16.10.2026, 05:31am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

صرف رات کو ایک مجلس کر کے حسین علیہ السلام پر احسان کیا ۔از۔اکمل سید
10.11.2013, 10:29am , اتوار (GMT+1)

اکمل سید لندن
‎آج ایک کتاب پڑھ رہا تھا تو خیال آیا کہ محرم کی ۵ تاریخ ہو چکی ہے اور ہم نے کیا سبق حاصل کیا جس حسین کے ہم سب مانے والے ہیں اس سے ہم کیا سبق حاصل کر رہے ہیں کیا کسی بیمار کی عیادت کی یا صرف اپنی ہی مصرویات میں دن کا ضیاع کیا کیا کسی غریب کی مدد کی یا کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھایا اگر ایسا کچھ نہیں تو ہم نے اس محرم سے کیا سبق سکیھا یا صرف رات کو ایک مجلس کر کے حسین علیہ السلام پر احسان کیا اور اُس مجلس میں کیا بیاں کیا گیا باہرنکل کر وہی اپنی ڈگر پر چلے اور مجلس یا مقر یاممبر نیشن کی بات کو وہی باز گشت کی طرح چھوڑ دیا کیا ہم نے محسو س کیا کہ ہماری اس محرم الحرام میں کیا زمہ داری ہیں اور ایک مقرر یا صاحب ممبر کی کیا ذمہ داریا ں۔ امام حسین کو ہماری ان مجلس کی ضرورت نہیں بلکہ یہ مجالس ہماری میں اسی طرح اہم ہیں جس طرح زندہ رہنے کے لئے تازہ ہوا کی ضرورت ہے اور یہ سب ہمارا حق ہے۔ اور حق کے خلاف آواز بلند کر بھی حق ہے جس طرح حضرت مسلم  علیہ السلام جو کہ سفیر حسین بن کر کوفہ میں جا کر شہید ہوئے کل میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ تیں محرم کو جناب مسلم کے حالات و واقعات لکھوں گا۔ جو باتیں میں نے مندرج کی ہیں ان پر آپ بھی سوچئے اور ہم بھی عمل کرنے کی کوشیں کرتے ہیں۔

‎بھی ہاشم کا پہلا شہید

‎رجب کا آٹھائیسوین روز تھا جب مدنیہ سے ہجرت کر کے اور تیں سعبان کو وارد مکہ معظمہ ہوئے جب مکہ میں آئے تو یہ آیت حضور تلاوت فرما رہے تھے کو جناب موسیٰ علیہ السلام کے مدین جانے کا حال بیان کرتی ہے‘‘فلما توجہ تلقاء مدین قال عسی ربی ان یھم ینی سوا السبیل‘‘  جب جناب موسی علیہ السلام متوجہ ہوئے تو کہ عنقریب میرا رب مجھے سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے گا۔

‎مکہ جونکہ حرم اور جانے امن ہے جہاں کیس جانور کا مارنا جائز نہیں اس واسطے خائف امام اور پریشان حال اُمت کے ستائے ہوئے شہزادے نے مکہ میں قیام فرمایا کوئی معمولی شخصیت نہ تھی فرزند رسول امام زمانہ اور وارث دیں تھے لوگوں کو معلوم ہوا تو صبح و شام اور شب و روز لوگ خدمت جناب میں حاضر ہوتے عبداللہ بن زبیر مکہ میں اپنی حکومت قائم کرنے کی فکر میں تھے اور لوگوں سے بعیت لینے کا قصد رکھتے تھے امام مظلوم مکہ میں پناہ گزیں کی حیثت سے آئے تھے نہ سلطنت قائم کرنے کا ارادہ تھا اور نہ فوجی طاقت بڑھانے اور اسلحہ جمع کرنے کی غرض تھی اور نہ لڑائی کا قصد تھا اگر لڑنے کا ارادہ ہوتا تو ملائکہ اور جنوں کی پیش کس قبول فرمالیتے یہ وہ طاقت تھی کہ جس کا مقابلہ تمام روئے زمین کے انسان بھی مل کر نہ کر سکتے ہیں۔
‎ کتب تواریخ میں ملتا ہے کہ مدنیہ و مکہ کے درمیان میں راہ مٰن فرشتوں کے گروہ جنت کی اونٹنیوں پر سوار ہاتھوں میں خنجر لئے خدمت امام پاک میں حاضر ہوئے اور بعد سلام عرض کیا ‘‘ یا حجت اللی علی خلقہ بعد٠و ابیہ و اکیہ ان اللہ سبحانہ امدر جدک بنانی مواطن کیثرتہ ان اللہ امرک بنا ‘‘ اے اللہ کی مخلوق پر اللہ کی حجت اپنے جدَ امجد اور اپنے باپ و برادر کے بعد خداوند عالم  نے ہمارے ذریعے آپ کے جد  امجد ہمار ے زریعے آپ کی مدد کرنا چاہتا ہے کیا آپ ہماری مدد قبول فرمائیں گے امام عالیمقام نے فرمایا ‘‘ تمہاری اور میری وعدہ گاہ اور میرا مقام شہادت کربلا ہے جب میں وہاں پہنچ جائوں تو وہاں میرے پاس آ جانا ملائکہ نے عرض کی یا ھجت خدا ہمیں حکم دیں ہم حکم مانیں گے اگر دشمن سے خوف ہو تو ہم آپکے ساتھ رہیں آپ نے فرمایا ‘‘ جب تک میں سر زمین کربلا تک نہ پہنچ جائوں یہ لوگ مجھے کو ئی ازیت نہیں بہچا سکتے۔

‎اس کے بعد مسلمان جنوں کے چند گروہ حاضر خدمت ہوئے اور بعد سلام عرض کی ‘‘ اے ہمار آقا ہم آپ کے شعیہ اور مدگار ہیں آپ حکم تو کریں  کہ آپ کہ تمام دشمن نہ تیغ کر دیں تو آپ اپنی جگہ رہیں ہم آپ کے تمام دشمنوں کا صفایا کردیں گے،
‎مولا نے ان کو جزائے خیر کی دعا کے ساتھ رخصت کر دیا اور فرمایا کہ خدن نے قران میں جو میرے جد امجد پر نازل ہوا فرمایا ہے ‘‘ موت تمہیں ہر حال میں قابو کر لے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں مین بند ہو۔
‎اس کے بعد فرمایا اگر میں یہیں رہ جاوئن تو پھر اس بد بخت مخلوق کا امٹحان کے ذریعے لیا جائے گا اور کربلا میں میری قبر میں آرام کون کرئے گا جسے خدا ے اس روز سے میرے ہئے منتخب کر رکھا ہے جس روز سے فرش زمین بچھایا ہے اور اسے ہمارے شیعوں کے لئے جائے پناہ اور دنیا و آخرت میں امن و امان کی جگہ قرار دیا ہے ۔
‎البتہ تم عاشور کے دن کربلا حاضر ہونا جس کے آخر میں میں شہیدر کر دیا جائوں گا اور میرے خاندان میں سے کوئی ایسا شخص نہ رہ جائے گا جسے قتل کرنے کے عطلب کیا جائے گاور میر سر یزیدملعن کے پاس بھیجا جائے گا جنوں نے عرض کیا خدا کے پیار ے اور محبوب خدا کے فرزند اگر آپ کی اطاعت لازم اور مخالفت حرام نہ ہوتی تو ہم آپ کے تمام دشمنوں کو آپ اذیت پہنچانے سے پہلے ہلاک کردیتے فرمان امام کے مطابق کہ ہم آپ سے زیادہ ان دشمندوں پر قدرت رکتھے ہیں لیکن اس میں مصلحت ہے کہ جو ہلاک ہو وہ حجتہ اور دلیل سے ہلک ہوا اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ ہے۔

‎تاریخ الشیعہ میں تفصیل سے تحریر کیا گیا ہے جناب مسلم بن عقیل کو لشکر جمع کرنے کے لئے نہیں بلکہ امور دیں اوور حفاظت شریعت کے لئے کوہ روانہ کیا تھا جس غرض کے لئے مدینہ سے رخصت ہوئے جناب مسلم کے بھجینے کے اسباب مزکور تاریخ میں ملاخط کیا جا سکتے ہیں۔
‎جناب مسلم کی شہادت کے واقعات قلمبند کرنتے ہیں اے آنکھ کھول کر آنسو بہا مسلم بن عقیل  کے واسطے جو سبط رسولّ کا قاصد ہے دشمندوں میں اکیلا شہید ہے، جو بہتریں شہید قتل کیا گیا۔


‎پندرہ رمضان المبارک کو حضرت مسلم بن عقیل (ع) کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔
‎سن 60 ھ ق حضرت مسلم بن عقیل (ع) کوفہ کی طرف روانہ ہوے ۔
‎ناب مسلم جناب عقیل ابن ابوطالب  کے فرزند اور عقیل امام علی  کے بھائی اس طرح مسلم امام حسین (ع)  کے چچا زاد بھائی ہیںآپ کی مادر گرامی کا نام ‘علیہ تھا’  اس وقت ہمیں جناب مسلم کے تمام حالات زندگی بیان کرنامقصود نہیں ہیں بلکہ آپ کی حیات طیّبہ کے ایک درخشان ترین گوشہ کا جایزہ لیتے ہوئے تاریخ کے اوراق میںپوشیدہ آپ کے سنہرے الفاظ میںلکہے جانے والے کارناموںکو آشکار کرنا ہے۔
‎اہل کوفہ کے خطوط امام حسین (ع)  کے نام
‎جب کوفہ والوں کی طرف سے امام حسین (ع)  کو بلانے کے لئے ہزاروں خط آچکے تو امام حسین (ع)  نے جناب مسلم ابن عقیل  کو طلب کیا اورآپ کے ساتھ قیس ابن مسہروعبد الرحمن ابن عبدللہ اور بعض دوسرے افرادکو(کہ جنہیں کوفہ والوں نے امام  کے پاس اپنا نمائندہ بناکر بھیجا تھا ) اپنا ایلچی معین کیا اور روانگی سے پہلے کچہ امور کی انجام دہی کا حکم دیا۔
‎الف۔ ہر حال میں خدا سے ڈرتے رہنا۔
‎ب۔حکومت کے رازوں کو پوشیدہ رکہنا۔
‎ج۔لوگوں کے ساتھ لطف اور مہربانی کا سلوک کرنا۔
‎د۔اگرکوفہ کے لوگ آپس میں متحد ہوں تو فورً اامام کو اطلاع دینا۔
‎اس کے بعد امام نے اہل کوفہ کے نام اس مضمون کا خط لکھا
‎‘اما بعد:  بیشک میں اپنے چچا زاد بھائی اور اپنے گہرانے کے مورد اعتماد شخص،مسلم ابن عقیل کو تمھارے پاس روانہ کر رہا ہوں اور میں نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ تمھاری محبت و ہمدلی اتحادوہمبستگی کے بارے میں مجہے جلد از جلد اطلاع دیں بس مجہے اپنی جان کی قسم !امام وہ ہے جو حق کے ساتھ قیام کرے۔   ‘والسلام’
‎جناب مسلم کا مکہ سے کوچ کرنا
‎ماہ رمضان المبارک کے آخری ایام چل رہے تہے کہ جب مسلم  ابن عقیل نے مکّہ سے سفر کا آغاز کیا آپ کوفہ جانے سے پہلے مدینہ تشریف لائے، مسجد نبوی میں آئے وہاں پر نماز ادا کی اس کے بعد اپنے اہل و عیال سے رخصت ہوئے اور’قیس’سے دو راہنماؤں( راستہ بتانے والوں)کو اجرت پر لیاتاکہ راستے سے آگاہ کرتے رہیں لیکن درمیان راہ آفتاب کی حرارت کے سبب دونوں کا برا حال ہو گیا یھاں تک کہ گرمی اور پیاس کی شدت کی وجہ سے دونوں نے راستے ہی میں دم توڑدیا۔
‎جناب مسلم راستے کو طے کرتے رہے یھاں تک کہ ایک ایسے مقام پر پہونچ گئے جھاں پانی موجود تھا وہاں پہنچ کر پیاس بجھائی جب جسم میں کچہ جان پڑی توآپ نے ایک خط کہ جس میں راستے کی سختی(گرمی اور فقدان آب )کے باریمیںذکر تھا جناب’قیس’کے ھاتہ امام  کے لئے روانہ کر دیا ۔
‎جناب مسلم ابن عقیل کے پہلے خط کا مضمون
‎اما بعد:جب میں مدینہ سے نکلا تو میںنے دو راہنمائوں کو راستے سے آگاہی کے لئے اجرت پر اپنے ساتھ لے لیا تھا لیکن اس کے باوجود راستے کو گم کر دیا گرمی کی حرارت اور پیاس کی شدت نے ہم پر غلبہ کر لیا تھااس وقت پانی نصیب ہوا کہ جب ہمارے دونوںساتھی(راہنما)جام شھادت نوش کرچکے تہے اور میری آخری سانسیں میری نجات کا سبب بنیںایسا محسوس ہوتا ہے کہ یھاں سے آگے بڑہنا ہمارے لئے مناسب نہیںہے۔
‎امام حسین (ع) کی طرف سے جناب مسلم کے اس خط کا جواب
‎اما بعد:البتہ مجہے یہ خوف ہے کہ تمھاری یہ پیش بینی ان چیزوں کے علاوہ نہ ہو کہ جن کی میں نے تمہیں نصیحت کی ہے جیسا کہ میں نے تمہیں حکم دیا ہے ا سی کے مطابق قدم آگے بڑھائو۔ ‘ والسلام’
‎ہم کو اس غم انگیز داستان سے چند چیزوں کا سبق ملتا ہے
‎١۔ انسان کو صرف چند ناگوار حادثوں کی بنیاد پر آنے والے وقت میں رونما ہونے والے حوادث و واقعات کے باریمیں بدگمانی سے کام  نہیں لینا چاہئے۔
‎٢۔ انسان کو چاہئے کہ وقت کی نزاکت کے ساتھ ساتھ اپنے وظیفہ کو پہنچانے،اگر امام وقت کوئی نصیحت کرے تو اس پر عمل پیراہو اور اگر کسی کام کا حکم دے تو اس کے انجام دینے کی حتی الامکان کوشش کرے۔
‎٣۔اور چاہیے کہ پیغام خدا اور رسول کو پہنچانے میں دلیری اور جوانمردی سے کام لے۔
‎جب مسلم اس مقام (طی ّ)پر پہونچے جھاں پانی موجود تھاتوآپ نے کچہ دیر آرام کیا پھر کوفہ کی جانب چلنا شروع کر دیا یھاں تک کہ ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ جس نے ایک ہرن کو اپنے تیر کا نشانہ بنا کر مار ڈالا تھا جب مسلم نے اس منظر کو دیکھاتوکھا:
‎‘اگر خدا نے چاھا توہمارا دشمن مارا جائیگا،،
‎ جب کوفہ کے لوگوں نے خاص کر وہاں کے شیعوں نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں سنا کہ انہوں نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کیا ہے اور اس وقت مکہ معظمہ میں ہیں ان کے درمیاں ایک عظیم لہر دوڑی کہ امام حسین (ع) کی حمایت کریں اور اس طرح انہوں نے امام کو خطوط لکھ لکھ کر آنحضرت کو کوفہ آنے کی دعوت دی ۔ امام نے کوفیوں کی دعوت قبول کرتے ہوے اپنے سفیر حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا تاکہ بنی امیوں کے خلاف کوفیوں کی بغاوت کی قیادت سنبھالے اور اسکے بعد یزیدی حکومت کا تختہ پلٹ دے۔
‎  آنحضرت نے وضو کیا اور مسجد الحرام میں رکن و مقام کے درمیان دو رکعت نماز ادا کرکے اللہ کے ساتھ راز و نیاز کرنے کے بعد اپنے چچازاد مسلم بن عقیل کو بھلایااور اسے کوفہ کے حالات کے بارے میں آگاہ کیا اور فرمایا میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اپنا نمایندہ بنا کر وہاں روانہ کروں تاکہ وہاں کے لوگوں کی بغاوت کی رھبری کر سکو ۔
‎مسلم بن عقیل (ع) نے کمال افتخار کے ساتھ یہ خطرناک زمہ داری نبھانے کے لۓ اپنی رضایت کا اعلان کیا۔
‎ اس وقت امام حسین علیہ السلام نے کوفیوں کے نام خط لکھا اور مسلم بن عقیل (ع) کودیا تاکہ اسے وہاں لوگوں کے لۓ پڑھے۔ خط کی عبارت یوں تھی:
‎خدا کے نام سے جو بخشنے والا مھربان ہے ،
‎حسین بن علی (ع) کی طرف سے مؤمنین اور مسلمین کے نام ۔
‎اما بعد ، ھانی اور سعید تمہارے آخری ایلچیوں نے آپلوگوں کے خطوط مجھ تک پہنچاۓ ۔ اور میں خطوط کے متون سے آگاہ ہوا ہوں ۔ تم لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم بے امام ہیں ہمارے پاس آجاۓ شاید خدا تمہارے ذریعے ہماری ھدایت فرمائے گا ۔
‎میں نے اپنے بھائی اور چچازاد کہ جسے میں اپنےخاندان میں اپنا معتمد اور موثق جانتا ہوں یعنی مسلم بن عقیل کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں اگر وہ مجھے لکھے کہ وہاں کے اکثر لوگوں خاص کر وہ  شایستہ اور بڑی شخصتیں جنہوں نے مجھےخطوط لکھے ہیں کی بھی رائے یہی ہے انشااللہ میں آپ کے پاس آؤں گا ۔ میں اپنی قسم کھاتا ہوں امام حق وہی ہے جو کتاب خدا کے مطابق حکومت قائم کرے اور عوام کے ساتھ عدل و انصاف کرے اور حق کو قبول کرتا ہو اور اپنے آپ کو احکامات دین کاپائبند جانتا ہو۔ والسلام ۔

‎جناب مسلم کا کوفہ میں داخل ہونا
‎امام حسین علیہ السلام نے مسلم بن عقیل (‏ع) کو لازم سفارشات کرکے اسے آخری نامہ رساں؛ یعنی قیس بن مسھو صیدوی ، عمارہ بن عبداللہ سلولی، عبداللہ بن شداد اور عبد الرحمن شداد کے ہمراہ پندرہ رمضان سن ساٹھ ہجری کو کوفہ روانہ کیا ۔
‎شایان ذکر ہے کہ مسلم بن عقیل امیر المؤمنین علی بن  ابیطالب کا بھتیجا اور داماد تھا اور رقیہ بنت علی (ع) انکی زوجہ تھی ۔آپ بنی ھاشم میں سے نہایت بہادر ، اھل علم ، صاحب سیاسی مذھبی بصیرت اور ولات و امامت کے مخلص پیروکار تھے ۔
‎ مسلم بن عقیل (ع) مکہ سے مدینہ منورہ چلے گۓ اور وہاں اپنے اھل و عیال سے رخصتی حاصل کرکے اپنے دو بیٹوں اور بنی قیس قبیلے کے  دو رھنما کے ھمراہ بیراہے  سفر آغاز کیا تاکہ جلدی مقصد کو پہنچ جائیں اور حکومتی کاروندوں کی نظروں سے اوجھل رہیں ۔

‎جناب مسلم کا کوفہ میں وارد ہونا
‎مسلم کوفہ کی طرف چلتے جا رہے تہے یھاں تک کہ شوال کی پانچویں تاریخ کو کوفہ میں داخل ہوگئے آپ سب سے پہلے جناب مختار ابن ابی عبید کے گہر پہنچے مختار نے امام کے چاہنے والوں کو بلانا شروع کر دیا تاکہ سب مسلم کے اردگرد جمع ہو جائیں جب سب لوگ جمع ہوگئے تو اب مسلم نے امام حسین (ع) کے اس خط کو جوآپ نے ان لوگوں کے خطوط کے جواب میںآپ کے ھاتہ بھیجا تھا ،پڑہنا شروع کیا لوگوں میںشور گریہ وبکا بلند ہوگیااور اسی درمیان کوفہ کے خطباء وسخنوران مانند عابس شاکری،اور حبیب اسدی،نے مسلم کے حضور میں زور دار تقریر یں کیں اور اپنا اپنا مدعا بیان کیا ۔
‎جب اس واقعہ خبر ‘لقمان ابن بشیر انصار ی ،،کو پہنچی جو اس وقت کوفہ کاگورنر تھا وہ کہڑا ہوا اور اس نے بھی زور دار تقریر کی اور لوگوں کو ڈرایادہمکایا اس کے بعد’ عبید اللہ ابن سعید حضرمی’جو بنی امیہ کا ہم پیمان تھا بعنوان اعتراض اپنی جگہ سے اٹھا اور مجلس کو چہوڑ کر باہر چلا گیااور اس نے ‘عمار ابن عقبہ’کے ساتھ ملکر، لقمان(گورنر کوفہ)کے اس قصہ کو یزید کے لئے ایک خط میں لکہ بھیجااور اس میں یہ بھی توضیح دے دی کہ تو نے کوفہ میں جس حاکم کو انتخاب کیا ہے یا تو کمزور اور ناتوان ہے یا پھر جان بوجہ کر نادانی کر رہا ہے عبداللہ کے بعد سارے حکومت کے ٹکڑوں پر پلنے والے لوگوں مثل’ عمار ابن عقبہ’و’عمر ابن سعد ابن ابی وقا ص ‘نے بھی اسی طرح کے مضامین کے خطوط یزید کے پاس لکہ لکہ کر بھیج ڈالے ۔
‎جناب مسلم کا مختار کے گہرمیں قیام کرنے کا سبب
‎جناب مسلم ابن عقیل کا مختار کے گہرمیں قیام کرنے کا سبب ،یہ تھاکہ آپ کا شمار کوفہ میں رہنے والے شیعوں میں بڑی اور جانی پہچانی شخصیتوں میں کیا جاتا تھا اورآپ امام حسین (ع)  کے ساتھ وفادار تہے اس کے علاوہ مختار’لقمان ابن بشیر’حاکم وقت کوفہ کے داماد بھی تہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک جناب مسلم مختار کے گہر میں قیام پذیر رہتے حاکم کوفہ آپ پر کسی قسم کا تعرض نہیں کر سکتا تھا مسلم کا یہ انتخاب(کہ آپ نے مختار کے گہر کو اپنی  قیام گاہ کیلئے چنا) آپ کی حکمت عملی ،تیز ہوشی اور موقعیت اجتماعی پر تسلط کی دلیل ہے ۔
‎کوفیوں کی مسلم کے ہاتہوں پر بیعت
‎جب لوگوں کو مسلم کے کوفہ میں آنے کی اطلاع ملی تو گروہ گروہ اکٹھاہوکرآناشروع ہوگئے اور امام حسین (ع)  کے نائب کے ہاتہوں پر بیعت کرنے کاسلسلہ جاری ہوگیایھاں تک کہ جناب مسلم کے دفتر میں بیعت کرنے والوں کی تعدا داسّی ہزار سے بھی زیادہ ہو گئی لیکن تواریخ میں مسلم کے ہاتہوں پر بیعت کرنے والوں کی تعداد میں کچہ اختلاف پایا جاتا ہے :
‎بیعت کنندگان کے مختلف ارقام
‎١۔ جناب مسلم کے ہاتہوں پر بیعت کرنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہزار تھی۔
‎٢۔ جناب مسلم کے ہاتہوں پر بیعت کرنے والوں کی تعدادپچّیس ہزار تھی۔
‎٣۔ جناب مسلم کے ہاتہوں پر بیعت کرنے والوں کی تعداد اٹھائیس ہزار تھی۔
‎٤۔ جناب مسلم کے ہاتہوں پر بیعت کرنے والوں کی تعداد چالیس ہزار سے بھی زیادہ تھی۔
‎مسلم کے ہاتہوں پر بیعت کرتے وقت لوگوں کا آپ سے عہد و پیمان
‎لوگوں نے اپنے بہت زیادہ اشتیاق اور رغبت کے ساتھ مسلم سے بیعت کرنے کیلئے کچہ اصول قائم کر لئے تہے
‎١۔ لوگوں کو کتاب خدا اور سنت رسول کی طرف دعوت دینا
‎٢۔ ظالموں اور بیداد گروں سے جنگ کرنا
‎٣۔ ناتوان اور کمزور طبقہ کی حمایت اور ان سے دفاع کرنا
‎٤۔ معاشرے کے محروم لوگوں کی حال و احوال پرسی کرنا
‎٥۔ مال غنیمت کو مسلمانوں کے درمیان برابر تقسیم کرنا
‎٦۔ مظلوم کو ظالم سے اس کا حق دلوانا
‎٧۔ اہلبیت  کی مدد اور نصرت کرنا
‎٨۔ جن لوگوں کے دلوں میں بغض  و کینہ نہیں پایا جاتا ان سے مصالحت کرنا
‎٩۔ تجاوز کار، دوسروں کے حقوق کو غصب اوران پر ظلم کرنے وا لے لوگوں سے جنگ کرنا
‎اس عہد و پیمان سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ:
‎ہمیں بھی معقول اور مقبول اصول کی پیروی کرنی چاہئے اور یہ دیکہنا چاہئے کہ کس طرح لوگوں نے حق کے صحیح راستے کو دوبارہ پا لیا تھا۔
‎بیعت کے بعد مسلم کا امام حسین (ع)  کے نام خط
‎بیعت کرنے والوں کی کثیر تعداد نے جناب مسلم  کواس طرح سے مطمئن کر دیا تھا کہ اگر امام کوفہ تشریف لے آئیں تو تمام امور از سر نو انجام پائیں گے آپ نے خط میں امام کو لکھا کہ کوفہ میں اٹھارہ ہزار لوگ آپکے نام پربیعت کر چکے ہیں اور اس خط میں آپ نے امام  سے یہ بھی خواہش کی کہ آپ جلد از جلد کوفہ تشریف لے آئیں کیونکہ کوفہ والے بے انتھاآپ کے دیدار کے مشتاق ہیںجناب مسلم نے اپنے اس نامہ کو بھی انہیں خطوط میں جو کوفہ والوں نے امام  کے نام لکہے تہے شامل کر دیااور ان خطوط کو لیجانے کے لئے عابس ابن ابی شبیب شاکری کے سپرد کر دیا تاکہ قیس مسہر صیداوی کے ساتھ مل کرامام تک پہنچا دیں۔
‎یزید اور کوفہ
‎جناب مسلم کی طرف سے امام  کو لکہے جانے والے دعوت نامہ کی خبر یزید کو مل چکی تھی اور وہ کسی نئے حاکم کوفہ کے انتخاب کے بارے میں سوچ رہا تھا اس نے اپنے باپ معاویہ کے وفادار غلام ‘سرجوں’کو بلایا اور اس کو کوفہ کے حالات،’نعمان ابن بشیر’اور لوگوں کی جناب مسلم کے ھاتہ پر بیعت کرنے کے بارے میں بتایا اور کوفہ کے نئے گورنر کے سلسلہ میں اس سے مشورہ چاھا’سرجوں ’نے کھا کہ اگر تیرا باپ معاویہ اس وقت زندہ ہوتا توتو اس کی بات کو مانتا یا نہیں ؟یزید نے کھا ھاں ضرور’سرجوں’ یزید کی ابن زیاد سے دشمنی اور عداوت کے باریمیں پہلے ہی سے باخبر تھا معاویہ کے اس حکم نامہ کوجو اس نے اپنی موت سے قبل عبیداللہ کے نام لکہ کر اس کو کوفہ کا حاکم نصب کیا تھا ،نکالا اور یزید کو دکھایا اس کو دیکہتے ہی یزید نے عبیداللہ ابن زیاد کو جو اس وقت بصرہ کاگوررنر تھا، کوفہ کی حکومت بھی اسی کے سپرد کر دی اوریہ حکم نامہ ایک خط کے ساتھ مسلم ابن عمر وباہلی کے ذریعے عبید اللہ ابن زیاد کے پاس بھیج دیا ۔
‎یزید کا خط عبیداللہ ابن زیاد کے نام
‎یزید نے عبید اللہ ابن زیادکے نام جو خط لکھا اس کا مضمون اس طرح ہے’ایک دن جن لوگوں کی تعریف کی جاتی ہے وہی لوگ دوسرے دن مورد مذمت قرارپاتے اور دو چار ننگ وعار ہوجاتے ہیں اور کچہ چیزیں جو نا پسند ہوتی ہیں دلپسند اور اچہی بن جاتی ہیں، تیرامقام و منزلت وہ ہے کہ جس کا تو سزاوار ہے اور ایک عرب شاعر کا یہ قول نقل کیا :
‎تیرا مقام بلند ہوا اور اتنا بلند ہواکہ آسمانوں سے بھی اونچا ہو گیا  ٠٠٠    اورتو مقام ومنزلت کے اعتبار سے سورج کی بلندی کے مانند ہے۔
‎اس خط میںیزید نے عبید اللہ کو حکم دیا کہ جتنا بھی جلدی ہو سکے کوفہ کے لئے روانہ ہو جا اور مسلم ابن عقیل کو دستگیر کرنے کے بعد اس کو قتل یا تبعید(شہر بدر)کردے۔
‎عبرت اور درس
‎اہل باطل اور دنیا پرستوں کی اس سیاست سے جو درس لیا جا سکتا ہے اور اکثر مشاہدہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ باطل پر ست لوگ وقت پڑنے پر ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں تاکہ اپنے بیہودہ اورناپسند اہداف تک پہونچ سکیںاسی طرح مومنین اور متقین کو بھی (چونکہ مشترکات ان کے درمیان بہت زیادہ پائے جاتے ہیں)ایک محور پر متحد ہوکر کفروشرک کے طرفداروں کو ایک فراموش نشدنی درس دیناچاہئے ۔

‎حضرت امام علیہ السلام دربارِ ولید کی طرف روانہ ہونے لگے تو بنی ہاشم کے جوانوں نے کہا کہ آقا! ہم آپ کو اکیلا تو نہیں جانے دیں گے۔ چنانچہ جنابِ عباس ، جنابِ علی اکبر ، جنابِ قاسم اور بنی ہاشم کے جوان امام علیہ السلام کے ساتھ چل پڑے۔ جب دروازہ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ دیکھو! مجھے تنہا بلایا ہے۔ تم میرے ساتھ اندر نہ آؤ۔ اگر میری آواز بلند ہو تو تم آجانا۔ چنانچہ یہ سب کھڑے ہوگئے۔ امام حسین علیہ السلام اندر تشریف لے گئے۔ ولید کے ساتھ مروان بھی بیٹھا ہوا تھا۔ حاکمِ مدینہ نے وہ خط آپ کو دکھایا جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ یزید کا باپ مر گیا ہے اور یزید کا یہ حکم ہے۔
‎امام علیہ السلام نے فرمایا کہ بھئی دیکھو! اس قسم کی چیزیں پوشیدہ نہیں ہونی چاہئیں۔ جو کچھ بھی ہو، اعلانیہ ہونا چاہئے تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ کس کی کیا رائے ہے۔ اُس نے کہا کہ بات تو آپ معقول فرمارہے ہیں۔ اچھا تو آپ جاسکتے ہیں۔ امام حسین اُٹھنے لگے تو مروان نے یہ کہا:دیکھوولید! حسین اگر اس وقت چلے گئے تو پھر تیرے ہاتھ کبھی نہ آئیں گے۔ ابھی ان کو گرفتار کرلے یا قتل کروا دے۔ امام حسین علیہ السلام نے جب یہ بات اُس کی زبان سے سنی تو ایک مرتبہ آپ نے فرمایا:
‎ "ایسی عورت کے بیٹے جو اپنے وقت میں نیک نام نہ تھی، تیری مجال ہے کہ تو مجھے گرفتار کرسکے یا قتل کر دے؟ "
‎اِس فقرے میں آواز بلند ہوگئی اور باہر جوجوان کھڑے تھے، اُن کے کانوں تک پہنچ گئی اور ایک مرتبہ بنی ہاشم اندر داخل ہوگئے۔ سب سے آگے عباس علیہ السلام تھے۔ عجیب انداز ہے ، تیوریاں چڑھی ہوئیں، آپ نے آتے ہی کہا: مولا ! بات کیا ہوئی؟ آپ نے فرمایا:عباس ! کچھ نہیں، چلو میں بھی چل رہا ہوں۔ کس کی مجال تھی کہ جو زبان سے کوئی لفظ بھی کہہ سکے۔
‎خیر! امام علیہ السلام نے تیاریاں کیں۔ اپنے عزیزوں کو جمع کیا اور ان کو جانے کیلئے تیار ہونے کا حکم دیا۔
‎امام حسین علیہ السلام نے جانے کی تیاری مکمل کرلی۔ آخر میں ابن عباس پھر آئے۔ چونکہ یہ مخلص تھے، اس لئے پھر کہنے لگے:فرزند ِ رسول! آپ کیوں جارہے ہیں؟ اُدھر نہ جائیے۔ مدینہ چلے جائیے۔ کوفے کے لوگ تو کبھی کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتے۔ امام فرماتے ہیں:
‎بھائی ابن عباس! میں جہاں بھی چلا جاؤں، دشمن میرے ساتھ جائیں گے۔ حتیٰ کہ اگر سوراخِ نمل میں بھی چلا جاؤں تو وہاں بھی میرے دشمن مجھے قتل کرنے کیلئے پہنچ جائیں گے اور اگر مدینے جاؤں تو میرے نانا کے حرم کی بے حرمتی نہ ہوجائے۔ اس لئے کوفے کی طرف جارہا ہوں اور تم مجھ سے اس کے بعد کچھ نہ کہو۔
‎انہوں نے پھر اصرار کیا تو امام علیہ السلام نے صرف اتنا کہا:اچھا کل صبح تک تو دیکھو کیا ہوتا ہے۔ صبح ہوئی، ابن عباس نے غلام کو بھیجا، وہ واپس آگیا۔ اُس نے اپنے آقا سے آن کر کہا کہ امام حسین تو بالکل تیار کھڑے ہیں۔ شہزادیاں ہودجوں میں بیٹھ چکی ہیں۔ آپ کے اصحاب گھوڑوں کی باگیں پکڑے ہوئے صرف حکم کے منتظر ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ ابن عباس دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے آکر کہا:فرزند رسول! کیا ارادہ کر ہی لیا؟ آپ نے فرمایا: ہاں بھئی! اب کچھ نہ کہو۔ رات نانا آئے تھے اور مجھ سے فرما رہے تھے:حسین ! تیری قبر کی جگہ تیرا انتظار کررہی ہے۔ ابن عباس وہاں کھڑے ہیں، جہاں ایک اونٹ ہے جس کے ہودج میں جنابِ فاطمہ زہرا کی بڑی بیٹی جنابِ زینب بیٹھی ہوئی ہیں۔
‎اس کے بعد ابن عباس نے کہا کہ اچھا آپ جائیے۔ لیکن ان بیبیوں، اِن پردہ داروں کو تو نہ لے جائیے۔ جنابِ زینب کے کان میں جب یہ آواز پہنچی تو آپ نے فرمایا: بھائی ابن عباس! یہ کیابات کہہ رہے ہو؟ کیا میں رُک سکتی ہوں۔ میں اپنے مظلوم بھائی کو کبھی نہیں چھوڑ سکتی۔ چنانچہ یہ قافلہ روانہ ہوگیا۔
‎حضرت مسلم بن عقیل کو آپ نے پہلے سے ہی کوفہ کی طرف روانہ کردیا ہوا تھا اور وہاں جنابِ مسلم نو(۹) ذی الحجہ کو شہید ہوگئے۔ دو بچوں کو ساتھ لے گئے تھے۔ پتہ نہیں کہ وہ کہاں کہاں رہے۔ آخر میں وہ بھی گرفتار ہوگئے۔ قید خانے میں ڈال دئیے گئے۔ چھوٹے بچوں کی عمریں نو(۹) اور دس سال کی تھیں۔ جنابِ مسلم اُنہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ جب امام حسین نے فرمایا: مسلم تم چلے جاؤ میری طرف سے نائب ہوکر کوفے اور وہاں کے حالات سے مجھ کو مطلع کرو۔ تو عرض کرتے ہیں: میں گھر ہو آؤں؟ فرمایا: ہاں، اجازت ہے۔ وہاں سے جو نکلے تو اِن دو بچوں کو لائے اور عرض کرتے ہیں: آقا! یہ میرے ساتھ بڑے مانوس ہیں، اگر اجازت ہو تو ان کو بھی لیتا جاؤں؟
‎امام حسین علیہ السلام نے بچوں کی شکلیں دیکھیں تو آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ فرماتے ہیں: ہاں بھائی مسلم ! ان کو بھی لیتے جاؤ کیونکہ ان کیلئے بھی جگہ معین ہوچکی ہیں۔جنابِ مسلم وہاں شہید ہوگئے۔ بعد میں یہ بچے بھی دریا کے کنارے شہید کردئیے گئے۔
‎امام حسین علیہ السلام کوفے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ایک منزل پر نمازِ صبح باجماعت ادا ہوئی۔ نماز کے بعد آپ کی حالت یہ ہے کہ سر جھکائے بیٹھے ہیں، کسی سے بات نہیں کررہے۔ اصحاب پریشان ہیں کہ کیا معاملہ ہے۔ آج کیوں پریشان ہیں؟ ایک مرتبہ آپ نے خود ہی سر اُٹھایا اور کہا بھائیو! ذرا کوفے کے راستے کی طرف دیکھتے رہو۔ اگر وہاں سے کوئی آنے والا نظر آئے تو میرے پاس لے آؤ۔ چند منٹ کے بعد ایک شخص نے کہا:آقا! مجھے ایک شخص دور سے نظر آرہا ہے کہ اس طرف آرہا ہے اور یہی کوفے کا راستہ ہے۔ آپ نے کہا کہ ہاں، اس شخص کو ذرا میرے پاس لے آؤ۔ آنے والے شخص نے دور سے جب قافلے کو اُترتے ہوئے دیکھا اور ایک شخص کو اپنی طرف آتے دیکھا تو راستہ کاٹنا چاہا۔ اتنے میں یہ گھوڑے کو دوڑا کر وہاں پہنچ گیا اور قریب پہنچ کر کہا: بھائی! تم ڈرو نہیں۔ وہ رُک گیا اور کہا کہ کیابات ہے؟ اُس نے کہا:ہمارا سردار تمہیں بلا رہا ہے۔ اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو ذرا ہمارے سردار کے پاس چلو۔
‎اُس نے کہا کہ تمہارا سردار کون ہے؟ اُس نے کہا کہ وہ امیرالموٴمنین کے فرزند، نواسہٴ رسول، حسین علیہ السلام ہیں۔ یہ جو سنا تو وہ مطمئن ہوگیا اور کہنے لگا کہ میں چلنے کو تیار ہوں۔ چنانچہ دونوں روانہ ہوئے۔ وہ آ کر امام علیہ السلام کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ آپ نے سر اُٹھایا، فرماتے ہیں:
‎بھائی کدھر سے آرہے ہو؟ اُس نے کہا : مولا ! میں کوفے سے آرہا ہوں۔ یہ جو سنا تو اُس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔
‎ اُس نے کہا: مولا! ذرا اُٹھ کر الگ ہوں تو میں کچھ بیان کروں۔ آپ نے فرمایا:
‎بھائی! گھبراؤ نہیں، یہ سب میرے اپنے ہیں۔ اُس نے ایک مرتبہ اپنے سر سے عمامہ اُتار کر زمین پر پھینکا اور کہا:آقا!میرے مولا حسین ! میں کوفے سے جب چلا ہوں تو یہ دیکھ کر چلا ہوں کہ مسلم کی لاش کوفے کی گلیوں میں پھرائی جارہی ہے اور مسلم کا سرکوفے کے دروازے میں لٹکا ہوا ہے۔
‎یہ جو امام حسین علیہ السلام نے سنا تو بے ساختہ آنسو نکل آئے اور رونے لگے۔ تمام اصحاب اور عزیزوں کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوگئے۔ تھوڑی دیر کے بعد امام علیہ السلام اُٹھے، جنابِ زینب سلام اللہ علیہا کے خیمے میں پہنچے۔ زینب بھائی کو اس طرح دیکھ کر گھبراگئیں۔ مگر کچھ پوچھا نہیں۔ فرمایا: میری بہن زینب !ذرا مسلم کی بیٹی رقیہ کو لے آؤ۔ یہ بچی پانچ ، چھ سال کی تھی۔ جب وہ لائی گئی، آپ نے زانو پر بٹھایا، اُس کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرا، اُس کو پیار کیا۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: بہن زینب ! وہ گوشوارے جو ہم نے کبھی لئے تھے، ذرا ان کو لے آؤ۔ اپنے ہاتھ سے اُس کے کانوں میں گوشوارے پہنائے، سر پر ہاتھ پھیرتے رہے۔ بچی آخر اہلِ بیت کے گھر کی تھی۔ کچھ گھبرا گئی اور پوچھنے لگی: چچاجان! میرے بابا تو زندہ ہیں؟ یہ شفقت تو آپ یتیموں کے ساتھ فرمایا کرتے ہیں؟ فرمایا: بیٹی!اگر تمہارا باپ زندہ نہیں تو حسین تو زندہ ہے۔ اس کے بعد حسین کو اپنا باپ سمجھنا۔
‎ارے مسلم کی بیٹی رقیہ خوش قسمت تھی کہ باپ کا انتقال ہوا تو حسین موجود تھے۔ ہائے سکینہ کی قسمت!جب امام حسین دنیا سے اُٹھے تو کسی نے تسلی نہ دی بلکہ شمر کے طمانچے کھائے اِس بچی نے!!  
‎نام کتاب
‎روایات عزا
‎ مصنف
‎علامہ حافظ کفایت حسین نور اللہ مرقدہ
‎- وقايع عاشورا (سيد محمد تقي مقدم)، ص 199
‎2- الارشاد (شيخ مفيد)، ص 380؛ منتہي الآمال (شيخ عباس قمي)، ج1، ص 303
‎3- الارشاد، ص 381؛ منتہي الآمال، ج1، ص 303 و ص 306؛ وقايع الايام (شيخ عباس قمي)، ص 35؛ وقايع عاشوار، ص 201
‎4- الارشاد، ص 381؛ منتہي الآمال، ج1، ص 306؛ وقايع عاشوار، ص 201



‎نوحہ
‎سر پیٹو مسلمانوں یہ مسلم کی کہانی ہے
‎یہ فرد ہے اس گھر کا جو اسلام کا بانی ہے

‎ایسے بھرے شہر میں کیسی ہے تنہائی
‎مسلم کے دونوں بچوں پر ایسی آفت ہے آئی
‎ابھی تو ہے بچپنا اور دور جوانی ہے

‎ظالم تیری یہ بات کیا خدا کو بہائی
‎بچوں کا گلا کاٹا تو زمین تھرائی
‎تو خود بتا تیرا یہ عمل انسانی ہے

‎مسلم نے کوفہ میں وہ گھڑی بھی پائی
‎ابھی تو تھے ساتھی اور ابھی تنہائی
‎سنگ دل مسلمانوں کی یہ روش پرانی ہے

‎زہرا کے گھرانے پر قیامت ہے چھائی
‎جب مسلم کی شہادت کی خبر حسین نے پائی
‎عمران کی طرف سے اک اور قربانی ہے

‎مسلم کے واسطے کا ایسا اثر ہے بھائی
‎برہان نے اپنے دل کی مرادیں ہیں پائی
‎یہ اسے سمجھ میں آئے جو خاندانی ہے

:دیگر مضامین
(09.11.2013) رحیم یار خان میں تعمیر کردہ باب علی علیہ السلام شیخ صاحب کی محبت علی کا ثبوت
(08.11.2013) عالمی اخبار لندن کے بیورو چیف سید اکمل حسین کی جمعے کے روز کربلائے معلیٰ روانگی
(07.11.2013) نوحہ ۔ اے کربلا بتا علی اصغرؑ کہاں گیا ۔ آواز: سیّد علی اصغر کاظمی
(06.11.2013) ‎ سات نومبر استاد اور دانشور پروفیسر کرارحسین کی چودھویں برسی ہے
(05.11.2013) اسلامی و ہجری سال کاآغاز پیغام محرم الحرام۔ ۔۔۔ ایس ایچ بنگش
(04.11.2013)  پاکستان میں محرم کا چاند نظر نہیں آیا۔ یکم محرم چھ نومبر۔لندن میں پانچ نومبر
(04.11.2013) بلتستان میں اسد عاشورہ اگست کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ ایک تحقیق
(04.11.2013) گرین فورڈ میں ایک محفل منقبت بسلسلہ ولیمہ حج ریحان جعفری اور حنا جعفری کی جانب سے
(03.11.2013) یکم نومبر دو ہزار تیرہ عالمی اخبار کی پانچویں سالگرہ ہے۔تخلیقی عمل۔سید اکمل حسین
(01.11.2013) یکم نومبر دو ہزار تیرہ عالمی اخبار کی پانچویں سالگرہ ہے۔عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار
(31.10.2013) پاکستان آسٹریلیا ایسوسی ایشن کے احیا کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا ہے
(28.10.2013) کیا اسلامی مالیاتی نظام موجودہ معاشی مُشکلوں کا حل ہو سکتا ہے؟
(22.10.2013) ڈینگی‘ایک خونی اور خوفناک وائرس ہے۔از۔۔۔۔حکیم قاضی ایم اے خالد
(20.10.2013) جہاد نکاح کے متعلق ایک مرجع تقلید کا فتوی
(16.10.2013) ناقابل فراموش ماضی کی کچھ ناقابل فراموش یادیں۔از۔سحر صدیقی
(16.10.2013) اس سال بھی حاجیوں سے دھوکہ دہی کا سلسلہ جاری ہے۔تیسری قسط۔از۔سید اکمل حسین
(10.10.2013) اس سال بھی حاجیوں سے دھوکہ دہی کا سلسلہ جاری ہے۔دوسری قسط۔از۔سید اکمل حسین
(08.10.2013) اس سال بھی حاجیوں سے دھوکہ دہی کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلی قسط۔از۔سید اکمل حسین
(03.10.2013) فرینکفرٹ میں پاکستان کے قونصل جنرل امتیاز اے قاضی سے عالمی اخبار کی خصوصی گفتگو
(28.09.2013) فرینکفرٹ میں یوم آزادی پاکستان کی مناسبت سے خصوصی تقریب اور مشاعرے کی رپورٹ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں