میں جب بھی کچھ لکھنے بیٹھتی ھوں تو جی میں ھمیشہ یہی ھوتا ھے سب سے پہلے لکھوں کہ اللہ پاک تیرا شکر ھے کہ تو نے مجھے لفظوں کی تدبیر سیکھائی اور تاثیر عطا کی ۔ مجھے ایسے لوگومیں رکھا جو میرا لکھاپڑھ بھی سکتے ھیں اور اُس لکھے کوسمجھ بھی سکتے ھیں ۔ اس کے ساتھ یہ شکر بھی کہ مجھے مسلمان پیدا کیا ،مجھے مکمل دین دیا جو میری راہنمائی کے لیئے ساتھ ساتھ رھتا ھے ، مجھے احترام آدمیت بھی عطا کیا اور اسی میرے پاک رب نے جابر اور ظالم حکمرانوں کے کے سامنے سچ کہنے کی ھمت اور توفیق بھی عطا کی ۔
میری پہچان کے لیئے مجھے میرا پاکستان دیا اور مجھے غیرت مندوں میں رکھا ۔
سوچیں تو ھمارے رب نے صرف کسی ایک پر ھی یہ فضل نہیں رکھا بلکہ ھر پاکستانی کو یہ نعمت عطا کی ھے ۔۔ لیکن مجھے اس وقت بہت دکھ ھوتا ھے جب ھم اس محسن پاکستان کو بھولنے لگتے ھیں جس نے ھمیں یہ فخر اور پہچان دینے میں رات دن ایک کیا تھا۔
دوستو آج 25 دسمبر ھے اور ھمارے قائد اعظم کی 136ویں سالگرہ ھے ، جو پاکستان کی سرکار خاموشی سے دل ھی دل میں منا رھی ھے ۔۔ کہ ان کے لیئے شہید جمہوریت کا ماتم زیادہ ھے ۔
میں جب بھی اپنے محسن کو یاد کرتی ھوں تو میری آنکھیں اشکبار ھو جاتی ھیں اور پھر جانے کیسے سارے منظر دھندلا جاتے ھیں ۔ میرے پاکستان کی فلک بوس وبرف پوش چوٹیاں میرے ساتھ ھی بین کرنے لگتی ھیں ، حسین آبشاروں کے ترنم میں آھیں سنائی دیتی ھیًں ، بہتے جھرنے اور دریاؤں کی روانی سست سی ھونے لگتی ھے ۔۔ پھر ایسے کہ سمندر بھی اس دکھ پر ماتم کناں ھوجاتا ھے اور یوں لگتا ھے جیسے پاک سر زمین پر گزرنے والے ھر سانحہ پر سر پیٹ رھا ھو ۔۔ بس ھر طرف شور ھی شور ۔۔ جہاں سے بھی گزروں چھتناور درخت بال کھولے اپنے یوں لٹ جانے پر افسردہ اور حیران نظر آتے ھیں ۔۔
کیا یہ وہی پاکستان ھے جو قائداعظم نے ھمیں فرعونوں اور ظالموں سے لے کر دیا تھا ۔۔ تاکہ ھمیں پھر کوئی ستا نہ سکیں ۔۔ کوئی انگلی اٹھا کر دھمکا نہ کر سکیں ۔۔
ھائے میرے قائد کا پھولوں اور تتلیوں سے سجا جنت نشان وطن جس کو دولخت ھوئے بھی مدت ھوئی اور اب کیسے اندھیری غار میں گرا پڑا ھے جہاں ھاتھ کو ھاتھ سجائی نہیں دیتا ۔
جو ھاتھ پکڑتا ھے وہی کاٹ دیتا ھے ۔ فسادات اور تصادم کی ایسی جنگ چھڑی ھے کہ اس افراتفری میں سب ایک دوسرے کے لیئے اجنبی ھوئے ھیں ۔
ھمارے حکمران محسن کش ھوئے تو ہوئے ھمیں کیا ھو گیا ھے ۔۔ ھم کیوں اپنے ملک سے خود کو الگ کر بیٹھے ھیں ایسے جیسے یہ ھمارا تھا ھی نہیں ۔۔
میں تو بس یہی سوچے جاری ھوں کہ جس قائد اعظم نے یہ پاکستان اپنے ھاتھوں سے بنایا تھا اور تاریخ کے ماتھے پر جھومر کی طرح سجایا تھا، جب اس کے تصویر ، اس کے فرمان ایوان صدر و وزیراعظم اور جہاں جہاں اپنے محسن کی یاد کے بہانے ھوسکتے ھیں وہاں وہاں سے ان کے نشانات مٹائے جا رھے ھیں تو جن حکمرانوں اور پاسبانوں نے پاکستان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ، ان کا انجام کیا ھو گا ؟ ۔۔۔
دوستو اپنے محسنوں کو یاد رکھنے والے تو یہ بھی کہتے ھیں کہ “ میں اپنی سالگرہ نہیں مناتا بلکہ ھر سال 25 کو قائد اعظم کی سالگرہ مناتا ھوں کہ ان کی وجہ سے میں ھوں اور میری شناخت “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ھمارے حکمران اور ھم تمام لوگ جو خود کو پاکستانی کہتے ھیں ۔۔ کیا ھم اپنی شناخت پاکستان کے علاوہ بھی بنا سکتے ھیں یا پھر ھم اپنی شناخت “پاکستان “ کو بے بسی کی کشتی میں بٹھا کر انہی فرعونوں اور ظالموں کو شکریہ کے ساتھ تحفہ میں دیں دینگے جن کے شکنجے سے ھمارے محسن بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے آزاد کروایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی دوستو ...آج اسی بانی پاکستان کا 136 واں یوم پیدائش ھے ۔