دو اگست سن دوہزار چار

آج ہمارا پروگرام نجف جانے کا ہے۔۔ وہ سرزمین جہاں نادر شاہ درانی جیسا حکمران بھی گھٹنوں کے بل جاتا تھا۔۔ جو اہلِ ولایت کا قبلہ ہے۔۔ جہاں سلام کیے بغیر سورج کی کرنیں دنیا میں اُجالا نہیں کرتیں۔۔ جہاں بارش کے قطرے بھی دُر بن جاتے ہیں۔۔ جہاں کے سلطان کے بارے میں سندھ دھرتی سے ملنگ کی صدا آتی ہے کہ۔۔
حیدریم قلندرم مستم۔۔ بندہ مرتضٰی علی ہستم
اور جب عبد کو معبود کی زیارت نصیب ہو جائے تو مست ہو کر کچھ یوں گویا ہوتا ہے کہ۔۔
نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بایں ذوق کہ پیشِِ یار می رقصم
ہم تمام لوگ جانتے تھے کہ صرف آج کا دن ہے نجف جانے کے لیے۔۔ کل وہاں حملہ ہونا ہے امریکی اور اتحادی افواج کا۔۔ پھر پتہ نہیں وہاں جا سکیں بھی یا نہیں۔۔ اس لیے صبح ہی سب تیار ہوگئے۔۔ دس بجے ہم ہائی ایس میں بیٹھے اور روانہ ہوگئے۔۔ گیارہ بجے ہونگے جب نجف کے بارڈر پر پہنچے۔۔ وہاں بڑی تعداد میں فوجی تھے جو گاڑیوں کی تلاشی لینے کے بعد انہیں اندر جانے دے رہے تھے۔۔ ہماری گاڑی بھی قطار میں لگ گئی۔۔ ایک فوجی آیا اور اُس نے ڈرائیور سے ہمارے بابت پوچھا۔۔ ڈرائیور نے بتایا کہ زائرین ہیں اور امام علی علیہ السلام کی زیارت کے لیے جانا چاہتے ہیں۔۔ اُس نے پاسپورٹ طلب کیے۔۔ پاسپورٹ تو ہمارے پاس تھے ہی نہیں۔۔ وہ تو ایرانی ایمبیسی بغداد میں جمع تھے ویزے کے لیے۔۔ ہم نے اپنی پرچی دکھا دی۔۔ اُس نے کہا کہ بغیر پاسپورٹ کسی کو داخلے کی اجازت نہیں۔۔ ہم نے کہا کہ ہم زیارت کے لیے آئے ہیں۔۔ زیارت کر کے ہی جائیں گے۔۔ یوں ہماری اُس فوجی سے تکرار شروع ہو گئی۔۔ شور سُن کر دیگر فوجی بھی آگئے۔۔ اُن سے بھی ہم نے یہی بات کی کہ آپ ہماری تلاشی لے لیں۔۔ ہم صرف امیرالمومنین علیہ السلام کی زیارت کے لیے آئے ہیں۔۔ انہوں نے بھی ٹکا سا جواب دے دیا کہ بغیر پاسپورٹ کسی صورت وہ ہمیں داخل نہیں ہونے دیں گے۔۔ بحث اور تکرار بڑھ چکی تھی۔۔ وہ نجف میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہے تھے اور ہم بضد تھے کہ امام علی علیہ السلام کی زیارت کے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔۔ بالآخر ایک افسر نے کہا کہ ٹھیک ہے۔۔ آپ زیارت کرنا چاہتے ہو تو آپ کو اجازت لینی ہوگی۔۔ ہم نے پوچھا کس سکے؟ اُس نے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو۔۔
ہم اپنی گاڑی سے اُترے اور ایک کھُلے ہوئے فوجی ٹرک میں بیٹھ گئے۔۔ ٹرک چل پڑا۔۔ ہم نجف میں داخل ہو چکے تھے۔۔ کچھ موڑ مُڑنے کے بعد ٹرک ایک قلعہ نما عمارت میں داخل ہو گیا۔۔ اور پھر جیسے ہی ہم نے اُترنے کا ارادہ کیا تو درجنوں مسلح فوجیوں نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔۔ ہم حیران بھی تھے اور کچھ پریشان بھی کہ یہ کیا ماجرا ہے۔۔ ہم تو اجازت لینے آئے ہیں۔۔ یہ ہمیں کیوں گھیر کے کھڑے ہوگئے۔۔ پھر کچھ فوجی عمارت سے نکلے اور ہماری جانب آئے۔۔ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور زنجیریں تھیں۔۔ اُن کے ارادے بھانپتے ہوئے میں نے دیگر ساتھیوں سے کہا کہ شور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ ہم اس ملک میں ویسے ہی بغیر ویزے کے آئے ہیں۔۔ طریقے سے بات کر کے کوئی راستہ نکالیں گے۔۔ انہوں نے ہمیں وہ بھاری ہتھکڑیاں لگا دیں۔۔ اور پھر ایک جانب لے گئے جہاں لاک اپ بنے تھے۔۔ لاک اپ بالکل خالی تھے۔۔ دروازہ کھول کر ایک فوجی نے اندر جانے کا اشارہ کیا۔۔ سب سے پہلے اُس زندان (لاک اپ) میں داخل ہونے والا میں تھا۔۔ جب سب اندر آگئے تو فوجی دروازہ بند کر کے چلے گئے۔۔ لاک اپ کی گِرل سے باہر کا نظارہ ہو رہا تھا۔۔ سامنے کیاری تھی جس میں چھوٹے بڑے پودے اور کچھ درخت لگے ہوئے تھے۔۔ کچھ دیر ہم خاموش بیٹھے رہے۔۔ پھر یہ بات ہونے لگی کہ اب ہمارے ساتھ یہ کیا سلوک کریں گے۔۔ میں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں کریں گے۔۔ اگر کچھ بُرا کرنا ہوتا تو ہمیں سڑک پر بھی گولی مار سکتے تھے۔۔ ملک میں ویسے ہی خانہ جنگی ہے۔۔ ان سے کس نے پوچھنا تھا کہ کس کو مارا۔۔ پھر میں اپنی جگہ سے اٹھا اور لاک اپ کے دروازے پر آگیا۔۔ باہر کوئی موجود نہیں تھا۔۔ گرل سے ہاتھ ڈال کر چیک کیا تو باہر صرف کنڈی لگی تھی۔۔ میں نے وہ کنڈی کھولی اور باہر نکل کر کیاری کی جانب بڑھ گیا۔۔ پودوں کے پاس بیٹھ کر میں نے دیگر لوگوں کو بھی بلایا لیکن کوئی باہر نہیں آیا۔۔ میں اکیلا ہی بیٹھا آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے لگا۔۔ فوجیوں نے تلاشی کے دوران ہماری تمام چیزیں لے لی تھیں۔۔ یہاں تک کے جن کے ہاتھ میں گھڑیاں تھیں وہ بھی اتار کے لے گئے تھے۔۔ یونہی ایک گھنٹے سے زیادہ وقت گذر گیا۔۔ دروازہ کھلا ہونے کے باوجود نا ہم نے کہیں جانے کی کوشش کی نا ہی ہمیں دیکھنے کوئی آیا۔۔ ہتھکڑیاں ہمارے ہاتھوں میں لگی ہوئی تھیں۔۔
ایک گھنٹے سے زیادہ وقت گذر چکا تھا۔۔ دور سے راہداری میں کچھ فوجی افسران اور جوان آتے نظر آئے۔۔ ان کے ساتھ دو (اسٹل اور ویڈیو) کیمرہ مین بھی تھے۔۔ میں اُٹھ کر لاک اپ کے اندر چلا گیا اور ہاتھ ڈال کر باہر والی کنڈی لگا دی۔۔ وہ لاک اپ کے سامنے آ کر رکے اور بولے کہ آپ لوگوں کو کسی صورت نجف میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔۔ ایک لیٹر انہوں نے ہمیں دکھایا جس پر لکھا تھا کہ اگر یہ کربلا واپس نہیں جاتے تو انہیں مسقتل طور پر جیل میں ہی رکھا جائے۔۔ میں نے دیگر ساتھیوں کی جانب دیکھا تو ایک صاحب بولے کہ رضا یہاں ہماری ایمبیسی بھی نہیں ہے ابھی۔۔ اگر ہم جیل میں رہے تو کسی کو کیسے پتہ چلے گا کہ ہم یہاں ہیں۔۔ بہتر یہی ہے کہ واپس کربلا چلیں۔۔ بات سمجھ میں آنے والی تھی۔۔ دیگر لوگوں نے بھی اُن سے اتفاق کیا۔۔ مجھے بھی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔ ہم نے اُن افسران سے کہا کہ ہم کربلا واپس جانا چاہتے ہیں۔۔ انہوں نے ہماری تصویریں اتاریں اور کہا کہ اب اگر آپ میں سے کوئی بھی نجف یا اس کے اطراف نظر آیا تو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے گی۔۔ پھر وہ ہماری ہتھکڑیاں کھولنے لگے۔۔
ہتھکڑیاں کھُل چکی تھیں۔۔ انہوں نے ہمیں ٹرک میں بیٹھنے کا کہا اور چل پڑے۔۔ ایسے میں نجانے میرے دل میں کیا سمائی۔۔ میں نے پیچھے سے آواز دی۔۔ ایکسکیوزمی سر۔۔ وہ پلٹا۔۔ ہاں؟
میں نے کہا کہ یہ ہتھکڑی جو مجھے لگائی گئی تھی مجھے دے دیں۔۔ بطور تحفہ یا جتنے پیسے میرے پاس موجود ہیں وہ سب لے کر۔۔
تم یہ کیوں لینا چاہتے ہو؟ ایک دوسرے افسر نے میری جانب قدم بڑھاتے ہوئے پوچھا۔۔
سر یہ ہماری تاریخ ہے۔۔ میرے وارثوں کو بھی بے جرم و خطا قید رکھا گیا اور ہتھکڑیاں بیڑیاں لگائی گئی تھیں۔۔ میرے لیے یہ یادگار ہیں۔۔ زندگی میں پہلی بار مجھے ہتھکڑی لگی۔۔ وہ بھی نجف میں۔۔ بے جرم و خطا۔۔ مہربانی کریں مجھے دے دیں۔۔ میں نے التجا کی۔۔
تم پاگل تو نہیں ہو۔۔ جاؤ یہاں سے۔۔ تمہاری جان بخشی کی جا رہی ہے اسے غنیمت جانو۔۔ پہلے افسر نے جھڑکتے ہوئے کہا۔۔
سر آپ نہیں جانتے۔۔ میرے وطن میں جو لوگ امام علی اور اولادِ علی سے محبت کرتے ہیں جب میں انہیں بتاؤں گا کہ زیارت کرنے گیا تھا اور یہ ہتھکڑیاں مجھے لگیں۔۔ صرف اس لیے کہ میں امام علی علیہ السلام کی زیارت کو جانا چاہتا تھا تو وہ ان ہتھکڑیوں کو چومیں گے۔۔ یہ متبرّک ہوں گی اُن کے لیے۔۔ میں نے مِنّت بھرے لہجے میں کہا۔۔
یہ ہم تمہیں نہیں دے سکتے۔۔ تم اگر نہیں جانا چاہتے تو واپس لاک اپ میں چلے جاؤ۔۔ ایک اور افسر نے کہا۔۔ میرے ساتھیوں نے کہا رضا پاگل مت بنو۔۔ ابھی نکلو یہاں سے۔۔ یہ چھوڑ رہے ہیں اِسے غنیمت جانو۔۔ زندگی رہی تو پھر آجائیں گے۔۔
ہم ٹرک میں بیٹھ گئے۔۔ واپس نجف بارڈر پر پہنچ گئے۔۔ وہاں ہمیں اُتار دیا گیا۔۔ ہمارا سامان جو تلاشی کے دوران لے لیا گیا تھا (پیسوں سمیت) وہ واپس نہیں کیا گیا۔۔ ایک فوجی نے سڑک کی جانب اشارہ کیا جہاں ایک بورڈ لگا تھا جس پر لکھا تھا “کربلا بہتر کلومیٹر”
ہم نے بھی اپنا سامان اور پیسے نہیں مانگے۔۔ چل پڑے کربلا کی سمت۔۔ مجھے غصہ بھی آرہا تھا اور ہنسی بھی۔۔ غصہ اس بات پر کہ انہوں نے ہتھکڑیاں نہیں دیں اور مولا علی علیہ السلام کے حرم کی زیارت بھی نہیں کرنے دی۔۔ ہنسی اپنے ساتھیوں پر آرہی تھی جو کہہ رہے تھے شکر ہے جان بچ گئی۔۔ زندگی رہی تو دوبارہ بھی آیا جا سکتا ہے۔۔
تم کیا سوچ رہے ہو رضا؟ ایک نے پوچھا۔۔
یہی کہ کل نجف پر حملہ ہے۔۔ میں زندگی میں پہلی بار جنگ دیکھوں گا۔۔ میں نے جواب دیا۔۔
مطلب۔۔؟؟ انہوں نے ایسے پوچھا جیسے میری بات انہیں سمجھ نا آئی ہو۔۔
مطلب یہ کہ میں کل پھر نجف آؤں گا۔۔ میں نے حتمی لہجے میں کہا۔۔
پاگل ہوئے ہو۔۔ ابھی شوٹ ایٹ سائٹ آرڈر نکلا ہے ہمارا۔۔ ایک اور بولا۔۔
میری ہنسی نکل گئی۔۔ ایک جان ہے۔۔ یہ لے لیں یا اللہ لے لے۔۔ میں تو آؤں گا۔۔ میں نے کہا تو انہوں نے کندھے اچکائے جیسے کہہ رہے ہوں تمہاری مرضی۔۔ ہم چلتے رہے۔۔ اپنے پڑھنے والوں کو ایک بات بتاؤں۔۔ پیدل چلنا کوئی کمال نہیں۔۔ لیکن یہ ایسے وقت میں کمال ہی تھا جبکہ ٹمپریچر ساٹھ ڈگری پر تھا۔۔ آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا۔۔ دن کا ڈیڑھ یا دو بج رہا تھا۔۔ اور بہتر کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔۔ کھانے پینے کو کچھ بھی نا تھا اور پیچھے جو فوج تھی انہوں نے پلٹنے کی صورت میں دیکھتے ہی گولی مار دینے کا آرڈر جاری کر دیا تھا۔۔
آدھے گھنٹے سے زیادہ ہم چلتے رہے۔۔ ساتھ ہی مُڑ مُڑ کر آنے والی گاڑیوں کو لفٹ کا اشارہ بھی کرتے رہے۔۔ پھر ایک گاڑی والے کو ترس آگیا۔۔ اُس نے روکی۔۔ ہم نے کہا کہ کربلا جانا ہے۔۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عراقی کرنسی میں ہم تیس ہزار دینار (بارہ یا ساڑے بارہ سو روپے پاکستانی) میں آئے تھے لیکن واپسی پر جس سے لفٹ مانگی اُس نے کہا کہ پینتالیس ہزار دینار (تقریباً دوہزار روپے پاکستانی) ادائیگی کی صورت میں وہ ہمیں کربلا تک لے جائے گا۔۔ ہمارے پاس تو ایک روپیہ بھی نہیں تھا اُس وقت۔۔ کچھ پیسے جو کربلا میں ہوٹل میں چھوڑ آئے تھے وہی تھے۔۔ ہم نے کہا کہ لے چل بھائی۔۔ کربلا پہنچ کر دے دیں گے۔۔ وہ مان گیا اور یوں ہم واپس کربلا پہنچ گئے۔۔
میں سیدھا پہنچا اپنے باب الحوائج عباس علمدار کے روضے پر۔۔ ضریح تھامی اور صاف صاف کہا کہ آپ سے نا مانگوں تو وہ شخص بتائیں جس سے مانگوں۔۔ مجھے نجف جانا ہے۔۔ چاہو تو پہنچا دینا۔۔ چاہو تو دفنا دینا۔۔ سامرہ چھوڑ چکا ہوں۔۔ نجف نہیں چھوڑوں گا۔۔ کہا اور باہر نکل آیا۔۔ دروازے کے ساتھ والی سبیل سے جی بھر کے امام حسین کے بچوں کا صدقہ (پانی) پیا اور گاڑیوں کے اسٹاپ کی جانب چل پڑا۔۔ ایک ٹیکسی والے کو اپنی دوداد سُنائی۔۔ وہ انیس بیس سال کا نوجوان تھا۔۔ میری فارسی اور انگلش کے ساتھ باڈی لینگویج سے بہت حد تک میری بات سمجھ گیا۔۔ پھر میں نے ایک صفحے پر اُسے نقشہ بھی بنا کر بتایا کہ کس راستے سے ہم گئے تھے اور راستے میں کیا کیا دیکھا تھا۔۔ اُس نے کہا کہ رات تین بجے تک ہم نکلیں گے نجف کے لیے۔۔ لیکن دن میں دو بجے تک نجف سے واپس نکل پڑیں گے۔۔ کیونکہ چار بجے پہلا فضائی حملہ ہے۔۔ میں نے کہا کہ تم اتنا کنفرم وقت کیسے جانتے ہو۔۔ اُس نے ایک اخبار جیسا پیپر میرے سامنے رکھ دیا۔۔ جس پر عربی لکھی تھی۔۔ میں نے وہ چُوم کر اُسے واپس کر دیا تو ہنس پڑا اور بولا حاجی یہ قرآن نہیں ہے۔۔ میں نے کہا میں جانتا ہوں۔۔ مذاقاً چوم رہا تھا۔۔ اتنی اور ایسی عربی مجھے نہیں آتی۔۔ شام کے پانچ بج رہے تھے۔۔ میں نے سوچا کہ گھر والوں کو فون ہی کر لوں۔۔ چھوٹی کو فون کیا۔۔ اور سب کی خیریت دریافت کی اور اپنی خیریت بھی دی۔۔ گرفتاری اور حملے کی باتیں اُس وقت چھُپا گیا۔۔ وہ سُن کر پریشان ہوتی۔۔ چھوٹی نے کہا کہ کب تک واپسی ہے۔۔ میں نے کہا ہفتہ دس دن لگ جائیں گے۔۔ کفن خرید لیے۔۔ چھوٹی نے پوچھا۔۔ ابے نہیں یار۔۔ یہ تو یاد ہی نہیں رہا۔۔ اچھا ابھی جا کر خریدتا ہوں۔۔ پانچ لینا۔۔ چھوٹی نے کہا۔۔ ہاں ہاں۔۔ سب کے لیے لوں گا۔۔ (ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔۔ تین بہنیں اور دو بھائی) فون بند کیا اور کفن خریدنے چل پڑا۔۔ کچھ لوگوں سے پوچھا کہ کہاں سے ملتے ہیں۔۔ ایک نے بتایا کہ تِلّہ زینبیہ کے ساتھ والی گلی میں کفن کی دکانیں ہیں۔۔ وہاں ایک دکاندار اردو بھی بول سکتا ہے۔۔ میں ڈھونڈتا ڈھانڈتا اُس دکاندار تک پہنچ ہی گیا۔۔ وہ تھا تو عرب لیکن بہت سی زبانیں بڑی روانی سے بول سکتا تھا۔۔ میں نے پانچ کفن خریدے۔۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک کفن پاکستانی تین سو روپے کا پڑا۔۔ کفن لے کر میں حرم میں گیا۔۔ ضریح سے مَس کیا۔۔