15.10.2026, 01:10pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

دسمبر 26۔پروین شاکر خوشبو اور انکار کی شاعرہ کی برسی ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ زرقا مفتی
27.12.2014, 01:06am , ہفتہ (GMT+1)

زرقا مفتی ۔۔۔۔۔۔ لاہور
 خوشبو اور انکار کی شاعرہ : پروین شاکر
26 دسمبر کو پروین شاکر کی برسی منائی جاتی ہے۔ اکثر رومان پرست شعراءکی طرح پروین کا انتقال درمیانی عمر میں ہو گیا۔اُردو شاعری میں اُن کا کلام ایک خاص انفرادیت کا حامل ہے۔ بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کے بعدنسائی شاعری ایک نئی شناخت کے ساتھ اُردو کے ادبی منظر نامے پر جلوہ افروز ہوئی۔ پروین شاکر ہمیں اس منظر نامے پر ماہِ تمام کی طرح چمکتی دکھائی دیتی ہیں۔ اپنی اولین کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی پروین کی شاعری ادبی رسالوں کے ذریعے اپنے مداح پیدا کر چکی تھی ۔ خوشبو کی اشاعت کے ساتھ ہی پروین شاکر کا شمار صفِ اول کی شاعرات میں ہونے لگاتھا۔خوشبو کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پہلی اشاعت کے چھ ماہ بعد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن چھاپنا پڑا۔ پروین سے پہلے کسی شاعرہ نے نسوانی جذبات کو اتنے خوبصورت اور بے باک انداز سے قلمبند نہیں کیا تھا۔ اُن کی کچھ مختصر نظمیں پیش ہیں:
واہمہ
تمھارا کہنا ہے
تم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو
تمھاری چاہت
وصال کی آخری حدوں تک
مرے فقط میرے نام ہوگی
مجھے یقین ہے مجھے یقین ہے
مگر قسم کھانے والے لڑکے
تمھاری آنکھوں میں ایک تل ہے!
چاند
ایک سے مسافر ہیں
ایک سا مقدر ہے
میں زمین پر تنہا
اور وہ آسمانوں میں !


کشف
ہونٹ بے بات ہنسے
زلف بے وجہ کھلی
خواب دکھلا کہ مجھے
نیند کس سمت چلی
خوشبو لہرائی میرے کان میں سرگوشی کی
اپنی شرمیلی ہنسی میں نے سنی
اور پھر جان گئی
میری آنکھوں میں تیرے نام کا تارا چمکا !!!

کانچ کی سرخ چوڑی
میرے ہاتھ میں
آج ایسے کھنکنے لگی
جیسے کل رات شبنم سے لکھی ہوئی
ترے ہاتھوں کی شوخیوں کو
ہواؤں نے سَر دے دیا ہو۔۔۔
پروین شاکر کی شاعری اردو شاعری میں ایک تازہ ہوا کے جھونکے کے مانند تھی پروین نے ضمیر متکلم (صنف نازک) کا استعمال کیا جو اردو شاعری میں بہت کم کسی دوسری شاعرہ نے کیا ہو گا پروین نے اپنی شاعری میں محبت کے صنف نازک کے تناظر کو اجاگر کیا اور مختلف سماجی مسائل کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا نقاد ان کی شاعری کا موازنہ فروغ فرخزاد ( ایک ایرانی شاعرہ ) کی شاعری سے کرتے ہیں
پروین کی غزلیات کا مو ضوع محبت ہے ۔ اُن کی نظموں کی طرح غزلیں بھی انفرادی رنگ میں ہیں۔الفاظ اور جذبات کو ایک انوکھے تعلق میں باندھ کرسادہ الفاظ میں انہوں نے نسائی انا، خواہش ، انکار کو شعر کا روپ دیا ہے۔ اُن کی شاعری میں روایت سے انکار اور بغاوت بھی نظر آتی ہے۔

اس سے ملنا ہی نہیں دل میں تہیہ کر لیں
وہ خود آئے تو بہت سرد رویہ کر لیں
 میں اس کی دسترس میں ہوںمگر وہ
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں
اسی بغاوت کی پاداش میں شاید اپنے شوہر سے اُن کی علیحدگی ہو گئی اور خاندان نے اُن سے ترکِ تعلق کر لیا۔ پروین زخموں کو پھول بنانا جانتی تھیں۔
میری چادر تو چھنی تھی شام کی تنھائی میں
بے ردائی کو ھماری دے گیا تشہیر کون

کمالِ ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی

عکس خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

وہ خوبصورت الفاظ سے اپنے جذبات کی تصویر کشی کرتی تھیں۔پروین کے بقول محبت جب نفس پر قابو پا لیتی ہے تو وجدان میں بدل جاتی ہے اور خوبصورتی نزاکت کی انتہا پر خوشبو میں بدل جاتی ہے۔ پروین کی شاعری بھی خوشبو کی طرح کو بہ کو پھیل چکی ہے۔دلوں میں اُتر گئی ہے اور اپنی شبنمی نزاکت سے روح کو تھپکتی ہے۔
حسن کو سمجھنے کو عمر چاہیے ، جاناں!
 دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

وہ رت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی
مہک میں چمپا، روپ میں چنبیلی ہوئی
مجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح
انگ انگ اپنا اسی رُت میں مہکتا دیکھوں

ہتھیلیوں کی دعا پھول لے کے آئی ہو
 کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حِنائی ہو!

محبت کی خوشبو کو اپنے شعروں میں سمونے والی شاعرہ جب اُداس ہو تی ہے تو کچھ اس طرح

بڑھتی جاتی ہے کشش وعدہ گر ہستی کی
اور کوئی کھینچ رہا ہے عدم آباد سے بھی

ظلم کی طرح اذیت میں ہے جس طرح حیات
ایسا لگتا ہے کہ اب حشر ہے کچھ دیر کی بات

روز اک دوست کے مرنے کی خبر آتی ہے
روز اک قتل پہ جس طرح کہ مامور ہے رات

چارہ گر ہار گیا ہو جیسے
اب تو مرنا ہی دوا ہو جیسے

حلقہ رنگ سے باہر نکلوں
        خود کو خوشبو میں سمو کر دیکھوں
        اُس کو بینائی کے اندر دیکھوں
        عمر بھر دیکھوں کہ پل بھر دیکھوں
        کس کی نیندوں کے چُرا لائی رنگ
        موجہ زُلف کو چُھوکر دیکھوں
        زرد برگد کے اکیلے پن میں
        اپنی تنہائی کے منظر دیکھوں
        موت کا ذائقہ لکھنے کے لیے
        چند لمحوں کو ذرا مَر دیکھوں!

:دیگر مضامین
(26.12.2014) ریڈیو پاکستان سکردو کاعظیم قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیئے محفل مشاعرہ
(25.12.2014) بانی پاکستان محمد علی جناح کی شخصیت کا ہر پہلو ایک روشن مثال
(24.12.2014) ملکہ ترنم نورجہاں کے ایک تاریخی انٹرویو سے اقتباس , نور جہاں کی چودہویں برسی
(24.12.2014) ریڈیو پاکستان سکردو کی جانب سے منقعدہ کل بلتستان نعتیہ مقابلہ
(23.12.2014) سویڈن کے شہر سٹاک ہولم میں سانحہ پشاور کے حوالے سے ایک اہم تقریب
(22.12.2014) لندن کی معروف ریجنٹس سٹریٹ پر ہرسال کرسمس کے موقع پر چراغاں ہوتا ہے
(20.12.2014) گلگت ، بلتستان میں بھی سانحہ پشاور پر ماحول انتہائی افسردہ ہے
(16.12.2014) سولہ دسمبر یوم سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے محمد احمد ترازی کی خصوصی تحریر
(15.12.2014) عالمی اخبار کے لیئے خصوصی تحریر۔ اسلام کے خلاف باطل کی فکری یلغار کا تاریخی جائزہ
(14.12.2014) چہلم امام حسینؓ ۔2 کروڑ سے زائد عزاداران روضہ مبارک پر حاضری دے رہے ہیں
(11.12.2014) بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پانچ برسوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں
(08.12.2014) عشق محمد سے سرشار حقیقی نعت گو۔.... حفیظ تائب
(02.12.2014) حسن کاظمی ۔ ریڈیو پاکستان کی ایک پہلوُدار شخصیّت ۔ از سیّد علی اصغر کاظمی
(29.11.2014) ریڈیو ڈوئچے ویلے کے شعبہ فارسی کے نابینا صحافی اور موسیقار اسکندر آبادی
(27.11.2014) بھارتی گلوکار انوپ جلوٹہ کا ایک منفرد انداز ۔ شہادت امام حسین ع کا بیان
(26.11.2014) سوزخوانِ اِہلبیتؑ، سیّد آفتاب علی کاظمی کی بیاض سے،صفیؔ لکھنوی کا اک قدیم سلام
(25.11.2014) ديوان أبي طالب عم النبي صلى الله عليه وسلم ۔۔۔ ڈاکٹرمخدوم پیر سید علی عباس شاہ
(22.11.2014) فتنہ ۔۔۔ ابوالمعانی مولانامیرزاعبدالقادربیدل ؔ دہلوی۔ از۔ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
(20.11.2014) برطانیہ اور نیدرلینڈز کے دو پولٹری فارمز میں برڈ فلو؟
(08.11.2014) قبر اصغر پہ کہتہ تھی مادر۔شاعر نجم آفندی،بندش و آواز۔علی اصغر کاظمی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں