انااللہ وانا الیہ راجعون۔
جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا

جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا
آہ سید نسیم حیدر زیدی
جہاں تمام عالم
اسلام آج عید غدیر خم کی خوشیوں میں ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہا ہے اس
میں ایک خبر غم یہ بھی ہے کہ ناروے کے مشہور معروف مرثیہ خوان سماجی کارکن
سید نسیم حیدر زیدی جو کہ ایک عرصے سے ناورے میں آباد تھے کل رات گیارہ
بجے حرکت قلب بند ہونے سے اس دار فانی سے کوچ کر گئے
مرحوم سید اکمل حسین کے پھوپھی زاد تھے اور مرثیہ پڑھنے والوں میں یورپ میں ان کا جانا پہچانا نام تھا اور انیس
اور دبیر کو خوب اور ازبر کیا ہوا تھا۔ ابھی چند ماہ قبل اپنے پیٹے کی شادی
پر پاکستان گئے ہوئے تھے
مرحوم گزشتہ چند دنوں سے علیل تھے کل اچانک
ان کی طبیت خراب ہوئی ان کو ہسپتال لے جایا گیا مگر وہاں پر جانبر نہ ہو
سکے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے یاد رہے کہ مرحوم کی نماز جنازہ آج تین
بجے دوپہر ناروے کی امام بارگاہ میں مولانا شمشاد حسین رضوی کی اقتاد میں
ادا کی جائے گی موحوم نے بیوہ کے علاوہ دو دختران اور دوپسران کو سوگوار
چھوڑا ہے
عالمی اخبار کی انتظامیہ موحوم کے پسندماندگان کے اس جانی نقصان پر ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور مغفرت کی دعا بھی کرتی ہے