17.10.2026, 10:01pm , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

معجزہ ہے انکے در کی حاضری۔ دوسری قسط۔از۔محمد رضا کراچی
14.12.2011, 01:10am , بدھ (GMT+1)

محمد رضا۔کراچی
جس مقدس سفر کا میں آغاز کر چکا ہوں میری کوشش ہوگی کے پڑھنے والوں کو بھی وہ تمام زیارت کرا سکوں اپنے لفظوں کی شکل میں ۔۔ اس میں لفاظی بالکل نہیں ہے بلکہ یہ وہ احساسات ہیں جو اُس سفر سے لے کر آج تک میری سوچ کا حصہ ہیں، اور میری دعا ہے کہ ہمیشہ رہیں ۔۔ اپنے مولا سے اذن لے کر اور محترم صفدر بھائی سمیت آپ تمام کی دعاؤں کے سہارے انشاءاللہ وہ سب لکھ دوں گا جو میں نے دیکھا اور مجھے یقین ہے کہ پڑھتے وقت آپ کو وہ تمام مقامات نظر آئیں گے ۔

کوئٹہ میں دن ڈھلنے والا ہے اور اب میرا وہ سفر شروع ہونے والا ہے جس کے میں نے اب تک صرف خواب دیکھے، جس کا ارمان لے کر میرے ماں باپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، پہلی بار بلوچستان آیا ہوں اور پہلی بار ہی پاکستان سے باہر جا رہا ہوں، اب تک قمِ مقدس اور مشہد مقدس کے بارے میں جو کچھ سُنا ہے وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھنے جا رہا ہوں، دل کی دھڑکنیں سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے، اپنی باجی(جو کہ مجھ سے چودہ سال بڑی ہیں اور میرے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہیں) سے دعا لے کر گھر سے نکلا تھا اور ساتھ ہی وعدہ بھی کیا تھا کہ ہر مقام پر اپنی خیریت سے آگاہ کرتا رہوں گا، یہ کرنا میری مجبوری بھی ہے کیونکہ جانتا ہوں کہ باجی کے لیے میں اٹھائیس سال کا جوان نہیں بلکہ اب بھی وہ آٹھ سال کا بچہ ہوں جسے وہ گود میں لادے پھرتی تھیں۔۔(یہ حقیقت ہے کہ میری زندگی میں سب سے زیادہ حصہ باجی کا ہی ہے، سفر کے وقت میں اٹھائیس سال کا تھا)

کوئٹہ تک کے سفر میں بہت سے لوگوں سے اچھی دعا سلام ہو گئی ہے ۔۔ اور میں نے اپنے جوہر بھی دکھانا شروع کر دیے ہیں، جو میرے احباب میں وجہ شہرت بھی ہیں کہ مجازی شاعری ہو یا حقیقی، رضا کو دونوں اتنی یاد ہیں کہ ہفتوں سنا سکتا ہے، سفر مقدس ہے تو مجازی شاعری کا تو سوال ہی نہیں، یکے بعد دیگرے کبھی مقامی شعراء تو کبھی دیگر ممالک کے شعراء کی منقبتیں اور کلام سناتا رہا اور تمام لوگوں سے دعاؤں کے ساتھ ساتھ داد و تحسین سمیٹتا رہا ۔۔ کوئٹہ سے تفتان تک کا سفر تقریباً گیارہ گھنٹے میں طے کیا، اور چوبیس جولائی کی صبح آٹھ بجے پاک ایران بارڈر پر پہنچ گئے، تمام معاملات قافلے والے نمٹاتے رہے اور پھر ہم سامان چیک کرا کر اُس سرزمین میں داخل ہوئے جس کے باسی آج بھی شاہِ خراسان کا صدقہ کھاتے ہیں ۔۔ جہاں کی حکومت آج بھی مشہد کے سلطان کی مقروض ہے، ایرانی سرزمین پر پہنچ کر عملاً سجدہ شکر ادا کیا، بہت سے لوگ مجھے سجدہ کرتے دیکھ کر حیرت کا اظہار بھی کرتے رہے لیکن مجھے کسی کی پرواہ نہیں تھی، بارڈر سے ڈیڑھ گھنٹہ سفر کرنے کے بعد سرائے امام رضا علیہ السلام پہنچے جہاں تھوڑی دیر قیام کے بعد قم کے لیے روانہ ہونا تھا، تمام لوگ سرائے خانہ میں موجود تھے ایسے میں دل چاہا کہ آس پاس کا علاقہ ہی دیکھ لوں، باہر نکلا تو سامنے اتنے اونچے پہاڑ تھے کہ اُن کی چوٹی تک نظر جاتے جاتے اپنا سر اپنے کندھوں سے گرتا محسوس ہوتا تھا، اور ان پہاڑوں پر ایرانی افواج کے مورچے قائم  تھے ۔۔ انہوں نے فارسی زبان میں اپنے مخصوص ترانے لگا رکھے تھے، جو سمجھ تو نہیں آ رہے تھے لیکن پڑھنے والے کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ خون گرمانے کے لیے کچھ کلمات ادا کر رہا ہے ۔۔ کچھ دیر سڑکیں ناپنے کے بعد واپس سرائے پہنچا تو قمِ مقدس کے لیے سب تیار تھے، ہم بس میں بیٹھے اور چودہ گھنٹے کے اس سفر کے لیے خود کو تیار کرنا شروع کر دیا۔۔

قافلے میں بیشتر لوگ ایسے تھے جو پہلے بھی ایران جا چکے تھے سو وہ بہت سی معلومات بھی دے رہے تھے، دل کی بے چینی کم نہیں ہو رہی تھی کیونکہ شہزادی معصومہ قم سلام اللہ علیہا کے بارے میں اتنا کچھ پڑھا اور سنا تھا کہ اب یہ چودہ گھنٹے چودہ صدیوں جیسے لگ رہے تھے ۔۔ راستے میں بام (یا بم) شہر بھی دیکھا جو چھ ماہ پہلے زلزلے سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا اور کم و بیش ساٹھ ہزار سے زائد افراد اُس زلزلے میں لقمہ اجل بنے، شہر کیا تھا بنا بنایا کھنڈر تھا، دیکھ کر بہت دکھ ہوا، پھر قم کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔ روایتیں ہیں کہ چوتھے آسمان کی زمین سرخی مائل ہے، اور شہر قم کی زمین بھی سرخی مائل ہے، علماء نے بھی معراج کے وقت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چوتھے آسمان پر قم مقدس کی موجودگی کے بارے میں تواتر سے لکھا ہے سو یوں لگ رہا تھا کہ اب میری معراج ہونے والی ہے۔۔

شام ڈھلنے لگی ہے اور بس رواں دواں ہے، دونوں جانب بنجر زمین اور سوکھے پہاڑ ہیں، نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے، اس سفر کی ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ کئی گھنٹے گذر گئے لیکن ایک جھٹکا بھی نہیں لگا، اتنی ہموار سڑک بھی دنیا میں ہو سکتی ہے۔۔!! بس میں بیٹھے بیٹھ کھانا کھایا پانی پیا لیکن احساس نہیں ہوا کہ بس چل رہی ہے یا رُکی ہوئی ہے، اپنے وطن کی بسوں میں تو اپنا اتنا بس بھی نہیں چلتا کہ اخبار کا اشتہار بھی پڑھ سکیں، کالم پڑھنا تو دور کی بات ہے، پانی پیئیں تو منہ کے اندر کم اور کپڑوں پر زیادہ گرے، خیر، نصف شب میں کسی وقت روشنیاں نظر آنے لگیں، دھڑکنیں تیز ہو گئیں، قم مقدس آرہا ہے، روشنیاں قریب ہوتی گئیں اور قم آ گیا۔۔

ایک یا ڈیڑھ بجے ہونگے رات کے جب ہم شہزادی معصومہ سلام اللہ علیہا کے روضے کے سامنے تھے، روضے کا مرکزی دروازہ بند تھا سو چوکھٹ کو چوما، آنکھیں تو گنبد کو دیکھ کر پتھرا ہی گئی تھیں، نظر ہٹانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا، سفر کی تھکن کا احساس بھی جاتا رہا تھا، قافلہ سالار نے نوید سنائی کہ ہوٹل بُوعلی میں جگہ مل گئی ہے سو اپنا سامان اٹھا کر فوراً پہنچیں، یہ ہوٹل شہزادی سلام اللہ علیہا کے روضے کے سامنے ہی تھا، ہوٹل پہنچے اور غسل کر کے کھانا کھایا، پھر دیگر لوگ آرام کرنے لیٹ گئے جبکہ میں ہوٹل سے باہر نکل آیا۔۔

سڑک سنسان تھی ایسے میں سیاہ عمامہ اور عبا قبا پہنے ایک جوان کو اپنی سمت آتا دیکھا، تیس سال کے لگ بھگ وہ جوان چہرے سے وہ اپنے جیسا ہی لگا (انڈین یا پاکستانی) وہ بھی جیسے مجھ سے ملنے ہی آرہا تھا، دعا سلام کے بعد پتہ چلا کہ محترم مولانا ہیں اور گیارہ سال سے حصولِ تعلیم کے لیے قم میں مقیم ہیں، انڈیا نیپال بارڈر کے قریب ایک علاقے ہلّور کے رہنے والے ہیں، ان کا نہال رضوی تھا اور جناب جگر ہلّوری کے تخلّص سے شاعری بھی کرتے تھے، مزاج آشنا سے اجنبی دیس میں ملاقات بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی، سو ان کے ساتھ سڑک کنارے بیٹھ گیا، یہاں یہ بتاتا چلوں کے مجھے ان زیارات پر بھیجنے والا میرا محسن میرا دوست اور بھائی صادق بھی اپنی والدہ اور ہمشیرہ کے ساتھ بائی ائیر ایران پہنچا تھا، وہاں پہنچ کر انہوں نے بھی قافلے میں شامل ہونا تھا۔۔

فجر کی اذان کے ساتھ ہی شہزادی کے روضے کا مرکزی دروازہ کھل گیا، پچیس جولائی دوہزار چار کی صبح، ہم اٹھے اور روضے میں داخل ہو گئے، اپنے اپنے فلسفے کے مطابق مولانا مسجد اور میں شہزادی کی ضریح مقدس کی جانب بڑھ گیا، آنکھوں سے آنسوؤں کی قطاریں رواں تھیں، شہزادی معصومہ قم سلام اللہ علیہا، جن کا لقب کریمہ اہلیبیت ہے، جنہیں اہلیبیت کا دروازہ بھی کہتے ہیں، جن کے بارے میں مشہور ہے کہ امام رضا علیہ السلام کے روضے پر حاضری قبول نہیں ہوتی اگر پہلے شہزادی کے سلام کو نا جایا جائے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جالی تھام کہ جو دعا مانگو وہ جالی چھوڑنے سے پہلے مستجاب ہو جاتی ہے، وہ جالی تھام لی، ذہن خالی، لب خاموش، لیکن آنکھوں سے فراتِ عقیدت جاری ہے، سکون اتنا جیسے ماں کی آغوش میں آگیا، کچھ دیر تو کچھ یاد نا رہا، جالی سے ہی سر ٹکا کے بیٹھ گیا، بہت سوچا لیکن کوئی دعا ہی یاد نا آئی، نا کوئی بیمار یاد آیا نا کوئی پریشانی یاد آئی نا کوئی اپنا یاد آیا حتیٰ کہ امی پاپا بھی یاد نہیں آئے، خواب کی سی کیفیت میں بیٹھا تھا، آنسو رُکنے کا نام نہیں رہے تھے، ایسے میں مولانا نہال رضوی واپس آ گئے اور میرا کندھا ہلا کر کہا کہ میاں نماز تو پڑھ لیجیے، وہی پڑھ رہا ہوں، میں نے پلٹے بغیر کہا، انہوں نے زور سے جھنجھوڑ دیا، رضا ۔۔ جی ۔۔ میں جیسے خواب سے جاگا، جاؤ نماز پڑھ لو، اب پہنچ چکے ہو تم، مولانا نے کہا، میں نے کہاں جانا تھا بھلا اتنی آسانی سے، سو حرم میں ہی نمازِ فجر ادا کی، صادق اور دیگر لوگ بھی آگئے تھے، سب کی پلکیں بھیگی ہوئی تھیں، صادق بھی پہلی بار ہی زیارت پر گیا تھا، یوں کافی وقت گذر گیا اور سورج نکل آیا ۔۔ جولائی کا مہینہ قم اور اطراف کے علاقوں میں شدید ترین گرمی کا مہینہ ہوتا ہے، ٹمپریچر پچاس پچپن ڈگری سے بھی بڑھ جاتا ہے، صبح دس بجے میں واپس ہوٹل آیا، ناشتہ کیا اور سونے لیٹ گیا، چالیس گھنٹے سے زیادہ بس میں گذارے تھے اس لیے جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا، لیٹتے ہی نیند آگئی۔

اُس وقت میں نہیں جانتا تھا کہ نیند سے اب میں نہیں بلکہ میرا مقدر جاگے گا ۔۔ یقین کریں، میں آپ تمام پڑھنے والوں کو کربلا دکھانے والا ہوں ۔۔ یہ وعدہ ہے میرا ۔۔ صرف اگلی قسط تک کا انتظار کریں ۔۔ تب تک میں وارثان قلم سے وہ الفاظ مانگتا ہوں جو پڑھنے والوں کو دکھا سکیں وہ زمین جس کے صدقے میں مَیں بنا ہوں، سب بنے ہیں، ساری زمینیں بنیں ہیں، سارے آسمان بنے ہیں، جو قیامت آنے پر بھی سلامت رہے گی، جو عرش کی طرح معلّٰی ہے۔۔۔۔۔

:دیگر مضامین
(12.12.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 59ویں قسط
(11.12.2011) معجزہ ہے انکے در کی حاضری۔ پہلی قسط۔از۔محمد رضا کراچی
(10.12.2011) پیغام شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ ۔از؛ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
(01.12.2011) پورٹا نووا اٹلی میں چار دسمبر دوہزار گیارہ کو کربلا والوں کی یاد میں جلوس نکالا جائے گا
(26.11.2011) مجالس عزا عاشورہ محرم 1433ھ برطانیہ بھر کے عزا خانوں میں
(26.11.2011) مجالس عزا محرم 1433ھ راولپنڈی، اسلام آباد یکم تا 9 محرم الحرام
(24.11.2011) جامعہ الکوثر اسلام آباد پاکستان میں عشرہ محرم الحرام کی مجالس
(23.11.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 58ویں قسط
(23.11.2011) محبان اہلبیت شٹٹ گارٹ کا آمدہ محرم الحرام کی مجالس عزا کا پروگرام شائع کر دیا گیا ہے
(18.11.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 57ویں قسط
(18.11.2011) عالمی اخبار کی ساتھی زرقا مفتی کے دیور کو ڈاکوؤں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا
(15.11.2011) ناروے کے معروف مرثیہ خوان سماجی کارکن سید نسیم حیدر زیدی کا انتقال
(07.11.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 56ویں قسط
(03.11.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر پیغامات تہنیت ۔حصہ دوئم ۔ .از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(02.11.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر پیغامات تہنیت ۔حصہ اول۔ .از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(30.10.2011) کراچی سے محمد احمد ترازی کو عالمی اخبار کی طرف سے دوسرا ” مصطفی علی ہمدانی ایوارڈ ” ۔
(30.10.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کے موقع پر عادل عزیز خانزادہ ملٹی میڈیا کے انچارج متعین
(30.10.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کے موقع پر سید اکمل حسین کی ادارتی بورڈ میں شمولیت
(29.10.2011) انجمن ادب اردو واشنگٹن ''سول'' کا ماہانہ اجلاس 30 اکتوبر اتوار کے روز منعقد ہو گا
(22.10.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 55ویں قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں