
یہ ایک کشادہ ہال والی خوبصورت مسجد تھی جسکا کھلا ہوا صدر دروازہ ہمیں اندر کی جانب خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ اسکے فرش پر چند مؤمنین و مؤمنات اپنی اپنی عبادت میں اپنے اپنے انداز میں مشغول تھے۔ جب میں اس وسیع و عریض ہال میں داخل ہوا تو ماحول میں ایک عجیب سا کیف محسوس کیا۔ اور کیوں نہ ہوتا۔ میں اس وقت موسٰی بن خزرج کے اس مکان کے مقام پر موجود تھا جہاں بی بی معصومہ سلام اللہ علیہا نے قیام فرمایا تھا۔ ہال کے عین وسط میں پہنچ کر میں نے گھوم کر ان درودیوار کو حیرت زدہ نظروں سے تکنا شروع کردیا۔ کریمہءاہلبیت (س) کی مہمان نوازی کا ثمرہ خدا نے یہ دیا کہ قیامت تک کے لئے موسٰی کے اپنے نام اور انکے اس مکان کو بیت النور اور مدرسہءستیہ کے نام سے آئیندہ نسلوں کے لئے محفوظ کردیا (سبحان اللہ)۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے میں پہلی صف میں جا پہنچا۔ اس سے بھی آگے ایک چوبی منبر تھا اور اسکے پہلو میں دو سیڑھیاں نیچے اترکر ایک خوبصورت محراب تھا جو کہ ایک جنگلے کے حصار میں بند تھا۔ یہی دراصل وہ عظیم مقام تھا جہاں بی بی معصومہ سلام اللہ علیہا اپنے رب کی عبادت کیا کرتی تھیں اور اسی مقام پر آپ نے جان، جان ِ آفرین کے سپرد فرمائی۔ میں بے اختیار بڑھتا چلا گیا اور جنگلے کا دروازہ کھول کر مصلٰیءمعصومہ پر جا گرا۔ اس پاکیزہ مقام سے اپنے رخسار، پیشانی اور لبوں کو مس کرکے اپنی مغفرت کا سامان اکٹھا کیا اور دو قدم پیچھے ہٹ کر بی بی کے حضور دو رکعت نماز کا ہدیہ پیش کیا۔ بعد از نماز میں سجدہءشکر میں گرگیا اور اس حالت میں بہنے والے خوشی کے آنسو اس مصلے میں جذب ہوکر میرے اندر ان عنایات کو اکٹھا کرنے کی خوشی کو دوبالا کرنے لگے۔ اس مقدس مقام کی زیارت کا شرف حاصل کرنا میری زندگی کی ایک اور اہم کامیابی تھی۔ میں ان عالیقدر درودیوار کا دیدار ِ آخر کرتا ہوا آہستہ آہستہ بیت النور سے باہر کی جانب چلا۔
یہاں سے نکل کر ہم ایک اور قبرستان پہنچے جسکے وسط میں روضے کی ایک عمارت تھی۔ اس عمارت کے سر پر ایک نیلگوں مخروطی گنبد نصب تھا جو اس عمارت کو دیگر عمارات سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ مقام ِ استراحت تھا حضرت علی بن جعفر صادق علیہ السلام کا۔ آپ امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرزند ِ ذی وقار تھے جو بلند پایہ عابد و زاہد اور عالم ِ بزرگ تھے۔ آپکی شان مین علماء کا کہنا ہے کہ آپکی عظمت و جلالت ضبط ِ تحریر میں آنے سے قاصر ہے۔ بزرگ اور مستند راویان میں آپکے ایک اور بھائی موسٰی بن جعفر بھی ہیں جو آپ ہی کے تربیت یافتہ تھے۔ بی بی معصومہ سلام اللہ علیہا کے روضے پر ہوئی کاشی کاری کی ایک جھلک آٹھویں صدی کی اس قبر پر بھی نظر آتی ہے۔ اسی قبرستان سے متصل مسجد ِ مسلم بن عقیل بھی ہے۔
تھوڑا آگے چلے تو گنبد ِ سبز باغ پہنچے۔ کسی زمانے میں یہ خوبصورت باغ ہوا کرتا تھا جہاں حضرت ابراہیم بن موسٰی بن جعفر مدفون ہوئے تھے۔ اس مقبرے پر سبز گنبد تعمیر ہے اور یہ روضہ تین کمروں پر مشتمل ہے۔ اسی احاطے میں قم کے تین جید بزرگ علماء بھی محو ِ استراحت ہیں۔ ابھی ہم روضے کی دہلیز پر ہی پہنچے تھے اندر سے نوحہ خوانی کی جاں سوز آوازیں ہمارا استقبال کرنے لگیں۔ جب ہم اندر داخل ہوئے تو پورا روضہ خالی تھا، نہ آدم نہ آدم زاد۔ پھر کون تھا جو اس قدر دلدوز آواز میں مرثیہ پڑھ رہا تھا۔ اس آواز کے تعاقب میں میں اندر کی جانب بڑھتا چلا گیا اور ضریح کا ایک چکر مکمل کرنے پر بارگاہ کے ایک کونے میں ایک عزادار کو ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہوگیا جو اس دنیا و ما فیہا سے بے خبر ایک کتاب کھولے کسی اور دنیا میں پہنچ کر سید الشہداء (ع) کا مرثیہ پڑھتا جا رہا تھا اور زار و قطار گریہ کر رہا تھا۔ بظاہر تو وہ اکیلا تھا مگر یقینا” یہ امام بارگاہ غیر مرعئی مخلوقات سے پر ہوگی جو اس جوان کے ہمراہ امام حسین (ع) پر گریہ کررہے ہوں گے۔ اس شخص کی آواز میں اسقدر دکھ بھرا ہوا تھا کہ کچھ سمجھ نہ آنے کے باوجود میں خود وہیں بیٹھ کراسی مجلس کا حصہ بن گیا۔ میرا اپنا دل پھٹ پڑا اور میں بھی زارو قطار رونے لگا۔ کیونکہ یہ وہ عجیب خانوادہ ہے جسکی سلطنت زمان، مکان اور زبان کی حدودوقیود سے ماورا احساسات و جذبات کے ملک پر حاوی ہے۔ مجھے فارسی کی زرا بھی سوجھ بوجھ نہیں اور وہ تمام کلام روح کی گہرائیوں میں اتر کر آنکھوں کو نم کررہا تھا۔ کچھ دیر اس مجلس میں بیٹھ کر میں نے مناسک ِ زیارت حضرت ابراہیم ادا کیئے اور آنکھوں کو پونچھتا ہوا باہر نکل آیا۔
باہر نکل کر جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ دن اب تیزی سے ڈھل رہا ہے اور کچھ ہی دیر میں مغرب ہونے کو ہے۔ گو کہ رات کا چھا جانا اس بات کی قطعی دلیل نہیں کہ عبادات و زیارات کا سفر رک جائے لیکن آج چونکہ منگل کا دن تھا جسکی آنیوالی رات مخصوص ہے مسجد ِ جمکران میں عبادات کے واسطے، سو ہمارے پاس اب وقت کم ہی بچ رہا تھا۔ ہمارے گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ وہ مغرب تک ہی ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں کیونکہ آٹھ بجے انہیں تہران ائیرپورٹ کسی کے استقبال کے لیے جانا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ہم سے سوال کر ڈالا کہ اس محدود وقت میں کہیں اور جانا پسند کریں گے یا نہیں۔ میرا جواب بھی ایک سوال ہی تھا کہ اور کون سا قابل ِ ذکر مقام ہے جہاں ہم ابھی جا سکتے ہیں۔ منور صاحب نے گاڑی کو سڑک پر دوڑاتے ہوئے بتایا کہ تمام کا تمام شہر ِ قم ہی اہم مقام ہے۔ اس کے چپے چپے پر امام زادگان، دختران، بزرگان اور علماء کے مزارات ہیں۔ اگر آپ اس شہر کی تفصیلی زیارات کرنا چاہیں تو کئی ماہ درکار ہیں۔ منور صاحب کے اس جواب پر میں اپنا سا منہ لیکر رہ گیا۔ اور سرد آہ بھر کر معاملہ انہی کے شانوں پر دھر دیا۔ میرا جواب سن کر انہوں نے کہا کہ میں آپکو آپکی قیام گاہ کے پاس ایک اہم زیارت گاہ پر چھوڑ دیتا ہوں، جہاں سے حرم بھی نزدیک ہے۔ امید ہے کہ وہاں کی زیارت کے دوران ہی مغرب کا وقت بھی ہو جائیگا اور آپ مغربین حرم ہی میں ادا کرلیں گے۔ جبکہ آپکو چھوڑ کر میں تہران چل نکلوں گا اور جب میری ضرورت ہو، آپ مجھے فون کرکے بلوا لیں۔ انہوں نے مزید بھی بتایا کہ جب مغرب سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلیں گے تو پورا شہر جمکران جا رہا ہوگا اور شہر بھر کی گاڑیاں ٹیکسیاں بن چکی ہوں گی۔ آپ کسی بھی فیملی کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ رات کو سب جمکران ہی جائیں گے۔ یہ سن کر میں حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔ خوش اس لیئے کہ جمکران جانا ہے اور حیران اس لیئے کہ کیسے جانا ہے۔
بہرحال منور صاحب نے گاڑی کا رخ حرم کی جانب موڑ دیا۔ اور بتانے لگے ہمارے اگلے پڑاؤ کے متعلق۔ انہوں نے بتایا کہ حرم ِ بی بی معصومہ (س) کے سامنے آب نما اور باغ ِ ملی نامی مقامات کے درمیان ایک قبرستان ہے جو مقبرہءشیخان کے نام سے مشہور ہے۔ قم میں یہ قبرستان سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں پر اہل بیت عظام، صحابہءکرام، تابعین، شہداءوصالحین، اولیائے کرام اور علمائے عظام کی قبور ہیں۔ ان جلیل القدر ہستیوں میں سے چند حضرت آدم بن اسحاق (پیغمبر زکریا کے بھتیجے)، زکریا بن ادریس، علی بن ابراہیم بن ہاشم قمی (صاحب تفسیر) اور امام علی بن موسٰی رضا علیہ السلام کے حج کے ساتھی جناب زکریا بن آدم محدث قمی (ر) ہیں۔
ابھی ان معلومات کو میں ذہن نشین کرنے کی کوششوں میں ہی تھا کہ ہمارا مقام ِ مقصود آن پہنچا۔ میں نے جو نظریں اٹھا کر دیکھا تو یہ وہی مقام تھا جہاں آج بعد از ظہرین ہم حاضر ہوئے تھے، مگر لاعلمی کے عالم میں۔ اس وقت ہمیں اتنا ہی معلوم تھا کہ یہ ایک قبرستان ہے جہاں کچھ عظیم المرتبت ہستیاں مدفون ہیں۔ مگر قبرستان اور اسکے مکینوں کا کیا کیا تعارف ہے، اس بابت ہم بالکل انجان تھے۔ جبکہ زرا سا تعارف حاصل ہو چکا تھا تو اب زیارت کا اپنا ہی مزہ تھا جسے ہم نے خوب حاصل کیا۔ ان تمام معلومات کے ملنے پر میں بہت خوش تھا۔ مقبرہءشیخان سے واپسی پر یہ خوشی اداسی میں ڈھلنے لگی کہ ایک دن اور تمام ہوا اور ہماری واپسی کےغمناک لمحات کسی ناگ کی مانند اپنی جانب لپکتے محسوس ہورہے تھے۔ قم کے افق پر سرخی چھائی ہوئی تھی اور سرد و خشک ہوا ماحول کو اور بھی اداس کررہی تھی۔ اس اداس فضا میں تلاوت ِ کلام پاک کی سحر انگیز آواز شیرینی گھولتے ہوئے اس اداسی کو کافور کرنے لگی۔ ہم صدائے تلاوت سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے حرم کی جانب بڑھنے لگے اور جب حرم کے صدر دروازے تک پہنچے تو اذان مغرب کا آغاز ہو گیا۔ حرم، اس سے متصل بازار اور شہر بھر کی روشنیاں چمک اٹھیں اور آنا” فانا” سارے کا سارا شہر بقعہءنور بن گیا۔
حرم کے طلائی گنبد و میناروں سے ایسا نور چھلکنے لگا کہ طبیعت شگفتہ ہوگئی اور جسم میں ایک تازہ توانائی سی بھرنے لگی۔ ہم سکون سے اجازت لیکر حرم میں داخل ہوئے۔ نماز شروع ہونے میں جتنا وقت باقی تھا اسکو غنیمت جانتے ہوئے ہم نے بی بی کی زیارت کا بار ِدیگر شرف حاصل کرلیا۔ زیارت سے فارغ ہو کر مسجد ِ اعظم کے ہال کی جانب جو چلا تو یوں محسوس ہوا کہ گویا سارا قم یہیں نماز پڑھنے چلا آیا ہو۔ میں واپس پلٹا اور آج مغربین، ایوان آئینہ میں ادا کرنے کا ارادہ کیا۔
آغاز سے انجام تک نماز میں حضوع، خشوع اور روحانیت کا وہی عالم تھا جو قبل ازیں ان دو حرموں میں تجربہ کرنے کو ملا تھا۔ نماز کے بعد صفیں تو منتشر ہوگئیں مگر عابدین اپنے اپنے انداز میں دوبارہ سے عبادتوں میں مشغول ہوگئے۔ ہم بھی کچھ دعا و مناجات کی غرض سے کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے۔ باہر نکل کر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، ڈونٹ اور کافی سے شام کا لطف اٹھایا۔ ٹہلتے ٹہلتے ہوئے اپنے ہوٹل کی جانب چلے اور اعمال ِ جمکران کی نیت سے تازہ غسل اور لباس تبدیل کرکے اس عبادت کے لیئے عازم ہوئے جس کو بجا لانے کے لیئے اس وسیع و عریض کائنات کے چند مومنین میں سے ہمارا بھی انتخاب کیا گیا تھا۔
مسجد ِ صاحب الزمان علیہ السلام المعروف مسجد ِ جمکران ایک ایسی عجیب الخلقت مسجد ہے جو بذات ِ خود امام (عج) کے حکم کے مطابق تعمیر کی گئی۔ شیخ صدوق (رح) راوی ہیں کہ چوتھی صدی کے اواخر میں جناب حسن بن مثلہ جمکرانی (رح) جو اپنے دور کے عابد بے مثل اور شریف النفس انسان تھے، امام عصر (عج) کی جانب سے اس مسجد کی تعمیر پر مامور کیئے گئے۔ اس ماموریت، اسکے محرکات و وجوہات اور دیگر تفاصیل حسن جمکرانی صاحب ہی کی زبانی سنتے ہیں۔ حضرت فرماتے ہیں کہ
"سترہ رمضان المبارک 393ھ بروز منگل، میں جمکران نامی گاؤں میں اپنے شبستان میں محو ِ خواب تھا کہ بعد از نصف ِ شب چند افراد نے آکر میرے دروازے پر دستک دی۔ میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے "اے حسن! اٹھو۔ اور اپنے امام ِ وقت (عج) کی صدا پر لبیک کہو جنہوں نے تمہیں یاد فرمایا ہے۔" میں جلدی سے اٹھا اور ان اصحاب سے درخواست کی کہ مجھے لباس تبدیل کرنے کی مہلت دی جائے تو میں چلتا ہوں۔ گھپ اندھیرے میں میں نے اپنے کپڑوں کو ٹٹولا اور ایک قمیص اٹھا کر زیب تن کرنا چاہی تو آواز آئی کہ یہ قمیص تمہاری نہیں، سو اسے پہننے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔ چنانچہ میں نے دوسری قمیص پہنی۔ یہی قصہ پائجامہ پہنتے وقت بھی ہوا۔ پھر میں گھر سے باہر نکلنے کے لیئے اندھیرے میں چابی ڈھونڈنے لگا تو پھر سے آواز آئی کہ چابی کا خیال چھوڑو، دروازہ کھلا ہے۔ میں برآمد ہوا تو دیکھا کہ خوبصورت و وجیہہ چہروں والے کچھ اشخاص میرے منتظر کھڑے ہیں۔ میں نے بڑھ کر انہیں سلام کیا جسکا انہوں نے تپاک اور خوشدلی سے جواب دیا۔ اسکے بعد انہوں نے اس جگہ کے لیئے میری راہنمائی فرمائی جہاں آج یہ مسجد موجود ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر میں نے بغور مشاہدہ کیا تو دبیز قالینوں پر سجا ہوا ایک خوبصورت تخت نظر آیا جس پر سلیقے سے تکیئے لگے ہوئے تھے۔ تخت پر تقریبا” تیس سالہ ایک حسین و پروقار جوان براجمان تھا، جسکے پہلو میں ایک نورانی بزرگ تشریف فرماتھے۔ بزرگ کے ہاتھوں میں ایک کتاب تھی جسے پڑھ کر وہ اس جوان کو سنا رہے تھے۔ تخت کے اردگرد ساٹھ سے زیادہ کچھ اور اشخاص موجود تھے جن میں سے کچھ سفید اور کچھ سبز پوشاکوں میں ملبوس تھے۔ وہ سب خدا کی حمد و ثناء اور تسبیح و تحلیل میں مشغول تھے۔ ابھی میں اس دلنشین منظر کے سحرمیں کھویا ہوا تھا کہ مجھے الہام کیا گیا کہ یہ وجیہہ جوان تمہارے امام ِ وقت عجل اللہ تعالٰی فرجہ شریف اور یہ بزرگ ان کے مونس، پیغمبر خضر علیہ السلام ہیں۔
حضرت خضر علیہ السلام نے مجھے بھی شامل ِ محفل ہونے کا اشارہ کیا اور میرے آقا (عج) مجھ سے یوں گویا ہوئے۔
"اے حسن! آپ اس زمین کے کاشتکار حسن بن مسلم کے پاس جائیے جو ہمارے بارہا تنبیہہ کرنے کے باوجود پچھلے پانچ برسوں سے اس مقدس زمین پر فصل بورہا ہے۔ یہ بابرکت قطعہءارض ہے جسے خدا نے بقیہ زمین پر فضیلت اور فوقیت بخشی ہے۔ وہ امسال بھی یہاں کاشتکاری کا ارادہ رکھتا ہے، اگرچہ نہ تو وہ اس زمین پر کوئی حق رکھتا ہے اور نہ ہی اسے اسکی اجازت ہے۔ چنانچہ اس سے کہئے کہ وہ نہ صرف اس زمین پر کاشتکاریکرنے سے باز رہے، بلکہ گذشتہ سالوں میں اس سے کمائے گئے تمام پیسے کو اسی مقام ِ مقدس پر ایک مسجد کی تعمیر کی مد میں آپکے حوالے کردے۔ اسکو یہ انتباہ بھی کیجیئے کہ زمین کے اس مقدس ٹکڑے کو اپنی املاک میں شامل کرنے کے گناہ کی پاداش میں خدا نے سزا کے طور پر اسکے دو جوان بیٹوں کو بھی واپس لے لیا تھا۔ مگر وہ پھر بھی یہ اشارے نہ سمجھ سکا۔ اسکو خبردار کردیجیئے کہ اب بھی اس نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو خدا کی جانب سے دردناک عذاب کے لیئے تیار رہے۔"
میں اپنے مولا کی تمام باتوں کو بغور سنتا رہا اور دست بستہ گذارش کیکہ مولا! میں ضرور آپکا حکم بجا لاؤں گا مگر مجھے اپنا مؤقف بیان کرنے کے لئے واضح ثبوت درکار ہوں گے۔ یہ سب کیونکر ممکن ہو پائے گا؟
آقا نے ارشاد فرمایا کہ ثبوت کے طور پر ہم مسجد کی حدود کے خط کھینچ دیں گے۔ مزید فرمایا کہ اپنے ساتھ سید ابوالحسن (رح) کو بھی لیجائیں اور یاد سے اس زمین سے کمائے گئے روپئے کو حسن بن مسلم سے واپس حاصل کریں اور اس رقم سے مسجد کی بنیاد رکھ دیں۔ مسجد کی باقاعدہ تعمیر کے لیئے اردھال میں واقع گاؤں رہاق سے رقم حاصل کرلیں، جو کہ ہم سے منسوب ہے۔ اور ہاں! رہاق کی آدھی زمین پہلے ہی اس مسجد کی مرمت و آرائش کے لیئے مختص کی جاچکی ہے۔
چنانچہ حکم امام پر یہ تمام مراحل طے کئے گئے اور مسجد امام زمانہ علیہ السلام کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔"
ہمارے اس مقدس سرزمین کی جانب عازم ہونے کے عوامل نے جذبات و احساسات کی ایک نئی دنیا کو ایجاد کر ڈالا۔ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ آج میرا شمار بھی ان خوش قسمت لوگوں میں ہونے جا رہا ہے جو حسن جمکرانی (رح) کے دور سے لیکر آج تک بالعموم روزانہ اور شب ِ بدھ بالخصوص اس خاص الخاص مسجد میں عبادات و شب بیداری کے فیوض و برکات سے اپنے چکمتے ہوئے مقدرات کو مزید صیقل کرتے ہیں۔ گو کہ ابھی تک اس مقدس مقام کی زیارت سے یہ مادی آنکھیں تو منور نہ ہو پائی تھیں، مگر چشم ِ تصور میں میں اس مسجد کے اپنے تئیں خیالی خاکے ضرور مرتب کررہا تھا۔ دعائے سلامتیءامام زمانہ (عج) کی تلاوت کرتے ہوئے ہم اپنی قیامگاہ سے برآمد ہوئے، اس مقام ِ بینظیر کی زیارت کے لیئے جسکے تقدس کو خود حجت ِ خدا (عج) نے بیان فرمایا۔
ہوٹل سے نکل کر شاہراہ پر آئے تو واقعی ایک نیا ہی منظر ہماری دید کا منتظر تھا۔ دور تاحد ِ نگاہ گاڑیوں کی قطاریں تھیں جن کے ڈرائیور حضرات "جمکران جکمران" کی صدائیں بلند کررہے تھے۔ قم کے مقامی مومنین تو اپنی جگہ مگر غیر ملکی زائرین بھی اس بھیڑ کا حصہ تھے جن سب کی مشترکہ منزل ایک ہی تھی، یعنی مسجد ِ مقدس جمکران۔ ایک نوجوان ٹیکسی والا ہم دونوں کو آتا دیکھ کر ہماری جانب بڑھا اور سوالیہ انداز میں جکمران بولا۔ ہمارا جواب ظاہر ہے مثبت ہی تھا جسے پاکر اس نے میرا ہاتھ تھاما اور گھسیٹتا ہوا اپنی گاڑی تک لے آیا۔ اسکی یہ حرکت مجھے اپنے ملک کے ویگن والے یاد دلانے لگی جو آتی ہوئی سواریوں کو بالکل اسی طرح کھینچ کر اپنی گاڑی میں بٹھا تو لیتے ہیں مگر اسکے بعد انکا جو حشر ہوتا ہے وہ وہی سواری بہتر جانتی ہے۔ مگر یہ ڈرائیور بہت ہی خوش اخلاق، شوخ، چنچل اور منچلا سا نوجوان تھا جو تھوڑی بہت انگریزی بھی جانتا تھا۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ والی نشست پر آگے بٹھایا اور زائرہ کو پہلے سے بیٹھے ہوئے ایک اور جوڑے کے ساتھ پچھلی نشست پر بٹھا دیا اور اپنی گاڑی کو ایک گھوڑے کی مانند جکمران کی سمت ایڑھ لگا دی۔ ہمارا ہمسفر جوڑا تھا تو ہماری ہی طرح نوزائیدہ، مگر وہ ایرانی ہونے کے باوجود بسلسلہءملازمت بحرین میں مقیم تھے۔ ان دنوں چھٹیوں پر وہ اپنے گھر تہران آئے ہوئے تھے اور آجکی رات ہماری طرح یہ شرف حاصل کرنے مسجد ِ جمکران جا رہے تھے۔ انکے ساتھ کی سب سے اچھی بات انکی باقاعدہ شستہ انگریزی تھی۔ اور اخلاق کا عالم میرے قید ِ بیان سے باہر ہے۔ انہوں نے چند ہی منٹوں میں ایسی گفتگو کی کہ جیسے ہماری چند منٹوں نہیں، بلکہ کئی سال کی شناشائی ہو۔ اسی دوران انہوں نے ہمیں مسجد ِ جمکران، اسکی اہمیت اور آج رات کے اعمال کے بارے میں ڈھیر ساری معلومات دے ڈالیں۔ ہمارا ڈرائیور بھی کسی سے کم نہ تھا۔ وہ بھی مسلسل لقموں کی شکل میں گفتگو میں حصہ لیتا رہا اور اپنی گاڑی کے باجے میں مختلف قسم کی موسیقی لگا کر ہمیں اس کلام اور گلوکاروں کے بارے میں معلومات دینے کی کوشش کرتا رہا جو میرے تو سر کے اوپر سے گزرتی رہیں، البتہ دوسرے جوڑے کو یقینا” سمجھ میں آرہی ہوں گی۔ اس سفر میں ایسا مزہ آرہا تھا جیسے اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ کسی پرفضا مقام کی پکنک پر جاتے ہوئے آتا ہے۔ راستے میں اس نے ایک جگہ گاڑی بر لب سڑک روکی اور اپنے ساتھ مجھے بھی اترنے کا اشارہ کیا۔ میں ایک لمحے کو ٹھٹک گیا کہ نجانے اسکے کیا ارادے ہیں۔ مگر میرے خدشات کے برعکس اس نے ہماری تواضع کی خاطر گاڑی روکی تھی۔ وہ ایک مسجد تھی، جس کے باہر عازمین ِ جمکران کے لیئے چائے کی سبیل لگی ہوئی تھی۔ ہم دونوں اترے اور گاڑی میں بیٹھے اپنے دیگر ہمسفروں کے لیئے چائے کے کپ لیکر آئے اور خود سڑک پر کھڑے ہوکر چائے کا لطف اٹھانے لگے۔ ایران کی اس خاص چائے کا مزہ آج بھی میرے دہن میں تازہ ہے جس میں سے اٹھنے والی دارچینی کی مہک دماغ تک کو معطر کر گزری تھی۔
یونہی باتیں کرتے کرتے اور اطراف و اکناف کے نظارے کرتے ہوئے آدھے گھنٹے کا سفر تمام ہوا اور ہماری منزل آن پہنچی۔ جیسا رش حرم کے باہر جمکران جانے والوں کا تھا، ویسا ہی رش یہاں پہنچنے والوں کا تھا۔ ہماری طرح ہزاروں زائرین یہاں آئے ہوئے تھے مگر سب سے منفرد بات جو یہاں دیکھنے کو ملی وہ سڑک کے کنارے اور میدان میں گڑے خیمے تھے۔ معلوم ہوا کہ منگل کی شب کے لئے دور دور سے لوگ سر شام ہی یہاں پہنچنا شروع کردیتے ہیں اور اپنے ساتھ خیمے لے آتے ہیں جنہیں یہاں گاڑ کر گھر کا مکمل ماحول بھی تشکیل دے لیتے ہیں۔ یہ یقینا” ایک عبادتگاہ کے ساتھ ساتھ پکنک کا اڈہ بھی تھا۔ جہاں لوگ اشیائے خوردونوش کے علاوہ بستر، کمبل اور چولہے تک لائے ہوئے تھے۔
شہر کی فضا میں دعائے کمیل کی حسین و روح افزاء تلاوت گونج رہی تھی۔ اور انسانوں کی بھیڑ کا تو کوئی عالم ہی نہ تھا۔ میری نظروں نے تو محض انسانوں کو ہی دیکھا، نجانے خدا کی کون کون سی مخلوقات یہاں انسانی صورتوں میں موجود تھیں۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے پورا ایران ہی اس وقت اٹھ کر جمکران آگیا ہو۔ سڑک پر اکٹھے اتنے سارے افراد تو عاشورہ کے جلوسوں میں ہی نظر آتے ہیں۔ مگر یہ عاشورہ نہیں، وارث ِ عاشورہ کی بارگاہ تھی، جسکی مقدس زمین سے میرے اپنے گناہگار قدم ہم آہنگ ہو چکے تھے۔ گاڑیوں اور عوام کے اس اژدھام کو چیرتے ہوئے جب ہم بھیڑ سے باہر نکلے تو سامنے کا منظر دیکھ کر میرا منہ اور آنکھیں پھٹ پڑیں۔ اور میں چلتے چلتے جامد و ساکت ہو گیا۔ ان چند لمحات میں میری کیفیت من و عن وہی تھی جو پہلی مرتبہ مشہد الرضا (ع) سے اپنی آنکھیں منور کرنے پر ہوئی تھی