15.10.2026, 01:57pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

کراچی میں کتب کلچر کے فروغ کیلئے ساتویں عالمی کتب میلے کا آغاز
18.12.2011, 11:55am , اتوار (GMT+1)

محمداحمد ترازی۔عالمی اخبار کراچی
یہ حقیقت ہے کہ کوئی درسگاہ اور تعلیم یافتہ معاشرہ کتاب کی ضرورت سے بے نیاز نہیں رہ سکتا،اسی طرح تعلیم اورکتب خانے بھی ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں،تعلیمی اداروں میں نصابی ضرورت محض نصابی کتابوں سے پوری نہیں ہو سکتیں،لہٰذا تحقیقی ضروریات کیلئے اضافی کتابوں کا ہونا بہت ضروری ہے،جنہیں منظم اشاعتی اداروں اور کتب خانوں کی مدد سے پورا کیا جاسکتا ہے،خیال رہے کہ معاشرتی ترقی کا انحصار اِس بات پر ہے کہ عوام مروجہ علوم اور زمانے کے تقاضوں سے ہم آھنگ ہوں،اُن کی علمی سطح جتنی بلند ہوگی ملک بھی اتنی ہی ترقی کرے گا،آج کے جدید دور میں علم کے حصول کا سب سے بڑاذریعہ ہمارے سکول،کالج اور یونیورسٹیاں ہیں،مگر اِن میں صرف نصابی تعلیم دی جاتی ہے،یہ تعلیمی ادارے علم کی انتہاء نہیں ہیں،بلکہ یہاں سے لوگ اپنے راستے سے آگاہ ہوتے ہیں اور عملی زندگی کے راستوں پر مسلسل گامزن رہنے کیلئے کتابیں اور کتب خانے تلاش کرتے ہیں،اِس لحاظ سے کتابوں کی اہمیت اِس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ صحیح معنوں میں حصول علم کا ذریعہ ہیں،لہٰذا یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ جو راستہ تعلیمی اداروں سے نکلتا ہے وہ کتاب اور مکتبوں پرآکر ختم ہو جاتاہے کہ یہاں پر ہر قسم کا علم بغیر کسی پابندی اور رکاوٹ باآسانی مل جاتا ہے ۔

کہتے ہیں کتاب کا انسان سے تعلق بڑا پرانا ہے اور کتاب نہ صرف انسان کی بہترین دوست ہے،بلکہ یہ انسان کے علم و ہنر اور ذہنی استعداد میں بھی بے پناہ اضافہ کرتی ہے اورخود آگاہی اور اپنے اردگرد کے حالات و واقعات کا ادراک کراتی ہیں،یہ بات کچھ غلط بھی نہیں،دنیا میں کتب میلے منعقد کرنے کا مقصد لوگوں میں کتاب کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے،اِس حوالے سے پاکستان میں ناصرف معلوماتی سیمینارز اور کتب میلے منعقد کروانے کی اشد ضرورت ہے،بلکہ اس موقع پر حکومتی اور نجی سطح پر عوام میں شعور بیدار کرنے کےلئے معلوماتی پروگرامز شروع کرنے کی بھی شدید ضرورت ہے،کیونکہ پاکستان میں ایک تو شرح خواندگی بہت کم ہے ،دوسرے مہنگائی کی وجہ سے کتاب دوستی میں بھی بہت کمی واقع ہوئی ہے،اِس رجحان میں کمی کی ایک وجہ معلومات کے جدید ذرائع کمپیوٹر،انٹرنیٹ اورموبائل فون بھی ہیں،جب سے لوگوں میں اِن جدید ذرائع کے استعمال کی شرح بڑھی ہے ،کتاب دوستی اور اُس کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے،اسی وجہ سے ہمارے نوجوانوں میں ذوق مطالعہ کی کمی ہے جس کا سہراکسی حد تک کمپیوٹر اورموبائل فونز پر جاتا ہے،جہاں اِن کے بے شمار فوائد ہیں،وہیں یہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔

آج ہماری نوجوان نسل کے پاس کتاب پڑھنے کا وقت نہیں،لیکن دن رات انٹرنیٹ چیٹنگ اور فضول و عشقیہ ایس ایم ایس کرنے میں انہیں کمال حاصل ہے،جس کی وجہ سے مطالعہ کی عادت ختم ہوتی جارہی ہے،لیکن آئی ٹی کے اِس دور میں جبکہ انٹرنیٹ پر موجود مواد اور ebooks یعنی برقی کتابوں کی موجودگی کے باوجود بھی کتابوں کی اہمیت اور افادیت کسی طورکم نہیں ہوئی،آج بھی پاکستانی معاشرے کے 70 فیصد افراد کیلئے کتاب معلومات اور حصول علم کا اہم اور بنیادی ذریعہ ہے،جبکہ علم و ادب کے شائقین بھی کتب بینی میں بھر پور دلچسپی لیتے ہیں ۔

اسی رجحان کو برقرار رکھنے کیلئے نیشنل بک فاؤنڈیشن اور وزات تعلیم کے زیر انتظام پاکستا ن کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ساتویں پانچ روزہ عالمی کتب میلہ کا آغاز ہو چکا ہے،اِس کتاب میلے کو برطانوی سفارتخانے اور آکسفورڈ پریس کی طرف سے بھی اسپانسر کیا گیا ہے،جو 16 دسمبر سے 20 دسمبر تک جاری رہے گا،کراچی میں منعقد اِس نمائش کے انعقاد کا مقصد نہ صرف پاکستانی مصنفین کی کتابوں کی اہمیت واضح کرنا ہے بلکہ عوام میں کتابیں خریدنے اور مطالعے کے شوق کو بھی اجاگر کرنا ہے،کراچی کے ایکسپو سینٹر میں جاری اِس نمائش میں مشہور پاکستانی مصنف احمد رشید جن کی لکھی ہوئی’’طالبان“ نامی کتاب امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں شمار کی جاتی ہے،سمیت سو سے زائد مصنف اور ادیب حصہ لے رہے ہیں،جبکہ برطانیہ،امریکہ،فرانس،جرمنی اور بھارت سے تعلق رکھنے والے تین مصنف بھی اِس کتب میلے میں شریک ہیں ۔

کراچی میں جاری کتب میلے میں پاکستان کی مقامی زبانوں کے علاوہ کئی پبلشرز کا تعلق برطانیہ،عرب ممالک،بھارت،ایران، سنگاپور،تھائی لینڈ،یونان،ترکی،ملائیشیا اور برطانیہ وغیرہ سے ہے،واضح رہے کہ کراچی میں گذشتہ سال عالمی کتب میلے میں پونے تین لاکھ کے قریب لوگ کتابیں خریدنے کیلئے آئے تھے،نمائش کے منتظمین اِس سال پہلے سے زائد افراد کی شرکت کی توقع رکھتے ہیں،رواں سال کتب میلے میں مختلف کتابوں پر 15 سے 45 فیصد تک رعایت رکھی گئی ہے،یہ کتب میلہ روزانہ صبح دس سے رات نو بجے تک جاری ہے،جس میں ملک اور بیرون ملک کے سو سے زائد پبلشرزکتب میلے کا حصہ بنے ہوئے ہیں،جو اپنے ساتھ مختلف زبانوں میں بہترین کتابوں کا کلیکشن لے کر آئے ہیں،کتب میلے میں 250 کے قریب ملکی و غیر ملکی بک اسٹالز لگائے ہیں،جن پردنیا کے ہر موضوع پر کتابیں موجود ہیں ۔

اِن اسٹالز پر پاکستان کی مقامی زبانوں کے علاوہ عربی،انگریزی،فارسی،ترکی سمیت کئی دیگر زبانوں میں کتب شامل ہیں،اِن کتابوں کودیکھنے اور خریدنے کیلئے مقامی لوگوں کی جوق در جوق آمد کا سلسلہ جاری ہے،خاص طور پرقاری الیاس صاحب کا ”بولتی کتابوں“کا اسٹال بچوں اور خواتین کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے،ساتویں عالمی کتب میلے کے دوران ایکسپو سینٹر میں مختلف ادبی سرگرمیوں کا اہتمام بھی کیا گیا ہے،جن میں مختلف ٹاک شوز کے علاوہ سیمینارز اور پبلشرز کی نئی کتابوں کی تقریب رونمائی بھی شامل ہے،کتابوں کے غیر ملکی اسٹالز کے علاوہ میلے میں مقامی اور علاقائی زبانوں کی کتابوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے،جن میں سندھی،پشتو،سرائیکی میں کتابوں کے اسٹالز بھی شامل ہیں

واضح رہے کہ کراچی کے ایکسپو سینٹر میں پہلا عالمی کتب میلہ 2005 ءمیں منعقد کیا گیا تھا،اُس کے بعد سے یہ سلسلہ کامیابی سے جاری ہے،کتب میلے کے منتظم اورپا کستان پبلشرز اور بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئر مین خالد عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کو عام کرنا اُن کے ادارے کا بنیادی مقصد ہے،وہ کہتے ہیں کہ کتاب کے بغیر تعلیم ممکن نہیں،اُن کا خیال ہے کہ نجی شعبے میں رہتے ہوئے اِس طرح کے میلوں کو منعقد کر کے ہم یہ کوشش کر سکتے ہیں کہ اپنے بچوں اور نوجوانوں میں کتابوں سے دوستی کے رجحان کو فروغ دیں اور والدین کو کتابوں کی اہمیت کا احساس دلائیں،کیونکہ جب بچے اچھی کتابیں پڑھیں گے تو تربیت اچھی ہو گی اور اچھی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں ہمیں اچھی قیادت میسر آئے گی،جس سے ملک ترقی کرے گا اور معاشرے سے لاقانونیت، بدامنی، بے روزگاری، بد انتظامی اور لسانی و صوبائی تعصب سمیت بہت سے مسائل میں کمی آئے گی ۔

کراچی میں جاری ساتویں عالمی کتب میلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کا کہنا تھا کہ ہر سال کتب میلہ کا کامیابی سے انعقاد اِس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگوں میں کتب بینی کا شوق موجود ہے اور وقت کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے،انھوں نے حاضرین کو بتایا کہ اِس میلے میں تین لاکھ کے قریب کتابیں رکھی گئی ہیں پیر مظہر الحق کا کہنا تھا کہ اگر اِس طرح کے کتب میلوں کا انعقاد سکھر اور لاڑکانہ جیسے چھوٹے شہروں میں بھی کیا جائے تو حکومت پبلشرز کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی ۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال ایک لاکھ نوے ہزار کے قریب خاندانوں نے ایکسپو سینٹر کا رخ کیا تھا،جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی،چونکہ اس سال گذشتہ سال کی نسبت ز یادہ تعداد میں پبلشرز عالمی کتب میلے کا حصہ ہیں،اِس لیے منتظمین کو سال گذشتہ سے زیادہ شائقین کتب کی شرکت کی امیدہے،انہیں امید ہے کہ اِس سال بھی اہلیانِ کراچی بڑی تعداد میں ایکسپو سینٹر آئیں گے اور بقیہ دنوں میں یہاں لوگوں بہت رش ہوگا ۔

یقینا کثیر تعداد میں شائقین کتب کی شرکت منتظمین کیلئے جہاں حوصلہ افزاءبات ہوگی،وہیں یہ عمل یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں کتب بینی کا شوق فروغ پارہا ہے،لیکن قابل زکر بات یہ ہے کہ کم آمدنی والا طبقہ اِس نمائش سے کوسوں دور ہے، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”بچہ ہی مستقبل کا باپ ہے“ آج کے والدین کل بچے تھے اور آج کے بچے ہی کل کے اچھے اور ذمہ داری شہری ہونگے ۔

لہٰذا اُن کی تربیت اِس انداز سے کی جائے کہ اُن میں فروغ مطالعہ کی عادت پختہ ہو اور وہ تمام عمرحصول علم میں مگن رہ سکیں،چنانچہ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ حکومت کتاب کلچر کو فروغ دینے کیلئے کتابوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرے اورعام آدمی کیلئے سستی و معیاری کتابوں کا حصول آسان بنائے تاکہ عوام اور خاص طور پر نوجوان نسل میں مطالعہ کی اہمیت اور عادت کو پختہ کیا جا سکے ۔

:دیگر مضامین
(17.12.2011) بھارت کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہے
(16.12.2011) سولہ دسمبر کی تاریخ پھر ہمارے سامنے ہے۔ ہمارا مشرقی پاکستان ان کا بنگلہ دیش بن گیا تھا
(14.12.2011) علامہ اقبال کی نظم '' ایک شام'' کی صوتی بصری پیشکش
(13.12.2011) ڈیرہ غازی خان میں مجالس اور امام بارگاہیں ۔از؛ محمد سکندر حیدر
(10.12.2011) دس دسمبر۔انسانی حقوق کا عالمی دن۔پاکستان میں انسانی حقوق ایک سوالیہ نشان
(09.12.2011) صدر زرداری نے اچھا کیا کہ جعلی ڈاکٹروں کے ہتھے نہیں چڑھے۔راشد مرآد کی وڈیو رپورٹ
(08.12.2011) دنیا بھر سمیت لندن میں بھی یوم عاشور عقیدت و احترام سے منایا گیا ۔وڈیو رپورٹ
(07.12.2011) عشرہ محرم میں مرثیہ تحت اللفظ ۔10 محرم۔ مرثیہ نگار۔صفدر ھمٰدانی۔تحت اللفظ۔ امجد شیخ
(05.12.2011) عشرہ محرم میں مرثیہ تحت اللفظ ۔9 محرم۔ مرثیہ نگار و آواز۔صفدر ھمٰدانی
(03.12.2011) عشرہ محرم میں مرثیہ تحت اللفظ ۔7 محرم۔ مرثیہ نگار و آواز۔صفدر ھمٰدانی
(02.12.2011) عشرہ محرم میں سید اکمل حسین روزانہ مرثیہ تحت اللفظ پیش کرتے ہیں۔6 محرم
(01.12.2011) عشرہ محرم میں سید اکمل حسین روزانہ مرثیہ تحت اللفظ پیش کرتے ہیں۔پانچویں محرم
(30.11.2011) عشرہ محرم میں سید اکمل حسین روزانہ مرثیہ تحت اللفظ پیش کرتے ہیں۔چوتھی محرم
(27.11.2011) عشرہ محرم الحرام کے دوران سید اکمل حسین روزانہ مرثیہ تحت اللفظ پیش کریں گے
(26.11.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔18ویں قسط
(22.11.2011) اپنے گھر سے نکلے تو احساس ہوا۔مدیحہ رضوی جرمنی
(15.11.2011) جشن عید غدیر کے موقع پر نوجوان مفکر وخطیب سید عمار نخشوانی کی خصوصی تقریر
(13.11.2011) ذیابیطس کا عالمی دن چودہ نومبر کو منایا جاتا ہے۔ خصوصی رپورٹ
(10.11.2011) ورجینیا میں پاکستان کے سیلاب زدگان کے لیئے امدادی شو۔خصوصی رپورٹ
(30.10.2011) یکم نومبر عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ ہے۔ مبارک بادی کا منفرد انداز



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں