گزشتہ سال کی طرح اس برس بھی بیس دسمبر دو ہزار آٹھ کو بعد از نماز مغرب جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کی مسجد فاطمہ زہرا سلام اللہ میں پاک حیدری ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام جشن عید غدیر اور عید مباہلہ کی ایک شاندار محفلِ مقاصدہ کا اہتمام کیا گیا
جس کے انعقاد میں تنظیم کے صدر مقصود شاہ کے علاوہ تنظیم کے سیکرٹری اور معروف ادیب اور شاعر سید اقبال حیدر کی مساعی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
لگ بھگ ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس شاندار محفلِ مقاصدہ میں مقامی شعرا اور منقبت خوانوں کے علاوہ لندن سے خاص طورتشریف لائے معروف شاعر،ادیب،مبصر،مرثیہ نگار اور براڈکاسٹر صفدر ھمٰدانی نے مباہلہ اور غدیر کے حوالے سے کلام پیش کیا
جس کے دوران ہال نعرہ درود اور نعرہ حیدری سے گونجتا رہا۔
اس پرنور محفل کی نظامت سید اقبال حیدر نے کی اور سب مدح خوان محمد و آلِ محمد کے کلام کو حاضرین نے درود اور نعرہ حیدری کی معطر فضا میں سماعت کیا اور اختتام مقاصدہ پر خواتین و حضرات میں تہنیت کے شور میں نیاز امام پیش کی گئی۔
اس
متبرک اور مقدس محفل کی چند تصاویر








عید غدیر وہ مبارک اور سعد دن ہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج سے واپسی پر غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کو خدا کے حکم سے اپناخلیفہ و جانشین منصوب فرمایا اور اس دن خدانے دین کو مکمل اور نعمتوں کا اتمام کیا اس طرح رسول اکرم صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم نے امت کو اپنے بعد کا راستہ دکھادیا ۔
باب شہر علم امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام تقوی،دین داری،دین کی مطلق پابندی،غیر خدا اور غیر راہ حق کو نظر میں نہ لانے،راہ خدا میں کسی کی پرواہ نہ کرنے،علم،عقل،تدبیر،طاقت،اور عزم و ارادے کا مظہرتھے اور ایسی شخصیت کو غدیر کے دن اپنا جانشین معین کرنا تاریخ میں امت اسلامی کی رہبری کے معیار کو ظاہرکرتاہے
آج اشد ضرورت اس امر کی ہے کہ غدیر جیسے اہم واقعے کو مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور ان کی کمزوری کا بہانہ نہیں بننا چاہیے اور دشمن مسئلہ غدیرکو مسلمانوں کے درمیان برادرکشی ،جنگ اور خونریزی کا پیش خیمہ بنانا چاہتا ہے ۔
مباہلہ حق و صداقت کے فیصلے کا واقع ہے جس کا ذکر قرآن میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔عبدالرحمان بن كثير نے جعفر بن محمد، ان كے والد بزرگوار كے واسطہ سے امام حسن (ع) سے نقل كيا ہے كہ مباہلہ كے موقع پر آيت كے نازل ہونے كے بعد رسول اكرم(ص) نے نفس كى جگہ ميرے والد كو ليا، ابنائنا ميں مجھے اور میرے بھائي كوليا، نساءناميں ميرى والدہ فاطمہ (ع) كو ليا اور اس كے علاوہ كائنات ميں كسى كو ان الفاظ كا مصداق نہيں قرار ديا لہذا ہميں ان كےا اہلبيت (ع) گوشت و پوست اور خون و نفس ہيں، ہم ان سے ہيں اور وہ ہم سے ہيں_(امالى (ع) طوسى 564 / 1174 ، ينابيع المودة
زمخشرى كا بيان ہے كہ جب رسول اكرم(ص) نے انھيں مباہلہ كى دعوت دى تو انھوں نے اپنے دانشور عاقب سے مشورہ كيا كہ آپ كا خيال كياہے؟ اس نے كہا كہ تم لوگوں كو معلوم ہے كہ محمد اللہ كے رسول (ص) ہيں اور انھوں نے حضرت مسيح (ع) كے بارے ميں قول فيصل سناديا ہے اور خدا گواہ ہے كہ جب بھى كسى قوم نے كسى نبى بر حق سے مباہلہ كيا ہے تو نہ بوڑھے باقى رہ سكے ہيں اور نہ بچے پنپ سكے ہيں اور تمھارے لئے بھى ہلاكت كا خطرہ يقينى ہے ، لہذا مناسب ہے كہ مصالحت كرلو اور اپنے گھروں كو واپس چلے جاؤ
دوسرے دن جب وہ لوگ رسول اكرم(ص) كے پاس آئے تو آپ اس شان سے نكل چكے تھے كہ حسين (ع) كو گود ميں لئے تھے، حسن (ع) كا ہاتھ پكڑے ہوئے تھے فاطمہ (ع) آپ كے پيچھے چل رہى تھيں اور على (ع) ان كے پيچھے_ اور آپ فرمارہے تھے كہ ديكھو جب ميں دعا كروں تو تم سب آمين كہنا_
اسقف نجران نے يہ منظر ديكھ كر كہا كہ خدا كى قسم ميں ايسے چہرے ديكھ رہاہوں كہ اگر خدا پہاڑ كو اس كى جگہ سے ہٹانا چاہے تو ان كے كہنے سے ہٹا سكتا ہے، خبردار مباہلہ نہ كرنا ورنہ ہلاك ہوجاؤگے اور روئے زمين پر كوئي ايك عيسائي باقى نہ رہ جائے گا_
چنانچہ ان لوگوں نے كہا يا ابا القاسم ہمارى رائے يہ ہے كہ ہم مباہلہ نہ كريں اور آپ اپنے دين پر رہيں اور ہم اپنے دين پر رہيں ؟ آپ نے فرمايا كہ اگر مباہلہ نہيں چاہتے ہو تو اسلام قبول كرلو تا كہ مسلمانوں كے تمام حقوق و فرائض ميں شريك ہوجاؤ
ان لوگوں نے كہا يہ تو نہيں ہوسكتاہے
فرمايا پھر جنگ كے لئے تيار ہوجاؤ، كہا اس كى بھى طاقت نہيں ہے، البتہ اس بات پر صلح كرسكتے ہيں كہ آپ نہ جنگ كريں نہ ہميں خوفزدہ كريں، نہ دين سے الگ كريں، ہم ہر سال آپ كو دو ہزار حلّے ديتے رہيں گے، ايك ہزار صفر كے مہينہ ميں اور ايك ہزار رجب كے مہينہ ميں اور تيس عدد آہنى زر ہيںچنانچہ آپ نے اس شرط سے صلح كرلى اور فرمايا كہ ہلاكت اس قوم پر منڈ لارہى تھي، اگر انھوں نے لعنت ميں حصہ لے ليا ہوتا تو سب كے سب بندر اور سور كى شكل ميں مسخ ہوجاتے اور پورى وادى آگ سے بھر جاتى اور اللہ اہل نجرات كو جڑ سے اكھاڑ كر پھينك ديتا اور درختوں پر پرندہ تك نہ رہ جاتے اور ايك سال كے اندر سارے عيسائي تباہ ہوجاتے _
اس كے بعد زمخشرى نے يہ تبصرہ كيا ہے كہ آيت شريف ميں ابناء و نساء كو نفس پر مقدم كيا گيا ہے تا كہ ان كى عظيم منزلت اور ان كے بلندترين مرتبہ كى وضاحت كردى جائے اور يہ بتادياجائے كہ يہ سب نفس پر بھى مقدم ہيں اور ان پر نفس بھى قربان كيا جاسكتاہے اور اس سے بالاتر اصحاب كساء كى كوئي دوسرى فضيلت نہيں ہوسكتى ہے_( تفسير كشاف 1 ص 193 ، تفسير طبرى 3 ص 299 ، تفسير فخر الدين رازى ص8 ص 88 ، ارشاد 1 ص 166 ، مجمع البيان 2 ص 762 ، تفسير قمى 1 ص 104_
واضح رہے كہ فخر رازى نے اس روايت كے بارے ميں لكھا ہے كہ اس كى صحت پر تقريباً تمام اہل تفسير و حديث كا اتفاق و اجماع ہے