہیں کہ کسی بھی ایک پہلو کا کما حقہ
احاطہ کر سکوں۔ بطور بیٹی ایک بہترین بیٹی اور بطور زوجہ ایک مثالی خاتون۔
آپ کی شادی کے بعد جناب رسالتمآب نے علی ّ سے دریافت کیا کہ آپ نے فاطمہ
کے ساتھ کو کیسا پایا تو علی ّ نے جواب دیا کہ یا نبی اللہ میں نے فاطمہ
کو اللہ کی عبادت میں بہترین مددگار پایا۔ ماں کا ذکر ہو تو ایسی اولاد
پالی جو قرآن کو نیزے کی انی پر بھی فراموش نہیں کرتی۔ بازار شام میں آپکی
بیٹی سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کے خطبات اٹھا کر دیکھیں تو پتہ لگتا ہے
کہ کسی اسیر نہیں، بلکہ قرآن کے مزاج میں ڈھلے مظلوم کی صدا ہے جس میں بات
کا محور اپنی مظلومیت کی بجائے اللہ کے قوانین کا احترام ہے۔ زبان اور
انداز ایسا کہ دشمن بھری فوج سمیت اسیروں کے قافلے کے سامنے لرزہ بر
اندام۔ ایسی تربیت کرنے والی ماں کے کردار پر لکھوں یا اس مجاہد بیٹی کے
کردار پر لکھوں جو آٹھ برس کی عمر میں احد کے میدان میں زخمی باپ کی اکیلی
تیماردار ہے، جہاں جانثار میدان سے بھاگ گئے اور اللہ کے رسول کے پاس
محافظ بھی علی ّ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ آیا اس بیٹی کا تذکرہ کروں جس کی
ماں چار سال کی عمر میں اس سے جدا ہو کر خلد آشیاں ہو گئی اور ننھی بیٹی
باپ سے ماں کے دفن کے وقت پوچھتی رہی کہ بابا (ص) میری ماں کہاں چھپ گئی
ہے؟ کیا بی بی کے اس گھر کا ذکر کروں جسکو بیت الاحزان ( سسکیوں بھرا گھر
کہا گیا) یا سسکیوں کی داستان رقم کروں؟ ترویج اسلام میں پیمبر کی معاونت
کا لکھوں یا تحفیظ دین میں علی ّ کی ہمت بندھانے کا بات بتاؤں۔ ملیکت
العرب کی اسلام پر نثار دولت کا لکھوں یا میں بے چراغ قبروں کی بات کریں؟
چھنی ہوئی وراثتوں کی بات کریں یا قرآن کی اس آیت کی تفسیر ڈھونڈیں کہ
وَعَدَ اللَّہ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
لَيَسْتَخْلِفَنَّھم فِي الْارْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن
قَبْلِھمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَھمْ دِينَھمُ الَّذِي ارْتَضَى لَھمْ
وَلَيُبَدِّلَنَّھم مِّن بَعْدِ خَوْفِھمْ امْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا
يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَاُوْلَئِكَ ھمُ
الْفَاسِقُون( سورہ نور آیت ٥٥)۔ اللہ کے دین پر مال کی قربانیوں کی فہرس
بنائیں یا جان کی قربانیوں کی ، خوف ِ مسلسل کا ذکر ہو یا سورہ نور کی اسی
(نمبر ٥٥) آیت کی روشنی میں کسی مرتضیٰ کو ڈھونڈنے نکلیں؟ ۔ بات سورہ دہر
سے کروں جہاں اللہ کہتا ہے کہ يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا
كَانَ شَرُّہ مُسْتَطِيرًا ٠ وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّہ
مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَاسِيرًا (سورہ دہر آیات ٧ اور ٨) یا سورہ بقرہ کی
وہ آیت پڑھوں جہاں اللہ کہتا ہے کہ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ
الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الامَوَالِ وَالانفُسِ وَالثَّمَرَاتِ
وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ٠ الَّذِينَ اذَا اصَابَتْھم مُّصِيبَتٌ قَالُواْ
انَّا لِلّہ وَانَّـا الَيْہ رَاجِعونَ ( آیت ١٥٥) اور ١٥٦)۔ کیا وہ قصیدے
پڑھوں جو مال کی قربانی پر اللہ کی رضا کی سند بن کر اترے یا مصائب جھیلنے
والوں کو اللہ کی بشارت سناؤں۔ بی بی کی شان میں نبی (ص) کی حدیثیں سناؤں
یا قرآن کی آیات پڑھوں؟۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں بات کو آگے بڑھاؤں یہاں
اس بات کی توضیح ضروری گردانتا ہوں کہ یہ سرکار نبی اکرم (ص) کی مشہور
حدیث ہے کہ الفاطمہ بضعتُ مِنی کہ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔ ہم اکثر ترجمہ کرتے
وقت غلطی کھا کر یہ کہ دیتے ہیں کہ فاطمہ میرا جگر گوشہ ہے۔ حدیث میں جگر
(عربی میں کبد) کا لفظ اگر نہیں آیا تو ہم کیوں ایک اضافی لفظ رسول مقبول
سے منسوب کرنے کے مجاز ہو گئے۔ پس یہاں یہی کہوں گا اب اگر نبی اکرم رحمت
اللعالمین ہیں تو فاطمہ اس رحمت کا کا ٹکڑا ہے، اور اگر نبی پاک یسین،
مزمل، مدثر، طہ، ہیں تو فاطمہ پھر بھی انہی کا ٹکڑا ہیں۔ یہی نسبت جاری
رہتی ہے جب نبی کریم (ص) خود کو مدینت العلم اور مدینت الحکمت بتاتے ہیں۔
یہاں میں بخاری شریف سے ایک بڑی عجیب حدیث پیش کر رہا ہوں جو بظاہر تو ہم
سب نے پڑھ سن رکھی ہے، لیکن اسکے معانی کی پنہائیوں میں اترنا ہمارے بس
میں نہیں۔ ام المؤمنین جناب بی بی عائیشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا روایت کرتی
ہیں کہ وصال سے پہلے نبی کریم نے بی بی فاطمہ کو اپنے پاس بلا کر کچھ راز
داری میں بتایا تو فاطمہ رونے لگیں۔ پھر رسولاللہ نے کچھ مزید کہا تو بی
بی فاطمہ آسودہ خاطر ہو گئیں۔ ام المؤمنین نے بنت رسول سے بعد وصال رسول
پوچھا کہ بی بی کیا ماجرا تھا کہ پہلے آپ گریہ زن ہوئیں اور پھر مسکرانے
لگیں۔ تو فاطمہ ّ نے کہا کہ رسول اللہ نے جب اپنی رحلت کی خبر دی تو میں
رودی، لیکن پھر آنحضور نے کہا کہ فاطمہ تو سب سے پہلے مجھ سے ملے گی تو
میں شاد ہو گئی۔۔۔۔سبحان اللہ کہ اپنے مرنے کی خبر پا کر کون خوش ہوتا ہے۔
مرنے کی خبر ملے تو ہم تو خوف کے مارے موت سے پہلے مر جائیں، لیکن وہ ذات
جس کو قرآن ایتھا النفس المطمئنہ (اے مطمئن نفس والی) کہے ، وہ جب اپنے رب
کے پاس جاتی ہے تو اسکو نہ رب سے کوئی گلا ہوتا ہے اور نہ رب کو اس سے۔
يَا اَيَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّہ٠ ارْجِعِي اِلَى رَبِّكِ
رَاضِيَت مَّرْضِيَّہ ( سور فجر آیت ٢٧ اور ٢٨)۔ اس لئے موت کا خوف کیسا۔
لیکن مستقبل پر نظر رکھنے ولی بی بی کو باپ کی مفارقت کے بعد و مصائب بھی
تو نظر آرہے ہیں جن کو برداشت کرنے کی ہمت پہاڑوں میں نہ تھی۔ اس لئے جتنی
جلد اس دنیا سے جاتی، اتنا ہی مصائب کا سلسلہ کوتاہ ہوتا۔
سیدہ فاطمہ
سلام اللہ علیھا رسول اللہ کی اولاد میں انکو محبوب ترین تھیں۔ مختلف
مکاتب فکر اور مفکرین کے یہاں نبی کریم کی اولاد میں بیٹیوں کی تعداد پر
اختلاف موجود ہے، لیکن اس شے میں کوئی اختلاف نہیں کہ فاطمہ سلام اللہ
علیھا جیسا مقام کسی کو بھی نصیب نہیں تھا۔ اگر یہ تصور کر بھی لیا جائے
کہ بی بی فاطمہ ّ کی تین اور بہنیں تھیں تو بھی انکا مقام باقی بہنوں سے
بلند ماننے میں کوئی امر مانع نہیں۔ کیونکہ قرآن کی دلیل کے مطابق سبھی
انبیاء اور مرسل برابر نہیں ہیں، بھائی بھائی پر فضیلت رکھتا ہے، ہابیل
اور قابیل ہمرتبہ نہیں ہیں، ہارون و موسیٰ برابر نہیں تو کیا بعید ہے کہ
فاطمہ ّ کی بہنیں اگرتھیں بھی تو وہ انکی ہم منصب اور شان میں برابر نہ
تھیں۔ قرآن کہتا ہے کہ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھمْ عَلَى
بَعْضٍ مِّنْھم مَّن كَلَّمَ اللّہ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجَاتٍ ( سورہ
بقرہ آیت ٢٥٣ کہ ہم نے انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دی انہی میں سے ہیں
جنہوں نے اللہ سے بات کی اور کئیوں کے درجات اللہ نے بڑھا دئیے۔ بلکہ امر
واقع یہ ہے جناب فاطمہ ّ کے لئے ہم کفوا جناب علی ّ کے سوا کوئی دوسرا نہ
تھا۔ آپ کے رشتے کے لئے کئی اصحاب خواستگار ہوئے مگر اللہ کی رضا کے پابند
نبی نے سوائے علیّ کے سب کو انکار کیا۔ آپ اپنے عھد میں اور اسے قبل و بعد
کی تاریخ انسانیت کی وہ یکتا محترم ترین ہستہ ہیں جسکا احترام رسول اللہ
(ص) نے خود اس طرح قائم فرمایا جیسے دیگر اساس ہائے دین کو۔ لہذا ان کا
احترام آج بھی اسی طرح سے قائم ہے جس طرح اسلام کے دیگر اصول۔ بھلا تاریخ
میں نظر دوڑا کر تو دیکھیں کہ نبی کریم اور کس کے احترام کو اٹھتے تھے؟
کسی اور کو بھی یہ فضیلت میسر تھی یا نہیں؟ اگر اس عمل کو ہم انبیاء کے
اوصاف کریمانہ کا حصہ تصور کر لیں تو بھی یہ سوا ل اٹھتا ہے کہ کیا انبیاء
ما سبق بھی اپنی اولاد میں سے کسی کے لئے اٹھتے رہے؟ پھر اگر اسے صرف حضور
کے ذاتی اوصاف ِ عالی اور اخلاق کریم کا حصہ مان لیں تو اس کو سنت جان کر
اصحاب رسول اور آج کے علماء اپنی بیٹیوں کے لئے ایسا استقبال پیش کیوں
نہیں کرتے۔
در اصل یہ احترام صرف سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ کے لئے
مخصوص تھا، اور اسکی بجا آوری میں وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ
کے مصداق اللہ کی مشیت شامل تھی۔ یہاں ایک دلچسپ اور اہم موضوع کی طرف
توجہ مبذول کراتا چلوں کہ حضور کے اقدام کو اللہ تعالیٰ کی ایسی تائید
حاصل ہے جس میں کسی فعل کو آپکا ذاتی فعل نہیں کہا جا سکتا۔ حضور کنکریاں
ماریں تو اللہ کہتا ہے کہ حبیب آپ نے نہیں، میں نے یہ کنکریاں ماریں
فَلَمْ تَقْتُلُوھُمْ وَلَـكِنَّ اللّہ قَتَلھُمْ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ
رَمَيْتَ وَلَـكِنَّ اللّہَ رَمَى وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْہُ
بَلاء حَسَناً اِنَّ اللہَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ( سورہ انفال آیت ١٧)۔ حضور
بات کریں تو اللہ اسکو وحی کا بیان کہتا ہے ( النجم آیت ٣)، حضور بیعت لیں
تو اللہ اپنی بیعت اور آنحضور کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ کہتا ہے (انَّ
الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ انَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّہ٠ يَدُ اللَّہ
فَوْقَ اَيْدِيھِمْ فَمَن نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنكُثُ عَلَى نَفْسِہِ
وَمَنْ اوْفَى بِمَا عَاھَدَ عَلَيْہُ اللّہَ فَسَيُؤْتِيہ اَجْرًا
عَظِيمًا۔۔۔الفتح آیت ١٠)۔۔۔ایسے میں کیا بعید ہے کہ رسول اللہ جس کے لئے
اٹھتے رہے وہ بھی اللہ کی سند سے تھا اور جس کسی کو پاس سے اٹھایا وہ بھی
اسی کی منشا سے تھا۔ تو بس پھر ہمیں یہ کہنے کی جسارت کرنی چاہئے کی بی بی
فاطمہ ّ کے احترام کو نبی پاک جب بھی اٹھے اللہ کی منشاء سے یہ احترام دیا
گیا۔
حضور پاک کے وصال کے بعد سیدہ نے بہت سے مصائب اٹھائے جن میں ایک
مصیبت وہ تھی جب انہیں اپنے دعوائے وراثت کے لئے دربار حکومت میں پیش ہونا
پڑا۔ جس کے احترام کو سید المرسلین اپنی مسند چھوڑ دیا کرتے تھے، آج اسکے
دعویٰ کو جھٹلایا بھی گیا اور اسطرح دربار میں بے توقیر بھی کیا گیا۔ بی
بی نے سید المرسلین (ص) کی لکھی ہوئی سند ھبہ بھی پیش کی جسکو ماننے سے
انکار کر دیا گیا۔ اب جبکہ یہ طے ہے کہ قرآن کریم کے مطابق حضور (ص) کے
افعال اللہ کی منشاء کے مطابق تھے تو پھر اگر آج کوئی یہ کہ دے کہ نعوذ
باللہ، فاطمہ ّ نے آنحضور (ص) کے وصال کے بعد بلا وجہ باپ کی وراثت کا
دعویٰ کیا تھا تو یہ بجائے خود اللہ کی سند اور اسکے رسول پر اعتراض ہے۔
میں یہاں یہ طویل موضوع چھیڑنا ہی نہیں چاہتا، لیکن حوالے کے طور پر صرف
ایک آیت پیش خدمت ہے کہ انبیاء وراثت سے خالی نہیں جایا کرتے وَوَرِثَ
سُلَيْمَانُ دَاوُودَ وَقَالَ يَا ايُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ
الطَّيْرِ وَاوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ اِنَّ ھذَا لہ ُوَ الْفَضْلُ
الْمُبِينُ (سورہ نمل آیت ١٦) کہ ہم نے جناب سلیمان ّ کو داؤد ّ کا وارث
بنایا۔ جناب سلیمان ّ جناب داؤد ّ کے صرف علمی یا روحانی وارث ہی نہ تھے،
بلکہ سلطانی جاہ و حشمت میں بھی اپنے باپ کی حکومت اور دولت کے وارث تھے۔
اگر بالفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ اللہ کے انبیاء کا ورثہ انکی
اولادوں کو نہیں ملتا تو گویا یہ تو اللہ کے عدل پر حملہ ہو گیا جو انجانی
چیز کی سزا اولاد کو دے رہا ہے۔ کیا نعوذ باللہ، رب یہ چاہتا ہے کہ انبیاء
کی اولادیں پسماندہ اور غریب رہیں اور انکی امت خوشحال رہے؟
موضوع انتہائے طویل اور محترم ہے جس کے ساتھ انصاف نہ کر پانے کا قلق تو
مجھے ہے ہی، لیکن قارئین کی رفع زحمت کی خاطر دیگرتمام امور معلق کر کے
صرف اتنا کہوں گا کہ بی بی کو اپنے صدمات پر گریہ کرنے کے کئے شہر سے باہر
ایک تنہا مکان میں جانے پر مجبور گیا۔۔اسی گھر کا نام بیت الاحزان یعنی
دکھوں کا گھر ہے۔ بی بی رسول اللہ کے بعد چند ماہ نال و بکاء کرتے کرتے ١٨
سال کی عمر میں سن رسیدہ نظر آنی لگی تھیں۔ انہی مصائب کے تسلسل میں چند
لوگوں نے سیدہ پر گھر کا دروازہ گرا دیا جس سے وہ شدید مجروح ہو کر اس
دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ تاریخ میں دو چیخیں ایسی بے ساختہ اور دلدوز ہیں
جنکا جواب دنیا آج تک نہیں دے سکی اور نہ دے پائے گی ۔ پہلی چیخ بی بی
فاطمہ زہرا ّ کے غسل کے وقت انکے بطن اطہر پر نشان زخم دیکھ کر غسال کے
منہ سے بے ساختہ نکلی اور دوسری چیخ امام محمد باقّر کے منہ سے تب نکلی جب
امام علی ّ زین العابدین کو غسل دیتے وقت انکی گردن میں طوق و زنجیر کا
نشان نظر آیا۔ بی بی کو انکی وصیت کے مطابق رات کی تاریکی میں چند احترام
کرنے والوں کی موجودگی میں جناب علیّ نے جنت البقیع میں ملاء الاعلیٰ کے
سفر پر روانہ کیا۔ کاش آج کے دن کوئی شیر خدا سے پوچھے کہ وہ کتنے غمگین
اور اداس ہیں؟ ہماری اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمارا انجام بی بی فاطمہ کے
احترام کرنے والوں کے ساتھ کرے اور ہمیں ان سے دور رکھے جو اس سنت رسول کو
پامال کرتے ہیں۔