گزشتہ قسط کا اختتام۔۔
اذن حاصل کرکے حرم میں داخل ہوئے اور اپنی شفیق بی بی کی الوداعی زیارت کا شرف حاصل کیا کیونکہ تمام طے شدہ منصوبے نجانے کیوں دم توڑ چکے تھے اور ہم نے بیتِ ۔۔۔امام خمینی سے حرمِ مطہرہ تک کے راستے میں آج ہی قم کو خداحافظ کہنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مناسکِ زیارت ادا کیئے اور ضریح سے لپٹ کر خوب رازونیاز کیا۔ بی بی معصومہ سلام اللہ علیہا سے جلد دوبارہ اذنِ زیارت بخشنے کی درخواستیں کیں اور جنت کے اس محل کے درودیوار کو حسرت بھری نگاہوں سے تکتا ہوا نم آنکھوں کے ساتھ باہر نکل آیا۔ دل تو ڈوبا جارہا تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے مگر آج نہیں تو کل یہاں سے رخصت تو ہونا ہی تھا۔ کیونکہ ہم تو ٹھہرے پردیسی۔۔۔۔ سہ پہر کا سورج تمام قم کو روشن کیئے ہوئے تھا۔ بازار میں چہل پہل اپنے عروج پر تھی مگر میری نظروں کے مطابق اس رونق میں زرا بھی رونق نہ تھی۔ بقول علامہ اقبال
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

جب اس مقدس دیار کی جانب آرہے تھے تو دل میں عقیدت اور شوق کے الاؤ بھڑک رہے تھے اور اب واپسی کے لمحات میں دل کا دیا چراغِ سحری کی مانند پھڑپھڑا رہا تھا۔ میرے قدم اٹھ ہی نہیں رہے تھے جنہیں گھسیٹتا ہوا میں اپنے ہوٹل تک پہنچا۔ منور صاحب کے ساتھ تہران جانے کی غرض سے انہیں فون ملایا مگر انہوں نے معذرت کرلی کیونکہ اس وقت وہ خود تہران میں ہی تھے اور طے شدہ پروگرام کے تحت شام کو انہوں نے ہمیں قم کے چند اور مقامات پر لیکر جانا تھا۔ ہماری اچانک واپسی کا پروگرام سن کر وہ خود بھی حیران ہوئے اور ہمیں روکنے کی کوشش کی لیکن ہم اب واپسی کا پکا ارادہ کرچکے تھے کیونکہ آنیوالا کل ہمارا اس سرزمین پر آخری دن ہونا تھا سو اس دوران ہمیں چند کام بھی نمٹانے تھے۔ وہ خود تو ہمیں تہران نہیں لیجا سکتے تھے مگر انہوں نے ہمیں قم سے تہران آنے کا راستہ اور طریقہ سمجھا دیا۔ ہم نے انکا شکریہ ادا کیا اور بشرطِ اذن جلد ہی دوبارہ ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ فون بند کرنے کے بعد میں نے شاہِ خراسان گیسٹ ہاؤس فون کرکے اپنے آنے کی اطلاع دی اور اپنے لیئے ایک کمرہ مختص کرنے کی درخواست بھی کردی۔ بعد ازاں اپنا سامان سمیٹا اور ہوٹل کا حساب بیباق کیا۔ منور صاحب کا حقِ زحمت ایک لفافے میں بند کرکے بطور امانت ہوٹل کے مینیجر کے حوالے کیا اور عملے سے خداحافظ کرکے باہر نکل آئے۔ سڑک کے کنارے کھلی ہوئی دکانیں گاہکوں سے پر تھیں اور ایک افراتفری کا عالم تھا۔ قم کے مختلف قسم کے حلوے جو کہ "سوہان" کہلاتے ہیں، بہت مشہور ہیں جو حرم کے بیرونی بازار میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قم کے مراکزِعلمیہ کی طرح یہاں کے حلوے بھی پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ یہ مؤمنین کا گڑھ ہے اور مؤمن کی ایک پہچان امام حسن عسکری علیہ السلام نے کچھ یوں کروائی ہے کہ
المومن حلو و یحب الحلوہ۔
یعنی مؤمن خود بھی شیریں ہوتا ہے اور میٹھے کو پسند کرتا ہے۔
ایک دکان پر ٹھہر کر ہم نے اپنے احباب کے لئے مختلف حلووں کے کچھ ڈبے خریدے اور پھر ساتھ ہی ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورینٹ میں بیٹھ گئے۔ میں اپنی کرسی پر بیٹھا حرم کے گنبدومینار کا نظارہ کرنے لگا جن سے ان چند دنوں میں ایسا اٹوٹ رشتہ استوار ہو چکا تھا جسے قیامت تک کوئی خطرہ نہیں تھا۔ روحانی ڈور کا اک سرا گنبد پر لگے اس علم سے بندھا ہوا ہے اور دوسرا میرے دل سے۔ جب بھی اس ڈور میں جنبش ہوتی ہے بحرِ قلب میں ایک مدوجزر سا پیدا ہوجاتا ہے جو اشکوں کی صورت میں آنکھوں کے ساحل سے چھلک پڑتا ہے۔ اس وقت بھی میری خاموش نگاہوں سے آنسو ٹپک ٹپک کر جدائی کا نوحہ پڑھ رہے تھے۔ بیرا ہمارے سامنے میز پر پیٹزا اور بوتل سجا کرجاچکا تھا مگر ہم دونوں نجانے کہاں کھوئے ہوئے تھے۔ ہم نے کھانا منگوا تو لیا تھا مگر ایک نوالہ بھی حلق کے پار اترنے کو تیار نہ تھا۔ چنانچہ ہم نے اپنا سامان اٹھایا اور جلدی جلدی اپنے اسٹاپ کی جانب پیش قدمی شروع کردی۔ اسٹاپ پر پہنچے تو تہران جانیوالی مشترک ٹیکسیاں مسافروں کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ ہم بھی دو سواریوں کی گنجائش والی ایک ٹیکسی میں سوار ہوگئے اور قم کو الوداعی سلام کرتے ہوئے تہران کی جانب چل پڑے۔ یہاں سے تہران کا تقریباً ایک گھنٹے یا اس سے کچھ اوپر کا سفر تھا۔ جب ہم تہران سے قم آئے تھے تو رات کا وقت تھا، سو کچھ دیکھ نہ پائے تھے۔ اب چونکہ روشن دن تھا تو نظارے بہت خوبصورت تھے۔ کشادہ سڑک جس پر ٹریفک تیر کی سی تیزی سے رواں تھی۔ سڑک کے اردگرد بجلی کے کھمبوں کی طویل اور منظم قطار بہت خوب دکھائی دیتی تھی۔ کچھ کچھ فاصلے پر اشتہاری بورڈ بھی آتے رہے جن پر بڑے دلچسپ اشتہار درج تھے۔ ٹیسکی میں موجود دیگر دو افراد ایک ہی دفتر میں کام کرتے تھے سو وہ اپنی باتوں میں مگن رہے۔ نہ انہیں ہم سے کوئی لینا دینا تھا اور نہ ہی ہمیں ان سے کوئی غرض۔ چنانچہ وہ اپنی تقریروں میں مگن تھے اور ہم دونوں اپنی باتوں میں۔ مگر ہماری باتوں میں قم کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ کچھ دیر بعد سڑک کے اس طرف دور سفید ریت کے ٹیلے دکھائی دئے۔ میں سمجھ گیا۔ یہ یقیناً وہی صحرائے نمک تھا جسکا ذکر قم کے ساتھ ضرور آتا ہے۔ لیکن اسکی وجہِ شہرت صرف قم کے جوار میں واقع ہونا نہیں ہے بلکہ اسکی ایک اور تاریخی حیثیت بھی ہے جسکی وجہ سے مملکتِ ایران کے ستونوں میں ثبات ہے۔ یہی وہ صحرا ہے جہاں سینکڑوں علماء کو شہید کرکے پھینکا گیا تھا۔ قم سے جدائی کی وجہ سے میرا دل ویسے ہی ملول تھا اور صحرائے نمک پر پڑنے والی ایک نگاہ کے ماضی کے اس کربناک منظر نے دل کو مزید پسیج کے رکھ دیا۔
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
گاڑی کی رفتار کے ساتھ ساتھ دن بھی تیزی سے ڈھلتا جارہا تھا اور افق پر شام اپنی چادر پھیلائے جارہی تھی۔ ہمارے دوسرے ساتھی بھی اب باتیں کرکرکے تھک چکے تھے اور ہم دو تو تھے ہی اداس اور خاموش۔ سو اب گاڑی میں مکمل خاموشی تھی اور ہماری منزل تیزی سے قریب آرہی تھی۔ کچھ دیر کی مزید مسافت کے بعد ٹیکسی والے نے ایک اور موڑ لیکر گاڑی وہاں جاکر روکی جہاں اسی جسیی کچھ اور ٹیکسیاں کھڑی تھیں۔ تہران آچکا تھا۔ ہم گاڑی سے اترے اور تہران کی پر حیات فضا میں ہاتھ بلند کر کے میں نے ایک انگڑائی لی۔
تہران۔۔۔۔۔۔
کیا عجب کیف ہے تہران کی فضا میں جو ہر اداسی، غم اور پریشانی کو کافور کردیتا ہے۔ چند لمحوں قبل جو میں مراجارہا تھا، تہران کی ہوا کے ایک جھونکے نے ایسی زندگی بھری کہ میں تازہ دم ہوگیا اور ایک انجانی سی خوشی پورے وجود میں سرایت کرگئی۔ ہم اپنا سامان زمین پر رکھے کھڑے تھے کہ ایک خوش لباس و خوش مزاج نوجوان ہماری جانب بڑھا اور ہم سے ہماری منزل کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے اپنی قیام گاہ کا کارڈ اسکے حوالے کیا۔ اس نے اجرت بتائی، ہمارا سامان گاڑی کی ڈکی میں رکھا اور خوشدلی سے ہمارے لئے گاڑی کا دروازہ کھول کر کھڑا ہوگیا۔ وہ نوجوان یونیورسٹی کا طالبِ علم تھا اور شام کے اوقات میں اپنی گاڑی کو بطور ٹیسکی چلاتا تھا۔ حلیئے سے بھی ایک طالبِ علم اور چست کھلاڑی دِکھتا تھا۔ باتیں کرنے کا اتنا شوقین تھا کہ جتنی انگریزی اب تک اس نے سیکھی تھی، ساری ہی اس سفر کے دوران آزما ڈالی۔ ایک گھنٹہ قبل میں ایسے ماحول میں تھا جہاں کا رہن سہن، لباس اور روئیے تک مختلف تھے جن میں ٹھہراؤ، روحانیت، متانت اور سکون کے عناصر واضح تھے۔ جبکہ تہران کی فضا میں وہی تیزی، وہی رونق اور وہی ہلچل تھی جس سے ہم تین دن تک جدا رہے تھے۔ تہران بھی زندہ دلوں کا اک ایسا شہر ہے، جو آنے والے کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔
میں نے اصغر بھائی کو اپنی آمد کی اطلاع دینے کی غرض سے فون ملایا۔ میرا اچانک سے بتانا انکو حیران کرگیا مگر ساتھ ہی وہ خوش بھی ہوئے۔ میں نے بتایا کہ بس دس منٹ
میں ہم شاہِ خراسان گیسٹ ہاؤس پہنچنے والے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں بھی دفتر سے واپس جارہا ہوں۔ گھر کی بجائے پہلے آپ لوگوں کے پاس آجاتا ہوں۔ میں نے فون بند کیا تو وہی سڑکیں اور چوراہے نظر ائے جن پر ہم اس سرزمین پر وارد ہونے کے بعد سب سے پہلے آئے تھے۔ ان مقامات نے کچھ ایسے خوش آمدید کہا تھا کہ ان گلیوں اور چوراہوں سے انس سا ہوگیا تھا۔ اب بھی مجھے پانزدہ خورداد کا علاقہ پورے تپاک سے خوش آمدید کہہ رہا تھا اور مجھے ایک بار پھر واپسی کے اداس سفر کے بعد گھر آتاہوا محسوس ہوا۔ ہماری منزل قریب ہی تھی کہ عین اسی موڑ پر اس شخص کو کھڑا پایا، جہاں پہلی مرتبہ اس سے مڈبھیڑ ہوئی تھی۔ جی ہاں۔ اصغر بھائی حسبِ وعدہ ہم سے پہلے وہاں موجود تھے۔ ہم بھی انہیں دیکھ کر کھل اٹھے۔ میں نے نوجوان کو ان کے پاس گاڑی روکنے کو کہا اور وہ بھی ہمارے ساتھ آکربیٹھ گئے۔ ٹیکسی گیسٹ ہاؤس کے داخلی دروازے کے عین سامنے جاکر رکی۔ اپنی قیامگاہ پر پہنچ کر بالکل گھر پہنچنے کا سا احساس ہوا۔ گاڑی سے اتر کر ہم دونوں نے نظریں اٹھا کر دروازے کی بالائی جانب وہاں دیکھا جہاں پر چند روز پڑنے والی نظر سے اس حیرت میں ڈوبے سفرِ عشق کا آغازہوا تھا۔ میں نے ہاتھ اٹھا کر جوشِ عقیدت میں سلامی کے انداز میں اپنے سر پر رکھا، درود تلاوت کی اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں سلام پیش کرتے ہوئے داخلِ دروازہ ہوگیا۔ اندر پہنچے تو ایک بار پھر تمام عملہ ہمیں خوش آمدید کہنے کو تیار بیٹھا تھا۔ سب ہی جھپٹ پڑے اور گلے لگا کر مبارکبادیں دینے لگے۔ ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے میں کوئی میچ جیت کر وطن واپس آرہا ہوں۔ حقیقت میں بھی شاید ایسا ہی تھا۔ قبل ازیں شیطان نے کیا کیا رکاوٹیں نہ ڈالی تھیں مگر خدا کے فضل اور مولا کے ازن کی بدولت ہم یہ میچ جیت چکے تھے اور اب کامرانیاں اور انعامات ہمارے نام ہو چکے تھے۔ ہمارا مقصدِ سفر پورا ہو چکا تھا اور اب جانبِ وطن رختِ سفر باندھنے کا وقت آچکا تھا۔ گیسٹ ہاؤس میں ہم زائرین کے اعزاز میں پاکستانی انداز کی دودھ والی چائے کا بندوبست کیا گیا اورگیسٹ ہاؤس کا بہترین کمرہ ہمیں پیش کیا گیا۔ یہ عنایتیں غضب کی، یہ بلا کی مہربانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی اثناء میں مغرب کا وقت ہوگیا اور ہم جلدی سے نماز کے لئے آمادہ ہوگئے۔ نماز کے بعد اصغر بھائی کو کسی کام سے کہیں جانا تھا سو انکا دوست انکو لینے وہیں پہنچ گیا تھا۔ دو گھنٹے بعد ہم سے دوبارہ ملاقات کرنے کا کہہ کر اصغر بھائی کام سے چلے گئے۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ہم بھی اٹھے اور آخری بار تہران کی انہی گلی کوچوں میں پھرنے لگے جہاں پہلی مرتبہ آنے کے بعد سیر کی تھی۔ خیابانِ عدالتخواہ چھاتی ہوئی رات کے ساتھ ساتھ روشنیوں میں نہائے چلی جارہی تھی۔ ہلکی ہلکی خنک ہوا ماحول کی رومانیت میں مسلسل اضافہ کررہی تھی۔ کچھ روز قبل جب ہم یہاں آئے تھے تو میں حونقوں کی طرح ہر چیز کو دیکھ رہا تھا۔ پہلی بار میں نے اسلامی ملک میں لڑکا اور لڑکی کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے چلتا دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا تھا۔ اسوقت مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ دینِ اسلام، رشتہءازدواج میں منسلک ہوجانے کے بعد ایک عام انسان کو کیسی کیسی آزادیاں مرحمت کرتا ہے۔ پہلی بار اس عمل کا تجربہ میں نے ڈرتے ڈرتے کیا تھا اور آج میں نے مکمل خوداعتمادی کے ساتھ اپنی شریکہءحیات کا ہاتھ تھاما اور دیگر جوڑوں کی مانند اسطرح چلنا شروع کیا کہ جیسے زندگی میں کوئی دکھ، مسئلہ، پریشانی، غم اور قید نہ ہو۔ آزادی۔ مکمل آزادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونہی چلتے چلتے ہم تھوڑے ہی فاصلے پر اس علاقے کی ایک مشہور پیٹزا شاپ پر پہنچ کر رک گئے جہاں ہمارے ذائقے کےنزدیک ترین کئی قسم کے پیٹزا دستیاب تھے۔ خوب مزے لے لے کر کھانا کھایا اور بچی ہوئی بوتلیں ہاتھوں میں اٹھا کر باہر آگئے۔ رات کچھ کچھ ہو ہی چکی تھی اس لیے ٹریفک کا زور کچھ کم تھا۔ ہر قسم کی دکانوں میں تمام اقسام کا سامان سجا ہوا تھا۔ دل تو چاہتا تھا کہ سب کچھ ہی خرید لیا جائےمگر ضروری تو نہیں کہ جو وہاں سجا نظر آرہاہو، وہ ہماری کوئی ضرورت بھی پوری کرسکتا ہو۔ البتہ ایک دکان کو دیکھ کر میں رک گیا اور بے ساختہ اس میں داخل ہوگیا۔ وہ دکان تھی آرائشگاہِ شیرازی۔ یعنی شیرازی صاحب کی حجامت کی دکان۔ مجھے حجام، ہئیرکٹ یا سیلون کا یہ فارسی ترجمہ اس حد تک بھایا کہ میں نے اپنے چہرے کی آرائش کروانے کی ٹھان لی۔ ویسے بھی اتنے دن ہوگئے تھے تو داڑھی بھی بے قاعدگی کا شکار ہوگئی تھی۔ جب آرائش سے فارغ ہوئے تو پچھلی دیوار پر لگے نرخنامے کو اپنے سامنے لگے آئینے میں پڑھ کر میں "اصلاحِ سر" کروانے پر بھی تیار ہوگیا۔ میں سوچنے لگا کہ عام سی نوعیت کے کاموں کے لئے فارسی میں کتنی پرکشش اور جاذبِ من قسم کی اصطلاحات ہیں جنہیں اردو میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے مگر ہمارے ملک میں تو ایسی باتوں کا مذاق بنانے میں لوگ فخر محسوس کرتے ہیں۔ زلف تراش یعنی شیرازی صاحب بھی بہت خوش مزاج آدمی تھے۔ وہ مسلسل مجھ سے مخاطب رہے اور ہمیں اپنے ملک کے بارے میں معلومات سے نوازتے رہے۔ یہ الگ بات کہ انکی آدھے گھنٹے کی گفتگو میں مجھے بمشکل چار الفاظ ہی سمجھ میں آئے ہوں گے۔ انہوں نے ہمیں اپنے شہر یعنی شیراز جانے کا مشورہ بھی دیا۔
میں آرائش و اصلاح سے فارغ ہو کر اٹھا تو شیرازی صاحب نے اجرت لینے سے بھی انکار کردیا۔ بقول انکے، میں انکا فرہنگی مہمان تھا اور وہ ہم لوگوں سے ملاقات کرکے بہت خوش ہوئے تھے سو پیسوں کا سوال ہی نہ تھا۔ کافی بحث و تمحیص کے بعد وہ اپنی اجرت سے کافی کم پیسے لینے پر آمادہ ہوگئے اور مجھے پرتپاک معانقے کے ساتھ دکان کے باہر تک آکر رخصت کیا۔ ساتھ ہی آئیندہ بھی یہیں سے اصلاح کروانے کی پیشکش بھی کی۔ شیرازی صاحب سے رخصت ہوکر ہم ٹہلتے ہوئے اپنی قیام گاہ پر آگئے۔
کمرے میں پہنچ کر منہ ہاتھ دھو کر میں بستر پر دراز ہوگیا اور پنکھے کو تکتے ہوئے اپنے واپسی کے سفر کے بارے میں سوچنے لگا۔ ابھی صحیح سے طرح مغموم بھی نہ ہو پایا تھا کہ دروزاے پر دستک ہوئی۔ کھول کر دیکھا تو اصغر بھائی حسبِ وعدہ موجود تھے۔ ان کے آنے کا واحد مقصد کل کے پروگرام کی بابت ہمیں مطلع کرنا تھا۔ اصغر بھائی نے ہمیں اپنے قیام کو توسیع دینے کا مشورہ بھی دیا اور ساتھ ہی یہ لالچ بھی دیا کہ دو چار روز اور ٹھہر جائیں تو شمال کی جانب سیر کو چلتے ہیں۔ ایران کے شمالی علاقہ جات واقعی کسی جنت سے کم نہیں۔ رہی بات واپسی کی تاریخ کی تو ماہان ایئر میں دوست بھی ہیں جو جب کی چاہیں سیٹ دے سکتے ہیں۔ اصغر بھائی کی اس پیشکش سے منھ میں پانی تو بھرا مگر یہ سب قابلِ عمل نہ تھا۔ اول تو ہم پہلے ہی جنت کی سیر کرچکے تھے، مزید کسی اور جنت کی چنداں چاہ نہ تھی۔ دوسرے یہ کہ اب چھٹی بھی ختم ہونے کو تھی اور واپس جاکر دفتری امور کو بھی دیکھنا تھا اور تیسرے یہ کہ جیب بھی ہلکی ہو چکی تھی اور مزید کہیں اور جانے کا مطلب تھا کہ کم ازکم ایک ملین تومان جیب میں موجود ہوں۔ باقی تمام جواز تو اصغر بھائی نے ہم پر چھوڑ دئے البتہ آخری یعنی رقم والا معاملہ خود ہی اپنے ذمہ لے کر ہمیں مزید شرمندہ کرڈالا۔ بہرکیف ہمارا مزید ٹھہرنا اب ناگزیر تھا سو ہم نے اس موضوع پر مزید بات چیت کرنا اپنا من کھٹا کرنے کے مترادف جانا۔ لیکن ہمارے پاس کل کا پورا دن باقی تھا جس سے ہم تہران میں رہتے ہوئے مکمل فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ چنانچہ اصغر بھائی نے اپنا فون اٹھایا اور اپنے اسی ٹیکسی والے دوست کو فون کرکے کل صبح دس بجے اپنے گھر بلوالیا۔ کل کا تمام پروگرام طے کرکے وہ اٹھے اور ہم انکو دروازے تک رخصت کرنے آئے۔
ہم لوگ علی الصبح ہی بیدار ہوگئے اور نماز سے فارغ ہوکر ان دو اہم مقامات کی جانب جانے کی غرض سے تیار ہوگئے، جہاں جا کر ہمیں آج کے دن کو قیمتی بنانا تھا۔ یعنی زیارتِ حضرت امام زادہ صالح علیہ السلام اور حضرت امامزادہ داؤد علیہ السلام۔