16.10.2026, 05:21am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
عالمی اخبار ادبیات
 

سامورائے ....... از. ...... سیمی برلاس
10.01.2016, 04:07am , اتوار (GMT+1)

سیمی برلاس

 
میرا نام عائشہ پٹیل ہے۔ اب میںآپ کی سوشل ورکر ہوں، میگی رابرٹ ریٹائر ہو گئی ہیں اور انکے سارے مریضوں کی دیکھ بھال اب میں کروں گی میں نے مسٹر پرکاش سے اپنا تعارف کرواتے ہوے کہا۔
اووو !!!!!! عائشہ فون پر جب تم نے اپنا نام بتایا تھا تو میں سمجھا تھا کہ تم آشا ہو ، مگر تم تومسلم لگتی ہو۔ مسٹر پرکاش نے قدرے حیرانگی سے میریطرف دیکھتے ہوے کہا ۔میں انکے اس بے تکے سوال پر چونک گئ اور اپنے غصہ پر قابو پاتے ہوے بڑی نرمی سے ان کی بات کا جواب دینے کی کوشش کی۔
میں آشا ہوں یا عائشہ اس سے میرے فرض کی ادائگی پر کوئ فرق نہیں پڑے گا آپکے جو بھی حقوق ہوں گے میں انکے حصول کے لیے بغیر کسی امتیاز کے آپکی مدد کروں گی۔ اوہ سوری تم نے تو شاید برا منا لیا ،میرا مطلب کچھ غلط نہیں تھا۔دراصل تمھارے سر نئم کی وجہ سے مجھے مغالطہ ہو گیا تھا۔ انھوں نے گھبرا کر وضاہت کی۔ کوئ بات نہیں اکثر لوگوں کا یہ مغالطہ ہو جاتا ہے۔ میں میمن پٹیل ہوں میں نے بھی نکی الجھن دور کرنے کے لیے وضاحت کی۔
خیر چھوڑیں اس بات کو ، اور اب اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ میں نے آپکی فائل کا بغور مطالعہ کیا ہے ، سن ۱۹۹۹ سے اب تک کی آپکی بیماری کی تفصیلی معلومات اس میں درج ہیں، پھر کل کیس کانفرنس میں بھی آپکے مستقبل کے بارے میں بات چیت ہوئ ہے جسکی تفصیل آپکو خط کی صورت میں جلد ہی موصول ہو جاے گی۔
مستقبل کے بارے میں بات چیت، انھوں نے طنزیہ دھرایا۔ یہ ہی کہا گیا ہو گا کہ میں اپنی متوّقہ زندگی سے زیادا جی لیا ہوں، اور اب میرے حصے کے فنڈز ختم ہو گئے ہیں اسلئے میں اب ہیلتھ سروس پرایک بوجھ کی طرح ہوں۔ کیوں یہ ہی کہا گیا ہوگا نہ؟ انھوں نے سولیا انداز میں میری طرف دیکھتے ہو ے کہا۔ میرے پاس انکی بات کا کوئ جواب نہیں تھا، کیوں کہ واقعی انکی نگہدشت کے لیے یہ ہی مسعلہ درپیش تھا کہ انکی ضروریات وقت کہ ساتھ بڑھ رہی تھی اورانکے حصے کے فنڈ ز ختم ہوتے جا رہے تھے۔ ایم ، این ،ڈی یعنی موٹر نیورون ڈیزیز میں مبتلہ لوگ عام طور پر زیادہ سے زیادہ۲ سے ۵ سال تک ہی جی پاتے ہیں مگر اُن کو اس بیماری سے لڑتے ہوے ایک داھای گزر چکی تھی ۔ جینا مرنا تو اُپر والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔انھوں نے کچھ اسطرح کہا جیسے میرے ذہن میں منتشر خیالات کو یک جہ کر دیا ہو۔
ایم ، این ،ڈی کا مرض انسان کے عصابی خلیوں کواسطرح متاثر کرتاہے کہ عضلات کمزور ہوتے جاتے ہیں،اورمریض اسطرح رفتہ رفتہچلنے پھرنے ،اٹھنے بیٹھنے،بات کرنے، یہاں تک کہ کھانا ،یا پانی نگلنے سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔اور بل آخروہ عضلات جو نظام تنفس کے عمل کے لیے ضروری ہوتے ہیں انکی کمزوری کی وجہ سے موت واقعہ ہو جاتی ہے۔ لیکن مریض کی ذہنی اور دماغی صلاحتوں اور قابلیت پر اس کا کوئ اثر نہیں ہوتا ہے۔ پرکاش صاحب پر جب اس مرض کی علامات ظاہر ہونا شروع ہویں تو ان کی عمر صرف ۴۷ سال کی تھی ، وہ کمپیوٹر انجینیرتھے اوراس و قت اپنے کیریر کے عروج پر تھے۔ اور اب بھی تمام تر جسمانی کمزوریوں اور معذوری کے باواجود انکی ذہنی قابلیت اسی طرح عروج پر تھی۔جب تک وہ بیساکھیوں کے سہارے چل سکتے تھے ، گھر میں دھیرے ھیرے اپنے سارے کام خود ہی کرنے کی کوشش کرتے تھے ، اپنے افس کا کام کمپیوٹر پر گھر سے ہی کیا کرتے تھے ۔ سٹیر لفٹ کے ذریعے اوپر اور نیچے بھی اکیلے ہی چلے جاتے تھے، مگر جب وہ ویل چیر کے محتاج ہو گئے تھے تواُنکی دنیا اُپر صرف اُنکے کمرے تک ہی محدود ہو گئ تھی۔ اسیلیے سوشل سروس نے انکے لیے انکی ضرورت کے مطابق گھر کی نچلی منزل پر انکا کمرہ اسطرح بنوادیا تھا کہ وہ ویل چیر پر بیٹھے بیٹھے ہی اپنی ضروریات خود پوری کر سکتے تھے۔ کمرے سے ،منسلک غسل خانہ ، اور بیت الخلا بھی اُنکی صہولت کے عین مطابق تھا۔ کمرے میں ایک طرف انکی کمپیوٹر ٹیبل تھی، اور اسکے ساتھ ہی میوزک ساونڈ سسٹم تھا ۔ انکا سارا وقت یا تو موسیقی سنیّ میں یا پھراسی کمپیوٹر پر گزرتا تھا۔ وہ اسی طرح ویل چیر پر بیٹھے بیٹھے دنیا بھر کی معلومات جمع کرتے رہتے تھے۔انکا رابطہ اب بھی انکے افس کے لوگوں ،ڈاکٹروں ، نرسوں ،فزیو تھراپسٹ ، سوشل ورکرز ، ہلتھ وزیٹرز، وغیرہ سے اسی کمپیوٹر کے ذریعے رہتا تھا۔ میں اُ ن سے باتوں کے دوران اُنکی ضروریات کی چیزوں کی بھی فہرست بناتی جا رہی تھی ، صوتی عضلات کی کمزوری کی وجہ سے اُنکو بات کرنے میں بہت دُشواری ہو رہی تھی، اور اُنکی گفتگو کو سمجھنا بھی مشکل تھا۔ اسلیے انھیں بات چیت کیلیے الیکٹرونک کمیونیکیٹر کی ضرورت تھی ، ا سی طرح اُنکو اب کھانے پینے میں بھی دشواری ہوتی تھی جسکے لیے اُنکو ایکسپرٹ ایڈوائس کی ضرورت تھی۔اس لیے میں نے اُنکو سپیچ تھریپسٹ اور ڈایٹیشن کو ریفر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اب میری لائف لائن یہ کمپیوٹر اور میوزک ہی ہے ۔ اگر میں میوزک آن کر لوں تو آپکو کوئ عتراض تو نہیں ہو گا، انھوں نے ریموٹ کنٹرول سے میوزک آن کرتے ہوے پوچھا اور زیر لب مصرع گنگنانے لگے ؂گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے ۔
تو آپکو شاعری سے بھی دلچسپی ہے ، ہاں مجھے مہدی حسن اور نصرت فتح علی کی گائکی بہت پسند ہے۔اُنھوں نے سامنے رکھی ہوئمہدی حسن اور نصرت فتح علیکی غزلوں اور قوّالیوں کی سی ڈی کے کلیکشن کی طرف اشارا کرتے ہوے کہا۔
اچھا مگر ابھی جو مصرع آپ نے پڑھا اسکا اس وقت کیا مطلب ہے۔انھوں نے میرے سوال کے جواب میں مجھ سے ہی سوال کر ڈالا۔ پروفیسر سٹیفن ہاوکینگ کو جانتی ہو؟ وہ چالیس سال اس مرض میں مبتلا رہے تھے مگر زندگی سے ہارے نہیں تھے ۔ وہ آخر وقت تک آنکھ کے اشارے سے فزکس کے لیکچرز دیتے رہے تھے۔ ہاں وہ بہت ہی قابل اور باہمت تھے۔ میں نے پرکاش صاحب کی تائد کی، انسان اگر ہمت سے کام لے تو دنیا کی کوی مشکل اسے ناکام نہیں کر سکتی ہے۔ہاں انھوں ے کہا اور پھر ایک گہری سانس لے کر کچھ دیر کے لیے چُپ ہو گئے۔ پھر اچانک بولے تمھارا یوتھینیزیا کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ؟ آپ جیسے باہمت شخص کے منہ سے ایسا سوال کچھ مناسب نہیں لگتا ! میں نے حیرت سے اُنکی طرف دیکھا، تو انھوں نے ہنستے ہوے کہا ،ارے کسی چیز کے بارے میں معلومات یا علم حاصل کرے کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ اُس پر عمل بھی کریں گے۔ علم انسان کوا عتماد عطا کرتا ہے،کسی بھی بات کی پوری معلومات حاصل کرنی چاہیے۔ اس سے انسان سہی فیصلہ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اچھا تو آپکا اس بارے میں کیا خیال ہے ۔میں نے انکا سوال الٹا اُن سے ہی دھرادیا، میرا خیال ؟ انھوں نے بڑی گھمبیر آواز میں کہا ،اور میز پر رکھا ہوا کاغذات کا ایک پُلندا میری طرف سرکایا۔ یہ دیکھو مختلف مذاہب یوتھینیزیا کے بارے میں کیا کہتے ہیں، میں نے اس موضوع پر بہت ریسرچ کی ہے ۔ہندو دھرم میں اسکے بار میں دو نظریے ہیں۔ ایک نظریہ تو یہ کہتا ہے کہ کسی کو تکلیف سے مُکت کرنا پُنّہ کا کام ہے ،اور دوسرا یہ کہتا ہے کہ ا یسا کرنے والے اس جنم میں مرنے اورپھر دوسرے جنم میں پیدا ہونے کا جو لائف سایکل ہے اسکو ڈسٹرب(disturb ) کرتے ہیں، اور اُنکے اس جنم کے باقی کہ کرما اور تکلف اب اسکے حصہ میں جائں گے جو مرنے میں اُنکی مدد کرے گا۔
لیکن میرے عقیدے یعنی جینزم ( Jainism)میں اسکے بارے میں کچھ مختلف خیال ہے ۔ ہم پر ہر جان دار کی جان کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔لیکن ایک شرواک (sharavak ) یعنی اس مذہب کا مانے والا اپنی جان دے سکتا ہے، لیکن اسے اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اب اس زندگی کا مکشا ( moksha)یعنی دایرہ زندگی سے مکمل آزادی کا وقت آگیا ہے۔
تمھارے مذہب میں تو اپنی جان دینا بڑے ثواب کا کام ہے۔انھوں نے اپنی بات پوری کرتے ہوے سوال کا رُخ پھر سے میری طرف موڑ دیا۔ نہیں یہ بالکل غلط ہے ، میں نے برجستہ جواب دیا۔ہمارے لیے تو ہماری جان و بدن اللہ کی امانت ہے جسکی حفاظت کرناہم پر فرض ہے۔ ہمیں اپنے ایک ایک عمل کااللہ کو حساب دینا ہوگا، خوُدکشی کسی بھی صورت میں کی جاے حرام ہے۔
ہاں میں جانتاہوں انھوں نے کہا۔ میں نے اسکابھی بغور مطالعہ کیا ہے۔اور دوسرے مذاہب کا بھی، کرسٹیانیٹی میں کیتھولک بھی اس بات کو جائز نہیں مانتے ہیں ،مگر پروٹیسٹنٹ فزیشن اسسٹڈ ڈیتھ کے حق میں ہیں اور اسکو جائز مانتے ہیں۔
ہاں مگر بدھ مذہب میں معاملہ کچھ مختلف ہے۔ Theravada Buddhism میں ایک عام آدمی خود اپنی یا کسی بھی جان دار کی جان لینے کا اختیار نہیں رکھتا ہے، لیکن بدھ منکmonk اپنے رتبے کے حساب سے مختلف درجات پر اپنی جان خودلے سکتے ہیں، لیکن اس عمل میں اگر زرا سی بھی لغزش ہوی یا وہ گھبرا گیے تو وہ اپنے آپ کو اس بات کا اہل ثابت کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی کچھ نظریہ جاپانی ساموراے (samurai )کا خودکشی کے بارے میں ہے ۔ سیپوکو ( seppuku) ایک طرح کی مذہبی خودکشی ہے ۔ اسکے لیے ایک ساموراے پہلے اپنے آپ کو ذہنی طور پرمکمل سکوت اور سکون کی حالت میں لے جاتا ہے ، پھر تیز چاقو سے اپنا پیٹ دایں طرف سے بایں طرف تک کاٹ ڈالتا ہے۔ اسکے بعد اسکا ایک ساتھی جو اسکی مددکے لیے موجود ہوتا ہے اسکا سر تن سے جُدا کر دیتا ہے۔
میرے خیال میں یہ عمل آج کے زمانے کے یوتھینیزیا سے مطابقت رکھتا ہے، تمھارا کیا خیال ہے۔ انھوں نے فلسفیانہ انداز میں میری طرف دیکھا۔
اب وقت کافی ہو چُکا تھا اسلیے میں نے اب انکی اس بات کا کوی جواب نہیں دیا اور اپنی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوے ان سے اجازت چاہی۔ میں آپ کی سہولت کے لیے کچھ سامان آرڈر کروں گی جو ایک دو ہفتہ تک آپکو مل جاے گا، میں اسکے بعد دوبارا آپکو دیکھنے آوں گی کہ آپ کو اس سامان سے کچھ سہولت ہوئی یا نہیں۔
چند ہفتے بعدمیں پھر انکو دیکھنے کیلیے گیٗی، جب انکی ضروریات کی چیزیں جو میں نے انکے لیے آڈر کی تھیں انکو مل گیٗں تھیں ، اور انکی وجہ سے انکو کافی سہولت ہو گیی تھی۔مجھے انکی ہمت پر رشک آتا تھا ، انکی بیماری کی وجہ سے انکی بیگم کافی عرصہ سے شدید depration میں مبتلا رہتی تھیں، ایک بیٹا تھا جو کبھی کبھار ملنے آجاتا تھا، مگر انکو کسی سے کوی شکوا ہ یا شکایت نہیں تھی۔میں نے ہمیشہ ہی انکو مسکراتے ہوے ہی دیکھا۔ اب چونکہ انکی زندگی پھرسے کافی ہموار انداز میں گزرنے لگی تھی اوروہ اپنے حال میں خوش بھی تھے،اسلیے میرا اُن سے مذید رابطہ رکھنا ضروری نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی کئی ماہ گزجانے کے باواجود بھی میں اُن کے خیال کو ذھن سے نکال نہیں پای تھی، یوں ہی اکثر خیال آجاتا تھا کہ اب وہ اپنی زندگی کی جنگ لڑتے ہوے کس حال میں ہونگے، اسی لیے میں Neurology کے مریضوں کے بارے میں ڈیپارٹمنٹ کی میٹنگ میں اُنکے بارے میں ضرور معلوم کرتی تھی کہ وہ اب کس حال میں ہیں اور ہمیشہ ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ وہ اب بھی زندگی سے ہارے نہیں ہیں ۔ واقعی اچھایٗ ،بُرای، نیکی،بدی، ہمت ،کم ہمتی، یہ کسی بھی قوم،مذہب ،یا مِلت کے لیے وقف نہیں ہے۔ سب ہی مذاہب اچھی باتیں ہی سکھاتے ہیں، یہ ہم انسانوں پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو کس طرح ثابت قدم رہ کر خود کو دوسروں کے لیے ایک اچھی مثال بنا کر پیش کریں۔ یا پھر کمزو ر پڑ جایں اور ہیلے بہانے کر کے اپنے غلط کام کو بھی صحیح منوانے کی کوشش میں لگ جایں۔ آج کے زمانے میں کیا کوی حضرت ایوب ؑ کی طرح صابر ہو سکتا ہے۔میں اپنے آ فس میں بیٹھی انہی خیالات میں گُم تھی کہ اچانک فون کی گھیٹی بجی تو میں چونک گٗی، دوسری طرف سے پیلیعٹو کیر نرس Palliative Care Nurse کی آواز آئی، عائشہ مسٹر پرکاش ICU میں ہیں ، انکو سانس نہیں آ رہی ہے مگر انھوں نے breathing machine کی مدد لینے سے انکار کر دیا ہے، اسلیے اُنکا بچنا مشکل ہے۔ مجھے جانے کیوں ایسا لگا جیسے وہ کو یٗ جاپانی ساموراے (samurai ) ہوں جو اب ذہنی طور پر سیپوکو ( seppuku)کے لیے تیار ہو گیا ہو۔اب اُنکی مکشا ( moksha)کا وقت آگیاہے۔


:دیگر مضامین
(08.01.2016) سہ روزہ جشن ریختہ 2016 پر منظوم تاثرات از احمد علی برقی
(06.01.2016) وراثت....  از.... ڈاکٹر نگھت نسیم
(06.01.2016) معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض کمال فن ایوارڈ اور انعام کی حقدار قرار
(05.01.2016) ہم کو دینی ہے امن و اماں کی اذاں از عزیز بلگامی
(04.01.2016) پوٹھوہار آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ایک یادگار نعتیہ مشاعرہ
(02.01.2016) لے کے آئے سالِ نو مہرو محبت کا پیام از احمد علی برقی
(01.01.2016) نئے برس کا پہلا لمحہ از ڈاکٹر نگہت نسیم
(01.01.2016) مرنے کو ہے تیار رواں سال کا سورج... از... صفدر ھمدانی
(30.12.2015) برقی سفر حیات کا دُشوار ہی رہا از احمد علی برقی
(28.12.2015) چاہتیں ہیں فقط فسانوں میں .....از..... زرقا مفتی
(27.12.2015) بے نظیر کے لئے ایک آنسو از راحت نسیم ملک
(26.12.2015) دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی دسمبر کے رات دن ۔از؛ ثنا اللہ خان احسان 
(26.12.2015) اے قائد ہم شرمندہ ہیں از صفدر ھمدانی
(24.12.2015) محمد مصطفی ص محبوب داور..... سرور عالم
(23.12.2015) جن و انسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا از حسن رضا بریلوی
(22.12.2015) جبیں کو دولت سجدہ در یقیں سے ملی از عزیز بلگامی
(21.12.2015) خوشا ہر گوشۂ سیرت منّور ہے محمدؐ کا از ڈاکٹر محمد شرف الدین ساحل
(20.12.2015) نور ہی نور ہے رحمت کی گھٹا چھائی ہے از محمد اعظم عظیم اعظم
(19.12.2015) رحمت کا در کھلا ہے از ڈاکٹر نگہت نسیم
(18.12.2015) ‎یہ قیل و قال و این و آں، یہ زمزمہ فضول ہے از ذوالفقار نقوی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں