17.10.2026, 07:57pm , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 58ویں قسط
23.11.2011, 01:05am , بدھ (GMT+1)

قمر رضوی اسلام آباد
میرے سامنے اندھیرے کا ایک بہت بڑا کینوس تھا جو آفاق تک پھیلا ہوا تھا اور اس کینوس کے عین وسط میں مختلف الالوان  تین گنبدوں اور دو میناروں پر مشتمل ایک ایسی بلند و بالا اور نفیس مسجد پینٹ ہوئی نظر آ رہی تھی جس سے خارج ہونے والے رنگ اور نور کی برسات سے تمام اندھیروں کی موت واقع ہوچکی تھی۔ نادانستگی کے عالم میں قدم بڑھاتا ہوا میں مسجد کے عین سامنے پہنچ کر رک گیا۔ اب یہ عالم تھا کہ میری نظروں اور اس پینٹنگ کے درمیان اور اردگرد کی تمام دنیا فنا ہو چکی تھی۔ بس میں تھا اور وہ منظر تھا۔ بالکل پریوں کی داستان والے سوئے ہوئے محل کی مانند۔ لیکن یہاں میں بھی مبہوت ہو چکا تھا۔ جیسے میرے وجود میں سے بھی جان نکل چکی ہو۔ اسی عمارت سے نکلنے والے نیلگوں نورباد میں کھو کر میں خود بھی اسی نور سے متصل ہو گیا۔ چند لمحوں پر محیط اس فلم کو ایک قافلے نے منقطع کردیا جو ایک سبز پرچم کی سرکردگی میں میرے سامنے سے گزر گیا۔ اس پرچم کا سبز پھریرا میرے چہرے کو مس کرتا ہوا آگے بڑھ گیا اور اسکے بعد افراد کا ایک سیل میرے اور منظر کے درمیان حائل رہا۔ میں اس عالم موجود میں واپس آیا تو دیکھا کہ ایک صحرا میں کھڑا ہوں اور میرے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں کم و بیش دولاکھ افراد موجود ہیں جو چل پھر رہے ہیں، زمین پر چادر بچھائے بیٹھے ہیں، نماز میں مشغول ہیں یا اپنے اپنے انداز میں دعا و مناجات میں مگن ہیں۔ جبکہ فضا کی حدود پر دعائے کمیل کی جاں گداز صدا کی حکومت قائم تھی۔  یہ منظر بھی میری دید کے لئے بالکل نیا تھا۔ میں حیران بھی تھا اور پریشان بھی۔ قبل ازیں میرے زہن میں یہاں کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ ایک شہر میں دوسری مساجد کی مانند ایک مسجد ہوگی اور وہاں پر کچھ مؤمنین عام معمول کے مطابق عبادات بجا لارہے ہوں گے۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ دولاکھ افراد کے جم غفیر میں میرا اپنا وجود ایک زرے سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہو گا۔ مسجد اور میرے درمیان میں ہزاروں مؤمنین کا ایک سیل حائل ہو گا جو میری حیرت میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مسلسل اضافہ ہی کرتا جائیگا۔

قبل اسکے کہ میں اپنے حواس کو مجتمع کرپاتا اور اعمال کی جانب راغب ہوتا، جیب میں رکھے ہوئے فون نے گھرگھرا کر میری توجہ اپنی جانب مائل کرلی۔ اٹھا کر دیکھا تو اسلام آباد سے زائرہ کے والد جناب ظہیر رضوی صاحب کا فون تھا۔ انہوں نے بعد از سلام دعا دریافت کیا کہ کہاں ہیں۔ میں چونکہ اس مادی دنیا میں بمشکل ہی موجود تھا، سو میرے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا کہ "شہنشاہِ دوراں (عج) کے دربار میں کھڑا ہوں۔" بس اتنا کہہ کر میرے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے اور میں زمین پر سجدہءشکر میں گرپڑا۔ میں خدا کے حضور اپنی جبین نیاز زمین پر ٹکائے محو گریہ تھا اور مجھے دنیا و ما فیہا کی کوئی خبر نہ تھی۔ وہ میری زندگی کا پہلا سجدہ تھا جو ریت پر ادا ہوا تھا۔ نہ ہی میرے جسم کے نیچے کوئی مصلٰی بچھا تھا اور نہ ہی پیشانی کے نیچے کوئی سجدہ گاہ۔ بقولِ شاعر

دل ونظر کی عبادتیں ہوں تو آنسوؤں کو امام کرنا
سمندروں کے سفر میں لازم ھے پانیوں سے کلام کرنا
جو سجدہ گاہیں تلاش کرنے لگے تو عمریں گزار دو گے
خود اپنے سائے کی صف بچھانا وہیں سجود و قیام کرنا

جمکران کی ریت پر محوِ سجدہ مجھے کربلا کی ریت پر سید الشہدا (ع) کا سجدہءآخر یاد آگیا۔ کربلا کی گرم ریت پر تمام خانوادہ اور اپنا سب کچھ لٹانے کے بعد حسین (ع) خدا کے حضور پھر بھی پشیمان تھے کہ قربانی کا حق ادا نہ کرسکے۔ اس عالم میں قاتل خنجر لیئے آپکے سینے ہر سوار ہے۔ نہ کوئی مونس نہ کوئی غمخوار۔ وہ غمناک منظر تصور کرکے میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ جبکہ یہاں منظر کچھ یوں تھا کہ جب میں نے ہوش میں آنے کے بعد سر اٹھایا تو ایک فیملی کو اپنے اٹھنے کا منتظر پایا جو میرے لیئے مصلٰے کے طور پر بچھانے کے لیئے ایک چادر لیئے کھڑی تھی۔ میں شرم سے پانی پانی ہوا جا رہا تھا۔ واہ میرے مولا! خود تو بھوک، پیاس اور غربت کے عالم میں گرم ریت پر سجدہ کیا اور یہاں نہ بھوک، نہ پیاس اور نہ ہی تنہائی اور گرمی۔ اس پر کرم یہ کہ میرے لیئے مصلٰی بھی بھجوا دیا۔ کیا اسلوب میزبانی ہے۔

میرے اٹھنے کے بعد اس فیملی نے صحرا کی اس زمین پر وہ وہ چادر بچھا دی اور ہم سب اس پر سوار ہوکر عالمِ ملکوتی کی سیر کو چل پڑے۔ تاریخ چند دن بعد پھر اپنے آپ کو دھرا رہی تھی اور میرے ساتھ سب کچھ ویسے ہی ہورہا تھا جیسے پہلی مرتبہ امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے وقت ہوا تھا۔ حالات کو اپنے خیالات کے برعکس پا کر تمام آداب و اعمال کو بھلا کر میں نئے حیرتکدے کی بھول بھلئیوں میں کھویا ہوا تھا۔         

سب اپنی اپنی عبادات میں مگن تھے اور میں ہکا بکا اپنے گردوپیش کےماحول کو دیکھ کر اس میں جذب ہونے کی سعی کررہا    تھا۔ کافی دیر تک تو میں یونہی اپنے گردونواح کو تکتا رہا اور جب کچھ ہواس بحال ہوئے تو اپنے بستے میں سے زیارت نامہ نکال کر اعمالِ جمکران کا صفحہ کھولا اور آج کی رات کے مخصوص اعمال کی جانب مائل ہوا۔  یہاں ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں تاکہ جمکران کے متعلق کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ مسجدِ جمکران امام زمان علیہ السلام سے منسوب ایک مسجد ہے جو آپکے حکم پر تعمیر ہوئی۔ اور اسکی تعمیر کے محرکات شبِ بدھ انجام پائے تو اسی نسبت سے یہاں منگل کے دن کے اختتام پر بدھ کی رات کو خصوصی عبادات ادا کی جاتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس وقت امام علیہ السلام بذات خود یہاں نماز کی امامت کرواتے ہیں۔  ایسا نہیں ہے۔ مولا موجود ضرور ہوتے ہیں مگر ہمارے عقیدے کے مطابق امام علیہ السلام مصلحت کے تحت ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں اور وہ دن دور نہیں جب منگل اور بدھ ہی کیا، نماز پنجگانہ اور دیگر نماروں کی امامت بھی کروائیں گے اور ہمیں بھی اپنی اقتدا میں نماز ادا کرنے کا شرف بخشیں گے۔ انشاءاللہ۔ بس آپکی غیبت میں آپ سے توسل کا یہ ایک اور بہانہ ہے جو ہم گناہگاروں کو بخش دیا گیا ہے۔  اب عالم یہ ہے کہ شبِ بدھ مسجد جمکران نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہے اور وہ تمام رات عبادات و مناجات میں گزارتے ہیں۔ یہ مخصوص اعمال بھی امامِ زمانہ علیہ السلام نے حسن جمکرانی  صاحب کو خاص اس مسجد میں بجالانے کے واسطے تعلیم فرمائے تھے۔ ہمارے آقا سے ہی مروی ہے کہ اس مسجد میں ادا کی گئی نماز خانہءکعبہ میں ادا کی گئی نماز کے مساوی ہے۔  

میں بھی اپنے لیئے بچھائے گئے مصلٰے کے ایک کنارے پر قائم ہوگیا اور آجکی رات کے مخصوص اعمال بجالایا۔  ان اعمال میں بھی عجیب کیف و سرور ہے جو محسوس کروالیتے ہیں کہ ہم واقعی شہنشاہِ زمن کے دربار میں حاضر ہیں اور مولا کی نظر کرم ہم پر ہے۔  جب میں نماز سے فارغ ہوا تو اپنے مقام پر کھڑا ہو کر ایک بار پھر اپنے گردوپیش کا جائزہ لینا شروع کیا۔ جس مقام پر میں کھڑا تھا وہ مسجد کے سامنے ایک صحرائی میدان تھا، جو کہ مسجد ہی کا حصہ تھا اور مسجد میری نظروں کے سامنے کوئی آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ جسکے صدر دروازے پر "اللھم عجل لولیک الفرج" لکھا جگمگا رہا تھا۔ میرے اور مسجد کے درمیان کم وبیش پچاس ہزار افراد موجود تھے اور مسجد کے ہال میں کتنے افراد تھے، یہ میں نہیں جانتا کیونکہ مجھے مسجد کے اندر داخل ہونے کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ وہ اس لیئے کہ جب میں مسجد میں جانے کے لیئے آمادہ ہوا تو زائرہ نے میرا راستہ روک لیا۔ اس کا کہنا بھی بجا تھا کہ مؤمنین کے اس سمندر کو عبور کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اور اگر اندر جانے میں کامیاب ہوبھی گئے تو واپسی پر کیا ہوگا۔ دولاکھ افراد کے اس مجمع میں ایک دوسرے کا ہاتھ چھوڑا تو کھو جانا سو فیصد یقینی ہے۔ کیونکہ ایک کھلے میدان میں جہاں سب ایک جیسے لباسوں میں ملبوس ہوں اور چہار اطراف اندھیرا ہو اور ایسے میں راستہ بھول جائے تو کیا ہو۔ پس اسی خدشے کے پیش نظر میں نے آگے بڑھنے کا اپنا ارادہ ملتوی کیا اور وہیں کھڑے کھڑے اس حسین و دلربا مسجد کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا۔

عمارت کے صدر دروازے کے عین اوپر فائبر کا خوبصورت نقاشی سے مزین ایک فیروزی گنبد تھا جسکے اطراف میں فیروزی نقاشی والے دومینار آسمان سے باتیں کررہے تھے۔ ان میناروں کے اطراف میں ایک ایک اور گنبد تھا جن کے اندر روشن کی گئی سبز روشنیاں ایک عجیب سا سماں باندھے ہوئے تھیں۔ ان گنبدوں کا فن معماری میرے لیئے ایک نیا حیرتکدہ تھا اور میں اس حسین شاہکار کو سراہے چلا جارہا تھا۔ میں ماضی میں پہنچ گیا جب یہ چھوٹی سی مسجد ہوا کرتی تھی۔ یہ مسجد وقت کے ساتھ ساتھ تعمیر و مرمت کے مراحل سے گزرتی رہی۔  آج جبکہ ایران پر اسلامی حکومت کا راج ہے تو جہاں دیگر مذہبی مقامات کو انکا کھویا ہوا وقار لوٹایا گیا ہے، وہیں اس مسجد پر بھی  خاص توجہ دی گئی ہے۔ اب چونکہ وہاں مذہب کو کھلی آزادی حاصل ہے تو تمام سال زائرین کی آمدورفت ایک معمول بن چکی ہے۔ زائرین و عابدین کو یہاں ہر طرح کی سہولیات مہیا کرنے کی نیت سے صدر جمہوری اسلامی ایران جناب ڈاکٹر احمدی نژاد صآحب نے دس کروڑ پاؤنڈ کی خطیر رقم مختص کی جس سے اسکے ہال، رواق، گنبدومینار، وضو و طہارت خانے، کارپاک اور کتب خانہ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات بھی مہیا کی گئیں ہیں۔ آج بھی اسکی تزئین و آرائش اور تعمیر و وسعت جاری ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ایران کی دیگر عبادت گاہوں کی طرح یہاں بھی سارا سال تعمیرومرمت کاکام جاری رہتا ہے۔

میرے دل سے یہ تمام عبادات انجام دینے والوں کے لیئے دعائیں نکلیں۔ میں نے زائرہ سے کہا کہ مسجد کے ہال تک نہ
 سہی، جس حد تک آگے جاسکیں چلنے میں کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ ہم قدم بہ قدم بڑھے اور چلتے چلتے دفترِ نذورات تک پہنچ گئے۔ یہ ایک اور عنایت تھی اس در کی کہ ہمیں دفترِ نذورات تک پہنچوادیا گیا۔ ہم نے کچھ رقم ہدیتاً مسجد کے لیئے پیش کی جسکا اجر ہمیں بیشمار دعاؤں اور تبرک کے خاص نمک کی صورت میں ملا۔ ساتھ ہی ہمیں اس سکے کی نقل بھی ملی جس پر  "یا صاحب الزمان" کندہ ہے۔ یہی سکہ انشاءاللہ ہمارے مولا کے دور حکومت میں جاری ہوگا۔ وہ نایاب سکہ ہم نے تبرک کے طور پر اپنے پاس محفوظ کرکے رکھ لیا۔ البتہ مسجدِ جمکران سے ملنے والا وہ نمک آج بھی ہمارے گھر میں موجود ہے جسکا کچھ حصہ تو ہم نے معمول کے استعمال کے نمک میں شامل کردیا تھا۔ باقی کا نمک روزہ افطار کرنے کے لیے مخصوص ہے۔  جب بھی اس نمک سے افطار کرنے کا شرف حاصل ہوتا ہے، میں تخلیات کی دنیا میں مسجدِ جمکران ہی پہنچ جاتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ پھر سے اذن نصیب ہو اور مجھے جمکران جانے کا شرف حاصل ہو۔

رات کے دو بج چکے تھے اور مسجد جمکران میں دن کے دو بجے کا ماحول تھا۔  زیارات اور مختلف دعاؤں کا ورد مسجد کے اسپیکروں پر جاری تھا اور لوگوں کا ایک ہجوم یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں چلنے پھرنے میں مشغول تھا۔  مسجد کی پشت کی جانب امام سے منسوب ایک کنواں بھی ہے جہاں لوگ منتی عریضے ڈالتے ہیں۔ زائرہ نے وہاں جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ چنانچہ ہم دونوں ایکدوسرے کا ہاتھا تھامے کنویں کی جانب چل دئے جس کے اردگرد لوگوں کا ہجوم تھا اور وہ اپنی اپنی درخواستیں حوالہءکنواں کررہے تھے۔ زائرہ نے بھی عریضہ لکھا اور کنویں میں ڈالا۔ اس نے مجھ سے بھی عریضہ لکھنے کو کہا جبکہ میں نے اپنے آقا سے گفتگو کرکے اپنا مدعا بیان کرنے کو زیادہ مناسب سمجھا۔ اسکے بعد ہم دونوں تھک ہار کر ایک منڈیر کے کنارے بیٹھ گئے۔ آج سارا دن پھرتے پھرتے گزر گیا تھا اور اس وقت شدید تھکن اور بھوک کا احساس ہورہا تھا۔ وقت تو نمازِ شب کا تھا لیکن اب آہستہ آہستہ ماحول بکھرنا شروع ہوگیا تھا۔ لوگ اپنا اپنا سامان سمیٹ کر گھروں کی جانب جانے کی تیاریوں میں لگ گئے تھے۔ ہم چونکہ اجنبی تھے، سو ہم نے بھی اس خدشے کے پیش نظر کہ ہم کہیں کھو نہ جائیں، بھیڑ کے ساتھ چلنا شروع کردیا۔ مسجد کی حدود سے باہر نکلے تو بازارِ جمکران پہنچ گئے۔ بازار کی تمام دکانیں رات کے آٹھ بجے کی مانند کھلی ہوئی تھیں اور میری حیرت کے لیے یہی کافی تھا کہ تمام دکانیں گاہکوں سے یوں کھچاکھچ بھری ہوئی تھیں کہ جیسے یہ تمام گاہک ہماری طرح کسی اور ملک سے آئے ہوئے ہوں اور انہیں خریداری کی جلدی ہو۔  یہاں پہنچ کر محسوس ہونے لگا کہ جیسے آجکی رات اعمال کے لیئے نہیں، خریداری کے لیئے مختص ہو۔ مگر یہ بھی ایرانی قوم کا ایک اپنا ہی انداز ہے کہ عبادت بھی کرتے ہیں تو میلے سجا کر اور میلے سجاتے ہیں تو انہیں بھی عبادات کے قالب میں ڈھال کر۔  اس وقت بھوک کے مارے برا حال ہوا جارہا تھا، سو ہم کسی ریسٹورینٹ کی تلاش میں تھے کہ یکایک ایک ہوٹل پر نظر پڑی۔  اسکے باہر لکھا ہوا تھا "سالن غذاخوری"۔ میں خوش ہوگیا کہ یہاں سالن والی کوئی غذا، خوری کے واسطے میسر آجائے گی۔مگر وہاں وہی چلو کوبیدہ، مرغ اور دیگر پکوان دستیاب تھے جو پچھلے چند دنوں سے ہماری معمول کی خوراک تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ فارسی کا سالن، اردو کے سالن سے مطلقاً مختلف ہے جسے اردو میں ہال یا کشادہ کمرہ کہتے ہیں۔ ہم نے سالن میں بیٹھ کر سالن تو نہیں، زعفران و زرشک کے تڑکے والے چاول سیخ کباب کے ساتھ کھائے اور خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے وہاں سے چل دیے۔

باہر نکل کر سڑک پر آئے تو اب اہلِ گاڑی حضرات "جمکران جمکران" کی بجائے "حرم حرم" کی صدائیں بلند کرتے نظر آئے۔ قبل اسکے کہ ہم کسی گاڑی پر سوار  ہوتے، میں نے مڑ کی مسجد کی جانب حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا جسکے خوبصورت گنبدومینار خداحافظ کہتے ہوئے محسوس ہوئے۔ میں کچھ دیر ٹھہر کر اس مسجد سے خاموش گفتگو کرتا رہا جسکے حسن نے مجھے اپنے اندر سمو لیا تھا۔ ایک بار پھر واپسی کا اداس کن سفر جند لمحوں کے فاصلے پر ہمارا منتظر تھا۔ دل ملول سا ہوگیا کہ زندگی میں پہلی بار اتنی بڑی سعادت نصیب ہوئی تھی اور وہ بھی اتنی سی دیر کو۔ کاش یہ لمحات تھم جاتے اور ہم مزید کچھ عرصہ یہاں قیام کرپاتے مگر وقت کو تو گزرنا ہی تھا۔ شاید ہماری صحت اور مقدر کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اس مادی زندگی میں ہمارا شمار اس تاریخی و عرفانی مسجد میں سربسجود ہونیوالوں میں کرلیا گیا تھا۔ چنانچہ اسی اطمنان کے ساتھ میں نے اپنے آقا کو سلام کرنے کی نیت سے ہاتھ اٹھا کر پیشانی پر رکھا اور گردن کو خمیدہ کرتے ہوئے آپکی صحت و سلامتی کی دعا تلاوت کی اور خداحافظ کہتے ہوئے ایک ٹیکسی میں سوار ہوگیا۔

واپسی کے اس سفر کی خاموشی آج بھی میری سماعتوں میں تازہ ہے۔ یہ وہ دوسرا سفر تھا جو کاملاً خاموشی میں کٹا، جیسے مشہد سے واپسی پر کٹا تھا۔ ماحول میں صرف سڑک پر گاڑی کے دوڑنے کی آواز تھی اور بس۔ گاڑی میں سوار باقی لوگوں کا تو مجھے ادراک نہیں، مگر میں مکمل طور پر مسجدِ جمکران کے احاطے میں لوٹ چکا تھا۔ سب کچھ ایک تازہ فلم کی مانند زہن کے پردے پر چلنے لگا۔ مجھے اپنے گردونواح کی چنداں خبر نہیں تھی کہ اچانک سے خاموش فضا میں فجر کی اذانوں کا طلاطم برہا ہو گیاجو باقی تمام آوازوں پر غالب آگیا۔ کیا سرور تھا ان آوازوں میں کہ بندہ لپک کر خدا  کے حضور پیش ہوجائے۔ جب ہم اپنی منزل پر پہنچے تو تھکن اور نیند سے بے حال ہوئے جارہے تھے۔ ہوٹل پہنچ کر اپنے کمرے میں ہی نماز فجر ادا کی اور بستر پر پڑ کر ایسے سوئے کہ دس بجے آنکھ کھلی۔ جلدی جلدی نہا دھو کر نماز ظہرِ اور زیارت کے لیے آمادہ ہوئے۔  نماز سے قبل کے وقت کو ہم نے ایک نہایت اہم منصوبے کے لیے مختص کیا ہوا تھا اور وہ تھا حضرت آیت اللہ العظٰمی آغا محمد تقی بہجت اعلی اللہ مقامہ سے ملاقات کا شرف۔

:دیگر مضامین
(23.11.2011) محبان اہلبیت شٹٹ گارٹ کا آمدہ محرم الحرام کی مجالس عزا کا پروگرام شائع کر دیا گیا ہے
(18.11.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 57ویں قسط
(18.11.2011) عالمی اخبار کی ساتھی زرقا مفتی کے دیور کو ڈاکوؤں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا
(15.11.2011) ناروے کے معروف مرثیہ خوان سماجی کارکن سید نسیم حیدر زیدی کا انتقال
(07.11.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 56ویں قسط
(03.11.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر پیغامات تہنیت ۔حصہ دوئم ۔ .از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(02.11.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر پیغامات تہنیت ۔حصہ اول۔ .از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(30.10.2011) کراچی سے محمد احمد ترازی کو عالمی اخبار کی طرف سے دوسرا ” مصطفی علی ہمدانی ایوارڈ ” ۔
(30.10.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کے موقع پر عادل عزیز خانزادہ ملٹی میڈیا کے انچارج متعین
(30.10.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کے موقع پر سید اکمل حسین کی ادارتی بورڈ میں شمولیت
(29.10.2011) انجمن ادب اردو واشنگٹن ''سول'' کا ماہانہ اجلاس 30 اکتوبر اتوار کے روز منعقد ہو گا
(22.10.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 55ویں قسط
(18.10.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔20ویں قسط
(18.10.2011) حسینی اسلامک مشن آئزل ورتھ لندن کے سابق صدر سید مسعود رضوی کی تدفین
(17.10.2011) عروف ترقی پسند مصنف، صحافی، فلمساز ، شاعر اور کالم نگار حمید اختر کا انتقال
(17.10.2011) ممتاز ادیب اور نقاد منشا یادکو اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ہے
(15.10.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 54ویں قسط
(15.10.2011) ومبلڈن کمیونیٹی سنٹرمیں بزمِ اُردو لندن کی جانب سے ایک محفلِ شعرو سخن
(09.10.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔19ویں قسط
(06.10.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 53ویں قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں