16.10.2026, 08:13pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

آج قائد اعظم ھم میں نہیں ھیں اور ھم ان جیسے نہیں ھیں۔از۔نگہت نسیم
25.12.2011, 01:03am , اتوار (GMT+1)

نگہت نسیم۔سڈنی

میں جب بھی کچھ لکھنے بیٹھتی ھوں تو جی میں ھمیشہ یہی ھوتا ھے سب سے پہلے لکھوں کہ اللہ پاک تیرا شکر ھے کہ تو نے مجھے لفظوں کی تدبیر سیکھائی اور تاثیر عطا کی ۔ مجھے ایسے لوگومیں رکھا جو میرا لکھاپڑھ بھی سکتے ھیں اور اُس لکھے کوسمجھ بھی سکتے ھیں ۔ اس کے ساتھ یہ شکر بھی کہ مجھے مسلمان پیدا کیا ،مجھے مکمل دین دیا جو میری راہنمائی کے لیئے ساتھ ساتھ رھتا ھے ، مجھے  احترام آدمیت بھی عطا کیا اور اسی میرے پاک رب نے جابر اور ظالم حکمرانوں کے کے سامنے سچ کہنے کی ھمت اور توفیق بھی عطا کی ۔

میری پہچان کے لیئے مجھے میرا پاکستان دیا  اور مجھے غیرت مندوں میں رکھا ۔

سوچیں تو ھمارے رب نے صرف کسی ایک پر  ھی یہ فضل نہیں رکھا بلکہ ھر پاکستانی کو یہ نعمت عطا کی ھے ۔۔ لیکن  مجھے اس وقت بہت دکھ ھوتا ھے جب ھم اس محسن پاکستان کو بھولنے لگتے ھیں جس نے  ھمیں  یہ فخر اور پہچان دینے میں رات دن  ایک کیا تھا۔

دوستو آج 25 دسمبر ھے اور ھمارے قائد اعظم کی   136ویں سالگرہ ھے ، جو پاکستان کی سرکار خاموشی سے دل ھی دل میں منا رھی ھے ۔۔ کہ ان کے لیئے شہید جمہوریت کا ماتم زیادہ ھے ۔

 میں جب بھی اپنے محسن کو یاد کرتی ھوں تو میری آنکھیں اشکبار ھو جاتی ھیں اور پھر جانے کیسے سارے منظر دھندلا جاتے ھیں ۔ میرے پاکستان کی فلک بوس وبرف پوش چوٹیاں میرے ساتھ ھی بین کرنے لگتی ھیں ، حسین آبشاروں کے ترنم میں آھیں سنائی دیتی ھیًں ، بہتے جھرنے اور دریاؤں کی روانی سست سی ھونے لگتی ھے ۔۔ پھر ایسے کہ  سمندر بھی اس  دکھ پر ماتم کناں ھوجاتا ھے اور یوں لگتا ھے جیسے پاک سر زمین پر گزرنے والے ھر  سانحہ پر  سر پیٹ رھا ھو ۔۔ بس ھر طرف شور ھی شور ۔۔ جہاں سے بھی گزروں  چھتناور درخت بال کھولے اپنے یوں لٹ جانے پر افسردہ اور حیران نظر آتے ھیں  ۔۔

 کیا یہ وہی  پاکستان ھے جو قائداعظم نے  ھمیں فرعونوں اور ظالموں سے لے کر دیا تھا ۔۔ تاکہ ھمیں پھر کوئی ستا نہ سکیں ۔۔ کوئی انگلی اٹھا کر دھمکا  نہ کر سکیں ۔۔
 
ھائے میرے قائد کا پھولوں اور تتلیوں سے سجا جنت نشان وطن جس کو دولخت ھوئے بھی مدت ھوئی اور اب کیسے اندھیری غار میں گرا پڑا ھے جہاں ھاتھ کو ھاتھ سجائی نہیں دیتا ۔

 جو ھاتھ پکڑتا ھے  وہی کاٹ دیتا ھے ۔ فسادات اور تصادم کی ایسی جنگ چھڑی ھے کہ اس افراتفری میں سب ایک دوسرے کے لیئے اجنبی ھوئے ھیں ۔

ھمارے حکمران محسن کش ھوئے تو ہوئے ھمیں کیا ھو گیا ھے ۔۔ ھم کیوں اپنے ملک سے خود کو الگ کر بیٹھے ھیں ایسے جیسے یہ ھمارا تھا ھی نہیں ۔۔

میں تو بس یہی  سوچے جاری ھوں کہ جس قائد اعظم نے یہ پاکستان اپنے ھاتھوں سے بنایا تھا اور تاریخ کے ماتھے پر جھومر کی طرح سجایا تھا، جب اس کے تصویر ، اس کے فرمان  ایوان صدر و وزیراعظم  اور جہاں جہاں  اپنے محسن کی یاد کے بہانے ھوسکتے ھیں وہاں وہاں سے ان کے نشانات  مٹائے جا رھے ھیں تو جن حکمرانوں اور پاسبانوں نے پاکستان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ، ان کا  انجام کیا ھو گا ؟ ۔۔۔

 دوستو اپنے محسنوں کو یاد رکھنے والے تو یہ بھی کہتے ھیں کہ “ میں اپنی سالگرہ نہیں مناتا بلکہ ھر سال 25 کو  قائد اعظم کی سالگرہ مناتا ھوں کہ ان کی وجہ سے میں ھوں اور میری شناخت “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ھمارے حکمران  اور ھم تمام لوگ جو خود کو پاکستانی کہتے ھیں ۔۔ کیا ھم  اپنی شناخت پاکستان کے علاوہ بھی  بنا سکتے ھیں یا پھر ھم اپنی شناخت “پاکستان “ کو بے بسی کی کشتی میں بٹھا کر انہی فرعونوں اور ظالموں کو شکریہ کے ساتھ تحفہ میں دیں دینگے جن کے شکنجے سے ھمارے محسن بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے آزاد کروایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 جی دوستو  ...آج اسی بانی پاکستان کا  136 واں یوم پیدائش ھے ۔


:دیگر مضامین
(14.11.2011) امریکی مسلمانوں کے دشمن نہیں اور اسکی ضرورت بھی نہیں ۔از۔نگہت نسیم۔اشاعت مکرر
(11.11.2011) دل بہت اداس ہے معصوم زین ڈاکٹر کی غفلت کا شکار بن گیا ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(19.10.2011) نسلی تعصب کسی عہد کسی قوم تک محدود نہیں؟ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(05.10.2011) مارنے والے سے بڑا ظالم خاموش رہنے والا ہے ۔از“ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(24.07.2011) افتی نسیم بالکل شیشہ مچھلی جیسا آر پار دیکھ لو ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی
(31.05.2011) جھگڑے جنگ، اور جنازے ( اشاعت مکرر ) ۔از نگہت نسیم ۔سڈنی
(13.05.2011) صدر سیاسی سرگرمیاں چھوڑ دیں ؟ دیوانی ہے کیا عدالت۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(03.05.2011) اسا مہ بن لاڈن کی موت یا موت کا ڈرامہ ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(27.04.2011) جی کو دھڑکا لگا تھا پل پل کا ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(14.03.2011)  بس جی ..! رات گئی بات گئی ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
(11.02.2011) مبارک کے اقتدار سے الگ نہ ہونے کی خبر غم کی خبر بن گئی ۔..۔ از ۔۔...نگہت نسیم
(07.02.2011) وقت کے ساتھ تو منظر بھی بدل جاتے ھیں ۔ از ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(24.01.2011) دہشت گرد اپنی الگ سیاسی جماعت بنا لیں ۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(21.10.2010) موت نے مسکرا کراپنی لسٹ میں لکھا یومیہ بیس لوگ ۔از؛ ڈاکڑنگہت نسیم
(21.08.2010) اپنے بھائی عاصم نسیم کے خط کے جواب میں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(04.08.2010) اے اسیرانِ قفس منہہ میں زباں ہے کہ نہیں۔از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(02.07.2010) اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان۔از،نگہت نسیم
(07.06.2010) بات نکلے گی پھر تو دور تلک جائے گی“نگہت نسیم۔سڈنی””
(02.06.2010)  امدای قافلے پر اسرائیلی حملہ ۔ امریکہ اور عرب شرم کریں ۔از۔ نگہت نسیم
(18.04.2010) یو این او کھپے ۔۔ یو این او کھپے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں