17.10.2026, 10:12pm , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

معجزہ ہے انکے در کی حاضری۔ تیسری قسط۔از۔محمد رضا کراچی
15.12.2011, 01:02am , جعمرات (GMT+1)

محمد رضا۔کراچی
پچیس جولائی سن دو ہزار چار۔۔۔

ایک گھنٹے کی نیند ہی لی تھی کہ گیارہ بجے صادق کمرے میں آ گیا۔۔ مجھے اٹھایا اور کہا کہ امی باجی کو کچھ خریداری کرنی ہے۔۔ ان کے ساتھ بازار چلے جاؤ، میں تھکن کے باوجود انکار نہیں کر سکا، ویسے بھی صادق کی والدہ مجھے اپنے بیٹے جیسا ہی سمجھتی ہیں اور پیار کرتی ہیں، سو جلدی سے بستر چھوڑا اور امی باجی کے ساتھ قم کے بازار چلا گیا، بازار سے خریداری کے بعد ہم ہوٹل واپس پہنچے تو دل چاہا کہ شہزادی سلام اللہ علیہا کے دربار میں حاضری دی جائے، گرمی شدت کی تھی، یہی کوئی گیارہ ساڑھے گیارہ کا وقت تھا جب میں ہوٹل سے نکلا اور روضہء معصومہ سلام اللہ علیہا کی جانب بڑھ گیا، بہت زیادہ رش نہیں تھا لیکن میں اندر حرم میں جانے کے بجائے صحن میں کھڑا ہو گیا جہاں سے ضریح نظر آرہی تھی، باہر کی دیواروں پر شہزادی سلام اللہ علیہا کے القاب لکھے تھے وہ پڑھنے لگا، کبھی نظر ہٹا کر آنے جانے والوں کو دیکھ لیتا، ایسے میں کچھ آوازیں سُنائی دیں، کچھ لوگ میرے بالکل پیچھے کھڑے آپس میں گفتگو کر رہے تھے، اُن میں سے ایک بتا رہا تھا کہ وہ عراق سے کربلا اور دیگر زیارتیں کر کے صبح ہی واپس پہنچا ہے۔

 میری نظریں تو شہزادی معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم کا طواف کر رہی تھیں لیکن کان اُس شخص کی باتوں پر لگ گئے۔۔ وہ کہہ رہا تھا کہ عراق میں شدید خانہ جنگی چل رہی ہے، سترہ ملکوں کی فوج کارروائیاں کر رہی ہے اور روزانہ بم دھماکے معمول بنے ہوئے ہیں۔۔ ایسے میں عراقی افواج صبح ایک گھنٹے کے لیے بارڈر کھول دیتی ہیں اور جو شخص جان بچانے کے لیے ملک سے باہر نکلنا چاہے اور ایران میں پناہ لینا چاہے اُسے جانے کی اجازت ہوتی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہ اگر کوئی عراق میں داخل ہونا چاہے تو اُسے بھی نہیں روکا جاتا، مجھ سے برداشت نا ہوا اور ان لوگوں کی جانب پلٹ گیا، کیا کوئی بھی عراق میں جا سکتا ہے؟؟ میں نے بے چینی سے سوال کیا، انہوں نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اور بولے ہاں، کوئی بھی جا سکتا ہے۔۔ لیکن زندگی کی کوئی ضمانت نہیں ہے عراق میں داخلے کے بعد، زندگی کی کس کو پرواہ ہے۔۔ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا، پھر میں نے پوچھا کہ کیا روزانہ بارڈر کھولا جاتا ہے؟ کس وقت کھولا جاتا ہے؟؟ انہوں نے کہا کہ اب تک تو روزانہ ہی صبح آٹھ بجے کھول دیتے ہیں، اور نو بجے تک جو جانا چاہے وہ جا سکتا ہے اور جو نکلنا چاہے نکل سکتا ہے۔۔ آگے کا پتہ نہیں، ایران عراق بارڈر تک کونسا راستہ جاتا ہے؟ میں نے اگلا سوال کیا۔

 انہوں نے کہا کہ یہاں سے باہر نکلو اور کسی بھی ٹیکسی والے سے کہو کے عراق کے بس ٹرمینل تک جانا ہے، وہ پہنچا دے گا۔۔ خرچہ کتنا ہوتا ہے؟ (اگلا سوال) جتنا لے جاؤ وہ کم ہے۔۔ میرے سوال کے ساتھ ہی جواب ملا۔۔ اتنی بات کافی تھی شاید۔۔ کیونکہ ان کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ میرے سوالات کو بچکانہ سمجھ رہے ہیں۔۔ میں واپس گھوما، سامنے شہزادی کریمہ اہلیبیت سلام اللہ علیہا کے روضے کی جالی نظر آرہی تھی۔۔ ایک نظر ضریح پر پڑی اور بے ساختہ میرے آنسو گالوں پر رواں ہو گئے۔۔ لب کانپے اور ہاتھ جوڑ کر فقط اتنا ہی کہہ سکا کہ شہزادی مجھے کربلا بھیج دیں۔۔ پھر مسلسل یہی الفاظ میرے لبوں سے جاری ہونے لگے۔۔ اور نجانے دل میں کیا آئی کہ روضے کے اندر جانے کے بجائے میں باہر نکل آیا اور تیز تیز چلتا ہوٹل پہنچ گیا، صادق کو ڈھونڈنے لگا، وہی ایک ایسا شخص تھا جسے میں اپنی کیفیت بتا سکتا تھا، وہ اپنی امی اور بہن کے ساتھ کمرے میں تھا۔۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو باہر آگیا۔۔ ہاں رضا۔۔ خیریت ہے۔۔ پریشان لگ رہے ہو۔۔۔۔ صادق نے مجھے دیکھتے ہی پوچھا۔۔  نہیں۔۔ پریشان نہیں ہوں۔۔ بابر۔۔ مجھے کربلا جانا ہے۔۔ میں نے بھیک مانگنے والے انداز میں کہا(صادق کو گھر میں بابر پکارا جاتا ہے)۔۔ اگر میں یہ نا کہتا تو شاید مر جاتا۔۔ اُس نے ایک لمحے توقف کیا اور پھر میرا کندھا ہلا کر بولا کیا کہہ رہے ہو۔۔ مجھے کربلا جانا ہے یار۔۔ بارڈر کھلا ہے اور کوئی بھی عراق میں جا سکتا ہے،، ابھی شہزادی معصومہ سلام اللہ علیہا کے صحن میں ایک شخص بتا رہا تھا،، ویزے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔

پاگل ہوئے ہو رضا۔۔ وہاں خانہ جنگی چل رہی ہے۔۔ پتا ہے کتنے لوگ روز مر رہے ہیں۔۔ کتنے بم پھٹ رہے ہیں۔۔ کتنے خراب حالات ہیں عراق کے۔۔ صادق نے کہا تو میں فوراً بول اٹھا۔۔ کیا ہوا یار اگر حالات خراب ہیں۔۔ لوگ جا تو رہے ہیں ناں۔۔ زندگی تو بنی ہی موت کے لیے ہے۔۔ کوشش کر لینے میں کیا حرج ہے۔۔ تو چلے جاؤ۔۔ مجھے بضد دیکھ کر اُسنے کہا۔۔ چلا تو جاؤں،، میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔ تُو چلے گا میرے ساتھ؟ میں نے پوچھا تو وہ بولا۔۔ یار چلوں تو۔۔ امی اجازت نہیں دیں گی۔۔ تمہاری بہت سنتی ہیں۔۔ کوشش کرو۔۔ اگر اجازت مل جائے تو ہم ساتھ چلتے ہیں۔۔

میں نے کہا کہ چل میں امی سے بات کرتا ہوں۔۔ پھر ہم صادق کی امی کے پاس چلے گئے۔۔ میں نے بہت کوشش کی لیکن انہوں نے صادق کو عراق جانے کی اجازت نہیں دی، ماں تھیں اسی لیے اپنے دل سے مجبور تھیں۔۔ تھک ہار کر ہم کمرے سے باہر نکل آئے۔۔ اب کیا پروگرام ہے تمہارا؟ صادق نے پوچھا۔۔ میں جاؤں گا۔۔ میں نے حتمی انداز میں کہا۔۔ صادق نے اپنا پرس نکالا اور اُس میں سے سو ڈالر کا ایک نوٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ میرے پاس ابھی اتنے ہی پیسے ہیں۔۔ رکھ لو۔۔ سفر میں ضرورت پڑ جاتی ہے۔۔ میں نے وہ سو ڈالر لے لیے جو اُس وقت چھ ہزار پاکستانی روپے کے برابر تھے۔۔ ساڑھے نو ہزار روپے میرے پاس ہو گئے تھے۔۔ لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ یہ پیسے کم پڑیں گے۔۔ میں نے کہا کہ بابر قافلہ سالار کو ایرانی زیارات کے مکمل پیسے دیے تھے وہ واپس مل سکتے ہیں۔۔ اُس نے کہا کہ پوچھ لو اگر وہ دے دیں تو، میں قافلہ سالار( جن کا نام میں نہیں لکھنا چاہتا ) کے پاس گیا اور ان سے درخواست کی کہ میرے زیارات کے پیسے صادق نے دیے تھے اٹھارہ روز کے۔۔ میں قافلہ چھوڑنا چاہتا ہوں تو اب تک کے اخراجات نکال کر باقی پیسے مجھے دے دیں۔۔ میں کربلا جانا چاہتا ہوں۔۔ انہوں نے انتہائی ناگوار اور برے انداز میں مجھے ٹکا سا جواب دیا کہ ایسا نہیں ہوتا۔۔ اگر ٹور پورا کر سکتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ پیسے کسی صورت نہیں ملیں گے۔۔ اُن سے مایوس ہو کر میں نے اپنے اسباب پر نظر کی تو خیال آیا کہ ابھی بھی بہت کچھ ہے۔۔ پاپا کی تینوں انگوٹھیاں۔ موبائل فون۔۔ میرے کپڑے۔۔ میں صادق کو بتائے بغیر اپنا سامان لے کر بازار چلا گیا۔۔ تین پینٹ اور تین شرٹ کے ساتھ تینوں انگوٹھیاں اور اپنا موبائل بیچ دیا۔۔ اس کے علاوہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔۔ صادق کو اس بارے میں نہیں بتایا ورنہ وہ سخت ناراض ہوتا۔۔ آج بھی وہ یہ بات نہیں جانتا کہ میں نے اپنا سامان فروخت کیا تھا۔۔ مجھے اس تمام سامان کے تین ہزار روپے پاکستانی ملے جو غنیمت تھے۔۔ میں سودا نہیں کر رہا تھا۔۔ سر کا سودا تھا یہ تو۔۔ پیسے ملا کر ایک بار پھر گنتی کیے۔۔ ساڑھے بارہ ہزار۔۔ کافی ہیں۔۔ میں نے خود کو تسلی دی۔۔ ہوٹل سے نکلا اور سیدھا پبلک کال آفس پہنچ گیا۔۔ چھوٹی بہن کو فون کیا۔۔ جانتا تھا کہ باجی اُس کے گھر ہی بیٹھی ہوں گی۔۔ سلام دعا کے بعد اپنی خیریت دی اور باجی سے بات کرنے کا کہا۔۔ اُس نے باجی کو فون تھما دیا۔۔ ہاں رضا۔۔ پہنچ گیا؟ باجی نے پوچھا۔۔ ہاں بجو۔۔ قم میں ہوں۔۔ کیسا رہا سفر؟ باجی نے پوچھا۔۔ مجھے کربلا جانا ہے۔۔ میں نے کہا۔۔ کیا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے ایسے کہا جیسے میری بات ان کی سمجھ نا آئی ہو۔۔ بجو۔۔ میں نے رو دینے والے انداز میں کہنا شروع کیا۔۔ میں کربلا جانا چاہتا ہوں۔۔ بارڈر کھلا ہے اور جو عراق جانا چاہے جا سکتا ہے۔۔ میں بھی جانا چاہتا ہوں۔۔ پاگل ہوا ہے۔۔ بجو نے غصیلے لہجے میں کہا۔۔ پتہ ہے وہاں کے حالات کتنے خراب ہیں۔۔ بس ایران کی زیارتیں کر کے واپس آجا۔۔

بجو حالات کی بات نا کرو۔۔ اُس وقت حالات کونسے اچھے تھے جب مولا حسین اپنے علی اکبر کو لے کر آئے تھے؟ جانے دو نا۔۔ میرے لہجے میں بے بسی تھی۔۔ شاید بجو سمجھ گئیں کہ یہ مر جائے گا۔۔ ان کی گود کا پالا جو تھا۔۔ وہ جانتی تھیں کہ ان کے منع کرنے پر رک جاؤں گا۔۔ میں اُن کی بات کبھی نہیں ٹالتا۔۔ بجو کی خاموشی میرے لیے زندگی اور موت کا دوراہا بنی ہوئی تھی۔۔ میں جانتا تھا کہ بجو کے پاس میری بات کا کوئی جواب نہیں ہے ۔۔ چلا جا۔۔ لیکن تو نے صحیح سلامت واپس آنا ہے۔۔ بجو صرف اتنا کہہ سکیں۔۔ میں سمجھ گیا کہ وہ رو رہی ہیں۔۔ ہاں بجو۔۔ میں ضرور واپس آؤں گا۔۔ اور اب انشاء اللہ کربلا سے فون کروں گا۔۔ انتظار کرنا۔۔ بس اتنا کہا اور فون بند کر دیا۔۔ ٹائم دیکھا۔۔ ایک بجے والا تھا۔۔ مجھے آج ہی نکلنا ہوگا۔۔ یہ خیال آتے ہی میں ہوٹل آیا۔۔ قافلے کے دیگر ساتھیوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔۔ کچھ مزید لوگوں نے بھی جانے کی بات کی۔۔ کچھ حالات کا تجزیہ کرنے لگے۔۔ کچھ نے روکنے کی کوشش کی۔۔ سب اپنی اپنی باتیں کر رہے تھے۔۔ ایسے میں ایک صاحب نے بتایا کہ یہاں قم میں کراچی کے رہائشی مولانا عمران کاظمی درس و تدریس کے حوالے سے اٹھارہ سال سے مقیم ہیں۔۔ ان سے مل لو۔۔ وہ بہتر رہنمائی اور رائے دے سکتے ہیں۔۔ میں نے حامی بھری تو وہ صاحب مجھے لے کر مولانا صاحب کے گھر چلے گئے۔۔ مولانا نے بہت عزت دی۔۔ جب میں نے اپنے عزائم بتائے وہ مولانا مسکرائے اور کہنے لگے ضرور جاؤ اگر جانا چاہتے ہو تو۔۔ کچھ نہیں ہوتا۔۔ لوگ اپنی اولاد دے کر جاتے تھے۔۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔

پھر مولانا مجھے کربلا اور دیگر مقامات کی زیارت کے آداب بتانے لگے۔۔ باقی سب تو بیان نہیں کروں گا لیکن ایک بات ضرور لکھنا چاہوں گا۔۔ مولانا عمران کاظمی نے کہا کہ جس حالت میں اور جس وقت کربلا میں داخل ہونا تو بغیر اپنا حلیہ بدلے۔۔ بغیر کنگھا کیے۔۔ بغیر اپنی جسمانی حالت کی پرواہ کیے سیدھے حضرت عباس علیہ السلام اور پھر مولا حسین علیہ السلام کے روضے پر چلے جانا۔۔ منہ یا ہاتھ دھونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں نے پوچھا پاک نا ہوں تو؟ بولے کہ علماء نے لکھا ہے کہ جس حالت میں پہنچو اُسی حالت میں فوری زیارت کے لیے پہنچ جاؤ۔۔ میں نے مولانا سے راستوں کے بارے میں بھی سوالات کیے جن کا انہوں نے بڑے تحمل اور شفقت سے جواب دیا۔۔ میں وہاں سے اٹھا۔۔ ہوٹل آیا۔۔ قافلے کے ساتھیوں۔۔ صادق اور اس کی امی اور باجی سے رخصت لی اور تین بجے اُس ٹرمینل کی جانب روانہ ہو گیا جہاں سے ایران عراق بارڈر کے لیے گاڑی ملنی تھی۔۔ ساڑھے تین بجے میں اُس بس میں بیٹھا تھا جو چار بجے ایران عراق کی سرحد۔۔ مہران بارڈر روانہ ہونی تھی۔۔ دل میں وسوسے بھی اٹھ رہے تھے لیکن شوقِ زیارت اُن وسوسوں کو دبا رہا تھا۔۔ خیالوں میں کربلا کا جنگل نظر آ رہا تھا جو بچپن سے مجالس میں سنا۔۔ جو کتابوں میں پڑھا۔۔ تصور کرنے کی کوشش کی کہ کربلا کیسی ہوگی لیکن کوئی حتمی شکل نہیں ابھری۔۔ بس لاشے پڑے نظر آئے۔۔ بیابان نظر آیا۔۔ جلے ہوئے خیام نظر آئے۔۔ جشن مناتی فوج نظر آئی اور کچھ خواتین کے سائے نظر آئے جو خوف کے عالم میں اِدھر اُدھر بھاگ رہی تھیں۔۔ ایک ہاتھ سے چادر سنبھالے ایک ہاتھ میں بچہ اٹھائے مستورات۔۔ واضح کچھ نہیں تھا لیکن خاکے تھے۔۔ میرے اندر شامِ غریباں برپا تھی۔۔ میں اپنی موجودہ کیفیت نہیں لکھ سکتا۔۔ بس اتنا کہوں گا کہ فی الوقت مزید نہیں لکھ پاؤں گا۔۔ دعا کریں کہ لفظوں کے سہارے وہاں پہنچ جاؤں جہاں جانے کے بعد واپس آنے کو دل نہیں چاہتا۔۔۔۔

صفدر بھائی کے حکم کی تعمیل میں مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جگر کا خون انگلیوں تک آ جائے گا۔۔ اس یقین کے ساتھ کے اگلی قسط میں ہم کربلا میں سجدہ ریز ہونگے اب اجازت چاہوں گا۔

:دیگر مضامین
(14.12.2011) معجزہ ہے انکے در کی حاضری۔ دوسری قسط۔از۔محمد رضا کراچی
(12.12.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 59ویں قسط
(11.12.2011) معجزہ ہے انکے در کی حاضری۔ پہلی قسط۔از۔محمد رضا کراچی
(10.12.2011) پیغام شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ ۔از؛ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
(01.12.2011) پورٹا نووا اٹلی میں چار دسمبر دوہزار گیارہ کو کربلا والوں کی یاد میں جلوس نکالا جائے گا
(26.11.2011) مجالس عزا عاشورہ محرم 1433ھ برطانیہ بھر کے عزا خانوں میں
(26.11.2011) مجالس عزا محرم 1433ھ راولپنڈی، اسلام آباد یکم تا 9 محرم الحرام
(24.11.2011) جامعہ الکوثر اسلام آباد پاکستان میں عشرہ محرم الحرام کی مجالس
(23.11.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 58ویں قسط
(23.11.2011) محبان اہلبیت شٹٹ گارٹ کا آمدہ محرم الحرام کی مجالس عزا کا پروگرام شائع کر دیا گیا ہے
(18.11.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 57ویں قسط
(18.11.2011) عالمی اخبار کی ساتھی زرقا مفتی کے دیور کو ڈاکوؤں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا
(15.11.2011) ناروے کے معروف مرثیہ خوان سماجی کارکن سید نسیم حیدر زیدی کا انتقال
(07.11.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 56ویں قسط
(03.11.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر پیغامات تہنیت ۔حصہ دوئم ۔ .از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(02.11.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ پر پیغامات تہنیت ۔حصہ اول۔ .از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(30.10.2011) کراچی سے محمد احمد ترازی کو عالمی اخبار کی طرف سے دوسرا ” مصطفی علی ہمدانی ایوارڈ ” ۔
(30.10.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کے موقع پر عادل عزیز خانزادہ ملٹی میڈیا کے انچارج متعین
(30.10.2011) عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کے موقع پر سید اکمل حسین کی ادارتی بورڈ میں شمولیت
(29.10.2011) انجمن ادب اردو واشنگٹن ''سول'' کا ماہانہ اجلاس 30 اکتوبر اتوار کے روز منعقد ہو گا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں