|
قوم کیلئے بے غیرتی و شرمندگی کا گھونٹ۔
23.12.2008, 10:13am , منگل (GMT+1)
احسن پریمی۔اسلام آباد
امریکی ایڈمرل مائیک مولن نے کہاہے کہ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے جبکہ آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کی ہر ممکن کوشش کر رہاہے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا ۔ایڈمرل مائیک مولن نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی ایڈمرل مائیک مولن نے کہاکہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے امریکہ اپنا کردار ادا کرے گا
اس موقع پر آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے بعد ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر امن چاہتے ہیں لیکن ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا ملاقات میں نیٹو سپلائی کو محفوظ بنانے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔جبکہ صدر آصف علی زر داری نے بھارتی بیانات کو امن کے لئے خطرہ قرار دیا ہے جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے صدر آصف علی زر داری سے پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ملاقات کی ملاقات میں فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیت اور قومی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا
صدر نے کہا کہ ملک کی سلامتی پر پوری قوم متحد ہے ادھر بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات اور ممبئی حملوں کے بعد خطے کی صورتحال پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے وہ کسی کے خلاف جارحیانہ عزائم نہیں رکھتا تاہم جنگ مسلط کی گئی تو پوری قوم متحد ہے فوج علاقائی سالمیت اور ملک کے دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔بھارت میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے انہیں ایک خط موصول ہوا ہے جسے انہوں نے پاکستان بھیج دیا ہے۔اس سے قبل بھارت وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اس نے ممبئی حملوں میں گرفتار کیے گئے مبینہ شدت پسند اجمل امیر قصاب کا لکھا ہوا خط دلی میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر کے حوالے کردیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے دلی میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر افرا سیاب نے کہا ہے کہ' بھارتی وزارت خارجہ نے انہیں ایک نوٹ سونپا ہے جس کے ساتھ ایک خط بھی منسلک ہے۔ ہم نے وہ نوٹ اور خط کارروائی کے لیے پاکستان بھیج دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے دفتر خارجہ نے شام کو ان سے ملاقات کے لیے کہا تھا اور اسی ملاقات کے لیے جب وہ پہنچے تو وہ نوٹ اور خط انہیں وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری نے دیا۔ اس سے قبل بھارت میں وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے پیر کی شام کو پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر کو طلب کیا تھا اور انہیں وہ خط سونپ دیا ہے جو بقول اس کے ممبئی حملوں میں گرفتار کیے گئے ایک حملہ آور اجمل عامر قصاب نے لکھا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان وشنو پرکاش نے کہا ' اجمل عامر قصاب نے اپنے خط میں پاکستانی ہائی کمیشن سے ملاقت کی درخواست کی ہے اور لکھا ہے وہ اور ممبئی حملوں میں مارے گے شدت پسندوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ مبصرین کے مطابق پاک بھارت کشیدہ صورتحال میں امریکی جنرل مائیک مولن انتہائی خطر ناک پیغام لے کر پاکستان آئے ہیں ۔ان کے مطابق مائیک مولن پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے بھارت کی طرف سے محدود حملوںپرخاموش رہنے کی بات کی ہے اور کہا ہے کہ اگر بھارت حملہ کرے تو اس کا جواب نہ دیا جائے "۔ اگر ہماری قیادت نے ایسا کیا تو اس سے بڑھ کر شرمندگی اور بے غیرتی کوئی نہیں ہو گی۔
قوم اس بے غیرتی کے گھونٹ کو قعطاً برداشت نہیں کرے گی ۔ بھارت دو جگہو ںپر حملہ کرتا ہے تو پاکستان چھ جگہوں پر حملہ کرے ۔ قوم بھارت کی گیڈر بھبھکیوں سے خوفزدہ نہیں ہو گی ۔ بھارت کے حملے کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں پاک بھارت کشیدہ صورتحال کے دوران امریکی جنرل مائیک مولن کے دورہ پاکستان کے حوالے سے جنرل اسلم بیگ نے کہا ہے کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ امریکی جنرل پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو اس بات پر منوانے آئے ہیں کہ اگربھارت پاکستان کے چند محدود مقامات پر حملے کرتا ہے تو پاکستان خاموش رہے اور اس کا جواب نہ دے ۔انہوںنے کہاکہ امریکی جنرل کی طرف سے یہ انتہائی خطر ناک پیغام ہے اگر ہماری قیادت امریکی جنرل کی یہ بات مان لیتی ہے تو اس سے بڑی شرمندگی اور بے غیرتی کوئی نہیں ہو گی قوم شرمندگی اور بے غیرتی کا یہ گھونٹ کبھی پی نہیں سکتی
اسلم بیگ نے کہاکہ ہمیں بھارت کی طرف سے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا چاہیے بھارت دو مقامات پر حملے کرتا ہے تو ہمیں اسے سبق سکھانے کیلئے چھ مقامات پر حملے کرنے چاہیں ہماری بری ، بحری اور فضائیہ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیا رہے حکومت نے پہلے دباو میں آ کر بغیر کسی ثبوت کے جماعت الدعوة پر پابندی عائد کروالی اور اگر اس نے امریکی دباو پر بھارت کو پاکستان کے کسی بھی علاقے پر حملے کی اجازت دی تو یہ پوری قوم کے لئے نہ صرف انتہائی شرمندگی بلکہ انتہائی خطر ناک ہو گا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ بھارت ہم پر جارحیت کرے او رہم خاموش رہیں
آج پاکستان 1965ء کے مقابلے میں دس فیصد اور 1971ء کے مقابلے میں بیس فیصد زیادہ طاقتور ہے ہم بھارت کا جواب تو دے سکتے ہیں لیکن ہمارے لئے وہ سازشیں اس سے کئی زیادہ خطر ناک ہیں جن کی خاطر مائیک مولن پاکستان پہنچے ہیں اس لئے اس بات کا فیصلہ کر لیا جائے کہ ہمیں اگر اپنی بقاءرکھنی ہے تو ہم کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے ۔یہ بات بھی درست ہے کہ ہمیں جنگ سے گریز کرنا چاہیے لیکن اگر کوئی ہمیں للکارے اور ہماری سالمیت کو کوئی چیلنج کرے تو یہ قوم کیسے خاموش رہ سکتی ہے۔ حکومت کا یہ موقف درست ہے کہ بھارت ہمیں ممبئی حملوں کے ثبوت فراہم کرے۔پاکستان کو کسی بھی جا رحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا
|